7 اکتوبر 2023 کو شروع ہونے والی غزہ جنگ کو آج تین سال مکم�� ہو گئے!!!
تین سال، بے شمار جانیں، اجڑے گھر اور نسلوں پر چھوڑے گئے زخم!!!
تاریخ صرف جنگوں کو نہیں، ان میں ضائع ہونے والی انسانی زندگیوں کو بھی یاد رکھتی ہے!!!
#Gaza
#Palestine #EndTheWar #Peace
افنان اللہ اور شیر افضل کی لڑائی کی اصل وجہ۔۔۔ لڑائی کی اصل وجہ پی ٹی آئی کے شیر افضل کی افنان اللہ کو گالی دینا تھا۔۔۔ یہ حقیت ھے کہ پی ٹی آئی کے راہنماوں کے پاس جب دلیل نا ہو تو وہ گالی گلوچ اور مار کٹائی پہ اتر آتے ھے۔۔۔ مگر یہاں افنان اللہ نے شیر افضل کی درگت بنا ڈالی۔۔۔
یہ میراملک ہےیہ میراوطن ہےمیں یہاں کسی کا زاتی ملازم نہیں تھانہ کسی جنرل فیض کانہ کسی وزیراعظم کاپبلک سرونٹ ہوتےہوئے میری ایک زمےداری تھی وہ میں نےاللہ کواپنے ضمیر کوآئین و قانون کوجوابدہ ہوتےہوئے اپنی وہ زمےداری پوری کرنی تھی میرےپاس جو حقائق ہیں وہ اس قوم کی اپنےضمیرکی اوراللہ کی امانت ہیں جو میں سپریم کورٹ میں جمع کروادوں گا۔ابصارعالم حیدر
https://t.co/JNZdQbOs2X
چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں فیض آباد دھرنا نظرثانی کیس سماعت:
کہا جاتا ہے ہمیں سنا نہیں گیا اب ہم سننے کیلئے بیٹھے ہیں آکر بتائیں۔
پہلے کہا گیا فیصلہ غلطیوں سے بھرا ہوا ہے اب کیا فیصلے میں ساری غلطیاں ختم ہوگئی ہیں۔
@TSPNworld
https://t.co/Tc25FGTE3P
وہ صاحب کہاں ہیں جنہیں جمہوریت چاہیے تھی وہ کینیڈا سے کیوں نہیں آئے۔
فیض آباد دھرنا کیس فیصلے پراسوقت عمل درآمد ہوتا تو بعد میں سنگین واقعات نہ ہوتے۔
چیف جسٹس قاضی فائیز عیسی
https://t.co/9RD1w8fCKY
شاہد خاقان عباسی اسی نواز شریف کے ایک سال تک وزیراعظم رہے، اس دوران نیب ترامیم کرنے لگے تو ثاقب نثار کی ایک دھمکی پر لیٹ گئے، پارٹیاں بنانا انکا حق ہے لیکن وہ ذرا مری جاکر دیکھیں انکا عوام کے ساتھ کتنا تعلق ہے اور انہوں نے عوام کے لیے کیا کیا۔ نسخوں سے حقیقت نہیں بدلی جاسکتی۔
نوازشریف نہ صرف پاکستان آرہے ہیں بلکہ چوتھی بار وزیراعظم بھی بنیں گے انشاءاللہ اور پانچ سال پورے بھی کری��گے کیونکہ سب جانتے ہیں کہ صرف نوازشریف ہی پاکستان کو واپس ٹریک پر لا سکتے ہیں اور انشاءاللہ لائیں گے
#کوئی_اور_نہیں_بس_شیر
فیض آباد دھرنا نظرثانی کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے عدالت کا ماحول انتہائی ٹھنڈا رکھا ہے لیکن مجھے یہ ٹھنڈا ماحول آئندہ سماعتوں پر اتنا ہی ٹھنڈا رہتا دیکھائی نہیں دے رہا ۔۔ آج کی سماعت میں سب سے اہم بات یہ سامنے آئی کہ تحریک لبیک اور مرحوم علامہ خادم رضوی نے سپریم کورٹ کا فیصلہ تسلیم کرتے ہوئے فیصلے کے خلاف نظرثانی درخواست تک دائر نہیں کی تھی ��
آئیندہ کسی سرکاری افسر کیلئے صاحب کا لفظ استعمال نہیں کیا جائیگا۔ دفاتر میں صاحب کا لفظ حکمرانی کو ظاہر کرتا ہے آئین میں ایسی کوئی شق موجود نہیں�� سپریم کورٹ