‼️‼️‼️‼️‼️
"معزرت کے ساتھ"
ازقلم: سارہ (ربیل)
ایک بات جو ٹوئٹر پر شدت سے محسوس کرتی ہوں آج کہہ دینا
چاہتی ہوں
مذید براں یہ کہ۔۔۔۔۔!!
سچ بولتی ہوں،حق بولتی ہوں،
چاہے کسی کو بھی
لگ جائے میری بات بری۔۔۔۔!!
میں ہمیشہ۔۔۔۔۔۔!!
ڈٹ کر بولتی ہوں
#مہاجروں_کو_انصاف_دو
جبری گمشدگیاں خالص انسانی مسئلہ ہے اور جبری گمشدگی کے واقعات انسانی حقوق کی سنگین پامالی ہیں ��جبری گمشدگیاں،لاپتہ افراد کے بوڑھے والدین، بہن بھائی اور بیوی بچوں کیلئے انتہائی کرب واذیت کاباعث ہیں جو کئی برسوں سےاپنے پیاروں کی بازیابی کیلئے دربدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔
#ReleaseNaseebullahBadini
#EndEnforcedDisappearances
میں،انسانیت کے نام پر ارباب اختیار سے اپیل کرتا ہوں کہ نصیب اللہ بادینی سمیت تمام بلوچوں، پشتونوں، سندھیوں، مہاجروں اور دیگرقوموں کے جبری گمشدہ افراد کو بازیاب کریں، مظلوم خاندانوں کی دعائیں لیں، اگرلاپتہ افرادکسی کیس میں قانون کومطلوب بھی ہیں تو انہیں عدالت میں پیش کیا جائے تاکہ پریشان حال خاندانوں کو کرب واذیت سے نجات مل سکے۔
میں،سوشل میڈیا پر لاپتہ بلوچوں کی بازیابی کی مہم کی بھرپور حمایت کرتا ہوں اور ایم کیوایم کے وفاپرست کارکنان وعوام کو ہدایت کرتا ہوں کہ لاپتہ افراد کی باحفاظت بازیابی کی مہم میں اپنی آواز ملائیں اور اس مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔
الطاف حسین
@BalochV4Justice
@naseeb81087
پارا چنار میں معصوم انسانوں کے خون سے ہولی کھیلی جارہی ہے، ملک کی آٹھ لاکھ فوج کہاں ہے؟ کیا فوج اتنی طاقت بھی نہیں رکھتی کہ پارا چنار میں قتل و غارتگری بند کراسکے؟
پارا چنار میں صفِ ماتم بچھی ہے، فوج اور حکومت کب جاگے گی ؟
#ParachinarBleeds#Parachinaar#ParachinarBleedsAgain
https://t.co/jfw2AfRT8P
پارا چنار میں مسافروں کے قافلے پروحشیانہ فائرنگ اورسوسے زائد بے گناہ افراد کے جاں بحق اورزخمی ہونے کاواقعہ ایک انتہائی المناک سانحہ ہے۔
#parachinar#ParachinarBleedsAgain#ParachinarIsBleeding
آج پشاور سے مسافروں کے قافلے پارا چنار جارہے تھے، پولیس اور سیکوریٹی فورسز بھی اس قافلے کے ہمراہ تھی۔ راستے میں اس قافلے پر شدید فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں اطلاعات کے مطابق بزرگوں خواتین، نوجوانوں، بچے، بچیاں حتیٰ کہ معصوم بچوں سمیت85افراد جاں بحق اوردرجنوں افرادزخمی ہوگئے ہیں ۔(انا للہ وانا الیہ راجعون)
اس سانحہ پر پاراچنار میں ماتم بپاہے، ہرآنکھ اشکبار ہے، جگہ جگہ سے جنازے اٹھائے جارہے ہیں،ہرطرف زخمی ہی زخمی ہیں۔میں اس المناک سانحے پر دلی صدمے اور گہرے رنج وغم میں مبتلا ہوں۔میں اپنی اور اپنے ساتھیوں کی جانب سے آج اس سانحے میں شہیدہونے والے تمام افراد کے لواح��ین اور پارہ چنارکے تمام عوام سے دلی تعزیت کرتا ہوں اور ان کے غم میں برابر کاشریک ہوں۔ میں دعاگوہوں کہ اللہ تعالیٰ جاں بحق ہونے والے تمام افراد کو شہادت کا درجہ عطا فرماکر جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے اور زخمیوں کو جلد سے جلد صحت یاب کرے۔ (آمین)
پاراچنار کے سانحہ پر میں سوال کرتاہوں کہ پاکستان کی فوج اپوزیشن کودبانے یاکسی بھی طبقہ کوکچلنے کے لئے ملک میں جہاں دل چاہے اپنے ٹرک کے ٹرک بھیج دیتی ہے لیکن پارا چنار لوگوں کی حفاظت کیلئے فوج ، آئی ایس آئی اوراس کی فورس نے اقدامات کیوں نہیں کئے؟
