دفاعی معاہدے سوچ سمجھ کر کرنے چاہیے۔ کیا پتہ واقعی جنگ لگ جائے۔
اب سعودی عرب بلا رہا ہے تو پوچھ رہے ہیں او پائی کیڑا معاہدہ؟ اسیں تے کیتا ہی کوئی نہيں۔ جاؤ امریکہ نوں سدو۔ یہاں 770 ارب ڈالرز کی سرمایہ کی ہے۔ یہاں ایک کھرب ڈالرز کی مزید سرمایہ کاری کرنے کا وعدہ کیا ہوا ہے۔
امریکہ نے بھی جواب دے دیا۔ کہا پاکستانیوں کو بلاؤ تصویریں کھنچاؤ۔ ویلا ٹپاو۔
تنگ آ کر رات سعودی وزیر خارجہ ایرانی وزیر خارجہ کو کال کرکے ترلے کرتا رہا کہ یمنی مجاہدین کو روکیں۔
مجھے نہيں پتہ انہوں نے کیا کہا لیکن انہیں کہنا چاہیے تھا کہ صنعا پر حملہ ہم سے پوچھ کر کیا تھا؟ جاؤ ہن بھگتو۔
سُہیل آفریدی وزیراعلیٰ بھی ہیں اور ایک سیاسی جماعت کے ممبر بھی، ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا
آپ کا مطلب کہ وہ شخص 2 ٹوپیاں پہنے ہوئے ہے؟، وہ ایک طرف وزیراعلیٰ اور دوسری طرف پارٹی کا ممبر ہے، چیف جسٹس سرفراز ڈوگر
اگر وہ پارٹی ممبر نہ ہوتا تو وزیراعلیٰ کیسے بنتا؟، ایڈووکیٹ جنرل
🚨 Lahore High Court has stopped the expulsion of Afghan medical students, suspending the PMDC notification. Justice Khalid Ishaq heard petitions filed by 13 Afghan students, 7 women and 6 men, who challenged the order through lawyer. #afghanstudents
میرے کل کے ٹویٹ پر ہونے والا ردِعمل میں نے دیکھا۔ جو بات میں نے کل کی، وہ میں روزانہ کرتا ہوں۔
اس پر آنے والے ردِعمل اور کمنٹس پڑھے۔ عوام کی نبض اور دل کی بات یہی ہے۔ اسٹیبلشمنٹ اور عاصم منیر کو میری بات سمجھنی چاہیے کہ عوام نے اتنا ردِعمل کیوں دیا۔
آج میرے مرحوم بھائی کے فارم کو ملیا میٹ کر دیا گیا ہے۔
لگ رہا ہے کہ آج رات مجھے گرفتار کر لیا جائے۔ پولیس کے جتھے میرے گاؤں میں داخل ہونا شروع ہو گئے ہیں۔
میں تیار بیٹھا ہوں۔ آؤ اور کر لو گرفتار!
