آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والےسابق مسلمان باڈی بلڈر احمد حرائشی جو اب آسٹریلیا میں مسلمانوں کی میت کو غسل دیتا ہیں اور اسلامی تدفین کے منتظم کے طور پر ایک تنظیم چلا کر خدمات انجام دیتے ہیں اپنے حالیہ انٹرویو میں اس سے سوال ہوا کوئی ایسا واقعہ سنائیں جو آپ اتنے سارے مسلمانوں کو غسل دیتے ہے جو آپ نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے احمد حرائشی نے کہا کہ آسٹریلیا کی مختلف ریاستوں میں قبر کی جگہ 25 سے 99 سال تک کے لیے لیز پر دی جاتی ہے۔ مقررہ وقت پر لواحقین سے رابطہ کیا جاتا ہے اگر وہ چاہئے تو مزید رقم دیکر مزید سالوں کیلئے لیز نیا کراسکتے ہےایک قبر تھا 25سال کے بعد جب ان کے لواحقین سے رابط کیا گیا تو ان سے رابطہ نہیں ہوسکا پتہ چلا کہ وہ عراق کے رہنے والے تھے اور آسٹریلیا میں کام کاج کیلئے آئے تھے اس آدمی کے انتقال کے بعد وہ آسٹریلیا چھوڑ کر چلے گئے جب اس کی قبر کو ہٹایا جارہاتھا تو وہ شخص قبر کے اندر ایسا پڑا ہوا تھا جیسے یہ ایک منٹ پہلے رکھا گیا ہو مجھ سے رابطہ کیا گیا جب میں پہنچا تو میں نے سبحان اللہ کہدیا کیونکہ اس کے آس پاس بھی بہت سے قبریں مسمار کردگئی تھی تمام کے اندر سے سوائے مٹھی کے کچھ بھی نہیں تھا میں نے اپنی تنظیم کی طرف ہمیشہ کیلئے قیمت دیکر اس کیلئے وہ جگہ خرید لی قبر بند کردیا گیا لیکن میرے ذہن میں سوال تھا کہ آخر یہ شخص کون ہوگا میں نے تحقیقات شروع کردی کہ یہ شخص کیا کرتا تھا تو میں نے جب پوری معلومات حاصل کرلی کہ وہ شخص محمد طلال کے نام سے تھا اور حافظ قرآن تھا آسٹریلیا میں ایک فیکٹری میں کام کرتا اور ایک مسجد میں فی سبیل اللہ پانچ سال تک امامت کرائی اس نے اور اسکے ہاتھوں پر بہت سارے لوگ اسلام میں داخل ہوئے تھے یہ وہ واقعہ ہے جو میں نے اپنے آنکھوں سے دیکھا ہے
روئے زمین کا بڑا گناہ :::: ناحق قتل
یہ جو باپردہ بہن نظر آرہی ہیں کل جیسے ہی اپنی حدیث و فقہ کی کلاس لے کر گھر کے لیئے نکلیں تو کس کو معلوم تھا کہ یہ گھر تک نہیں جاسکیں گیں ۔
یہ باپردہ بہن جیسے ہی جامعہ فاطمہ سے باہر نکلیں ابھی گھر کے راستے میں تھیں کہ اچانک ایک کار آکر رکی
انہوں نے اس بیچاری کی موقع پہ ہی زندگی کا چراغ گل کردیا ۔
نہ اس بہن کے پاس کوئی موبائل ہے نہ ہی کسی سے کوئی بات چیت،، یہ اپنی کلاس کی ہونہار طالب علم تھیں ۔
تمام معلم اس کی تعریف کرتے تھے لیکن افسوس پتا نہیں کیوں اس بیچاری کے ساتھ یہ ظلم کردیا گیا ۔
جس وقت اس باپردہ بہن کے ساتھ یہ سب کچھ ہورہا تھا تو افسوس کوئی بھی آس پاس والا قریب نہ آیا ۔
جب اس کو اسپتال پہنچایا تو یہ کلمہ کا ورد کر رہی تھی لیکن آپریشن کے باوجود بھی بیچاری رات کو زندگی کی بازی ہار گئی
کیا کوئی ہے جو اس عالمہ رابعہ کے لیئے آواز اٹھا سکے ؟؟؟