عوام کو دہشت گرد قرار دینا انتظامیہ پولیس فوج کا مشغلہ بن چکا ہے جو پولیس ، انتظامیہ ،فوج کے غیرآئینی غیرقانونی اقدامات کے خلاف احتجاج کرے اسے غائب کردیا جاتا ہےلیکن پارا چنار میں معصوم لوگوں کی جان ومال کے تحفظ کیلئے آٹھ لاکھ فوج دکھائی کیوں نہیں دیتی؟فوج ہراس جگہ پہنچ جاتی ہے جہاں اس کی ضرورت نہیں ہوتی لیکن جہاں اس کی ضرورت ہے وہاں کیوں نہیں پہنچتی؟
فوج اورآئی ایس آئی سیاسی اختلاف رکھنے والوں کے گھروں کاتو پتہ لگالیتی ہے لیکن پارا چنار میں قتل عام اور فسادات کے واقعات برسوں سے ہورہے ہیں،فوج آج تک یہ پتہ کیوںنہیں لگاسکی کہ پارہ چنار میں قتل وغارتگری کون کرتاہے؟
فوج ، ایم آئی ، آئی ایس آئی اورایف آئی اے کواگر کوئی شخص مطلوب ہو تووہ ملک کے کسی بھی کونے میں پہنچ کر اسے گرفتار کرلیتی ہیں پھرانہوں نے پاراچنارمیں معصوم شہریوں کے خون سے ہولی کھیلنے والے نامعلوم افراد کو کیوں نہیں پکڑا؟
میں حکومت، فوج اورتمام ارباب اختیار سے کہتاہوں کہ خدارا پارا چنار سمیت پورے کرم ایجنسی میں قتل وغارتگری بند کرائی جائے اورعوام کی جان ومال کے تحفظ کےلئے فوری طورپر اقدامات کئے جائیں۔
میں پارا چنار کے عوام سے دردمندانہ اپیل کرتاہوں کہ خدارا فرقہ وارانہ فسادات کی سازش کو سمجھیں ، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور بھائی چارہ کی فضا قائم کریں اور ایک دوسرے کی جان ومال کی حفاظت کریں۔ اپنے اپنے عقیدے پر قائ�� رہیں، ایک دوسرے کے مسلک اورعقیدے کااحترام کریں۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر فکری نشست نمبر159 سے خطاب
21، نومبر2024
عمران خ��ن کے 24 نومبر کے احتجاج کو سبوتاژکرنے کی سازش کی جارہی ہے
.....................................................................
#AltafSupportsKhanProtest
#نومبر24_خان_کی_کال
پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے پاکستان میں عدلیہ کی آزادی، پارلیمنٹ کی خودمختاری اور ملک کی حقیقی آزادی کےلئے 24نومبر کواسلام آباد میں بھرپوراحتجاج کی کال دی ہے۔ عمران خان کی کال کے بعد ملک بھرمیں پی ٹی آئی کے کارکنوں نے بھرپورتیاریاں شر وع کردی ہیں توعمران خان کی اس احتجاج کی کال کو سبوتاژکرنے کی سازش کی جارہی ہے۔ عمران خان پر اسٹیبلشمنٹ کےفیصلے مسلط کرکے انہیں سیاست سے علیحدہ کرنے کی سازش کی جارہی ہے، ان کے چاہنے والوں میں مایوسی پھیلانے کی سازش ہورہی ہے اوریہ سازش باہر سے نہیں بلکہ ت��ریک انصاف کے اندر سے کی جارہی ہے۔ ایک ایسے وقت میں جبکہ احتجاج کے لئے ملک بھرمیں تیاریاں جاری ہیں اورعوام میں جوش وخروش پیدا ہورہا تو وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور اور @PTIofficial کے چیرمین بیرسٹرگوہر نےکل اڈیالہ جیل میں تحریک انصاف کے بانی @ImranKhanPTI سے ملاقات کرکے انہیں فوج سے مذاکرات کا پیغام دیا اور آج پھر علی امین گنڈا پور اور بیرسٹر گوہرخان نے اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات کی اوراطلاعات کے مطابق انہوں نے عمران خان پر یہ دباؤ ڈالاکہ وہ 24، نومبر کااحتجاج ملتوی کردیں اوراس کے لئے یہ جوازپیش کیا کہ کارکنان تیار نہیں ہیں جو کہ سراسرجھوٹ ہے۔
علی امین گنڈا پور نے تو 9، نومبر2024ء کو صوابی میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھاکہ'' جب عمران خان کال دیں گے تو ہم سر پرکفن باندھ کرنکلیں گے اور تب تک واپس نہیں آئیں گے جب تک ہم عمران خان کو رہا نہیں کرائیں گے۔ علی امین گنڈا پور نے جلسہ عام میں خداکو حاضرناظر جان کر یہ حلف بھی اٹھایا تھا کہ ہم چاہے جیلوں میں جائیں، چاہے مرجائیں لیکن ہم لڑیں گے اور مقاب��ہ کریں گے، حقیقی آزادی لینے تک ہماری جنگ جاری رہے گی۔ توپھرعلی امین گنڈاپور آج عمران خان پر کیوں دباؤ ڈال رہے ہیں کہ 24، نومبر کااحتجاج ملتوی کردیا جائے؟ عمران خان توکارکنوں کو خود کہہ چکے ہیں کہ غلامی سے نجات اور حقیقی آزادی کے لئے سب کونکلنا ہوگااوراحتجاج کو کامیاب بنانا ہوگا۔کیونکہ 26، ویں آئینی ترمیم کرکے انصاف کا پورا نظام تباہ کردیا گیا ہے اور انصاف کو سپریم کورٹ میں دفن کردیا گیا ہے اورعدالت عظمیٰ کی آزادی چھین لی گئی ہے۔ اسی لئے عمران خان پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ سے لڑرہے ہیں اور 16مہینے سے جیل میں سختیاں برداشت کررہے ہیں لیکن ان کا حوصلہ نہیں ٹوٹا۔ پھر علی امین گنڈاپور اوربیرسٹر گوہر ان کا حوصلہ توڑنےکی کوشش کیوں کررہے ہیں؟ علی امین گنڈا پور اس سے پہلے دومرتبہ احتجاج کوناکام بنانے کےلئے پی ٹی آئی کے کارکنان کواحتجاج کے درمیان چھوڑ کر بھاگ گئے تھے اور عوام کے احتجاج کوناکام بنانے میں کردار ادا کرچکے ہیں اور اب ایک مرتبہ پھر وہ اسلام آبادمیں پرامن احتجاج کی کال کوسبوتاژ کرنے کی سازش کررہے ہیں۔
دیکھنا ہوگا کہ کیا عمران خان PTI کے رہنما علی امین گنڈا پور اور بیرسٹرگوہر خان کا دباؤ قبول کرکے احتجاج کی کال واپس لے لیں گے، اگرایسا ہوا تو یہ فوج، ��یم آئی اور ISI کی سازش نہیں ہوگی بلکہ پی ٹی آئی کے اندرسے عمران خان کے خلاف سازش ہوگی جوکامیاب ہوجائےگی ۔مجھے افسوس ہے کہ آج پی ٹی آئی کے لیڈر ہی عمران خان کو جھکانا چاہتے ہیں اور ان کے حوصلے پست کرنا چاہتے ہیں۔ میں دعا گوہوں کہ عمران خان کے حوصلے قائم رہیں۔
1/2
2/2
علی امین اوربیرسٹرگوہر کویادرکھنا چاہیے کہ انہیں اپنی ذات کی بنیادپر نہیں بلکہ عمران خان کےنام پر ووٹ ملے اور علی امین گنڈاپور کوعمران خان نے ہی وزیراعلیٰ بنایاہے۔
میں پی ٹی آئی کے کارکنوں سے سوال کرتا ہوں کہ کیاآپ چاہتے ہیں کہ عمران خان کی ساری جدوجہد ضائع ہوجائے؟ عمران خان جیل میں قید رہیں اورجیل میں ان کی زندگی کو خدانخواستہ کوئی نقصان پہنچے؟
میں عمران خان کا دشمن نہیں بلکہ ڈھائی برسوں سے ان کا مقدمہ لڑرہا ہوں، اس پر مجھ پراعتراضات بھی ہوتے رہے لیکن میں نے ہمیشہ حق اور سچ کیلئے آواز اٹھائی ہے، یہ میرے ضمیر کی آواز ہے اورمیں ہرمظلوم کے لئے آواز بلند کرتارہا ہوں ۔
میں @PTIofficial کے مخلص کارکنان اور عمران خان کے چاہنے والوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ علی امین گنڈاپور اور اپنے کمپرومائز لیڈروں کی باتوں میں آنے کے بجائے @ImranKhanPTI کی ہدایت پر عمل کریں۔ احتجاجی مظاہرے کی کامیابی تمام معاملات اپنے ہاتھوں میں لےلیں، مقامی ذمہ داروں کے تعاون سے احتجاجی مظاہرے کو کامیاب بنانے کیلئے بھرپور جدوجہد کریں اور احتجاج کی کامیابی کیلئے 24 نومبر کوپرامن احتجاج کیلئے اسلام آباد ضرورپہنچیں۔ جب عمران خان کسی خوف میں مبتلا نہیں ہیں تو پھر PTI کے گمنام کارکنان کو بھی گرفتاریوں سے ��رنے کی ہرگز ضرورت نہیں ہے۔
میں پاکستان کے تمام جمہوریت پسند جماعتوں اورعوام سے کہتاہوں کہ وہ عدلیہ کی آزادی ، انصاف کے نظام کی بحالی ، پارلیمنٹ کی خودمختاری اور ملک کی حقیقی آزادی کےلئے 24نومبر کو کراچی سے خیبر تک احتجاج میں حصہ لیں اور اسے کامیاب بنائیں ۔
الطاف حسین
( ٹک ٹاک پر 158 ویں فکری نشست سے خطاب )
20، نومبر2024
(Watch complete address) 👇👇
https://t.co/PHeg8u0m0O
نظریاتی تحریکیں، نظم وضبط، کمیونیکیشن اور کوآرڈی نیشن کے بغیر نہیں چل سکتیں
............................................ .....................
تنظیم کوگراس روٹ لیول تک منظم کئے بغیر کوئی بھی پارٹی پروگرام کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوسکتا
...........................................................
