جب میری بچی کی چیخیں نکل رہی تھی
اس نے میری بچی کے منہ میں پلاسٹک کی بوتل گھسائی تھی۔۔۔
جس طرح اس نے پلان کر کے سب کیا ہے
پاگل ایسے نہیں کرتے
ہم نے کس چیز کی آزادی منائی ہے؟
ڈیڑھ سال کی بچی یہاں محفوظ نہیں
کس چیز کی آزادی منائی ہے؟
اگر کسی ایک بھی درندے کو سب کے سامنے سزا دی جاتی
تو میری بچی آج زندہ ہوتی۔۔۔
ایزل کی والدہ کی گفتگو۔۔۔
پمز ہسپتال واقعے کی واحد چشم دید گواہ
یہ وہ دلیر بچی نے جس نے پمز اسپتال میں لگنے والی آگ سے اپنے بھتیجے کو بچایا اور دو تین عورتوں کو بھی باحفاظت نکال لائی
لیکن افسوس سیکورٹی گارڈ نے ان کو ایک کمرے میں بند کردیا اس بچی نے اسپتال کا بھانڈا پھوڑ دیا ۔
صبح جب اسپتال میں آگ لگی تو عملے نے اپنی جان بچانا ضروری سمجھا
اگر اس وقت عملے کا ایک بندہ ایک بچے کو اٹھاتا تو یقین مانیں چودہ بچے جو شہید ہوئے ہیں وہ بچ جاتے لیکن عملے نے اپنی جان کو بچانا ضروری سمجھا
جیسے آگ لگی یہ منیبہ نامی بچی اپنی بھابھی کے ساتھ وہیں موجود تھی اس نے اپنے ننھے بھتیجے کو باحفاظت نکال لیا
یہ اور بھی بچوں کو بچانا چاہتی تھی لیکن اسپتال کے گارڈز نے بدنامی کے ڈر کے اس کو اور دوسری عورتوں کو ایک کمرے میں بند کردیا
اس کے بعد وہ سب اپنی جانیں بچانے لگے
آپ کیا کہتے ہیں اسپتال کی انتظامیہ کے ساتھ کیا ہونا چاہیئے؟
😪😪😪😓
چارسدہ کا وہ مجرم جس نے 3 بھائیوں کو قتل کر دیا تھا ایجنسیاں اس مجرم کو ملائشیاء سے پکڑ کر پاکستان کی عدالت میں پیش کردیا۔ اور کل عدالت نے ثبوت ناکافی ھونے پر 4لاکھ کی ضمانت پر رھا کر دیا۔افسوس صد افسوس
پوسٹ شئیر کرے تاکہ ان مظلوم خاندان کو انصاف مل جائے۔۔۔
شئیر کریں اس سے پہلے کہ درندوں کے ہاتھ لگ جائے
ابھی کچھ دیر قبل بنی گالہ اسلام آباد کی حدود سے ماریہ نامی یہ معصوم بچی ملی ہے جو غلطی سے بس میں سوار ہوکر کوئٹہ سے اسلام آباد آگئی ۔
سڑک پہ بیٹھی سہمی ہوئی تھی ﷲ نے کرم کیا کہ کسی برے ہاتھ میں نہیں گئی
اس بچی کو کچھ بھی نہیں پتا بس اتنا پتا ہے کہ یہ اس کے والد کا نام غلام رسول ہے چودہ اگست کو کسی نے اس کو بس میں چڑھا دیا تھا
یہ بیچاری اسلام آباد پہنچ گئی پشتو بولتی ہے دس دن سے مختلف علاقوں میں رل رہی ہے ۔
ایک پشتو سمجھنے والے پولیس والے نے اس کو پکڑا تو پتا چلا کہ یہ زہنی معذور ہے بیچاری بھوکی تھی انہوں نے کھانا کھلایا
یہ کاسی روڈ / حاجی غیبی روڈ، کوئٹہ کی رہائشی ہے اور اس کی عمر 24 سال ہے۔
جیسے کل آپ نے کراچی والے بچے کو سب تک پہنچایا تو الحمداللہ اس کے والدین کا پتا چل گیا