😥😥😥😥😓😪
زم زم کا پانی پینے کے قابل نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1971 میں ایک مصری ڈاکٹر نے یورپی پریس کو خط لکھ کر دعویٰ کیا کہ زمزم کا پانی پینے کے قابل نہیں، کیونکہ خانہ کعبہ کا علاقہ سطح سمندر سے نیچا ہے اور شہر کا گندا پانی نالیوں کے ذریعے کنویں میں شامل ہو جاتا ہے۔
یہ خبر جب اخبارات کے ذریعے پھیلی تو مسلمانوں کے دلوں میں بےچینی پیدا ہو گئی۔
یہ بات جب سعودی عرب کے اس وقت کے فرمانروا شاہ فیصل تک پہنچی تو انہیں شدید غصہ آیا۔ ایک مسلمان بادشاہ کے لیے یہ بات ناقابلِ برداشت تھی کہ اسلام کے سب سے مقدس مقام کے پانی پر انگلی اٹھائی جائے۔ چنانچہ شاہ فیصل نے فوری طور پر وزارتِ زراعت و آبی وسائل کو حکم دیا کہ حقیقت جانچی جائے اور زمزم کے پانی کے نمونے یورپ کی معتبر لیبارٹریوں میں بھجوائے جائیں تاکہ سائنسی طور پر اس دعوے کو غلط ثابت کیا جا سکے۔
وزارت نے یہ اہم ذمہ داری جدہ کے پاور اینڈ ڈی سیلینیشن پلانٹس کے سپرد کی، جہاں موئن الدین احمد نامی ایک انجینئر کام کرتے تھے، جن کا کام سمندری پانی کو کیمیائی طریقوں سے پینے کے قابل بنانا تھا۔ انہیں چنا گیا کہ وہ مکہ جا کر خود اس معمے کی تہہ تک پہنچیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ خود موئن الدین احمد کے مطابق، جب وہ اس سفر پر روانہ ہوئے تو انہیں یہ تک اندازہ نہیں تھا کہ زمزم کا کنواں دیکھنے میں کیسا ہوگا۔
جب وہ خانہ کعبہ پہنچے اور حکام کو اپنے دورے کا مقصد بتایا تو ایک شخص کو ان کی مدد کے لیے مقرر کیا گیا۔ کنویں کے قریب پہنچ کر انہیں حیرت ہوئی، کیونکہ جس کنویں سے صدیوں سے لاکھوں حاجیوں کی پیاس بجھائی جا رہی تھی، وہ دراصل ایک چھوٹے سے تالاب جیسا تھا، بمشکل اٹھارہ فٹ لمبا اور چودہ فٹ چوڑا۔ انہوں نے کنویں کی پیمائش کی اور اس شخص سے کہا کہ گہرائی معلوم کرنے کے لیے پانی میں اترے۔ وہ شخص نہا کر پانی میں اترا اور سیدھا کھڑا ہو گیا، پانی اس کے کندھوں تک آ رہا تھا، جبکہ اس کا قد پانچ فٹ آٹھ انچ تھا۔
اب اصل تلاش شروع ہوئی، وہ شخص کنویں کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک کھڑا کھڑا چلتا رہا (سر پانی میں ڈبونے کی اجازت نہیں تھی) تاکہ کوئی پائپ یا سوراخ ڈھونڈ سکے جہاں سے پانی آ رہا ہو۔ مگر دیر تک تلاش کے باوجود کچھ نہ ملا۔ موئن الدین احمد نے پھر ایک ترکیب سوچی، انہوں نے کنویں پر نصب بڑے پمپ سے تیزی سے پانی نکلوانا شروع کیا تاکہ سطح نیچے آئے اور پانی کے داخلے کی جگہ ظاہر ہو جائے۔ حیرت انگیز طور پر پہلی بار کچھ نظر نہ آیا۔