پی ٹی آئی کے کارکنان24 نومبر کے احتجاج کوکامیاب بنانے کےلئے ایم کیوایم سے سبق سیکھیں، اپنے آپ کو ایم کیوایم کی طرح گراس روٹ لیول پر منظم کریں اور کونسلرز کے علاقائی حلقوں ��ک تنظیم سازی کریں۔ جب تک وہ ایم کیوایم کی طرح گلیوں اور محلوں تک کی سطح پر اپنا تنظیمی ڈھانچہ تشکیل نہیں دیں گے اورگراس روٹ لیول تک خود کو منظم نہیں کریں گے،وہ کوئی بھی احتجاج یاپارٹی پروگرام کامیابی سے انجام نہیں دے سکتے۔
جب میں نے 11جون 1978ء کو '' آل پاکستان مہاجراسٹوڈینٹس آرگنائزیشن '' (APMSO) قائم کی اورپھر 18مارچ 1984ء کوایم کیوایم قائم کی ۔ ہم نے اپناتنظیمی ڈھانچہ مرکز سے علاقائی سطح تک تشکیل دیا، ہم نے تمام شہروں کو زونوں، سیکٹروں اوریونٹوں میں تقسیم کیا اورعلاقائی سطح تک تنظیمی اسٹرکچر قائم کیا،میں نے برسوں تک ایک ایک علاقے میں جاکر تحریک کے کارکنوں کی فکری نشستیں کیں، اسی طرح ایم کیوایم کی مرکزی کمیٹی نے یونٹوں کی سطح پر جاکرکارکنوں کی تربیتی نشستیں کیں، اس فکری ونظریاتی اور تنظیمی تربیت کا نتیجہ یہ نکلا کہ جب مجھے پاکستان میں 1979ئ، 1986ء اور 1987ء میں گرفتارکرکے لاپتہ کیا گیا اورپوری مرکزی کمیٹی روپوش تھی تو چونکہ کارکنان یونٹوں تک کی سطح تک منظم تھے لہٰذا انہو ں نے قیادت کی عدم موجودگی کے باوجود تنظیمی کام کوجاری رکھا۔ 1992ء میں جلاوطنی میں لندن آگیا، جب 19جون 1992ء کوایم کیوایم کے خلاف فوجی آپریشن شروع ہوا، پوری مرکزی کمیٹی روپوش تھی،بدترین فوجی آپریشن ہورہا تھا لیکن @OfficialMqm کے کارکنوں نے ایسے کڑے حالات میں بھی آپس میں رابطوں میں رہ کر منظم اندازمیں تنظیمی کام جاری رکھا۔جب ریاستی آپریشن میں ایم کیوایم کے کارکنوں کاماورائے عدالت قتل ہورہا تھا، ایم کیوایم نے ان ماورائے عدالت قتل کے خلاف بے شمار ہڑتالیں کیں، اس وقت بھی اگرچہ میں لندن تھا، رابطہ کمیٹی سامنے نہیں تھی لیکن فکری ونظریاتی تربیت کی بدولت اس وقت بھی یونٹ ، سیکٹر اور زونوں کی سطح پر تنظیم منظم تھی ، ذمہ داروں اور کارکنوں کا آپس میں ��ھرپوررابطہ تھا،کارکنان اور عوام سرگرم تھے، انہوں نے ہڑتال کی ہرکال کو کامیاب بنایا۔
تحریک انصاف کے کارکنوں کوایم کیوایم کے کارکنوں سے سبق سیکھناچاہیے اوراپنے آپ کوگراس روٹ لیول پر منظم کرناچاہیے اور انہیں سمجھناچاہیے کہ نظریاتی تحریکیں، نظم وضبط، کمیونیکیشن اورکوآرڈی نیشن کے بغیرچل ہی نہیں سکتیں۔اگر@PTIofficial کی کمپرومائزڈ لیڈرشپ اگر آپ تک نہیں پہنچتی اور آپ کے درمیان ذمہ دار موجود نہ بھی ہوں تو آپ خود ذمہ دار بن جائیں اوراپنی صفوں کومنظم کریں ۔اگرکوئی آپ کواس بات پر ڈرانے کی بھی کوشش کرتا ہے کہ احتجاج میں شرکت پر آپ کوحکومت اورریاستی اداروں کی جانب سے پکڑدھ��ڑ اور کریک ڈاؤن کاسامنا کرنا پڑسکتا ہے تو یاد رکھیں کہ قربانیوں کے بغیر دنیامیں کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ یہ درست ہے کہ حکومت اورریاست کے پاس بہت طاقت ہوتی ہے مگر مقصد کے حصول کےلئے قربانیاں دینا پڑتی ہیں، بغیرقربانیوں کے انقلاب نہیں آتا۔
آپ کو اس بات کو بھی یادرکھناچاہیے کہ انقلاب ہمیشہ حقوق سے محروم اورغریب بستیوں اورنچلے طبقہ سے تعلق رکھنے والے ہی لایاکرتے ہیں، بڑی بڑی کوٹھیوں اور محلوں میں رہنے والے نہیں لایا کرتے کیونکہ انہیں اپنی مال ودولت کی بدولت تمام تر سہولتیں اورآسائشیں میسر ہوتی ہیں، وہ ان مسائل سے دوچار نہیں ہوتے جس کاسامنا غریب ،لوئرمڈل کلاس اورمڈل کلاس سے تعلق رکھنے والے عوام کررہے ہو��ے ہیں۔ اسی لئے جوسیاسی رہنما،طبقہ اشرافیہ سے تعلق رکھتے ہوں وہ عموماً لاٹھیاں ڈنڈے کھانے اور قربانیاں دینے کے لئے آگے نہیں آتے۔ان کی تمام ترکوشش محض اپنا مفادحاصل کرنا اوراپنی دولت میں اضافہ کرنا ہوتا ہے۔ پاکستان میں بھی ہردور میں جاگیردار، وڈیرے، سردار اور بڑے بڑے صنعتکار اور سرمایہ دارہی حکومتوں میں آتے رہے ہیں، ان کاگٹھ جوڑ فوج کے کرپٹ ��رنیلوں کے ساتھ ہوتاہے، یہی ملک کی شوگر مافیا،گندم مافیا، ریئل اسٹیٹ مافیا ہیں، یہ ملکر مختلف بزنس کرتے ہیں۔ یہ سب ایک مافیا کی شکل اختیار کرچکے ہیں۔ آصف زرداری اورنوازشریف اس مافیاکی سب سے بڑی مثال ہیں۔ ملک کے تمام غریبوں، مزدوروں، وکلاء ،اساتذہ اور تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے عوام خصوصاً نوجوانوں کو،پاکستان کو اس مافیا کے شکنجے سے آزادکرنے کے لئے متحد ہوکرجدوجہد کرناچاہیے۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 155ویں فکری نشست سے خطاب
16نومبر 2024ئ
#Pakistan stands as the world’s first and only unique country where a single Supreme Court has been divided into two separate courts:
1. A Constitutional Supreme Court
2. An Unconstitutional Supreme Court
How can the highest court of a single country be divided into constitutional and unconstitutional benches? In this division, the Chief Justice and senior-most judges of the Supreme Court are excluded from the constitutional bench and are only allowed to sit on the unconstitutional bench. Meanwhile, in courts worldwide, the Supreme Courts handle both constitutional and unconstitutional cases and petitions as part of their mandate.
