🚨 آئی ایم ایف سربراہ کا اہم بیان
“ہم نے پاکستان سے کبھی یہ نہیں کہا کہ تیل، بجلی اور گیس کی قیمتیں بڑھاؤ۔ ہمارا مؤقف یہ ہے کہ امیر طبقے پر ٹیکس عائد کیا جائے اور غریب عوام کو ریلیف دیا جائے۔”
❗ اب سوال یہ ہے کہ قیمتوں میں اضافے کا اصل فیصلہ کس کا تھا اور اس سے کس نے فائدہ اٹھایا ؟
شکر کریں آپ نارمل گھرانوں میں پیدا ہوئے ہیں ورنہ ایسے ایسے جانور اس زمین پر آباد ہیں کہ اللہ کی پناہ!
ﷲ نے دوبارا بیٹی کی ہی خوشخبری دی ہے سسرال کے پریشر سے عروج نے جب جاکر الٹرا ساؤنڈ کروایا تو لیڈی ڈاکٹر نے بیٹی کا بتایا ۔
عروج بیچاری نے ڈرتے ڈرتے یہ خبر جیسے آپنے شوہر کو سنائی وہ آپے سے باہر ہوگیا کہنے لگا ایسا کیسے ہوسکتا ہے پہلے بھی بیٹی ہوئی اور اب بھی دوبارہ بیٹی
یہ کہہ کر اس نے اس بیچاری کو مارـنا پیٹـ نا شروع کردیا یہاں تک کہ اس کا چہرہ تک پہچاننا اب مشکل ہوگیا
افسوس اس بات کا ہے کہ تمام گھر والے تماشائی بنے رہے اس بیچاری نے کسی طرح اپنی ماں سے رات 11:40 منٹ پہ رابطہ کیا
اس کے شوہر کو بچی کی خبر ملنا ایسا تھا کہ بس ﷲ پوچھے اس نے پانچ ماہ کے ننھے مہمان کو دنیا میں آنے سے پہلے ہی ﷲ کے پاس بھیجنے کی کوشش کی
بس کسی طرح اس کے والد نے عروج کو آکر وہاں سے لیا اور سول اسپتال لے کر گئے وہاں وہ بیچارا رو پڑا کہ
اپنی پھول جیسی بچی کا چہرہ تک پہچاننا ممکن نہیں تھا
کوئی ہے جو اس بچی کو انصاف سے سکے اس کے سسرالی تو بہت با اثر لوگ ہیں
😥😪😪😓
This is Modi’s Parliamentary constituency Varanasi, inside a Hindu temple complex, and celebration of a Hindu festival - This few seconds of video tells why India has become the rape capital, why no law and order, and how Hindutva has ruined Hindus!
زرداری کے شہر نوابشاہ میں بچے کو 11000 واٹ کی تار سے کرنٹ لگا ہے اس کے جسم کو زمین میں دفن کیا ہوا ہے اسکے والد پہلے بھی کمپلین کرچکے تھے کہ یہ تار خطرناک ہیں ہٹائی جائیں۔
گھر میں راشن ہو نہ ہو، پولیو کے قطرے ضرور پہنچ جاتے ہیں!
ایک بزرگ نے پولیو ٹیم سے سوال کیا:
اگر میرے بچے کو کچھ ہو گیا تو اس کی ذمہ داری کون لے گا؟
بات آگے بڑھی تو ایک اور سوال سامنے آیا:
جب غریب خاندان روٹی، دوا اور علاج جیسی بنیادی ضروریات کے لیے پریشان ہیں، تو پولیو کے قطرے ہی ایسی چیز کیوں ہیں جو مفت اور بار بار ان کی دہلیز تک پہنچتی ہے؟
یہ بزرگ پولیو کے قطرے پلانے کے خلاف ہونے کی بات نہیں کر رہے، بلکہ ان کا سوال ان بنیادی سہولیات سے متعلق ہے جن کی ضرورت بھی غریب خاندانوں کو مسلسل رہتی ہے۔
شاید ایسے سوالات کو نظر انداز کرنے کے بجائے سننے اور سمجھنے کی ضرورت ہے۔
جن خواتین و حضرات کو کمر درد کا ایشو رہتا ہے یا ریڑھ کی ہڈی کے مہروں میں پرابلم ہے، یا موٹاپا بڑھ رہا ہے تو وہ یہ کلپ ضرور دیکھیں. مفاد عامہ کیلئے دوسروں کو بھی شئیر کردیں.
اگر ہم نے پاکستان کو شکشت دینی ہے تو 40 دن تک گائے کا پیشاب پینا ہوگا،،کیونکہ میجر رنجیندر پرتاپ نے 1965 کی جنگ کے دوران 40 دن تک پیشاب پیا تھا
یہ ہماری روایت ہے اسے برقرار رکھنا چاہیے۔بھارتی فوج کے سربراہ دھیرج سیٹھ کا بیان