ماں باپ کی مرضی سے شادی کی۔ انجام شوہر کے ہاتھوں قتل
ماں باپ کی مرضی کے بغیر طلاق کیوں لی۔ انجام باپ کے ہاتھوں قتل
اپنی مرضی کی زندگی کیوں گزار رہی ۔ انجام بھائی کے ہاتھوں قتل ۔
یہ اس گندے معاشرے کے دماغ میں نہ جانے کس نے یہ خناس بھر دیا ہے کہ اولاد تمہاری پراپرٹی ہے؟ بہن تمہاری ملکیت ہے؟ یا بیوی تمہاری جاگیر ہے؟
باپ سایہ بننے کی بجائے خدا بن جائے ،بھائی حفاظت کی بجائے قاتل بن جائے اور شوہر شریک حیات بننے کی بجائےمالک بن جائے تو عورت کا گھر کون سا ؟ اس کی جائے پناہ کون سی ؟۔
کسی کے ساتھ نکاح پڑھ لینے یا خونی رشتہ ہونے کا مطلب لائسنس ٹو کل کیسے بن جاتا ہے؟
انسانی جان کی حرمت کعبے سے زیادہ ہے ۔لیکن یہ دہشتگردانہ دماغ ہیں اس بات کو سمجھتے ہی نہیں
معاشرے میں ترقی کیلئے سب سے پہلے سوسائٹی کو حلال حرام اور گناہ ثواب کی ذاتی وضاحت سے نکلنا پڑتا ہے معاشرے کو سیکولر بننا پڑتا ہے،
آپ ذرا اپنے ہمسایہ ملک کا معاشی طور پر معائنہ کریں، اور سوچیں کیا آپکے ہاں یہ سب کچھ ہے۔؟
ڈانس یا بھنگڑا کرنا اور سیکھانا ایک مکمل فیلڈ ہے،
فٹنس، میوزک، بینڈ ڈھول، یوگا، ٹیلرنگ فیشن،
کانٹینٹ کریشن، ایونٹ اینکرنگ اور میزبانی،
جدید زراعت کے شعبے،
موٹر مکینک انسٹیٹوٹ، Social Life & Ethics، اور اس طرح کے سینکڑوں شعبے ہیں جنکے انسٹیٹوٹ بنا کر معاشرے میں لاکھوں لوگوں کا ذریعہ معاش بنایا جا سکتا ہے,
اور نئی نسل کو ڈاکٹر، انجینئرنگ اور ٹیچنگ کے علاوہ بھی سینکڑوں کامیابی کے راستے دیکھائے جا سکتے ہیں،
کیا ہمارے ہاں ایک عام عورت ورکشاپ میں جاکر کام سیکھ سکتی ہے، بلکل نہیں،
اسکے لئے کبھی کسی نے توجہ دی کہ ایک پراپر سکول بنایا جائے۔؟
صرف بچے پیدا کرنے سے ملک اور معاشرے ترقی نہیں کرتے،
ان کروڑوں بچوں کو مصروف کرنے کیلئے سینکڑوں شعبے ترتیب دینا ہوتے ہیں،
جن میں وہ انگیج ہو سکیں۔۔۔
ہمارے یہاں بڑھتی ہوئی آبادی اور شعبوں میں کمی اسے چند سالوں میں نگل جائے گی۔۔۔
ساری دنیا سو سال آگے کا سوچتی ہے۔ اکیسویں صدی کے مسلمان ہزار سال پیچھے جانے پر بضد ہیں۔ جو اگے جائے اسے کافر کہہ کر سو جاتے ہیں۔۔۔۔جو بہت ججباتی ہیں وہ اس کافر کو ہمیشہ کے لئے سلانے کے پلان بنا لیتے ہیں۔۔
بس یہی چل ریا ہے پہلوان۔۔
Me ny Bhi apny walid sab k case me ye same situation face ki hai same doctor and same hospital but mere khuch Aziz medical field me thy jis ki wjah sy Mene in sy laar kr dusray din hi sari reports ko different neurosurgeon ko dikh di thi Aur operated ko cancel krwaya
شریف خاندان کے زیر سایہ چلنے والے ہسپتال میں پیش آیا افسوسناک واقعہ
@CMShehbaz@MaryamNSharif