لیکن ضرور سوچنا کہ اس ٹویٹ سے بھونچال کیوں آیا اور حقیقت میں عوام کی رائے کیا ہے۔
میں پی ٹی آئی کا ناقد ہوں لیکن جب میں یہ دیکھتا ہوں کہ میرے صوبے کا وزیر اعلیٰ کمرشل فلائیٹ میں عام مسافر کی طرح سفر کر رہا ہے اور پنجاب کی وزیر اعلیٰ نجی دورے پر مبینہ طور پر مہنگے سرکاری جہاز میں یورپ جا رہی ہیں مگر کوئی پوچھنے والا نہیں کہ سرکاری خزانے کا اس طرح کا استعمال کیوں تو دل کٹتا ہے۔ میرے صوبے کا وزیر اعلیٰ اسلام آباد کی سڑکوں پر پولیس کے دھکے کھا رہا ہو اور پنجاب کی وزیر اعلیٰ چند کلو میٹر دور معرکہ حق کی یاد گاری عمارت کی افتتاحی تقریب میں تمام بڑوں کے ساتھ کھڑی ہوں۔ کم از کم عوامی سطح پر تو تھوڑا لحاظ کر لیں۔
🚨 یہ لانگ مارچ اسلام آباد پر حملہ نہیں عدالتوں کے حق میں ہے ،آپ کے احکامات پر حکومتی ادارے اور سپرٹنڈنٹ اڈیالہ عملدرآمد نہیں کرتا ، ایڈووکیٹ جنرل کے پی کا چھکا
سوال تو ہو گا کہ مریم نواز غریب عوام کا 1200 کروڑ روپیہ لگا کر پہلے ایک پر تعیش جہاز خریدتی ہیں جو برطانیہ کےکسی وزیراعظم نے کبھی نہ خریدا
اب چار دن میں لندن میں غریب عوام کا سوا کروڑ روپیہ اجاڑ دیا
مریم نواز کی بیٹی کی گریجویشن کی تقریب میں شرکت کا خرچہ غریب پاکستانی عوام کرے؟
ہمارے گھر لندن ہیں، ہم علاج لندن سے کراتے ہیں، ہمارے کاروبار لندن ہیں، ہمارے بچے لندن سے ڈگریاں لاتے ہیں، ہم شاپنگ لندن سے کرتے ہیں، ہمارے فیملی ممبرز کے پاس برطانیہ کی شہریت ہے۔ لیکن ہمارے دل میں پاکستان کی بہت محبت ہے، ہم یہاں اقتدار پر مسلط ہو کر خدمت کرنا چاہتے ہیں
جہانگیر ترین نے فرحان ورک کے ذریعے اپنی سوشل میڈیا ٹیم کھڑی کرنے کی کوشش کی تھی، آج اس کے انجام کو دیکھ لو۔ شیر افضل مروت نے بھی یہی کھیل کھیلا اور اس کا انجام بھی سب کے سامنے ہے۔ گنڈاپور نے بھی یہی راستہ اختیار کیا، آج اس کی حیثیت بھی کسی سے پوشیدہ نہیں۔
سہیل سانپ تم بھی اسی نقشے پر چل رہے ہو۔ ٹاوٹ جانی، اقتدار کے عارضی سہارے اور کرائے کے سوشل میڈیا لشکر تمہیں یہ خوش فہمی دے سکتے ہیں کہ تم بہت اچھے ہو، لیکن تاریخ ایسی خوش فہمیوں کو زیادہ دیر برداشت نہیں کرتی۔ اپنا شوق پورا کرلو انجام بہرحال وہی ہوگا جو تم سے پہلے اس راستے پر چلنے والوں کا ہوا۔
میں براہِ راست عاصم منیر سے سوال کرتا ہوں۔۔
کبھی تم صوبے بنا رہے ہو، کبھی صدر بن رہے ہو، کبھی مارشل لا لگا رہے ہو۔ عاصم منیر، تم ہو کون؟ تم نے پاکستان کو سمجھ کیا رکھا ہے؟ تم ایک عام چوکیدار ہو، تمہاری حیثیت عام شہری سے بھی کم ہے۔ تمہاری زمینیں، تمہارے بنگلے، کھربوں کی جائیدادیں کہاں سے آتی ہیں؟ ہم تمہیں امریکہ کے جرنیل کے برابر تنخواہ دینے کو تیار ہیں، لیکن تم جزیروں سے کم تو بات نہیں کرتے۔
صوبے بننے چاہئیں، لیکن عوام کی مرضی سے، تمہاری مرضی سے نہیں۔ میں قائداعظم کا بمبئی کا محل دیکھ رہا تھا، وہ یہاں زیارت میں پڑا تھا۔ قائداعظم نے وہ محل کیوں بنوایا؟ انہوں نے اپنی بیٹی کو نہیں دیا۔ وہ ایک مصروف ترین وکیل تھے۔ قائداعظم نے ہر چیز اپنی قوم کو دی۔
مشرف صاحب کا بیس پچیس ارب کا محل ہے، جس میں وہ ایک رات بھی نہیں رہ سکا۔ عاصم، تمہارا انجام بہت برا ہوگا، پتہ نہیں ہم ہوں گے یا نہیں۔ عوام اب ہر چیز جان چکی ہے۔ سہیل آفریدی کو کون جانتا تھا؟ اس نے اتنی عوام نکالی ہے۔
قوم عمران کو لیڈر مانتی ہے۔ وہ لاوارث نہیں ہے۔ تم کون ہو قوم کے لیڈر کا علاج روکنے والے؟ تم بتاؤ، آج تم ہو کون؟ تمہارے پاس صرف بندوق ہے۔
میں 70 سال سے سیاسی ورکر ہوں۔ تم میرا کیا کر سکتے ہو؟ مجھے 12 سال کی عمر میں آپ کے ایوب خان نے پہلی دفعہ 1964 میں جیل بھیجا۔ میں نے اسمبلی میں ضیاء الحق کو 1985ء میں کہا تھا:
اور یہی تمہیں کہتا ہوں
عاصم منیر، تمہیں بھی کہتا ہوں:
About turn quick march go back to your barracks and never come back again.
