خیبر پختونخوا میں ریاستِ مدینہ کی عملی مثال - رات کے اس پہر عوامی وزیر اعلیٰ اپنے عوام کے درمیان موجود
رات کے اس پہر وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل خان آفریدی نے یونیورسٹی روڈ پشاور کا اچانک دورہ کیا۔ سپین مسجد کے سامنے فٹ پاتھ پر سوئے ہوئے محنت کش مزدوروں کے پاس جا کر ان کے درمیان بیٹھ گئے، ان کا حال دریافت کیا اور ان کے مسائل براہِ راست سنے۔
یہی وہ طرزِ حکمرانی ہے جو ریاستِ مدینہ کی حقیقی روح کی عکاسی کرتا ہے یعنی انسانیت، احساس اور خدمت، جہاں حکمران خود عوام کے درمیان جا کر ان کے دکھ درد بانٹتا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے مزدوروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ کل سے پشاور میں قائم پناہ گاہوں میں منتقل ہو جائیں اور فٹ پاتھ پر سونے سے گریز کریں۔ پناہ گاہوں میں آپ محفوظ رہیں گے اور شدید گرمی سے بھی بچ سکیں گے۔
وزیر اعلیٰ نے مزدوروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا آپ سب کی زندگیاں آپ کے اہلِ خانہ اور ہمارے لیے نہایت قیمتی ہیں۔ ریاست آپ کی محافظ ہے اور آپ کی خدمت ہماری ذمہ داری ہے۔ پناہ گاہوں میں آپ کو کھانے پینے، صاف ستھرے بستر اور پنکھوں سمیت تمام بنیادی سہولیات میسر ہیں۔ اگر وہاں کسی بھی قسم کا مسئلہ پیش آئے تو ہمیں ضرور آگاہ کریں۔
گزشتہ روز اڈیالہ کے باہر صدر آئی ایس ایف شمالی پنجاب ملک نجم خان عمران خان کی بہنوں کے ہمراہ آئی ایس ایف و پی ٹی آئی کارکنان و عہدےداران کا لہو کرماتے ہوئے۔
حکومت جھوٹ بولتی ہے۔ ہر دفعہ انہوں نے جھوٹ بولا ہے۔ عمران خان کا علاج کیوں نہیں ہونے دے رہے؟ کیا چھپا رہے ہیں؟ رات کے اندھیروں میں کیوں لے کر جاتے ہیں؟ ہمارا ایک ہی مطالبہ ہے کہ عمران خان کی قید تنہائی ختم ہو اور اس کا شفا انٹرنیشنل میں علاج کروایا جائے۔ اس کے لیے ہم نے پی ٹی آئی سے بارہا درخواست کی کہ ہمارے ساتھ شامل ہو کر حکومت پر پریشر ڈالیں۔ چار مہینے سے ہماری ایک ہی درخواست ہے جو ہم بار بار کرتے رہیں گے۔
علیمہ خان
@Aleema_KhanPK
#جون_16_کو_اڈیالہ_چلو
We have received reports that Imran Khan was again taken to PIMS in the early hours of 15 June. We found out through a tweet by Barrister Gohar on the morning of 15 June.
We reject any medical report generated by PIMS regarding Imran Khan’s condition. The same institution has previously made questionable claims, including the assertion that Imran Khan had recovered 90% of his eyesight. Imran Khan himself rejected these claims when his lawyer later met him at Adiala Jail.
A fundamental question remains unanswered: Why does Imran Khan require a fifth injection?
We do not accept the government’s version of events. We demand that Imran Khan be examined and treated by independent, qualified specialists at Shifa International Hospital, Islamabad. This is an urgent and immediate priority.
A full bench court order permits six family members to meet Imran Khan every Tuesday. Yet over the past eight months, the authorities have largely violated this order. My sister, Dr. Uzma Khan, has only been allowed to meet him a few times, and her last meeting took place on 2 December, 2025.
We reject the government’s continued use of isolation and deprivation as tools of pressure against Imran Khan. Today, we expect all six family members to be allowed to meet him in accordance with the court’s order.
The denial of Imran Khan’s rights is not merely a political issue; it is a clear violation of both the jail manual and High Court orders.
According to the jail manual, Imran Khan is entitled to:
1. A weekly telephone call with his sons.
2. A weekly meeting with family members.
3. A weekly meeting with his legal counsel.
4. Access to books and reading material.
5. Access to television and newspapers.
6. Access to proper medical treatment and regular medical check-ups.
7. Notification to immediate family members before any medical procedure is carried out.
In addition, High Court full bench orders provide that:
1. Imran Khan must be allowed to speak with his sons by telephone.
2. Six family members and six lawyers may meet him every Tuesday.
3. Six friends, including party representatives, may meet him every Thursday.
We demand the immediate restoration of all of Imran Khan’s lawful rights as a prisoner, with access to independent and professional medical treatment in presence of family as the highest and most urgent priority.
ہمارا ایک ہی مطالبہ ہیں عمران خان کا علاج شفاء انٹرنشیل ہسپتال میں کیا جائے اپنے ذاتی ڈاکٹرز اور فیملی کی موجودگی میں- آرگنائزر آئی ایس ایف و پی ٹی آئی پارلیمانی لیڈر قومی اسمبلی شاہد خٹک
𝙒𝙝𝙚𝙧𝙚 𝙞𝙨 𝙄𝙢𝙧𝙖𝙣 𝙆𝙝𝙖𝙣?