کرنل (ر) ڈاکٹر صابر حسین بھٹی اوراتفاق ہسپتال پر سنگین سوالات
یہ کوئی کہانی نہیں،یہ میرے اپنے ساتھ پیش آنے والا ایک ایسا واقعہ ہے جس نے میرے دل،دماغ اور ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔میرے انتہائی دیرینہ دوست،ملک غلام مصطفی،عید سے چند روز قبل گھر کی سیڑھیوں سے گر کر زخمی ہو گئے جس پر ان کے بیٹے گھبراہٹ میں انہیں فوراً ”شریف خاندان “ کی ملکیتی لاہور کے معروف اتفاق ہسپتال ٹرسٹ لے گئے،اس امید کے ساتھ کہ یہاں سے زندگی کی خبر ملے گی،نہ کہ موت کی۔ہسپتال میں ابتدائی معائنے کے بعد نیورو ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ کرنل(ر) ڈاکٹر صابر حسین بھٹی نے سٹی سکین کروا کر فوری طور پر اعلان کیا کہ دماغ میں کلاٹ ہے اور ”فوری آپریشن“ ناگزیر ہے۔بچوں نے درخواست کی کہ کیا ہم دوسری رائے لے سکتے ہیں؟جواب ملاوقت نہیں،تاخیر جان لے سکتی ہے۔یہ سنتے ہی خاندان خوف کے ہاتھوں مجبور ہو گیا۔لاکھوں روپے جمع کروائے گئے اور آپریشن ہو گیا لیکن سوال یہ ہے کہ کیا واقعی وہ آپریشن ضروری تھا؟کیونکہ دو دن بعد بھی مریض کو ہوش نہ آیا بلکہ حالت مزید بگڑ گئی۔کرنل (ر) ڈاکٹر صابر حسین بھٹی نے پھر کہا کہ نئی پیچیدگی پیدا ہو گئی ہے اور دوسرا آپریشن کرنا ہو گا۔بچوں نے پھر ڈاکٹر پر اعتماد کیا اور دوسرا آپریشن بھی ہو گیا لیکن اس کے بعد جو کچھ ہوا،وہ اور بھی زیادہ پریشان کن تھا۔کرنل (ر) ڈاکٹر صابر حسین بھٹی جس نے یہ دونوں بڑے فیصلے کیے،وہ مریض کو انتہائی نازک حالت میں چھوڑ کر چھٹی پر چلے گئے۔آئی سی یو کے باہر کھڑے لواحقین بار بار ایک ہی سوال کرتے رہے،ڈاکٹر صاحب کہاں ہیں؟اور جواب آتا رہا”وہ چھٹی پر ہیں“کیا ایک ایسے مریض کو،جس کے دماغ کے دو بڑے آپریشن ہو چکے ہوں،اس کوبنیادی معالج کے بغیر چھوڑ دینا درست طبی عمل ہے؟مریض مسلسل بے ہوشی میں تھا،میں پتا لینے گیا،ہسپتال میں اپنے دوست کی حالت دیکھی تو رہا نہ گیا،کسی دوسرے ڈاکٹر سے رائے لینے کا سوچا تو ہسپتال کے عملے اور ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر کی جانب سے ہمیں مریض کی مکمل میڈیکل رپورٹس تک نہیں دی گئیں۔ہمیں سٹی سکین کی فلم تک لینے سے روکا گیا۔آخرکار، ہم نے مشکل سے چند رپورٹس حاصل کر کے دیگر نیورو سرجنز سے رائے لی اور وہاں سے جو بات سامنے آئی،اس نے ہمارے پیروں تلے زمین کھینچ لی۔۔۔لاہور کے تین معروف ترین نیورو سرجنز کی الگ،الگ یہی رائے تھی کہ ابتدائی سٹی سکین کے مطابق آپریشن کی قطعی ضرورت نہیں تھی اور مریض کو آبزرویشن میں رکھا جا سکتا تھا،ڈاکٹر نے جان بوجھ کر اپنے پیسے بنانے کے چکر میں مریض کو موت کے منہ میں دھکیلا ہے۔۔۔ اگر یہ درست ہے تو پھر سوال اور بھی سنگین ہو جاتا ہے۔ہم مریض کو دوسرے ہسپتال منتقل کرنے کا سوچ ہی رہے تھے کہ اس سے پہلے ہی وہ ہم سے ہمیشہ کے لیے جدا ہو گئے۔انا للہ و انا الیہ راجعون۔