This is a serious breach of ethics by King Edwards Medical University. Afghan students should start a letter writing campaign to US colleges and hospitals and call on boycotting KE and not accept their grads.
This is a valid consequence of this action and they should face it.
@NibbaEnginer@ImranRiazKhan یہ وہی صحافت ہو رہی ہے جس صحافت کے ذریعے فیض حمید نے عمران ریاض کو چکوال میں ایک فارم ہاؤس بنوا کر دیا تھا۔ بالکل، یہ بھی اسی قسم کی صحافت ہے بس کردار بدل گئے ہیں، طریقہ وہی ہے اور مفادات بھی وہی نظر آ رہے ہیں۔
Why is Suleman Sohail not an issue?
Why are we not talking about his disappearance the way we should?
Why is it normal for us that a young man has gone missing?
Why isn’t his disappearance being discussed with the same urgency as the DHA apartment fight?
Why isn’t this a major news story for our media?
Why?
#SulemanSohail
I literally saw Afghani seniors from my hostel crying 2 of them are from finalyear
This is so heartbreaking what they gonna do
48 hrs duties passing 4 proffs and what they got expelling letter on a random day
We all know going back to Afghanistan means stop to their education
ابھی عالمی منڈی سے ساڑھے سات فیصد سود (ڈالرز میں) پر تین ارب ڈالر قرض لیا ہے اور ابھی ساڑھے چھ ارب کی بلٹ پروف گاڑیاں خریدنے جا رہے ہیں۔ عوام کا خون نچوڑ کر یہ قرض واپس ہوگا اور ان گاڑیوں کی قیمت وصول کی جائے گی۔
اللہ کرے ہمارے دشمنوں کو بھی ایسی حکومتیں مل جائیں جیسی پاکستان کے عوام کو ملیں۔
عدنان عادل
سئینر صحافی
@adnanaadil
کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی، لاہور نے 20 افغان اسٹوڈنٹس کو یونیورسٹی سے نکال دیا جن میں 7 فائنل ایئر کے اسٹوڈنٹس شامل ہیں، یہ کتنی بڑی زیادتی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے، آپ امریکہ، برطانیہ، کینیڈا یا بیرونِ ملک کی کسی یونیورسٹی میں پڑھ رہے ہوں اور آخری سال آپ کو یونیورسٹی سے نکال دیا جائے تو آپ کو کیسا لگے گا؟
کیا مستقبل کے 20 ڈاکٹروں کو نکالنے سے پاکستان محفوظ ہو گیا ہے؟
#FascismUnderAsimLaw
#PakistanUnderMartialLaw
شوگر اور میٹھے کے بارے میں خاکسار کی پوسٹ پر کچھ دوستوں نے کمنٹس کیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو میٹھا شوق سے کھاتے تھے۔
یہ بات درست ہے، مگر تفصیل یہ ہے:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حلواء (میٹھی چیز) اور شہد پسند فرماتے تھے۔ (صحیح بخاری)