تو اس بچی کا بھی فرض ادا کریں ہوسکتا ہے کہ آغواء کرکے کوئی لے آیا ہو
😥😔😪😪
بچی کی گمشدگی، تلاش میں مدد کی اپیل
بچی کی والد کا نام، اول سید دلہ زاق روڈ
عمر: 7 سال
رہائش: زریاب ہائی سکول کے قریب
یہ بچی لاپتہ ہے، جس کے باعث اس کے گھر والے انتہائی پریشان ہیں۔ اگر کسی شخص کو یہ بچی ملے، اس کے بارے میں کوئی معلومات ہوں، یا وہ کسی تھانے میں موجود ہو تو براہِ کرم فوری طور پر اس نمبر پر رابطہ کریں،03161828248
خدارا اس بچی کی تلاش میں مدد کریں اور یہ پیغام زیادہ سے زیادہ شیئر کریں، تاکہ بچی بحفاظت اپنے گھر والوں تک پہنچ سکے۔
اللہ پاک بچی کی حفظ فرمائیں
@KP_Police1@DrMianSaeedPSP
مالاکنڈ سوات کی اس لڑکی نے دو ہفتے پہلے اپنے بوڑھے باپ کے ہمراہ پریس کلب پشاور میں پریس کانفرنس کر کے وزیر اعلی خیبر پختونخواہ سے قبضہ گروپس کے خلاف انصاف اور تحفظ کی اپیل کی تھی
پھر دیکھیں ہمارے ملک کا سسٹم اور خاص کر کے پی کے کا انصاف !!!!
اس کو انصاف اور تحفظ ملنے کے بجائے اج اس لڑکی کو باپ سمیت گولیوں سے چ ھن ل ی کر کے انصاف دیا گیا
اب یہاں سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا مافیا گروپ ریاست سے زیادہ طاقتور ہیں۔
👈اس آواز کو حکومتی ارباب اختیار تک پہنچائیں۔
@syed_bacha@FarhanKVirk@GFarooqi
میں امی باجرہ لے کر آتی ہوں .
یہ تصویر میں نظر آنے والی 39 سالہ پروین ایک ہفتہ قبل شام کو 6:30 منٹ پہ محلہ کی دوکان سے باجرہ لینے گئی
کیونکہ اس نے پرندے پالے ہوئے تھے انتہائی سادہ دنیا کی تیزی بھی اس میں موجود نہیں تھی
اس لیئے جو بھی آتا اس بیچاری کو ریجکٹ کردیتا ۔
نہ کوئی موبائل اس کے پاس حتیٰ کے بٹنوں والا سیل بھی چلانا نہیں آتا کہ
انسان کچھ اور اس کے متعلق سوچ لے ۔
جیسے آدھا گھنٹہ گزرا ۔ گھر والے پریشان ہوگئے کہ پہلے تو دس منٹ میں آجاتی تھی۔
کرتے کرتے رات ہونے لگی
گھر والے پولیس اسٹیشن گئے کہ پہلے تو وہی سب کچھ کہ بھاگ گئی ہوگی فلانا فلانا
پھر کسی طرح انہوں نے ایف آئی آر درج کرلی ۔
لیکن ڈھونڈنے سے انکار کردیا ۔
بقول ان کی چھوٹی بہن کے انہوں نے ہر مشہور شخصیت جوکہ سوشل میڈیا پہ بچھـڑوں کو ملاتی ہے انہوں نے بھی جواب نہ دیا ۔
چاہے بیٹی جیسی بھی ہو بیٹی بیٹی ہوتی ہے تمام بہت پریشان ہیں ﷲ پاک اس بہن کو اپنے گھر والوں سے ملائے
سب نے ساتھ دینے سے انکار کردیا ہے
کیا آپ ساتھ دیں گے ؟ یہ لوگ لیاقت آباد کراچی سے ہیں
😪😪😪😓😓
بھائی بات سنیں۔۔۔۔
جی بہن۔۔۔؟!