آج میں صرف غمزدہ نہیں ہوں،میں سوال کر رہا ہوں،کیا مریض اور اس کے اہل خانہ کو مکمل معلومات دینا ضروری نہیں؟کیا کسی بھی ہسپتال اور ڈاکٹرکا مریض کے اہل خانہ سے دوسری رائے لینے کا حق چھین لینا درست ہے؟کیا ایک ڈاکٹر اہم اور حساس آپریشنز کے بعد مریض کو چھوڑ کر لمبی چھٹی پر جا سکتا ہے؟؟میں پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن،متعلقہ حکام اور اتفاق ہسپتال کی انتظامیہ سے مطالبہ کرتا ہوں کہ اس معاملے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں۔۔۔کرنل (ر) ڈاکٹر صابر حسین بھٹی کو کٹہرے میں کھڑا کیاجائے ،اگر سب کچھ درست ہوا تو حقیقت سامنے آ جائے گی اور اگر نہیں۔۔۔تو پھر کسی اور ملک غلام مصطفی کی جان بچائی جا سکتی ہے۔
تحریر: خالد شہزاد فاروقی
بدقسمتی نصیبو لعل کی یہ ہے کہ اُس کا تعلق اشرافیہ سے نہیں ہے، وہ میشا شفیع نہیں ہے، اُس نے شکیرا کی طرح اپنی برینڈنگ نہیں کی، آج بھی وہ فقیرانہ انداز میں رہتی ہے اور اُس طبقے کے ساتھ اٹھتی بیٹھتی ہے جسے ہم ’میراثی‘ کہتے ہیں۔ نصیبو کو چونکہ انگریزی نہیں آتی اِس لیے وہ ہم میں سے نہیں۔ اسی اشرافیہ کے لوگ جب کسی کیفے میں جاتے ہیں تو ’ففٹی شیڈز آف گرے‘ میں ایلی گاؤلڈنگ کے گانے ’Touch me like you do‘ پر جھوم اٹھتے ہیں۔ جبکہ یہی گانا اگر نصیبو گائے تو فحش کہلاتا ہے اور مزے کی بات یہ ہے کہ ایلی گاؤلڈنگ سے پہلے نصیبو لعل یہ گانا 2007 میں گا چکی ہے، بول تھے: ’پا دے چِٹّے دن ماہیا ہنیر وے، جتھوں مرضی جوانی نوں چھیڑ وے۔‘ اب آپ ہی بتائیں Touch me like you do کیا اِس کی نقل نہیں؟ کہنے والے کہیں گے کہ نرگس نے اِس پر فحش رقص کیا، ٹھیک ہے ایسا ہی ہوگا، مگر ففٹی شیڈز کے کردار کرسچن گرے نے جو کچھ انستازیہ سٹیل کے ساتھ کیا، وہ کیا فحاشی کے زمرے میں نہیں؟
https://t.co/U75Z84syvp
صبح بخیر۔۔
زندگی کا معیار صرف ڈگری، عہدہ یا نوکری نہیں ہوتا۔ محنت کے راستے مختلف ہوتے ہیں اور رزق، عزت اور کامیابی کے پیمانے ہم نہیں، اللہ طے کرتا ہے۔ دوسروں کو کمتر سمجھنے کی خواہش آخرکار انسان کو اپنی ہی انا کے سامنے لا کھڑا کرتی ہے۔ اصل کامیابی عاجزی، دیانت اور شکر میں ہے- اور یہی سبق ہمیں ہر صبح یاد رکھنا چاہیے۔
قرآن کا پیغام
اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْ
"اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے"
(سورۃ الحجرات 49:13)
عزت کا معیار تقویٰ ہے، نہ کہ لقب، عہدہ یا دولت
