﷽
السلام علیکم ورحمت الله وبرکاتہ
#خاتم_النبیین_محمدﷺ
#درود_وسلام
یا ارحم الراحمین میرے لئے آپ کے سوا کوئی نہیں ہے۔ جس کی عام بلا کے نزول کے وقت میں پناہ لوں
اے الله ہمیں دنیا میں بھی بھلائی عطا فرما اور آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما اور ہمیں جہنم کی آگ سے بچا آمین
According to news nd views...
🚨 Breaking News: Army deployed in Rawalpindi. The federal government has authorised the deployment of three companies of the Pakistan Army in Rawalpindi for six months for “sensitive security duties”.
Modern tobacco products may look sleek and trendy, but the risks are real. Vapes and heated tobacco products can deliver addictive nicotine and harm your lungs and heart. There is no safe tobacco product. Choose your health. #TobaccoOff
*محسن نقوی ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے۔ عمران خان*
*پی ٹی آئی قیادت سلمان اکرم راجہ ، گوہر ، جنید اور سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ ہمارا تو وہ بہت اچھا دوست ہے۔
عمران خان نے مرسی کی طرح ختم ہوجانا ہم سب نے تو زندہ رہنا ہے۔*
چھوٹے صوبوں کا قیام یا ان پر بحث محض ایک ایسا سیاسی شوشہ تھا جو عوامی جذبات کو گرم رکھنے اور اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے وقت فوقتاً چھوڑا جاتا ہے اور ساتھ ساتھ اس کو فارم 47 کی حکومت اور اتحادیوں کو ڈرا کر آئینی ترمیم کروانا تھا
جان لیجیے نئے صوبوں کا قیام شریفوں اور زرداری کی موت ہے حکمران اشرافیہ کے لیے نئے اور چھوٹے صوبوں کا قیام تجویز کرنا بالکل ایسا ہی ہے جیسے راون سے اس کی لنکا کا مطالبہ کر لیا جائے کیونکہ وہ اپنے سیاسی اثر و رسوخ اور اقتدار کا مرکز کسی صورت تقسیم کرنے پر تیار نہیں ہوں گے
تحریر #آفاق_سومرو
اسلام میں اخلاق اور معافی کو بہت بڑا مقام حاصل ہے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے زندگی کے واقعات ہمارے لیے بہترین مشعلِ راہ ہیں
ایک مرتبہ صحابیِ رسول حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے گفتگو کے دوران ایک صحابی کو ان کی والدہ کے حوالے سے طعنہ نکل گیا جب یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا
"اے ابوذر! کیا تم نے اسے ماں کی عار دلائی؟ تمہارے اندر ابھی تک جہالت کا کچھ اثر باقی ہے!" (صحیح بخاری: 30)
یہ سنتے ہی حضرت ابوذر غفاری شدید نادم ہوئے
اپنی غلطی کا احساس کیا اور فوراً معافی مانگ لی
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے
"صدقہ دینے سے مال میں کمی نہیں ہوتی، اور جو شخص معاف کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی عزت میں اضافہ ہی فرماتا ہے، اور جو شخص اللہ کے لیے عاجزی اختیار کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے درجے کو بلند فرماتا ہے۔" (صحیح مسلم: 2588)
آج ہم چھوٹی چھوٹی باتوں پر اپنے بھائیوں اور بہنوں کا دل دکھا دیتے ہیں لیکن "معاف کر دیجیے" یا "معذرت" کہتے ہوئے تکبر آڑے آ جاتا ہے
معافی مانگنا انسان کو چھوٹا نہیں بناتا بلکہ اللہ کی نظر میں اس کا مقام بلند کرتا ہے
اللّٰہ تعالی ہمیں عاجزی اختیار کرنے اپنے اخلاق کو سنوارنے اور ایک دوسرے کو درگزر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
تحریر #قلم_کہانی
if you know you can't do something, don't casually promise that you will. your word is an amanah too. people remember the small promises we forget making, especially when they were depending on us.
