کبھی مشرف کے لیے کعبے کا دروازہ کھولا گیا، کبھی نواز شریف کے ہاتھوں سے وہ دروازہ کھلا،
کبھی عمران خان مدینے کی خاک پر ننگے پاؤں چلے،
تو کبھی شہباز شریف کے لیے روضۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا دروازہ خود بخود وا ہو گیا۔
مگر تاریخ کی مٹی پر ایک ایسا مجاہد گزرا،
جس کا نام آتے ہی صلیبیوں کے دل لرز جاتے تھے —
صلاح الدین ایوبی رحمۃ اللہ علیہ!
ایسا سلطان، جس نے بیت المقدس کو خون سے پاک کیا،
جس نے حاجیوں پر حملہ کرنے والے صلیبی بھیڑیوں کو نیست و نابود کر دیا،
مگر خود… پوری زندگی خانہ کعبہ نہ جا سکا!
کیوں؟
کیا خواہش نہیں تھی؟
نہیں!
خدا کی قسم، دل اس کے بھی بیت اللہ کے طواف کو ترستا تھا،
مدینے کے در و دیوار اس کے آنسوؤں کے منتظر تھے،
مگر کبھی صلیبیوں کی یلغار، کبھی مسلمانوں کے اندرونی فتنوں نے
اسے ایک لمحے کے لیے بھی اپنی ذات کو سوچنے نہ دیا۔
وہ جانتا تھا…
کہ اگر امت خطرے میں ہو،
تو سربسجود ہونے سے پہلے تلوار اٹھانا فرض ہو جاتا ہے!
کہ اگر حرمین کی حرمت پامال ہونے کو ہو،
تو حکمران کے لیے سب سے بڑی عبادت
ظالم کے سامنے ڈٹ جانا، اور مظلوم کا دفاع بن جانا ہے!
یہی وجہ ہے کہ وہ کبھی حاجی نہ کہلایا،
مگر امت محمدیہ کا وہ مجاہد بن گیا
جس پر آج بھی تاریخ فخر کرتی ہے۔
تو سن لو!
حکمران کو جانچنے کا معیار یہ نہیں کہ
اسے کتنی بار کعبے کے دروازے کھلے،
یا کتنی بار روضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر جانے کا موقع ملا،
بلکہ اصل معیار یہ ہے کہ
جب اس کے ہاتھ میں اقتدار آیا،
تو کیا اُس نے اللہ کے دین کو غالب کیا؟
کیا اُس نے امت کے زخموں پر مرہم رکھا؟
یا صرف اپنی عبادات کا ڈھنڈورا پیٹتا رہا؟
قوموں کی تقدیر وہ لوگ بدلتے ہیں
جو اپنی خواہشات قربان کرکے، امت کی حفاظت کرتے ہیں!
جن کے لیے عبادت صرف سجدہ نہیں،
بلکہ دشمن کے سامنے ڈٹ جانا بھی عبادت ہوتا ہے۔
عجیب و غریب تاریخ کے واقعات
اصل مسئلہ آئل ٹینکرز کا نہیں ہے ۔۔۔ بلکہ آبنائے ہرمز ۔۔۔ امریکی فوج اور فوجی اڈوں کے لیے شکاری کا جال بن چکی ہے 🔴 سنو ذرا حال ہمارا
بحرین ۔۔۔ نیول ہیڈکواٹر، ایک فضائی اڈا
کویت ۔۔۔ تین امریکی اڈے
عراق ۔۔۔ دو امریکی اڈے
اور قطر ۔۔۔ میں موجود تمام امریکی اڈے اور خلیج فارس کا سارا سمندر ۔۔۔ اسی راستے سے دنیا کے دیگر سمندروں سے جڑا ہوا ہے ۔۔۔
آبنائے ہرمز خلیج فارس کا واحد سمندری راستہ ہے ۔۔۔ جس کی چاجی اب ایران کے ہاتھ میں ہے ۔۔۔ امریکہ فوج اب نہ تو خلیج فارس میں داخل ہو سکتی ہے اور نہ اس میں موجود بحری اڈوں کا اسے کوئی فائدہ رہا ہے ۔۔۔ الٹا