Hey @grok , I DO NOT authorize you to take, modify, or edit ANY photo of mine, whether those published in the past or the upcoming ones I post. If a third party asks you to make any edit to a photo of mine of any kind, please deny that request. Thanks
جیل میں طرح طرح کی مخلوقات ہوتی۔ ایک لڑکے کا لقب "ریوڑھی"تھا۔ ایک بارکبوترچوری کی سزامیں آیا۔تین چارمہینےبعدبکری چوری کی جرم میں۔ ریوڑھی فرماتےکہ سالاربھائی بڑی بڑی کامیاب چوریاں کی اللہ کےکرم سے،بس اتھے بدقسمتی سےپھڑاگیا۔
اکثرصحافیوں کی کامیاب ڈکیتی پرمبارکبادوں سےریوڑھی یادآگیا۔
پاکستان کے حکمرانوں کے لئے وارننگ۔۔۔
حسینہ واجد نے بنگلہ دیش کو ایشین ٹائیگر بنانے کی صف میں شامل کیا GDP تقریبا 8 تک پہنچ گئی، ٹیکسٹائل انڈسٹری کو بوسٹ دیا، برآمدات بڑھائیں، غربت کو 31 سے 18 فیصد پر لے آئیں، 96 فیصد ملک میں بجلی پہنچا دی، تعلیم اور صحت میں انقلاب آ گیا، انفراسٹرکچر میں نمایاں تبدیلیاں لے آئیں، پدما بریج جیسے میگا پراجیکٹس چلائے۔۔۔لیکن۔۔۔
اس کے برعکس جمہوری اقدار کا قتل کیا، اپوزیشن کو دبایا، مخالف سیاسی رہنماؤں کو جیل میں ڈالا، عقوبت خانے بنائے، میڈیا پر قدغن لگائی، مکمل ڈکٹیٹرشپ چلائی
جب عوام جاگے تو وہی فوج جس کا چیف اس کا عزیز تھا وہی ججز جن کے ذریعے اس نے مخالفین کو سزائیں دلوائیں سب اس کے خلاف ہو گئے، اسے بھارت بھاگنا پڑا، اپنی زمین اس کے لیے تنگ ہو گئی
جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ جمہوریت اور آئین کا گلا گھونٹ کے اقتصادی ترقی کر لیں اور باقی جو مرضی کرتے رہیں ان کے لئے آج کی حسینہ واجد کی سزائے موت میں کھلی نشانیاں ہیں
@atifthepoet O pai Tu Inna obsessed hai ik Dy nal tenu ap nai pata Tu ki justify kr rya ee
O kendey si Wady ae gal keh Gaye oh gal keh Gaye pr tuwade warigea nu wekh k andaza hunda e k wadiyan do HR gal nai mani do Ono which tere wargi kacha v si
یہ کلفٹن ہائپر اسٹار ڈالمن مال کراچی ہے۔۔
غریب مزدور سیفٹی کے بغیر خطرناک کام کر رہے ہیں، اور لوگ اسے تماشہ بنا رہے ہیں۔۔
ایسا کام باہر ممالک میں ہو تو سیدھا جرمانہ لگتا ہے!!
تشویشناک بات یہ ہے کہ جو لاکھوں خواتین سسرال اور خاوندوں کی طرف سے روزانہ ظلم کے باوجود اُس زندگی سے جان نہیں چھڑوا سکتیں، ان کیلئے کچھ کیا جائے،
اُن لاکھوں بچوں کیلئے کیا کیا جائے جو سیکس کے نتیجہ میں ایسے لوگوں کے گھروں میں پیدا ہونے کی سزا کاٹ رہے ہیں جو اپنا بوجھ اٹھانے کے بھی قابل نہیں تھے اور ماں باپ بنے بیٹھیں ہیں،
اور بچوں کو ذہنی مریض بنا رہے ہیں۔۔۔