مگر انجینئر نے ہمت نہ ہاری، انہوں نے دوبارہ یہ عمل دہرایا، اس بار اس شخص کو ہدایت کی کہ ایک جگہ ساکت کھڑا رہے اور غور سے دیکھے کہ کیا ہو رہا ہے۔ کچھ دیر بعد وہ شخص اچانک اپنے ہاتھ اٹھا کر خوشی سے چلایا، الحمدللہ، مل گیا، ریت میرے پاؤں تلے ناچ رہی ہے، پانی زمین کے اندر سے چھن چھن کر ابل رہا ہے۔ پھر وہ کنویں میں گھومتا رہا اور ہر جگہ یہی منظر دیکھنے کو ملا، پانی ہر طرف سے یکساں مقدار میں زمین کی تہہ سے رس رہا تھا، یہی وجہ تھی کہ کنویں کی سطح ہمیشہ ایک ہی رہتی تھی۔
اپنا مشاہدہ مکمل کرنے کے بعد موئن الدین احمد نے پانی کے نمونے یورپی لیبارٹریوں کے لیے اکٹھے کیے۔ خانہ کعبہ سے نکلنے سے پہلے انہوں نے مکہ کے دیگر کنوؤں کے بارے میں پوچھا تو معلوم ہوا کہ وہ سب کے سب خشک پڑے تھے، صرف زمزم ہی صدیوں سے مسلسل بہہ رہا تھا۔
جب یہ رپورٹ اور یورپی لیبارٹریوں کے نتائج شاہ فیصل کے سامنے پیش ہوئے تو ان کی خوشی کی انتہا نہ رہی۔ نتائج نے صاف ظاہر کیا کہ زمزم کا پانی نہ صرف مکمل طور پر پینے کے قابل ہے، بلکہ اس میں کیلشیم اور میگنیشیم کی مقدار عام پانی سے کچھ زیادہ ہے، جو شاید تھکے ہارے حاجیوں کو تازگی بخشنے کی وجہ ہو۔ اس کے علاوہ اس میں فلورائیڈ کی موجودگی بھی پائی گئی جو جراثیم کش خاصیت رکھتا ہے۔ یوں مصری ڈاکٹر کا دعویٰ سراسر غلط ثابت ہوا، اور شاہ فیصل نے یورپی پریس میں اس کی باقاعدہ تردید شائع کروائی۔
(حوالہ: موئن الدین احمد)
"غزہ میں شہید ہونے والی ننھی بچی کے اپنے والد سے آخری الفاظ:
'ابو! میں حوضِ کوثر دیکھ رہی ہوں، اور دو محلوں جیسے بہت بڑے، عظیم گھر بھی دیکھ رہی ہوں۔'"💔
میرا دل شدت سے دُکھا جب 7 ماہ کے شہید کو اسکا باپ روتے ہوئے تدفین کے لیے لیکر جا رہا تھا اس بچے "سیم" کو اسکی ماں کی گود میں سر پر گولی ماری گئی بعد میں IDF نے اس بچے کی ماں کو بھی گولی مار کر شہید کر دیا
ری پوسٹ
قاری امتیاز احمد صدیقی کا جرأت مندانہ فیصلہ
حال ہی میں ایک ایسی شادی دیکھنے کو ملی جہاں لڑکے اور لڑکی، دونوں کے اہل خانہ نے اس قدر طوفانِ بدتمیزی برپا کیا کہ قاری امتیاز احمد صدیقی صاحب نے نہ تو نکاح پڑھایا
اور نہ ہی وہاں کا کھانا کھایا،
بلکہ جرم اور خرافات میں ملوث افراد کو سخت سست سنا کر وہاں سے واپس لوٹ آئے۔
قصہ کچھ یوں ہے✅
کہ شادی سے ایک رات قبل لڑکے والوں کی طرف سے ایک اہم دینی پروگرام کا انعقاد کیا گیا تھا، جس میں راقم الحروف بھی شریک تھا۔ اس مجلس میں نکاح کو سادہ اور آسان بنانے کے تعلق سے تفصیلی گفتگو ہوئی، گانے بجانے اور دیگر ناجائز و حرام کاموں سے بچنے کی تلقین کی گئی۔ لڑکے والوں نے ہمیں یہ یقین دہانی کرائی کہ شادی میں اس طرح کا کوئی بھی خرافاتی کام نہیں ہوگا۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بات بھی کہی کہ نکاح آپ ہی حضرات کو پڑھانا ہے؛ اس لیے کہ لڑکی والے بریلوی مسلک سے تعلق رکھتے ہیں اور بریلوی علماء دیوبندی مکتبہ فکر کے لوگوں کا نکاح نہیں پڑھاتے ہیں۔
