جب ہمت ٹوٹنے لگے، حوصلے پست ہونے لگے، ناکامی کا خطرہ سر پر منڈلانے لگے، زمین رہنے کے لیے تنگ محسوس ہونے لگے، اپنے پرائے ہونے لگیں، اس وقت رب کو یاد کریں جو دلوں کو اطمینان بخشنے والا ہے اور پھر سے کمر بستہ ہو جائیں کیونکہ زندگی مسلسل چلتے رہنے کا نام ہے۔
لوگوں کو اتنا مذہبی بنادو کہ وہ محرومیوں کو قسمت سمجھیں، ظلم کو آزمائش سمجھ کر صبر کرلیں.... حق کے لئے آواز اٹھانا گناہ سمجھیں، غلامی کو مصلحت قرار دیں اور قتل کو موت کا دن متعین سمجھ کر چُپ رہے ______!!
@NotEmran افسوس صد افسوس! میں تو یہی جانتا تھا کہ ہم صرف بے دخل کیے گئے ہیں 🥲
دعا گو ہیں کہ اللہ مسلمانوں کو یکجا کرے اور اس زوال سے نکال کر عروج عطا فرمائے۔