A few simple questions. No politics, just transparency, accountability, and the right to know.
If everything is lawful and transparent, let the facts be independently verified.
@PakPMO@UN@amnesty@hrw@Reuters@AP#WhereIsImranKhan
#EndKhansIsolationNow
In the House of Commons, Michael Kram (@MichaelKramSK) presented a petition signed by over 1,800 Canadians demanding the release of Imran Khan and all political prisoners in Pakistan.
The imprisonment of political opponents undermines democratic principles globally. International voices must persistently advocate for the release of Imran Khan and all political prisoners in Pakistan.
#WhereIsImranKhan
#FreeImranKhan
@MashwaniAzhar@khanafridi2524 اظہر بھائی، آپ کہاں اس بےکار عورت پر اپنا قیمتی وقت ضائع کر رہے ہیں؟
اس خاتون کی حقیقت صرف آزاد ڈیجیٹل جیسے چھاؤنیوں سے چلنے والے اداروں تک محدود ہے۔ ایسی بےحیا خاتون کو جواب دینا بھی اپنی زبان کی توہین ہے۔ آپ اپنا اچھا کام جاری رکھیں۔
ہاہاہا۔۔۔ مانا کہ ٹاؤٹوں کی تحریک انصاف پر بھونکے بغیر نہ ہڈی حلال ہوتی ہے نہ ریچ ملتی ہے ، لیکن کم از کم ایسا جھوٹ بولا کرو جس راتب خوروں کے علاوہ کوئی یقین ہی کر لے
یہ اس وقت کی ویڈیو ہے جب کشمیری ہمیں محبت سے ویلکم کر رہے تھے اور تمہیں ر*** اور گ*** جیسی گالیاں دے رہے تھے
ہم وہاں سیاست کے لیے نہیں کشمیر میں ہونے والی شہادتوں کے خلاف کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی کے لیے گئے تھے اور ہمیں آرگنائرز نے خود دعوت دی تھی- اور شروع سے آخر تک ہمارے ساتھ موجود رہے-
تم نے کل بھی جو ویڈیو لگائیں وہ احتجاج کی جگہ کی نہیں تھیں بلکہ احتجاج کے بعد ہم آرگنائرز کے ساتھ کافی شاپ پر بیٹھ گئے تھے اور ویڈیو کے وقت ہم واپس گاڑی کی طرف جا رہے تھے-
نوٹ: گالیوں والی ویڈیوز @MurtazaViews کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر موجود ہیں- تحریک انصاف والے اس میں بھی سب کو گالم گلوچ سے منع ہی کرتے دیکھے جا سکتے ہیں-
میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ یہ ٹاؤٹ جتنی مرضی چھلانگیں لگا لیں اور پرسنل اٹیکس کر لیں میں نے ان کے مالکوں کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف احتجاج کرنا نہیں چھوڑنا اور ان کو تکلیف پہنچاتا رہوں گا
راولا کوٹ میں ہونے والے قتل عام کے خلاف آج کشمیری برادری کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے ہم نے لندن ہائی کمیشن کے سامنے کشمیریوں کے احتجاج میں بھرپور انداز میں حصہ ڈالا
گلگت سے راولا کوٹ، اور اڈیالہ سے بولان تک تمام پاکستانی اب ملک پر مسلط مافیا کے ظلم کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں اور جتنی مرضی گولیاں چلا لیں پاکستانی اپنے آئینی حقوق کی جنگ جاری رکھیں گے
🚨🚨Breaking News: Aabpara/Rawalpindi issues directive to all TV/Media to only take the listed below ‘experts’ ‘analysts’ to speak on what’s happening and AJK and remember they’re to highlight loss of official lives only and no mention of civilian casualties and NOT A SINGLE KASHMIRI on the list‼️
گلگت میں پیپلز پارٹی کو حکومت دے کر سلیکٹ کیا گیا اور ن لیگ کو اپوزیشن میں بٹھایا جائے گا
جبکہ دوسری طرف کشمیر میں ن لیگ کو حکومت دے کر پیپلز پارٹی کو اپوزیشن میں بٹھایا جائے گا۔
یہ دونوں برائے نام کی سیاسی پارٹیاں اسٹیبلشمنٹ کی لونڈیاں ہیں۔
اسٹیبلشمنٹ کا اصل مقصد عوام کو مایوس کرنا ہے کہ آپکے ووٹ سے کوئی تبدیلی نہیں انی لیکن مایوس نہیں ہونا انشااللہ وقت ائے گا جب عوامی مینڈیٹ کی ہی جیت ہو گی۔
پاکستانیوں یہ سارے چور اندر سے ایک ہیں، گٹھ جوڑ شروع۔۔۔
پی ڈی ایم اور 8 فروری اور اب 7 جون ۔۔ یاد رکھنا۔۔۔
آپ کا ووٹ توڑنے کے لیے ہر انتخابات سے پہلے یہ ایک دوسرے کو گالیاں نکال کے آپ کو بےوقوف بناتے ہیں اور پھر مل کر آپ کو لوٹتے ہیں۔
#جی_بی_کا_فیصلہ_عمران_خان