*Imran Khan* *repeatedly* *said* *they are trying to kill him the *way Egyptian President* *Mohamed Morsi was killed*”
*حالات کی سنگینی کا یہ عالم ہے کہ عمران خان بار بار ایک بات بتا رہا ہے۔ اور PTI والے اس بات پہ خوش ہو رہے ہیں کہ درخواست پر جو نمبر لگا 804 ہے*
وہ ایک سمندر کھنگالنے میں لگے ہوئے ہیں
ہماری کمیاں نکالنے میں لگے ہوئے ہیں
وہ جن کی اپنی لنگوٹیاں تک پھٹی ہوئی ہیں
ہماری پگڑی اچھالنے میں لگے ہوئے ہیں
#انصاف_دو_یا_عدالت_بند_کرو
یاد رکھیے عمران خان نے بھی اقوامِ متحدہ کے عالمی فورم پر کھڑے ہو کر کہا تھا کہ ہمارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے دلوں میں بستے ہیں مرسی نے بھی کچھ ایسے ہی جذبات کا اظہار کیا تھا
کڑی سے کڑی جوڑتے جائیے واقعات کو ایک دوسرے کے تناظر میں دیکھیے…
ممکن ہے وہ بہت کچھ سامنے آ جائے
جو بظاہر الگ الگ دکھائی دیتا ہے۔
کبھی کبھی معاملات سمجھنے کے لیے
صرف ایک واقعہ نہیں
پوری زنجیر دیکھنا پڑتی ہے
اور اب ڈاکٹر عظمیٰ صاحبہ کا بیان بھی غور سے پڑھیے👇
عمران خان نے مجھے کہا کہ یہ میرے ساتھ وہی کر رہے ہیں جو مُرسی کے ساتھ کیا گیا تھا، مُرسی کے ساتھ بھی بالکل ایسا ہی کیا گیا تھا، ڈاکٹر عظمیٰ خان
#Afaqwrites
منقول
محمد مرسی مصر کے مقبول ترین عوام رہنما جنہوں نے اقوام متحدہ میں کھڑے ہوکر کہا تھا " جو ہمارے نبیﷺ کی عزت اور احترام نہیں کرے گا ہم بھی اس کا احترام نہیں کریں گے ۔
جس نے کہا تھا اپنے ملک کے شیروں کو قتل نہ کرو ، ورنہ تمہارے دشمنوں کے کتے تمہیں کھا جائیں گے۔
جس کو فوجی آمر سیسی نے قید کیا تو ترکیہ نے مصر سے سفارتی تعلقات ختم کرلئے اور اپنے سفیر کو واپس بلالیا ۔
محمد مرسی کو قاہرہ کی بدنام زمانہ اسکارپیئن جیل کی کال کوٹھڑی میں مسلسل 23 گھنٹے قیدِ تنہائی میں رکھا گیا۔
وہ شوگر، ہائی بلڈ پریشر اور گردوں کے عارضے میں مبتلا تھے، لیکن مصری حکومت نے انہیں بنیادی طبی سہولیات اور ادویات سے مکمل محروم رکھا۔
ہیومن رائٹس واچ اور ان کے خاندان نے اسے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت "سلو پوائزننگ" اور قتل قرار دیا۔
شہادت والے دن انہیں جاسوسی کے ایک جھوٹے مقدمے کی سماعت کے لیے لایا گیا تھا۔ انہیں ایک آواز بند شیشے کے پنجرے میں بند کیا گیا تھا۔ کمزوری کے باوجود انہوں نے جج کے سامنے کھڑے ہو کر تقریباً 20 منٹ تک انتہائی دلیری سے اپنا آخری بیان ریکارڈ کروایا
اپنا بیان ختم کرنے کے فوراً بعد ان پر غشی طاری ہوئی اور وہ پنجرے کے اندر ہی گر پڑے۔ رپورٹس کے مطابق وہ تقریباً 20 منٹ تک وہیں بے سدھ پڑے رہے اور ہسپتال پہنچنے سے قبل ہی خالقِ حقیقی سے جا ملے۔
مصری حکومت ان کی مقبولیت سے اس قدر خوفزدہ تھی کہ عوام کو ان کے جنازے میں شرکت کی اجازت نہیں دی گئی اور رات کے اندھیرے میں سخت ترین سیکیورٹی کے پہرے میں انہیں قاہرہ کے ایک قبرستان میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔
don't let being busy become the reason salah keeps getting pushed to the last possible minute. work matters, studies matter, family matters, but salah isn't an interruption to life. it's one of the things your life is supposed to be built around.