How can this constitutional and unconstitutional division of the Supreme Court in Pakistan be justified? Constitutional and legal experts are urged to resolve this matter.
اگر VPN کا استعمال غیرشرعی ہے تو اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین اور کونسل کے ارکان کا موبائل فون استعمال کرنا بھی غیرشرعی ہے۔
وی پی این کے استعمال کو غیرشرعی قرار دینے والے اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین اور ارکان پاکستان کی شاہی فوج کے درباری ملؔا ہیں
#VPNBan
جمہوریت کیلئےبلور خاندان کی قربانیاں ناقابل ف��اموش ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
17،نومبر2024ء
میں عوامی نیشنل پارٹی @ANPMarkaz کےسینئر رہنماء اورسابق سینیٹر الیاس احمد بلور کے انتقال پر گہرے رنج وغم کااظہار کرتاہوں، الیاس احمد بلور کے انتقال کی خبرسے مجھے ذاتی طورپر ��دمہ پہنچاہے۔آمریت کے خلاف بلور خاندان کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں اور ہر جمہوریت پسند پاکستانی، جمہوریت کیلئے بلور خاندان کی جرات مندانہ قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھے گا۔میں ،الیاس احمد بلور کے انتقال پراے این پی کے رہنماؤں اورکارکنوں بالخصوص حاجی غلام احمد بلور سمیت بلور خاندان کے تمام افراد سے دلی تعزیت وہمدردی کااظہارکرتا ہوں دکھ کی اس گھڑی میں مجھ سمیت ایم کیوایم کے تمام کارکنان، سوگوارلواحقین کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ میں دعا گو ہوں کہ اللہ تعالیٰ ،الیاس احمد بلور کے درجات بلند فرمائے ،انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے اور سوگوارلواحقین کو یہ صدمہ برداشت کرنے کا حوصلہ دے ۔(آمین ثمہ آمین)
الطاف حسین

کیاعوام ملاّ ملٹری الائنس کاساتھ دیں گے؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پاکستان میں ملاّ ملٹری الائنس قیام پاکستان کے بعد سے چلتارہا ہے اورآج بھی جاری ہے ، آج بھی ملّا موجودہ حکمرانوں کے ظالمانہ اقدامات کو جائزقراردینے کےلئے فتوے جاری کررہے ہیں جس کی تازہ ترین مثال اسلامی نظریاتی کونسل کی جانب سے وی پی این کوغیر شرعی قراردینا ہے۔
اسلامی تاریخ میں دوقسم کے ملاّ ہ��ں، ایک وہ جوغلط کوغلط کہتے ہیں، ظالم کوظالم کہتے ہیں اوردوسرے وہ جوظالموں، چوروں اورڈاکوؤں کی حکومت اوران کے ظالمانہ اقدامات کوجائزقرار دیتے ہیں اوران کے حق میں فتوے جاری کرتے ہیں۔
اسلامی تاریخ میں جومستند امامین گزرے ہیں، انہوں نے کبھی بھی کسی خلیفہ یا حکمراں کے کسی بھی غلط اقدام کی حمایت نہیں کی بلکہ جب بھی وقت کے حکمرانوں نے قرآن مجید، اللہ کے رسول نبی آخرالزماں حضرت محمدمصطفےٰ ۖ کی تعلیمات اورشریعت کے برخلاف کوئی حکم جاری کیا تو انہوں نے اس کے فرمان کوماننے سے انکارکیا، اس کے خلاف ڈٹ کر بات کی، اس کی پاداش میں جید امامین کوحکمرانوں کے ظلم کا سامنابھی کرناپڑا، انہیں قیدوبند میں رکھا گیا، اذیتیں دی گئیں، رسیوں سے باندھ کرگھسیٹا گیا، جلاوطن ہونے پر مجبور کیاگیا، حتیٰ کہ انہیں شہید تک کیاگیا۔ جبکہ دوسری طرف ہردورمیں حکمرانوں کے دربار میں ایسے بھی مفتی اورمولوی تھے جنہوں نےحکمرانوں کی خوشنودی کےلئے ان کے ناجائزاحکامات اور اقدامات کے حق میں فتوے جاری کئے اورعوام کوان ظالم حکمرانوں کی بیعت اور فرمابرداری کرنے کی تلقین کی ، انہوں نے ظالم حکمرانوں کو معصوم اورمظلوموں کوظالم قراردیا۔ ایسے ہی ملاّہردورمیں ظالم حکمرانوں کے کاسہ لیس رہے ہیں۔
