@realrazidada سر جو لوگ پیسے باہر سے بھیجتے ہیں وہ ریمیٹنس ہیں اور جو اشرافیہ پاکستان سے لوٹ کر باہر بھیج رہی ہے وہ کس کھاتے میں جاتے ہیں اکانومی کو تو وہ بھی ڈاؤن کرتے جاتے ہیں
دوسرا حکومتی اخراجات اور مراعات میں کمی کا کوئی منصوبہ سامنے نہیں آ رہا
:
وقت آ گیا ہے کہ حکمران اشرافیہ، بیوروکریسی اور عدلیہ کی مفت بجلی، پیٹرول اور تمام غیر منصفانہ مراعات فوری ختم کی جائیں!
قرضوں تلے دبا ملک عوام پر بھاری ٹیکس لگا کر طاقتوروں کے شاہانہ خرچ نہیں اٹھا سکتا۔ مراعات کا خاتمہ کرو! 🛑
#EndVIPCultureandElitePrivilegeNow
گمشدہ گونگے بہرے بچے شعبان کو ڈھونڈنے میں مدد کریں۔۔
شعبان کے بھائی نے بہت ہی درد دل کے ساتھ اپنے بھائی کی تلاش کے لئے فریاد کی ہے۔
بھائی کا کہنا ہے کہ:
"یہ میرا بھائی گونگا بہرا ہے
اپنا نام و پتا نہیں بتا سکتا۔
لکھنا پڑھنا بھی نہیں جانتا
یہ تصویر گم ہونے کے دنوں کی ہے
اس وقت اس کی عمر 15 سال تھی
ابھی اس��ی عمر 30 سال ہوگی
۔ 9 جنوری 2011 ضلع راولپنڈی تحصیل گجر خان ڈاک خانہ سکھو گاؤں موہڑہ کنیال سے لاپتہ ہوا تھا جو کہ ابھی تک لاپتہ ہے اسکی کوئی خبر نہ ملی ہے
برائے کرم آپ سے ہاتھ جوڑ کر اپیل ہے کہہ میرے بھائی تلاش میں میری مدد کریں،یہ ایک جگہ ٹھہرتا نہیں تھا
پورے گاؤں میں کبھی ایک گھر میں پھر دوسرے گھر میں ۔
شرارتی بہت تھا"۔
شعبان کے گھر والے بہت زیادہ یاد کرتے ہیں اور روتے ہیں۔برائے مہربانی غم میں ڈوبے ایک خوبصورت گھرانے میں پھر سے خوشیاں لوٹانے کا سبب بن جائیں۔
آپ کا ایک شئیر بہت بڑی نیکی کا سبب بن سکتا ہے۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
+923162529829
25 may 2026
#waliullahmaroof
@realrazidada کیا یہ ممکن ہے کیا مالکان انٹرنیشنل کورٹ آف سیٹلمنٹ میں نہیں چلے جائیں گے
سب معاہدے ان مالکان کے مفاد کو دیکھتے ہوئے کئیے گئے ہیں ان میں عوام کو ریلیف 2052 سے پہلے ملنے کا امکان نہیں
@lostguy79 مسلہ غلط پلاننگ ہے ہماری انسٹالڈ کیپ��سٹی 44000 میگا واٹ ہے اور ٹرانسمیشن کیپیسٹی 23000 میگاواٹ تک ہے دونوں پر یکساں کام ہوتا یا پہلے ٹرانسمشن سسٹم کو بہتر کیا جاتا پھر انسٹالمنٹ پر آتے اندھا دھند معاہدے پر معاہدہ ہوتا رہا اب عوام کی بجا کر رکھ دی ہے
اس کلیے کو پھیلا لیں !