مجھے بھی میرے گھر والوں سے ملائیں میں زندگی بھر آپ سب کی احسان مند رہونگی اور ہمیشہ دعا کرونگی۔۔۔
جی بہن کیا سٹوری ہے آپکی۔۔؟؟!
جی بھائی۔۔۔ وہ ناں۔۔۔ اصل میں بات یہ ہے کہ میں بہت چھوٹی تھی۔۔ میرا نام کرن اسلم تھا۔۔ سال 2005 تھا۔۔۔ہم کراچی میں رہتے تھے۔ بس اتنا یاد ہے کہ ہم کورنگی میں رہتے تھے۔ میں اپنی امی کے ساتھ کسی رشتے دار کے گھر گئی تھی۔ وہاں سے میں بازار گئی تھی۔۔ بازار میں گم ہوئی۔۔۔ مجھے ایک شیلٹر میں پہنچایا گیا۔۔۔
پہلے تو یہ سن لیں کہ میرا نام کرن اسلم تھا۔۔ جی بہن نام "تھا" یا ہے؟ جی وہ شیلٹر میں پھر نام بدل کر زینب رکھ دیا گیا تھا اس لئے "تھا" کہہ رہی ہوں۔ والد کا نام اسلم قریشی ہے اور میری والدہ کا نام بانو ہے ۔ میرے چار بھائی تھے۔۔۔ محمد عامر ،محمد عادل،محمد عاصم،اور محمد حمزہ۔
(آج بھی بھائیوں سے اتنی محبت دل میں بسی ہے کہ مکمل مکمل نام لے رہی ہے)۔ میری بہن ایک تھی غزل نام تھا۔ ہم قریشی ہیں۔ کورنگی میں شاید کرائے کے مکان میں رہتے تھے۔
جی بہن ٹھیک ہے! پھر شیلٹر سے کیسے نکلی؟
جی جی میں وہی بتارہی ہوں۔۔۔
ہم بہت مشکل میں تھے۔بچپن سے شیلٹر میں بڑی ہوئی۔ ہمارے ساتھ جو لڑکیاں موجود تھیں ان سب میں ہم پانچ لڑکیاں آپس میں بہت اچھی دوست بنی تھیں۔
ہمارے گروپ میں ایک لڑکی صوبیہ کو پنجاب میں اپنے گھر کا ایڈریس معلوم تھا۔ اور حیدرآباد سندھ میں ایک رشتےدار کا گھر بھی پتہ تھا۔ ہم سب نے پلان بنایا تھاکہ کسی بھی طرح شیلٹر سے نکلنا ہے۔ صوبیہ نےہمیں کہا کہ تم لوگ بےفکر رہو ۔ یہاں سے نکلیں گے تو میں تم لوگوں کو اپنے گھر لےچلونگی۔ میرے گھر والے ضرور تم چاروں کا خیال رکھیں گے۔ہم پہلے کراچی سے حیدرآباد رشتےدار کے گھر پہنچیں گے پھر وہ میرے امی ابو کو بلائیں گے وہ لینے آجائیں گے۔حیدرآباد قریب ہے ہمارے لئے جانے میں پریشانی نہیں ہوگی۔
ہم پانچوں نے شیلٹر کی دیوار پھلانگ کر بھاگنے کی تیاری مکمل کی۔ موقع ملتے ہی ہم دیوار پھلانگ کر باہر آگئے۔ دیوار سے کودنے کے دوران ہماری ایک سہیلی کی ٹانگ ٹوٹ گئی۔ ہم چاروں نے اسے اٹھاکر قریبی اسپتال پہنچایا۔ اسپتال میں داخل کیا۔ پیسے نہیں تھے اور پکڑے جانے کے ڈر بھی تھا۔۔ اس لئے ہم نے اسپتال والوں کو کہا کہ ہم کچھ دیر میں پیسے لیکر آتے ہیں۔۔۔ اور یوں ہم نے حیدرآباد کی گاڑی پکڑ لی۔
اپنی زخمی ساتھی کو چھوڑ کر جانے کا فیصلہ تو بہت تکلیف دہ تھا۔۔ لیکن ہم عورت ذات ہونے کی وجہ سے اسکو زخمی حالت میں سنبھال نہیں سکتی تھیں۔