یہ اڈے ایرانی میزائلوں کے لیے آسان ٹارگٹ ثابت ہوئے ہیں ۔۔۔ امریکہ میں یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ ان اڈوں کا فائدہ زیادہ ہے یا نقصان ؟؟؟
ایران نے آبنائے ہرمز بند کر کے ایک تو جنگ کے نقصان کو امریکی عوام تک مہنگائی کی صورت پہنچا دیا ہے ۔۔۔ دوسرا ۔۔۔۔
خلیج فارس اور اس میں موجود تمام امریکی اڈوں کو ایک جال میں پھنسا لیا ہے ۔۔۔ خلیج میں امریکی بحری فوج داخل ہی نہیں ہو سکتی کوشش کرے گی تو ایرانی سپاہ گھات میں بیٹھی ہے ۔۔۔
داخل ہوگئی تو وہاں ٹھہر نہیں سکتی ۔۔۔ ایرانی شاہد ڈرونز کے پانچ سو کا ایک جھنڈ جب آئے گا تو دنیا کے سارے دفاعی نظام مل کر بھی امریکی فوج کو نہیں بچا سکیں ۔۔۔ پھر یہاں سے ۔۔۔واپس بھاگنا پڑے گا اور واپس ایران نکلنے نہیں دے گا ۔۔۔
بظاہر ٹرمپ صرف تجارت کی بات کرتا ہے لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ ۔۔۔ امریکی بحریہ کا پورے خلیج فارس سے تسلط ختم ہوگیا ہے ۔۔۔ جسے وہ بحال کرنا چاہتا ہے ۔۔۔
یہ 14 دنوں کی جنگ صرف آبنائے ہرمز کے لیے ہوئی لیکن ایران یوں ہی ڈٹا ہوا ہے ۔۔۔ اور امریکہ کا ۔۔۔ اپنے اڈوں کا حال دیکھ کر وہ والا حال ہے ۔۔۔
حیراں ہوں، دل کو رووں کہ پیٹوں جگر کو میں
مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو میں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سابق ایرانی سپریم لیڈر شہید آیت اللہ سید علی خامنہ نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کو سیاسی نا بالغ بچہ کہا تھا مجھے پہلے لگتا تھا یہ بات درست نہیں اور محمد بن سلمان کے اقدام بھی ثابت کر رہے تھے وہ سیاسی طور پر نابالغ بچہ نہیں ہے مگر جنگ بندی کے معاہدے کے دوران امریکہ کی زیر نگرانی جیسے آبنائے ہرمز سے اپنے ٹینکر ایرانی کے بتائے گے راستے کے خلاف گزارے اور پھر یمنی وفد کا آیت اللہ کے جنازے سے واپس آنے پر صنعاء ائیرپورٹ پر جہاز کو لینڈنگ سے روکنے کی کوشش سے مشرق وسطی میں نیا تنازعہ پیدا کیا وہ آیت اللہ خامنہ کی بات کو درست ثابت کرتا ہے مگر ایک اچھی چیز ہوئ ہے سعودی عرب کو جلد عقل آ گیا اور حوثیوں سے مذکرات کے لیے عمان کو کہا آج عمان میں سعودی اور حوثی وفد کی ملاقات ہوئ ہے
مگر عمانی نہ تو اس کو عالمی پزیرائی کہہ رہے ہیں نہ ہی اس پر ڈھول بجا کر یہ کہہ رہے ہم نے خطے کو تباہی سے بچا لیا وغیرہ وغیرہ
کیا ایران اس ہولناک جنگ میں زندہ بچ پائے گا؟ واشنگٹن کی جنگ بندی کی دھوکہ دہی اور تہران کا تاریخی ویٹو!
