پاکستان کی تاریخ میں جتنے بھی سیاستدان عدالتوں میں پیش ہوئے مجرم بن کر ۔۔۔۔ مولانا فضل الرحمٰن صاحب اپنی 72 سالہ زندگی میں آج پہلی دفعہ عدالتی روسٹرم پر آئے بھی تو آقائے نامدار محمد عربی ﷺ کی ناموس اور ختم نبوت کے مجاہد بن کر آئے ۔۔۔
#ترجمان_ختم_نبوت_مولانا
انیسویں صدی کے آخر میں بے شمار فتنوں کے ساتھ ایک بہت بڑا فتنہ ایک خود ساختہ نبوت قادیانیت کی شکل میں ظاہر ہوا۔ جس کی تمام تر وفاداریاں انگریز طاغوت کے لیے وقف تھیں
#ترجمان_ختم_نبوت_مولانا
مولانا فضل الرحمٰن نے آج واضح کردیا کہ ختم نبوت کے معاملے پر کسی قسم کا کوئی کمپرومائز نہیں ہوگا چاہے مقابلے میں کوئی کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو ۔
#ترجمان_ختم_نبوت_مولانا
میں واضح طور پر کہنا چاہتا ہوں طاقتور سے طاقتور کو کہنا چاہتا ہوں قادیانیوں کو دوبارہ مسلمان کہلانے کے لئے ہمارے لاشوں سے گزرنا پڑیگا
#ترجمان_ختم_نبوت_مولانا
مارشل لاء اور ایمرجنسی سے اب کام نہیں چلے گا،
حالات اور اختیارات اب ان کے ہاتھ سے نکل چکےہیں،
اسٹبلشمنٹ اپنی پالیسی پر نظر ثانی کرے ایسے ملک نہیں چلے گا،
بنگال کی طرح اب دو صوبوں کو ملک سے الگ کرنے کے حالات پیدا کئے جارہے ہیں،
جس راستے پر یہ چل رہے ہیں وہاں منزل نہیں ہے،
ان کے پاس کے سیاسی معاملات طےکرنے کی صلاحیت نہیں ہے،
یہ اداروں اور پارلیمنٹ کو لونڈی، عوامی نمائندوں کو ملازم بنانے چاہتے ہیں،
فوج کو صحیح راستے پر مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں،
آپ چاہتے ہیں ایمرجنسی لگائیں، مرضی کی جماعتیں پارلیمنٹ بنائیں یہ اجازت نہیں دینگے،
جے یو آئی عوام اور امن کے ساتھ ہے، قائد جمعیت مولانا فضل الرحمان مدظلہ
جمعیت علماء اسلام واضح طور پر عوام کے ساتھ ہے،عوام امن کے تلاش میں ہے، ہم امن کے جدوجھد کر رہے ہیں، ہماری جدوجھد کو فساد سے تعبیر نہ کیا جائے، اگر ہمارے امن کے قافلہ ایسا کوئی عنصر ہے تو ہمیں سوچنا پڑے گا کہ اسکو کون فیڈ کر رہا ہے، ہم حالات کے ہر رخ کو جانتے ہیں، عوام کو ہمدردی کے الفاظ کی بنیاد پر مطمئن نہیں کیا جاسکتا۔
ہم اپنی فوج کو بھی مضبوط دیکھنا چاہتی ہیں، لیکن صحیح راستے پر مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں، جبر کا راستہ درست نہیں جس میں اپنی عوام پر گولیاں برسائی جائیں، آپریشن کے نام پر ماؤں کے دوپٹے کے تقدس کو پامال کیا جائے،الیکشن میں اپنی مرضی کے نتائج مرتب کریں، اپنی پسندیدہ پارلیمان بنائیں اور جبری حکومت کریں، اپنی مرضی کی سیاسی جماعتیں بنائیں، یہ ان کا حق نہیں، ایسی صورتحال میں ہم عوام کے ساتھ مل کر جدوجھد کریں گے اور آئینی طریقے سے غیر آئینی طریقوں کا راستہ روکیں گے۔
قائد جمعیت مولانا فضل الرحمان مدظلہ
جمعیت علماء اسلام تسلسل کے ساتھ فلسطینیوں کے موقف کو درست سمجھتی ہے،آج بھی اپنے اس موقف کا اعادہ کرتے ہیں کہ ہم اپنے فلسطینی بھائیوں کے ساتھ ہیں،فلسطینی مجاہدین کا اسرائیل پر حملہ تاریخی کامیابی اور تاریخی معرکہ ہے کہ اپنے علاقوں کو اسرائیل کے غاصبانہ قبضے سے چھڑایا ہے، دنیا سمجھ رہی تھی کہ مسئلہ فلسطین مردہ بن چکا ہے،
اس حملے نے اسرائیل کے دفاعی نظام اور ان کے گھمنڈ کو زمین بوس کردیا ہے،یہ حقیقت تسلیم کرنی چاہیے کہ اسرائیل کوئی بڑی قوت نہیں بلکہ اسے بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا،
فلسطینی بھائیوں سے اپیل ہے کہ انسانی حقوق کا احترام کریں،بچوں، عورتوں اور عام شہریوں کو تکلیف نہ پہنچائیں اور ثابت کریں کہ اسلام اور مسلمان کیسے انسانی حقوق کا تحفظ کرتا ہے،
اقوام متحدہ اپنا فرض پورا کرے اور 1967 کی قراردادوں پر عملد رآمد کرواتے ہوئے بیت المقدس کو مسلمانوں کے حوالے کرے، اسکے علاؤہ او آئی سی کا فوری اور بھرپور اجلاس طلب کیا جائے،جہاں مشرق وسطی میں امن کے قیام کو یقینی بنانے کی منصوبہ بندی کی جائے اور ہم یہ سمجھتے ہیں کہ فلسطین کوتسلیم کئے بغیر اور انکا ملک ان کے حوالے کئے بغیر مشرق وسطی میں امن قائم نہیں ہوسکتا۔۔
اس کشیدہ صورتحال کے پیش نظر جے یو آئی اہل فلسطین کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے آئندہ جمعے کو ملک بھر میں ضلعی ہیڈ کوارٹرز میں مظاہروں کا اعلان کرتی ہے،پوری قوم مظاہروں میں شریک ہوکر امت کے جسد واحد ہونے کا ثبوت پیش کریں۔