حیدرآباد میں صوبیہ کے رشتے دار کے ہاں پہنچے۔ انہوں نے صوبیہ کے گھر والوں کو اطلاع دی۔ صوبیہ کے گھر میں کھلبلی سی مچ گئی ۔ اور عید کا سماں بندھ گیا ۔ وہ پنجاب سے بھاگتے ہوئے حیدرآباد پہنچ گئے۔۔۔ ہم چاروں کو اپنے ساتھ لیکر گئے۔
صوبیہ کے گھر والوں نے اپنی بیٹیوں کی طرح رکھا۔۔۔ہم تین ان کے لئے غیر لڑکیاں تھیں۔۔۔لیکن اپنی بیٹیوں سے بڑھ کر رکھا۔ انہوں نے چن چن کر اپنے خاندان کے ایسے تین لڑکے بلائے جو کاروبار میں اخلاق میں ہر طرح سے اچھے تھے۔ ہم تینوں کا نکاح کروایا۔۔ابھی میں تین بچوں کی ماں ہوں۔
بس مجھے میرے گھر والوں کی یاد چین سے جینے نہیں دیتی۔
میرے بچے پوچھتے ہیں کہ امی نانا نانی کہاں ہیں؟ تو میں سوائے آنسوؤں کے کوئی جواب نہیں دے پاتی۔ میں ہاتھ جوڑ کر اپیل کرتی ہوں میرے گھر والوں سے ملائیں۔ ہم کورنگی میں رہتے تھے۔ سب کے نام موجود ہیں۔ وہ مل جائیں گے۔ آپکی ویڈیوز دیکھ کر امید کی کرن نظر آئی ہے۔
اگر آپ کے سینے میں دل ہے اور وہ دل پتھر کا نہیں ہے تو ضرور شئیر کرکے کرن کا خاندان ڈھونڈنے میں مدد کریں گے۔
نوٹ: کرن کی حالیہ تصویر کو ہم نے اے آئی کی مدد سے کم عمری کی تصویر بنائی ہے۔ پرانی تصویر موجود نہیں تھی۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
+923162529829
20 اگست 2026
#waliullahmaroof #karachi #korangi
جب یہ ویڈیو دیکھی تو ذہن میں پہلا خیال یہی آیا کہ شاید کوئی ستر سالہ بوڑھی ماں ہوگی، جسے اس کی دو بیٹیاں سہارا دے کر کوئٹہ پریس کلب لائی ہیں۔ مگر غور کیا تو سامنے ایک نوجوان لڑکی تھی، جو شاید سترہ اٹھارہ سال کی دکھائی دے رہی تھی۔ پھر خیال سا آیا کہ آخر اتنی کم عمر لڑکی اس قدر نڈھال کیوں ہے، قدم اٹھانا بھی دشوار کیوں ہے؟
پھر جب اس کی پریس کانفرنس سنی تو دل مزید بوجھل ہوگیا۔ اسماء امان اللہ نے اپنی درد بھری داستان سناتے ہوئے بتایا کہ 13 اگست کی شب تقریباً گیارہ بجے خدا بخش ولد بختیار احمد، اس کے ماموں کا بیٹا جاوید ولد عبدالصمد، ماموں کا نواسہ سراج ولد احمد حسین اور رفیق ولد یوسف محمد یوسف دیوار پھلانگ کر اس کے گھر میں داخل ہوئے۔ اس کے بقول، ملزمان نے اس پر اور اس کی والدہ پر تشدد کیا، گھر سے سونا، چاندی، بالیاں اور دیگر زیورات کے علاوہ 65 ہزار روپے بھی لے لیے، بھائی کے میٹرک سند دیگر دستاویزات بھی ۔ اسے مارا پیٹا اور پھر گاڑی کی ڈگی میں ڈال کر اپنے ساتھ لے گئے۔
اسماء کے چہرے پر تشدد کے نشانات اس کی فریاد کی خاموش گواہی دے رہے تھے۔
