سن لیا؟ نہیں سنا؟ تو پھر سن لیں!
یہی کہہ رہے تھے مولانا فضل الرحمن کہ میں لشکر نہیں بناونگا کیوں؟ کیونکہ انہی لشکریوں کو بعد میں آپ نے دہ شت گرد قرار دے کر ماردینا ہے ۔
#لبیک_مولانا
مولانا فضل الرحمن صاحب کا خطاب پورا ملک کے مقتدر علما کو سمجھ میں نہیں آیا صرف ابو الفضل مفتی عبد الرحیم اور مفتی طارق مسعود فیضی ،حنا بٹ ،طاہر اشرفی ،احمد ملک ،اور چند مذہب بیزار نمونوں کے سمجھ میں آیا ہے۔
اگر قبائل کو اس طرح میدان میں اتارا گیا تو اس کے نتیجے میں قبائل کے درمیان ایسی دشمنیاں جنم لے سکتی ہیں جو نسلوں تک ختم نہ ہوں۔ اسی لیے انہوں نے قبائلی لشکروں کی تشکیل کو ایک نقصان دہ اور دور رس منفی نتائج کا حامل راستہ قرار دیا۔
قائدِ جمعیت کی گفتگو کو دانستہ غلط رنگ دیا جا رہا ہےاور یہ پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے کہ انہوں نے کہا ہے کہ فوجی "شہادت کی تنخواہ لیتے ہیں"، حالانکہ یہ بات ان کے الفاظ اور سیاق و سباق دونوں کے خلاف ہے۔
قائدِ محترم نے فرمایا کہ یہ کہتے ہیں: "ہمارے جوان بھی تو شہید ہو رہے ہیں۔"
امن و امان کا قیام اور دہشت گردی کا مقابلہ کرنا ریاستی اداروں کی آئینی ذمہ داری ہے، اور وہ اسی ذمہ داری کی ادائیگی کے لیے تنخواہ وصول کرتے ہیں۔ عوام اس کام کی تنخواہ نہیں لیتے، نہ یہ ان کی ذمہ داری ہے۔
قائدِ جمعیت کے اس مؤقف کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ
۔لہذا ان کی بات کو "شہادت کی تنخواہ" سے جوڑنا صریح بددیانتی ہے۔
اصل میں قائدِ جمعیت مدظلہ العالی کی گفتگو کا موضوع قبائلی لشکروں کی تشکیل تھا۔ وہ یہ سوال اٹھا رہے تھے کہ خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقوں کے عوام سے کیوں کہا جا رہا ہے کہ قبائلی لشکر بنائیں؟ حالانکہ ملک کا دفاع،