قصہ جالوت و طالوت اور حضرت داؤد علیہ السلام
#قومی_زبان
حضرت داؤد علیہ السلام کو حکومت کیسے ملی اس کے بارے مفسرین نے لکھا ہے کہ جب طالوت علیہ رحمہ جو کہ بنی اسرائیل کے ایک نیک شخص تھے وہ جب بادشاہ بن گئے تو طالوت علیہ رحمہ نے بنی اسرائیل کو جہاد کے لئے تیار کیا اور ایک کافر بادشاہ ''جالوت''سے جنگ کرنے کے لئے اپنی فوج کو لے کر میدان جنگ میں نکلے۔ جالوت بہت ہی قد آور اور نہایت ہی طاقتور بادشاہ تھا وہ اپنے سر پر لوہے کی جو ٹوپی پہنتا تھا اس کا وزن تین سو رطل تھا۔ جب حضرتِ طالُوت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بنی اسرائیل کے لشکر کولے کر ظالم بادشاہ جالوت سے مقابلے کے لئے بیتُ المقدَّس سے روانہ ہوئے تو ان کے لشکر کی اِس طرح آزمائش ہوئی:
پارہ۲،البقرۃ:۲۴۹۔ترجَمہ:(طالوت)بولا بے شک اللہ تمہیں ایک نَہَر سے آزمانے والا ہے،تو جو اس کاپانی پئے وہ میرا نہیں اورجو نہ پئے وہ میرا ہے مگروہ جو ایک چُلّو اپنے ہاتھ سے لے لے۔
تفسیر خزائن میں ہے کہ سخت گرمی تھی،صِرف313 افراد نے صبر کیا اور صرف ایک چلّو پانی لیا۔الحمد للہ عزوجل وہ ایک چلُّو ان کے لئے اوراُن کے جانوروں کیلئے کافی ہو گیا اور جنہوں نے بے صبری کی اور خوب پانی پیا تھا ان کے ہونٹ سیاہ ہو گئے،پیاس خوب بڑھ گئی اور ہمّت ہار گئے۔جالوت کے عظیم لشکر سے 313 مسلمانوں کا مقابلہ تھا جو اطاعت گزار تھے ان کے حوصلے مضبوط تھے،ان کا نقشہ اِسی آیتِ کریمہ میں اس طرح پیش کیا گیا ہے:
پارہ۲،البقرۃ:۲۴۹۔ترجمہ:(بے صبرے)بولے:ہم میں آج طاقت نہیں جالوت اور اس کے لشکروں(کے مقابلے)کی،بولے وہ جنھیں اللہ سے ملنے کا یقین تھا(یعنی صبر کرنے والے کہنے لگے)کہ بارہا کم جماعت غالب آئی ہے زیادہ گروہ پر اللہ کے حکم سے اوراللہ صابروں کے ساتھ ہے۔
جب دونوں فوجیں میدانِ جنگ میں لڑائی کے لئے صف آرائی کرچکیں تو حضرت طالوت نے اپنے لشکر میں یہ اعلان فرما دیا کہ جو شخص جالوت کو قتل کریگا، میں اپنی شہزادی کا نکاح اس کے ساتھ کردوں گا۔ اور اپنی آدھی سلطنت بھی اس کو عطا کردوں گا۔ یہ فرمان شاہی سن کر حضرت داؤد علیہ السلام آگے بڑھے جو ابھی بہت ہی کمسن تھے اور بیماری سے چہرہ زرد ہو رہا تھا۔ اور غربت و مفلسی کا یہ عالم تھا کہ بکریاں چرا کر اس کی اجرت سے گزر بسر کرتے تھے۔