ایسے ہی ملاّؤں اورعلمائے سوُ نے پاکستان میں ہرڈکٹیٹر کی حمایت کی، اس کے حق میں فتوے جاری کئے۔آج بھی جب فارم 47 کے تحت دھاندلی کے ذریعے قائم ہونے والی حکومت اورملٹری اسٹیبلشمنٹ عوام کو دبانے کے لئے جوظالمانہ اقدامات کررہی ہے، اپنےحق، انصاف کےحصول، عدلیہ کی آزادی اور ملک میں آئین وقانون کی بالادستی کے لئے آوازاٹھانے والے عوام کومظالم کانشانہ بنایا جارہا ہے، تحریرو تقریر، اجتماعات اور اظہاررائے کی آزادی پر قدغن لگائی جارہی ہے، پرنٹ ��ور الیکٹرانک میڈیا کے بعد سوشل میڈیاپربھی پابندیاں لگائی جارہی ہیں، عوام نے ان پابندیوں کاتوڑکرنے کےلئے سوشل میڈیاپر VPN کا استعمال شروع کیاتواسلامی نظریاتی کونسل نے اس کےخلاف فتویٰ جاری کرتے ہوئے VPN کا استعمال غیرشرعی قرار دیدیا ہے۔میں اسلامی نظریاتی کونسل اور اُس کے اِس فتوے کونہیں مانتا۔
کل ایسے ہی ملاّؤں نے ٹی وی، کیمرے، وی سی آر کااستعمال حرام قراردیا، ٹی وی اور کیمرے توڑ کر لٹکائےگئے، سی ڈیز، وی سی آر کی دکانوں کوآگ لگائی،آج یہ خود کیمرے کا استعمال کرتے ہیں، ٹی وی پر آتے ہیں، آج انہوں نےحکمرانوں کے کہنے پر وی پی این کوغیرشرعی قراردیدیا۔ وی پی این سوشل م��ڈیاکے دور میں ایک ضروری سائنسی ٹیکنالوجی ہے، اسے غیرشرعی کس طرح قرار دیاجاسکتاہے؟ آخراسلامی نظریاتی کونسل والوں کوکیا ہوگیا ہے؟اسلامی نظریاتی کونسل والوں نے کبھی حکومت اورفوج کی جانب سے عوام پر ڈھائےجانے والےظلم کو ظلم نہیں کہا، اپنے حق کےلئے آواز اٹھانے والے شہریوں کو گرفتار کرکے لاپتہ کرنے، انہیں ماورائے عدالت قتل کرنے، ماؤں بہنوں کی بےحرمتی اورانہیں زیادتیوں کا نشانہ بنانے کےخلاف کبھی کوئی فتویٰ جاری نہیں کیا۔
ہمارے ہاں بھی یہی ملاّ ملٹر ی الائنس چل رہاہے، طالبان اور القاعدہ کس نے بنائی؟انہیں اسلام کےنام پر قتل وغارتگری، بم دھماکوں، خودکش حملوں کا درس کس نے دیا؟ جبکہ قرآن کہتاہے کہ ایک بے گناہ انسان کا قتل پوری انسانیت کاقتل ہے۔
کیاعوام ایسے ملاّؤں کومانیں گے جو حرام کوحلال اورحلال کوحرام قراردے دیں؟ جو حکمرانوں کے مظالم کو جائزقراردیں، جو ظالم کومظلوم اورمظلوم کے ظالم ہونے کافتویٰ جاری کریں۔ عوام ایسے ملاّؤں سے بچیں جوایک طرف تو عورت کی حکمرانی کوناجائزکہتے ہیں لیکن جب عورت کی حکومت میں وزارت اور منصب کی پیشکش ہوتواپنے مفاد کے لئے اسے قبول بھی کرلیتے ہیں اورعورت کی حکومت کاحصہ بھی بن جاتے ہیں۔ جنہوں نے کشمیرکی آزادی اور جہاد کےنام پر ہزاروں نوجوانوں کو انڈین کشمیرمیں بھیج کر مروایالیکن جب انڈیانے آرٹیکل 370کوختم کرکے کشمیرکواپنے ساتھ ملالیاتوان ملاّؤں اورکرپٹ فوجی جرنیلوں نے کوئی احتجاج نہیں کیابلکہ یہ انڈیاکے سامنے لیٹ گئے۔
میں آزادکشمیر، پنجاب، پختونخوا، بلوچستان، سندھ، گلگت بلتستان سمیت ملک بھرکے عوام سے کہتاہوں کہ وہ اس ملاّ ملٹری الائنس کاساتھ نہ دیں اور اپنے حق اور انصاف کے حصول کے لئے آواز بلند کریں۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر154ویں اسٹڈی سرکل سے خطاب
15نومبر2024
الیکٹرونکس سامان…انفارمیشن ٹیکنالوجی اور…'' اسلام ''
…………………………………
حکومتِ پاکستان کی قائم کردہ '' اسلامی نظریاتی کونسل '' کے ممبران اورچیئرمین کونسل ڈاکٹر راغب نعیمی صاحب نے '' وی پی این'' (VPN) کے استعمال کوغیرشرعی قراردے دیاہے۔
لاحولِ ولاقوّة اِلا باللہ
میں اسلامی نظریاتی کونسل کے ممبران، اُس کے چیئرمین ڈاکٹر راغب نعیمی صاحب اورپاکستان کے عوام سے ایک سیدھا سادہ اورآسان سوال کرتاہوں کہ کیا نبی آخرالزماں حضرت محمدمصطفےٰ ۖ کے زمانے میں الیکٹرونکس سامان واشیاء اور انفارمیشن ٹیکنالوجی سے متعلق سامان واشیاء کا کوئی وجود تھا؟