عالمی میڈیا اور جنگ کے شعلوں میں گھرے مشرق وسطیٰ سے اس وقت ایک اور انتہائی سنسنی خیز اور لرزہ خیز خبر سامنے آ رہی ہے۔ ایران نے 24 جولائی 2026 کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عراقی وزیر اعظم کے ذریعے بھیجی گئی نام نہاد "جنگ بندی کی پیشکش" کو سرے سے مسترد کرتے ہوئے ایک تاریخی اور جرات مندانہ ویٹو کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ محض کسی جذباتی ردعمل کا نتیجہ نہیں ہے، بلکہ یہ ایران کی بقا، اس کی خودمختاری، اندرونی سیاست اور جیو اسٹریٹجک گہرائی کا ایک سوچا سمجھا اور نپی تولا جواب ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر ایران اس ایک طرفہ اور فریب پر مبنی جنگ بندی کو کیوں ٹھکرا رہا ہے اور کیا اس ہولناک جنگ میں تہران واقعی زندہ بچ پائے گا؟ آئیے اس کا نفسیاتی، سیاسی اور عسکری پس منظر میں تفصیلی جائزہ لیتے ہیں۔
امریکی جنگ بندی کی پیشکش یا غاصبانہ ہتھیار ڈالنے کا فریب؟
امریکہ کی طرف سے پیش کی جانے والی جنگ بندی کی شرائط سراسر غیر مساوی اور منافقانہ ہیں۔ یہ شرائط اس بات کو بالکل نظر انداز کرتی ہیں کہ ایران کے جائز مطالبات کیا ہیں۔ واشنگٹن کی اس نام نہاد امن پیشکش کا اصل مقصد ایران کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنا اور اس کی دفاعی صلاحیتوں کو مستقل طور پر مفلوج کرنا ہے۔
امریکی شرائط کے مطابق ایران سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ:
اپنے یورینیم کی افزودگی کا عمل مکمل طور پر بند کر دے،
تمام ایٹمی تحقیق اور اس سے متعلقہ تنصیبات کو ہمیشہ کے لیے ترک کر دے،
اپنے میزائلوں کی پیداواری صلاحیت میں نمایاں کمی کرے،
مشرق وسطیٰ میں مقاومت کے حامیوں کی حمایت کا سلسلہ ختم کر دے،
آبنائے ہرمز پر اپنی حاکمیت اور کنٹرول چھوڑ دے،
اور امریکہ کے خلاف تمام جوابی کارروائیاں فوری طور پر بند کر دے۔
دوسری طرف، امریکہ نے خود اپنے لیے کوئی پابندی یا ذمے داری قبول نہیں کی ہے۔ واشنگٹن نے نہ تو کئی دہائیوں سے عائد غیر قانونی پابندیوں کو مستقل طور پر ہٹانے کا کوئی وعدہ کیا ہے، نہ ایران کے بیرون ملک منجمد اثاثے بحال کرنے کی بات کی ہے، اور نہ ہی مشرق وسطیٰ کے فوجی اڈوں سے اپنے فوجیوں کو واپس بلانے کا کوئی عندیہ دیا ہے۔ اس ایک طرفہ، ظالمانہ اور آمرانہ پیشکش کو ایران کی طرف سے ٹھکرایا جانا عین فطری اور ناگزیر تھا۔
ایران کا دوٹوک موقف اور اندرونی سیاسی دباؤ
ایران کے اندرونی سیاسی منظر نامے میں یہ جنگ اب حکومت اور پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کے لیے اپنی بقا اور قومی غیرت کا استعارہ بن چکی ہے۔ ایرانی عوام اور سخت گیر حلقے اس بات کو اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ اگر اس وقت امریکہ کے دباؤ میں آ کر کوئی کمزور معاہدہ کیا گیا، تو اسے ایرانی عوام اور خطے کی تاریخ میں "سرنڈر اور کمزوری" قرار دیا جائے گا۔