آپ ﷺ کی میٹھی چیزیں آج کی بنی بنائی مٹھائی نہیں تھیں۔ زیادہ تر فطری میٹھا ہوتا تھا: کھجور اور خالص شہد۔ کبھی کھجور مکھن کے ساتھ، کبھی تازہ کھجور تربوز یا ککڑی کے ساتھ۔ کھجور صرف میٹھا نہیں، آپ ﷺ کی غذا بھی تھی۔ گھر میں کئی کئی دن چولہا نہ جلتا تو کھجور اور پانی ہی غذا بن جاتی۔
مقدار کا معاملہ یہ ہے کہ آپ ﷺ کوئی بھی چیز اعتدال کے ساتھ کھاتے تھے، پیٹ بھر کر نہیں۔
ارشاد ہے کہ آدم زاد کا سب سے برا برتن اس کا پیٹ ہے؛ چند لقمے کمر سیدھی رکھنے کے لیے کافی ہیں۔
کھانے کے بعد میٹھا کھانے کا مستقل معمول کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں۔ البتہ ایک روایت میں کھانے کے بعد مختلف کھجوریں پیش کی گئیں اور آپ ﷺ نے تناول فرمائیں۔
جدید تحقیق میں فرانسیسی بائیو کیمسٹ اور گلوکوز ماہر جیسی انچوسپے (Jessie Inchauspé) بھی یہی کہتی ہیں: میٹھا خالی پیٹ نہ کھاؤ، کھانے کے بعد کھاؤ، اور مقدار کم رکھو۔
وہ ایک مثال دیتی ہیں کہ جیسے درخت اور فصلوں کو مناسب پانی چاہیے، ویسے انسانی جسم کو گلوکوز چاہیے۔ پانی حد سے زیادہ دے دو تو درخت اور فصلیں برباد ہو جاتی ہیں۔ انسان میں بھی شوگر حد سے زیادہ لینے سے ختم ہوجاتا ہے۔
پی ٹی آئی آفیشل والوں نے یوتھیوں کو پٹواری سمجھ رکھا تھا کہ جو مرضی پوسٹ کر دو کونسا کسی نے اختلاف کرنا ہے لیکن ان کو کیا خبر تھی کہ یوتھیے ہر وقت تلواریں چھریاں تیز کیے تاک لگائے بیٹھے ہوتے ہیں۔ یوتھیوں کا آفیشل ہینڈل چلانے والوں کو پیغام ہے کہ پی ٹی آئی آفیشل پی ٹی آئی کارکنوں اور عمران خان کی ملکیت اور امانت ہے اور جو اس میں خیانت کریگا وہ بھی ڈن اینڈ ڈسٹس ہوجائے گا۔ آزمائش شرط ہے۔ جس کسی کو فوج سے زیادہ محبت چڑھی ہے وہ اپنے اکاؤنٹ سے پوسٹ کر لے اور عوام کو براہ راست شکریہ کہنے کا موقع دے۔
پچھلے چار سال سے عمران خان کو عوام کے دل سے مٹانے کے لئے آخری حد تک جانے والوں کو آج عمران خان ہی کی تصویر اور تقریر چلا کر عوام کو اپنے حق میں کرنا پڑ رہا ہے ۔ اللہ اکبر
کسی درویش نے سچ کہا تھا اللہ الحق ہے ۔
حسد کی انتہاء
کچھ دن پہلے اس بھائی نے اپنا چھوٹا سا کام شروع کیا کپ کیک کا
اور بائک پر چھوٹا سا بکس رکھ کر پیپلز کالونی مارکیٹ بٹ پوری والے کے آگے کھڑے ہو گئے
دیکھتے دیکھتے گوجرانوالہ کی عوام نے بھائی کو بہت سپورٹ کیا
جب چار کسٹمر آنے لگ گئے تو پیچھے موجود دوکان داروں کو مارے حسد کے مرچیں لگنا شروع ہوگئیں اور بھائی کو وہاں سے نکال دیا
اب یہ بھائی بہت پریشان ہیں ویڈیو میں نیو لوکیشن بتائی ہے بھائی کو کھل کے سپورٹ کریں تاکہ بھائی کی پریشانی ختم ہو۔