قاری امتیاز صاحب نے ان کی یقین دہانی پر بھروسہ کرتے ہوئے حامی بھر لی کہ ٹھیک ہے، ہم چل کر نکاح پڑھا دیں گے۔
اگلے دن بارات روانہ ہوئی۔ قاری صاحب اپنے طور پر دلہن کے گاؤں پہنچے۔ وہاں پہنچ کر جو منظر انہوں نے دیکھا، وہ انتہائی افسوسناک اور عجیب و غریب تھا۔ وہاں کا ماحول بالکل ہندوؤں کی شادی جیسا تھا۔ ڈی جے اور رتھ کا باقاعدہ انتظام کیا گیا تھا، نوشے میاں شاہانہ انداز میں رتھ پر جلوہ افروز تھے اور ڈی جے پر نہایت تیز آواز میں فحش بھوجپوری گانے گونج رہے تھے۔ ان گانوں کی دھن پر بچے، بوڑھے اور جوان، غرض کہ پورا گاؤں تھرک رہا تھا۔
حد تو یہ ہو گئی کہ پورے گاؤں کا چکر کاٹنے کے بعد جب یہ شرمناک قافلہ مسجد کے پاس پہنچا، تو مسجد کے ادب و احترام کو بھی ملحوظ نہیں رکھا گیا، وہاں آدھا گھنٹہ رُک کر فحش گانے بجائے گئے اور خوب ڈانس کیا گیا اور مزید ستم یہ کہ گانے بجانے میں شامل تقریباً ہرشخص شراب کے نشے میں مست تھا۔ الامان و الحفیظ۔
جب نکاح کا وقت آیا تو قاضی صاحب کی تلاش شروع ہوئی۔ قاری امتیاز صاحب بھی بڑی شدت سے اسی وقت کا انتظار کر رہے تھے، تاکہ وہ ان کو ان کا آئینہ دکھا سکیں۔ قاری صاحب نے برجستہ سوال کیا: آپ لوگ خود بتائیے کہ یہ شادی کسی مسلمان کی ہے یا ہندو کی؟ لوگوں نے تلملا کر جواب دیا: آپ ایسا کیوں بول رہے ہیں؟ ہم سب لوگ الحمد للہ مسلمان ہیں! اب قاری صاحب نے سخت لہجے میں اپنی بات رکھی کہ یہ ڈی جے اور ناچ گانا ہندوؤں کا طریقہ ہے، اسلام اس کی اجازت ہرگز نہیں دیتا، نہ شادی کے موقع پر اور نہ ہی عام دنوں میں۔ لہذا میں یہ نکاح نہیں پڑھاؤں گا اور نہ ہی یہاں کا کھانا کھاؤں گا۔
لوگوں نے اپنے سر جھکا لیے، معافیاں مانگیں اور لاکھ منانے کی کوشش کی، لیکن قاری صاحب اپنے فیصلے پر چٹان کی طرح قائم رہے اور نکاح پڑھائے و کھانا کھائے بغیر وہاں سے واپس آگئے۔
میں قاری صاحب کے اس جرأت مندانہ قدم پر انہیں دل سے سلام پیش کرتا ہوں۔ گرچہ بعد میں کسی اور نے نکاح پڑھا ہی دیا ہوگا، لیکن وہاں موجود لوگوں کو یہ احساس تو ضرور ہوا ہوگا کہ انہوں نے کتنا غلط کام کیا ہے، اور امید ہے کہ وہ آئندہ ایسی خرافات سے توبہ کریں گے۔
اگر نکاح پڑھانے والے دیگر علمائے کرام اور معزز ائمہ حضرات بھی ایسی مفسدانہ شادیوں میں اسی طرح سخت رخ اپنائیں، تو بہت جلد مسلم معاشرے سے گانے بجانے اور فضول رسومات کی یہ برائی ختم ہوسکتی ہے۔
شادیوں کو آسان بنانے اور سنتِ نبوی ﷺ کے مطابق کرنے کی توفیق دے۔ آمین یا رب العالمین
یہ وڈیو ضرور دیکھیں اور دوسروں کو دکھایئں۔ بہت اچھی طرح ISPR کے کارنامے بیان کیے ہیں اس میں۔ کیسے قوم کو فوجیوں کی عظمت اور سویلینز کے کمتر مخلوق ہونے کا پرچار کرتا ہے ISPR
باجوڑ میں پولیس اہلکاروں کی شہادت
نماز جنازہ میں اہلکاروں کا سخت ردعمل