اس نے بتایا کہ اسے جوائنٹ روڈ، کوئٹہ ریلوے کالونی میں احمد حسین کے گھر لے جایا گیا، جہاں اس نے مدد کی اپیل کی اور ان کی وردی کا واسطہ بھی دیا، مگر اس کے مطابق کوئی مدد نہیں کی گئی۔ وہاں اس کا سابق منگیتر خدا بخش مبینہ طور پر زبردستی نکاح کرنا چاہتا تھا۔ اس کی رضامندی نہ ہونے پر مولوی نے نکاح پڑھانے سے انکار کیا تو وہ مزید مشتعل ہوگئے۔
اسماء کے مطابق اسے دھمکیاں دی گئیں کہ اگر اس نے بات نہ مانی تو اس کے ساتھ اجتماعی زیادتی کرکے اسے کسی ویرانے پہاڑ میں قتل کرکے پھینک دیا جائے گا۔ اس دوران، اس کے بقول، جاوید نے اس کا گلا دبانے کی بھی کوشش کی۔ بعد ازاں اس کے ہاتھ پاؤں باندھ کر اسے گاڑی میں ڈال دیا گیا۔
کولپور کے مقام پر ماشاءاللہ ہوٹل کے قریب گاڑی روکی گئی۔ اسماء کے مطابق وہاں اس کے اغوا کاروں نے چائے پی، اور چونکہ انہیں معلوم تھا کہ آگے ایف سی کی چیک پوسٹ ہے، اس لیے اس کے ہاتھ پاؤں کھول دیے۔ اسے دھمکایا گیا کہ اگر اس نے شور مچایا تو اس کی ماں اور بہن کو نقصان پہنچایا جائے گا اور اسے ایف سی کے حوالے کرکے اس کی عزت خراب کروائی جائے گی۔
مگر شاید اس بے بس لڑکی کی قسمت میں ابھی زندگی باقی تھی۔
جیسے ہی گاڑی ناکہ بندی پر پہنچی، اسماء نے چیخ چیخ کر ایف سی اہلکاروں سے مدد مانگی۔ اس کے پاؤں ننگے تھے، تشدد کے باعث کپڑے پھٹے ہوئے تھے۔ اس کے مطابق ایف سی اہلکاروں نے فوراً اسے چپل دی اور سر پر چادر اوڑھائی۔
دوسری جانب اغوا کاروں نے مبینہ طور پر یہ کہہ کر بچنے کی کوشش کی کہ وہ اسے علاج کے لیے لے جا رہے ہیں اور اس کا ذہنی توازن درست نہیں۔ مگر اسماء نے اہلکاروں کے سامنے اپنی فریاد دہراتے ہوئے کہا کہ وہ بالکل ہوش و حواس میں ہے، اسے اغوا کرکے لے جایا جا رہا ہے، اس کے گھر پر حملہ کیا گیا، زیورات اور رقم لے لی گئی اور وہ اپنی مرضی سے ان کے ساتھ نہیں جا رہی۔
بالآخر ایف سی اہلکاروں نے اسے ان کے قبضے سے آزاد کرایا۔
آج اسماء اپنی والدہ کے ہمراہ کوئٹہ پریس کلب پہنچی ہے۔ وہ کہتی ہے کہ ابھی تک خفیہ مقام پر رہ رہی ہے، مگر خوف اب بھی اس کے ساتھ ہے۔ اسے ان لوگوں سے خطرہ محسوس ہوتا ہے اور وہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور آئی جی بلوچستان محمد طاہر سے انصاف اور تحفظ کی اپیل کر رہی ہے۔
ایک اسماء جتک کا معاملہ ابھی حل نہیں ہوا، اسے انصاف نہیں ملا، اس کے خاندان کو تحفظ نہیں ملا، کہ ایک اور اسماء اپنی فریاد لے کر پریس کلب پہنچ گئی۔
آخر کب تک ہماری بیٹیاں اپنے ساتھ ہونے والے ظلم کی داستانیں لیے پریس کلبوں کے دروازے کھٹکھٹاتی رہیں گی؟