اگرجواب ''نہیں '' میں ہوتوپھرالیکٹرونکس اورانفارمیشن ٹیکنالوجی سے تیارہونے والا سامان اوراشیاء اوران سے مزید نئی نئی چیزوں اورطریقوں کااستعمال اسلامی تعلیمات کی روشنی میں کس طرح '' غیرشرعی '' ہوسکتا ہے ؟؟؟؟؟
بعض علماء پہلے بھی لاؤڈاسپیکر، ریڈیو، ٹی وی، ہرقسم کے کیمروں ،وی سی آر اور اس طرح کی دیگرایجادات اورٹیکنالوجیزکے استعمال کے خلاف فتوے دیکر انہیں ''غیرشرعی '' قرار دے چکے ہیں اوراِن اشیاء کی توڑپھوڑکرنے حتیٰ کہ انہیں جلانے کاعمل بھی کرچکے ہیں۔
قارئینِ کرام ! آپ کی نظرمیں پاکستان کی ''اسلامی نظریاتی کونسل '' کا " VPN " کے استعمال کو '' غیرشرعی '' اورناجائزقراردینا کیا درست ہے؟
یااُن کایہ فتویٰ 100فیصد غلط اورغیرشرعی ہے؟
الطاف حسین
15نومبر 2024
پشتون تحفظ موومنٹ کےسربراہ منظور پشتین کے خلاف PTM کے شہیدکارکنان کے قتل کامقدمہ بنانا سراسر ظلم اور قابل مذمت ہے۔
اسٹیبل��منٹ سے کہتا ہوں خدارا یہ ظلم نہ کیا جائے۔ منظور پشتین کے خلاف مقدمہ خارج کیا جائے، اصل قاتلوں کو گرفتار کیا جائے
#StopStateTerrorism
@ManzoorPashteen @PashtunTM_Offi @PashtunNJirga
پاکستان میں جمہوریت کی بقا، انصاف کے نظام اور عدلیہ کی آزادی کے لئے عمران خان @ImranKhanPTI کی 24 نومبر کے احتجاج کی کال کی حمایت کرتا ہوں۔
پاکستان کے طلبہ ، وکلا ، مزدوروں، کسانوں اور تمام شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے عوام سے اپیل کرتا ہوں کہ 24 نومبر کے پرامن احتجاج کو کامیاب بنائیں
@PTIofficial
دنیا کا پہلااورانوکھاملک”پاکستان “
جہاں ایک ہی ملک کی سپریم کورٹ کودو سپریم کورٹس میں تقسیم کردیا گیا ہو۔
1۔ ایک آئینی Constitutional سپریم کورٹ
2۔ دوسری غیرآئینی Unconstitutional سپریم کورٹ
ایک ہی ملک کی عدالت عظمیٰ کو آئینی اورغیرآئینی بینچز میں کس طرح تقسیم کیاجاسکتاہے؟ جس میں سپریم کورٹ کا چیف جسٹس اورسینئر موسٹ ججز آئینی بینچ سےباہر ہوں اوروہ سینئر ترین ججز صرف غیر آئینی بینچ میں شرکت کرسکتے ہوں جبکہ دنیا بھر میں موجود سپریم کورٹس ہی آئینی اورغیر آئینی مقدمات اور پٹیشنز کی سماعت کرتی ہیں۔
پاکستان میں سپریم کورٹ کی اس آئینی وغیر آئینی تقسیم کو کس طرح جائز قرار دیا جاسکتاہے؟
آئینی وقانونی ماہرین!!
خدارا ،آپ ہی اس گُتھی کو سلجھائیں۔
سپریم کورٹ آف پاکستان اب SCSC یعنی Selected Compromised Supreme Court of Pakistan بنادی گئی ہے ۔
آئینی ترامیم کے بعد سپریم کورٹ کے تمام اختیارات اور انصاف کے ضابطوں کو ختم کردیا گیا ہے۔
جس ملک میں بدترین ڈکٹیٹرشپ ہو ، فاشزم ہو ، وہاں انصاف طاقتور قوتوں کی ماتحت عدالتوں سے نہیں ملتا۔ وہاں انصاف صرف سڑکوں پر احتجاج اور پہیہ جام سے مل سکتا ہے
ہفتہ کوکوئٹہ میں فدائی حملے میں دو درجن سے زائد فوجی اور سویلین جاں بحق اور تین درجن سے زائد زخمی ہوئے ۔
میں ،کوئٹہ بم دھماکے میں ہونے والی ہلاکتوں پر افسوس کااظہارکرتا ہوں اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کیلئے دعا گو ہوں ۔
اس واقعے کے بعد چیف آف آرمی اسٹاف جنرل عاصم منیر نے بیان دیاہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تمام پاکستانی مستقل طورپر فوج کا ساتھ دیں ۔ ہلاکتیں کسی کی بھی ہوں وہ افسوسناک ہوتی ہیں لیکن فوج کے ہاتھوں سویلین کی ہلاکتیں زیادہ افسوسناک ہوتی ہیں ۔
یہ ایک المناک حقیقت ہے کہ 77 برسوں سے فوج اورآئی ایس آئی فوجی آپریشنوں کے نام پر بے گناہ سویلین کو مظالم کانشانہ بناتی آئی ہے، انہیں قطارمیں کھڑا کرکے قتل کرنے، انہیں اجتماعی قبرمیں دفن کرنے ، ملک کے ہرحصے میں چھاپے گرفتاریوں، خواتین کی بے حرمتی ،جبری گمشدگیوں اورماورائے عدالت قتل کاعمل کرتی چلی آرہی ہے، افسوس تویہ ہے کہ یہ مظالم اب بھی جاری ہیں توپھرفوج کا سربراہ کس منہ سے عوام سے تعاون کی بھیک مانگ رہاہے ؟