ڈی پی او صاحب اور ڈی سی صاحب آپ سنیں
میں نے آج دو مردے نہلائے ہیں یہ کل 75 مردے ہیں جن کو میں نے غسل دیا ہے
ڈی پی او صاحب آپ جانتے ہیں کہ اس مقام پر چوکی بنی ہے سامنے طالبان ہیں کون ہے جو یہ پلان بناتا ہے اور اس اہلکار کو وہاں بھیجتا ہے؟
وہاں کل رات بھی ایف سی پر حملہ ہوا پرسو بھی حملہ ہوا بچی زخمی ہوئی ہے
جو پلان بناتا ہے اسے سامنے لائو میرے ساتھیوں کا قاتل تو یہ پلان بنانے والا ہے
رات کو ناکے لگتے ہیں طالبان کا گڑھ ہے یہاں ضیاالرحمن کو شہید کردیا
مجھے پورا خاندان کہتا ہے چپ رہو کچھ بولو نہیں
میں بولوں گا چاہئے 76واں مردہ میرا ہی نہلا دیاجائے
ڈی پی او صاحب آپ یہاں مہمان ہیں یہاں لوگ آپ کے پاس آئیں گے کسی کی تعریف کریں گے کسی کی برائی کریں گے
لیکن باجوڑ کی پولیس کو مارا جا رہا ہے
بار بار ہم کہتے ہیں کہ ایک سپاہی کچھ نہیں کرسکتا
سید عزیز کو شہید کرکے وہ واپس آئے اور انہوں نے سید عزیز کی ویڈیو بنائی اور ہمارے گروپس میں شیئر کی
ہمارے مردے کی بے عزتی کرتے ہیں
آپ اور ڈی سی صاحب ساتھ بیٹھ جائیں
آپ لوگ ہمیں مروا رہے ہیں اور ہمیں ان سے نہ مروائیں
ہم پاکستان پر جان قربان کرتے ہیں میرا دادا درہ میں شہید ہوا ہے
ہم نے اپنے قاتل کو معلوم کرلیا ہے تم کیوں اس قاتل کونہیں معلوم کرسکے
اتنی بڑی مشینری اور وسائل کا کیا فائدہ؟
ابھی آپ کے دفتر میں بیٹھ کر دعا کرلیں گے اور معاملہ ختم ہوجائے گا
سب اہلکار بنوں والوں کی طرح کھڑے ہوجائیں یا پھر اسی طرح تم لوگوں کی میتیں نہلائی جائیں گے
مجھے بتایا جائے کہ مجھے کون مار رہا ہے
جندي اسرائيلي حاول ضرب واعتقال رجل فلسطيني أثناء صلاته بالناس ولكنه توقف عن ذلك فور مشاهدته لكاميرا تقوم بالتصوير
لذلك نقول ..فضحهم ونشر جرائمهم شيء مهم للغاية
خوفناک انکشاف, انتہائی خوفناک!!
بجلی مافیا میں, نون لیگ, PPP اور اسٹبلشمنٹ تینوں شامل ہے, انتہائی اہم ڈاکومنٹری سب کچھ ایکسپوز کردیا گیا ہے!!!
جہانگیر ترین, شہباز شریف کے بیٹے, زرداری سمت 40 لوگ ہے, جو 25 کروڑ لوگو کا مستقبل داؤ پر لگا رہے ہیں!!
اسکو سنیں اور پھیلائیں 🛑
آرمی کے پاس 2 فل جنرل, 29 لیفٹنٹ جنرل اور 194 میجر جنرل ہیں. اس وقت 9 کور فوج کے لیے 30 لیفٹننٹ جنرل ہیں۔ 18 ڈویژن کے لیے 166 میجر جنرل۔ باقی نیچے بریگیڈئر، کرنل، لیفٹننٹ کرنل، میجر کا حساب لگا لیں۔ اس کے علاوہ ڈی جی آیی ایس پی آر جو کہ ایک کرنل رینک کی آسامی تھی اس پہ اب میجر جنرل لگایا جاتا ہے۔ یعنی ٹوئیٹر چلانے کے لیئے بھی فوج جرنیل استعمال کرتی ہے.
ایک جرنیل سے لے کر بریگیڈیئر، لیفٹننٹ کرنل، میجر تک ہر ایک فوجی، پاکستانی عوام کو کتنے میں پڑتا ہے، کبھی اس بارے میں آپ نے سوچا ہے ؟
اگر حقیقت آپ کے سامنے آجائے تو۔۔۔۔
عوام کی آنکھیں کھل جائیں گی اور سیاستدان فرشتے لگنے لگیں گے.