اس کے علاوہ، اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) اس جنگ کے دوران اپنے اقتصادی اور عسکری اثر و رسوخ کو مزید مضبوط کر چکی ہے۔ ملک کے اندر قوم پرست جذبے عروج پر ہیں، اور عوام بیرونی جارحیت کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنے ہوئے ہیں۔ ایران کے چار بنیادی ستون یا ریڈ لائنز واضح ہیں:
تمام پابندیوں کا مستقل اور مکمل خاتمہ،
مشرق وسطیٰ کے تمام امریکی اڈوں سے غیر مشروط انخلا،
جنگ کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے جنگی ہرجانے کی ادائیگی،
آبنائے ہرمز پر ایران کا حاکمانہ اور غیراشتراکی کنٹرول۔
عراق کا حیرت انگیز پلٹا: کیا بغداد بن گیا تہران کی ڈھال؟
اس پوری جنگ کا سب سے بڑا اور چونکا دینے والا موڑ عراق کی طرف سے سامنے آیا ہے۔ حال ہی میں عراقی وزیر اعظم منتظر الزیدی نے تہران کا دورہ کرتے ہوئے دوٹوک الفاظ میں اعلان کیا ہے کہ عراقی سرزمین کو امریکہ کے لیے ایران پر حملہ کرنے کا اسپرنگ بورڈ نہیں بننے دیا جائے گا۔
تاریخی طور پر ایران اور عراق نے دہائیوں تک خونریز جنگ لڑی ہے، لیکن آج حالات کی ستم ظریفی دیکھیے کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کی معاشی اور عسکری ضرورت بن چکے ہیں۔ امریکہ نے عراق سے اپنی فوجوں کے انخلا کی تاریخ 30 ستمبر 2026 تک طے کر لی ہے، جو کہ اصل شیڈول سے تین ماہ پہلے ہے۔ عراق کو اپنی توانائی، بجلی اور گیس کی ضروریات کے لیے ایران کی ضرورت ہے، جبکہ ایران زمینی تجارتی راستوں کے ذریعے امریکی بحری ناکہ بندی اور آبنائے ہرمز کی بندش کے اثرات کو زائل کرنے میں کامیاب ہو رہا ہے۔ عراقی حمایت نے تہران کو مغربی محاذ سے مکمل طور پر محفوظ کر دیا ہے۔
نتیجہ: ایک نہ ختم ہونے والی فرساں جنگ
امریکہ اور ایران کے درمیان یہ معرکہ اب اس مقام پر پہنچ چکا ہے جہاں کوئی بھی فریق پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں۔ نامور امریکی اسکالر نیلسہائیمر پہلے ہی خبردار کر چکے ہیں کہ واشنگٹن ایران کے خلاف جنگ میں ویتنام کی شکست کو دہرانے کی حماقت کر رہا ہے۔ !
بھارت میں ڈیم بھرتا ہے۔ وہ سپل وے کھول دیتے ہیں اور یہاں خبر چلائی جاتی ھے کہ بھارت نے آبی جارحیت کر دی۔ بھائی جب ڈیم بھر گیا ہے تو وہ کیا ڈیم تڑوا کر تباھی کروا لیں؟ سپل کھولنے کیلئیے ہوتے ہیں انہوں نے کھول دئیے آپ بتائیے آپ نے اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے کیا تیاری کی ہے؟ کوئی ڈیم بنایا ہے کہ جب فالتو پانی آئے تو ڈیم بھر جائے؟ کوئی سیلابی نہریں بنائی ہیں؟ کیا آپ کا کام صرف عیاشی اور سیر سپاٹے کے لیے جہاز خریدنا ھے اور بیرون ملک بینک بھرنا ھے یا پھر دریائ زمین پر سوسائٹیاں بنانا رہ گیا ہے؟