روایت ہے کہ جب حضرت داؤد علیہ السلام گھر سے جہاد کے لئے روانہ ہوئے تھے تو راستہ میں ایک پتھر یہ بولا کہ اے حضرت داؤد! مجھے اٹھا لیجئے کیونکہ میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا پتھرہوں۔ پھر دوسرے پتھر نے آپ کو پکارا کہ اے حضرت داؤد مجھے اٹھا لیجئے کیونکہ میں حضرت ہارون علیہ السلام کا پتھر ہوں۔ پھر ایک تیسرے پتھر نے آپ کو پکار کر عرض کیا کہ اے حضرت داؤد علیہ السلام مجھے اٹھا لیجئے کیونکہ میں جالوت کا قاتل ہوں۔ آپ علیہ السلام نے ان تینوں پتھروں کو اٹھا کر اپنے جھولے میں رکھ لیا۔ جب جنگ شروع ہوئی تو حضرت داؤد علیہ السلام اپنی گوپھن لے کر صفوں سے آگے بڑھے اور جب جالوت پر آپ کی نظر پڑی تو آپ نے ان تینوں پتھروں کو اپنی گوپھن میں رکھ کر اور بسم اللہ پڑھ کر گوپھن سے تینوں پتھروں کو جالوت کے اوپر پھینکا اور یہ تینوں پتھر جا کر جالوت کی ناک اور کھوپڑی پر لگے اور اس کے بھیجے کو پاش پاش کر کے سر کے پیچھے سے نکل کر تیس جالوتیوں کو لگے اور سب کے سب مقتول ہو کر گر پڑے۔ پھر حضرت داؤد علیہ السلام نے جالوت کی لاش کو گھسیٹتے ہوئے لا کر اپنے بادشاہ حضرت طالوت کے قدموں میں ڈال دیا اس پر حضرت طالوت اور بنی اسرائیل بے حد خوش ہوئے۔
جالوت کے قتل ہوجانے سے اس کا لشکر بھاگ نکلاا ور حضرت طالوت کو فتح مبین ہو گئی اور اپنے اعلان کے مطابق حضرت طالوت نے حضرت داؤد علیہ السلام کے ساتھ اپنی لڑکی کا نکاح کردیا اوراپنی آدھی سلطنت کا ان کو سلطان بنا دیا۔ پھر پورے چالیس برس کے بعد جب حضرت طالوت بادشاہ کا انتقال ہو گیا تو حضرت داؤد علیہ السلام پوری سلطنت کے بادشاہ بن گئے اور جب حضرت شمویل علیہ السلام کی وفات ہو گئی تو اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد علیہ السلام کو سلطنت کے ساتھ نبوت سے بھی سرفراز فرمادیا۔ آپ سے پہلے سلطنت اور نبوت دونوں اعزاز ایک ساتھ کسی کو بھی نہیں ملا تھا۔ آپ پہلے شخص ہیں کہ ان دونوں عہدوں پر فائز ہو کر ستر برس تک سلطنت اور نبوت دونوں منصبوں کے فرائض پورے کرتے رہے اور پھر آپ کے بعد آپ کے فرزند حضرت سلیمان علیہ السلام کو بھی اللہ تعالیٰ نے سلطنت اور نبوت دونوں مرتبوں سے سرفراز فرمایا۔ (تفسیر جمل علی الجلالین،ج۱،ص۳۰۸،پ۲،البقرۃ۲۵۱)
اس واقعہ کا اجمالی بیان قرآن مجید کی سورہ بقرہ میں اس طرح ہے کہ:۔ ترجمہ:۔اور قتل کیا داؤد نے جالوت کو اور اللہ نے اسے سلطنت اور حکمت عطا فرمائی اور اسے جو چاہا سکھایا۔(پ2،البقرۃ:251)