تنخواہ کے علاوہ مراعات جن میں دوران ملازمت مفت رہائشی بنگلہ، مفت بجلی، مفت پانی، مفت گیس، سی ۱۳۰ طیارے میں پورے ملک میں مفت سفری سہولت، پی آئ اے اور ریلوے سے رعایئتی ٹکٹ پر سفر کی سہولت، نوکر (bat man) کی سہولت، بریگیڈیئر اور اس سے اوپر والوں کے لیئے سٹاف کار (یعنی سرکاری گاڑی), بچوں کی آرمی پبلک اسکول، FWO اسکول، PAF انٹر کالجز، بحریہ اسکول و کالج، NUST یونیورسٹی، الیکٹرکل اینڈ مکینکل انجنیئرنگ یونیورسٹی (EME) میں مفت پیشہ ورانہ تعلیم، آرمی میڈیکل کالج میں مفت ڈاکٹری کی تعلیم، آرمی, ایئرفورس اور نیوی اسپتالوں میں فوجیوں کا اپنا، ان کے بچوں، بیوی اور والدین کا تا حیات مفت علاج، ریٹائیرمنٹ کے بعد تمام جائداد ویلتھ ٹیکس سے مستثنی، فلیٹ، ولاز، دکانیں، پلاٹ، مربعے اور نہ جانے کیا کیا ان فوجیوں کو دیا جاتا ہے۔۔۔
اس کے علاوہ ریٹائرمنٹ کے بعد کسی سرکاری ادارے کا سربراہ لگا دیا جاتا ہے.
ریٹائرڈ فوجیوں اوران کے بچوں کی فلاح کے نام پر ٹرسٹ اور فلاحی ادارے کی آڑ میں بینک, انشورنس کمپنیاں, فرٹیلائزر, سیمنٹ, سریئے کی فیکٹریاں, ڈیری فارمز, شوگر اور ٹیکسٹائل ملیں, مرچ مسالحے کی فیکٹریاں اور یہاں تک کہ پیٹرول پمپ اور شادی ہال تک چلائے جا رہے ہیں. ملک کی معیشت مسلسل زوال پزیر ہے, لوگوں کے کاروبار بند ہو رہے ہیں, سرمایہ ڈوب رہا ہے لیکن 1953 میں ملنے والے 18 لاکھ ڈالر سے چیرٹی کے نام پر شروع کیا جانے والا کاروبار ترقی کرتے آج اربوں ڈالر کا سرمایہ بن گیا ہے. وجہ صرف یہ کہ جن لائسنسوں اور پرمٹوں کے لیئے عام سرمایہ کار سالوں دفتروں کے چکر کاٹتے ہیں اور ذلیل و خوار ہوتے ہیں وہ ان فوجیوں کو بغیر چوں چراں کیئے دے دیئے جاتے ہیں. مزید یہ کہ اگر کسی کاروبار میں نقصان ہوتا ہے تو سرکاری بجٹ سے بھرپائی ہو جاتی ہے.
شہدا کے ورثاء کے نام پر لی جانے والی قیمتی شہری زمینوں پر ہاوسنگ سوسائٹیاں بنا ڈالیں اور شہریوں کو مہنگے داموں اربوں کما لیئے لیکن کسی کی جرات نہیں کہ سوال کر سکے. اگر عام شہری کوئی فلاحی این جی او کھولنا چاہے تو فوج والے فنڈنگ کے زرائع کو غیر تسلی بخش قرار دے کر پابندی لگا دیتے ہیں اور خود ریٹائرڈ فوجیوں کی فلاح بہبود کے نام پر ادارے بنا کر کاروبار کر رہے ہیں.
دنیا پھر میں ریاست کا قیام اپنے عوام کی فلاح بہبود اور سماجی معاشی ترقی کے لئے کیا جاتا ہے - لیکن اس ملک میں فلاح بہبود صرف فوجی ملازمین کے لیئےہے. فوج پچھلے ستر سال سے پاکستان کی غریب عوام کے منہ کا نوالہ چھین کر اپنا پیٹ بھر رہی ہے اور ساتھ میں آپ پر یہ احسان بھی جتا رہی ہے کہ آپ کو رات کو سکون کی نیند فوج کی وجہ سے آتی ہے۔ کوئ قوم بھی بھلا اتنی کم عقل اور نادان ہو سکتی ہے، جتنی کہ پاکستانی قوم ہے۔
حامد میر
ایک بار اپنے سائنٹسٹ انجینئر پکڑ کر دینے کے پچیس ملین ڈالر ملے اس کے بعد آرمی کو لت لگ گئی آخرکار
فی پاکستانی ریٹ پانچ ہزار ڈالر پر آگیا۔غائب ہونے والے افراد کی ماؤں نے کہا اپنے بچوں کو سائنسدان انجینئر مت بناؤ۔
جناب یہ شخص بھی آپکا ہی ہے پی ٹی آئی کا جھوٹا پروپیگنڈا نہیں ہے😑