ٹرمپ نے ایران کے خلاف حملے روکنے کا حکم دے دیا۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق صدر ٹرمپ کو خدشہ ہے کہ جنگ کو طول دینے سے مشرقی وسطی میں امریکی فوج کے پاس میزائل، پیٹریاٹ دفاعی نظام کے انٹرسیپٹرز اور دیگر گولہ بارود خطرناک حد تک کم ہو رہا ہے۔
اور یہاں کچھ دانشور سبق پڑھا رہے تھے کہ ایران مذاکرات کی بھیک مانگ رہا ہے؟
@SubhaniHanif
آج بھر پٹرول کی قیمت میں 3 روپے 66 پیسے اور ڈیزل کی قیمت میں 4 روپے 80 پیسے فی لیٹر اضافے کا فیصلہ
سور فصل میں گھس گئے ہیں۔ جب تک پوری برباد نہیں کر لیتے یا جب تک کھیت کے مالکوں کو ہوش نہیں آتا وہ اپنی اچھل کود مچاتے رہیں گے
چاہینہ اور رشیا نے ایران کو ایسی ٹیکنالوجی فراہم کی ہے جس سے ایران امریکہ کے ہر ہدف پر تاک تاک کر نشانے لگا رہا ہے اور ہر نشانہ پرفیکٹ لگ رہا ہے ، اس سے ٹرمپ باولہ ہو گیا ہے اور یورپ ، برطانیہ اور دیگر اڈوں سے اپنے B1 اور B2 جہازوں مشرق وسطیٰ طلب کر لیا ہے اور ان سب کو نئے احکامات کا انتظار کرنے کا حکم دیا گیا ہے
ٹرمپ اب حملے کی بجائے انتقام کی پالیسی کے اوپر اتر آیا ہے ، اس کی بے چینی اس کے الفاظ اور باڈی لینگویج سے ظاہر ہو رہی ہے ، وہ چاہتا ہے ایران میرے آگے گڑگڑایے لیکن ایران ضدی پن کی انتہا پر ہے اور ایسا کچھ بھی نہیں کر رہا الٹا لڑائی کو طول دے رہا ہے ، ایران لڑائی کو جتنا طول دے رہا ہے اتنا ہی روس اور چاہینہ کو فائدہ ہو رہا ہے ، اور امریکہ کو اتنا ہی نقصان لیکن اب تک جو ہوا تھا وہ صرف ٹارگٹڈ کاروائی تھی مگر آگے جو ہونے جا رہا ہے اس میں معاملہ ٹارگٹڈ کاروائی تک محدود نہیں رہے گا
ٹرمپ نے جو بلائیں مشرق وسطیٰ بلوائی ہیں یہ عام چیزیں نہیں ہیں انہون نے افغانستان میں تورا بورا کے پہاڑوں پر ایسی کارپٹ بمبنگ کی تھی کہ وہاں انسان کیا حیوان بھی نہیں بچے تھے یہ تو ان کے پہاڑ سخت جان تھے کھڑے رہے اور طالبان قیادت تہہ در تہہ ان میں چھپ گئی ورنہ ان جہازوں نے ان کو حشر کر دینا تھا
لیکن ایران کے معاملے میں چیزیں مختلف ہیں ایران افغانستان کے جیسا بھوکا ننگا ملک نہیں ہے کہ جہاں بھی بمب گرے گا خیر ہی ہو گی الٹا اس کالوہا اٹھا کر کباڑ میں بیچ دیں گے ایران ایک امیر ملک ہے اس کا ایک انفراسٹرکچر ہے معیشت ہے عوام ہے ، گنجان شہر ہیں اگر ایران کی سول آبادی کو بہانہ بنا کر کوئی کارپٹ بمبنگ جیسی چیز کی گئی تو نتائج بہت بھیانک ہون گے
اب تک ٹرمپ کے بیانات سے یہئ لگ رہا ہے وہ مختلف جگہوں پر قائم سینٹری فیوجز کو نشانہ بنانا چاہتا ہے اگر ان سینیٹری فیوجز کے نام پر عوام کو نشانہ بنا دیا تو اس کا ازالہ کون کرے گا ؟
#hanifsubhani #iran #middleeast #DonaldTrump #qatar
🇺🇸Marco Rubio: "Iran could be the richest country in the Middle East if they trust United States."
🇮🇷 Abbas Araghchi: "Look how prosperous Syria, Afghanistan, and Iraq became after they trusted the United States."🔥🔥😂
No one exposes Marco Rubio better than Araghchi 👏