اگر ایک کار میں چار وفاقی وزیر سفر کریں تو پیٹرول 90روپے فی لٹر پڑے گا اور اگر ڈرائیور کی بجائے پانچواں وفاقی وزیر گاڑی چلالے تو پھر پیٹرول 72روپے فی لٹر پڑے گا۔ اگر اس کلیے کو پھیلا کر صوبائی سطح پر لے جایا جائے تو پیٹرول پاکستان میں پوری دنیا سے سستا ہوگا۔
@TahirNaeemMalik وہ سیاسی کابینہ نہیں وہ خود فیصلے نہیں کر سکتے یہ ایگزیکٹو کا کام ہے یہ کام بھی کابینہ کو خود کرنا چاہیے سب کی مراعات کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنا چاہیے جس نے نوکری کرنی ہے کرے جس نے نہیں کرنی وہ نا کعت
🚨🔥‼️
بھاری پتھر 🪨*
کیا سیشن، ہائی اور سپریم کورٹ کے معزز جج صاحبان کو اکٹھے کسی ایک پروٹوکول میں عدالتوں تک لانے اور پھر واپس انکے گھروں تک پہنچانے کا بندوبست کرنے کے لئے بھی دل پر پتھر رکھنا پڑے گا ؟ 🫣
کیا سیکریٹریٹ اور دیگر سول محکموں میں تعینات سیکٹری صاحبان اور اعلٰی افسر��ن کو چند بسوں میں ایک ہی پروٹوکول کے ساتھ دفاتر لانے اور پھر واپس گھر پہنچانے کے لئے بھی دل پر پتھر رکھنا ہوگا ؟ 🫣
مذکورہ انتہائی معزز اور ملک و قوم کے لیے قیمتی سرمائے کی حیثیت رکھنے والے افراد کو 1000 یا 800 cc والی گاڑیاں دیکر ان سے ذاتی استعمال کی لگژری گاڑیاں واپس لے لی گئیں ہیں یا پھر اس کے لیے بھی دل پر کوئی بھاری پتھر رکھنا ہوگا ؟ 🫣
@miraza606@mbilalghauri اس کے علاؤہ دکھ یہ بھی اپنی تنخواہوں میں من چاہا اضافہ کرتے ہیں اور آئی ایم ایف کچھ بھی نہیں کہتا اپ��ی سہولیات اپنے پروٹوکول وغیرہ میں کوئی کمی نہیں لاتے تمام بیوروکریسی کے لئیے 1000-1300 سی سی کے اوپر گاڑی نہیں ہونی چاہئیے
اپنے لئیے لگژری جہا�� نہیں خریدنے چاہیے
پیٹرول 137 روپے 23 پیسے اور ڈیزل 184 روپے 49 پیسے فی لیٹر مہنگا کرنے کی منطق سمجھ نہیں آئی باالخصوص جب پیٹرول پر لیوی 106روپے سے بڑھا کر 160.61روپے کردی گئی ہے۔ایک طرف آپ دعویٰ کرتے ہیں کہ اب تک سبسڈی دی جارہی تھی دوسری طرف ٹیکس بڑھا رہے ہیں۔ مشہور قول ہے“کچھ لوگوں کو کچھ وقت کے لیے بیوقوف بنایا جا سکتا ہے، کچھ لوگوں کو کچھ زیادہ دیر کے لیے بھی بے وقوف بنایا جا سکتا ہے لیکن سب لوگوں کو ہمیشہ کے لیے بے وقوف نہیں بنایا جا سکتا۔
ہماری ڈارلنگ آئی ایم ایف بھی بڑی سمجھدار ہے۔ اسے ان وزیروں کی فوج ظفر موج، سینکڑوں ارکان اسمبلی کی تنخواہوں میں پانچ پانچ گنا اضافے، الاولنس اور مراعات میں میں ہوش ربا میں اضافہ ہو یا ہر ارکان کے لیے پچیس سے پچاس پچاس کروڑ روپے کا ترقیا��ی فنڈ، لگژری گاڑیوں کی خریداری، ذاتی استمعال کے لیے اربوں کے جہاز، ہر روز بیرون ملک دورے ہوں، یار دوستوں یا قصیدہ گو مشیر وزیر بنانے پر کبھی کوئی اعتراض نہیں ہوا۔ اسے ساٹھ ستر کی کابینہ پر بھی اعتراض نہیں،لطلیکن ہمیشہ اسے اعتراض ہوا اور بہت سخت ہوا تو غریبوں /کسانوں کے لیے سبسڈی یا کوئی رعایت دینے پر ہی ہوا۔
یہ حکمران بھی عوام کو بیلٹ ٹائٹ کرنے کا بھاشن دے کر ساتھ ہی اپنی بیلٹ ڈھیلی کر لیتے ہیں۔۔