فوج کے جرنیلوں کوسمجھناچاہیے کہ بندوق کی طاقت اور غیرقانونی پابندیوں سے لوگوں کی زباں بندی تو کی جاسکتی ہے لیکن لاشوں کے ڈھیرلگاکرشہداء کے گھروالوں کی محبت حاصل نہیں کی جاسکتی ۔فوج کو سوچنا چاہیے کہ عوام کے خلاف ریاستی جبرکا جو عمل کیاجارہا ہے اس سے وہ عوام کی نفرت کے سوا کچھ حاصل نہیں کرسکتے ۔ اگر فوج ،عوام کی محبت چاہتی ہے تو اسے عوام کے خلاف ریاستی جبر کااستعمال بندکرناہوگااور اپنی آئینی حدود میں رہنا ہوگا۔
ہفتہ9 ، نومبر2024ء کو تحریک انصاف @PTIofficial کا صوابی میں جلسہ منعقد ہوا ۔اس جلسے میں لوگوں نے بڑی ت��دادمیں صرف اس لئے شرکت کی تھی کہ جلسے میں عمران خان اوران کے ساتھیوں کی رہائی کیلئے آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیاجائے گا۔
4،اکتوبرکو ڈی چوک اسلام آبادمیں پی ٹی آئی کے احتجاجی مظاہرے میں عمران خان کے جانثار کارکنان نے گولیوں ، آنسوگیس کے شیلوں اور ہرقسم کے مظالم کاسامنا کیا لیکن علی امین گنڈا پور چکمہ دیکر غائب ہوگئے ، علیمہ خان اورڈاکٹرعظمیٰ خان سمیت پی ٹی آئی کے ہزاروں کارکنان کو گرفتارکرلیاگیا۔ 4،اکتوبرکے احتجاج کو ناکام بنانے میں علی امین گنڈا پور کا ہاتھ ہے ۔
9،نومبرکوصوابی کےجلسے میں تقریرکرتے ہوئے علی امین گنڈا پور نے کہاکہ جس دن عمران خان فائنل کال دیں گے تو ہم عمران خان کی رہائی تک اپنے گھروں میں نہیں جائیں گے۔پی ٹی آئی کی لیڈرشپ 16 ماہ سے عمران خان کو گولیاں دیتی چلی آرہی ہے ،احتجاج کی کال علی امین گنڈاپور اور پی ٹی آئی کے دیگر لیڈران کو دینی تھی لیکن انہوں نے ہربات کابوجھ عمران خان پر ڈال دیااور خود عیش کررہے ہیں ۔ جس طرح عمران خان کے وکیل انتظار حسین پنجوتھا کو تین ہفتوں تک جبری گمشدہ کرکے بہیمانہ تشددکانشانہ بنایاگیا،کیا اس طرح پی ٹی آئی کے لیڈروں اوروکلاء کو تشددکانشانہ بنایاگیا؟
انتظارپنجوتھاغیرقانونی حراست میں تشددکاسامنا کررہے تھے لیکن پی ٹی آئی کی لیڈرشپ کی جانب سے انتظارحسین پنجوتھا کی بازیابی کیلئے کوئی مظاہرہ نہیں کیاگیا۔پی ٹی آئی کے بڑے بڑے لیڈر گرفتارہوئے لیکن رات کی تاریکی میں اچانک رہابھی کردیئے گئے اور اب وہ ہرٹی وی چینل پر دکھائی دے رہے ہیں۔
پی ٹی آئی کے کارکنان ��یرے ان سوالوں کے جواب دیں کہ،
پی ٹی آئی کی لیڈرشپ نے26ویں آئینی ترمیم کی حمایت کیلئے حکمراں پی ڈی ایم سے مذاکرات کیوں کیے؟
4، اکتوبر2024ء کو پی ٹی آئی کے عوامی احتجاج کا جنازہ کس نے نکالا؟
عمران خان کے وکیل انتظارپنجوتھاایڈوکیٹ کی جبری گمشدگی پر پی ٹی آئی کی لیڈرشپ کیوں خاموش رہی؟
پی ٹی آئی کے لیڈروں اورعمران خان کی بہنوں کے بیانات میں تضاد کیوں ہوتا ہے؟
کیاکمپرومائزلیڈرشپ کی اس قسم کی کمپرومائزسیاست کے نتیجے میں عمران خان کی رہائی ممکن ہوسکتی ہے؟
اس صورتحال میں پی ٹی آئی کے کارکنان اپنے اجلاس کرکے خودفیصلہ کریں کہ وہ عمران خان کی رہائی اورانہیں زندہ سلامت دیکھ��ا چاہتے ہیں یانہیں ؟
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 151ویں فکری نشست سے خطاب
9،نومبر2024ء
Link of study circle No. 151 👇
https://t.co/JZUWY1tqJU
8، نومبر2024ء
عزیزتحریکی ساتھیو!
سلام وآداب
میں آپ وفاپرست ساتھیوں کےعلم میں یہ بات لانا چاہتاہوں کہ بعض شرپسند عناصر جواپنے آپ کوتحریک کاہمدرد ظاہر کرتے ہیں وہ سماجی ویب سائٹ ٹوئٹر(ایکس) پر مختلف گرےآئی ڈیز (جعلی اکاؤنٹس) اورسوشل میڈیاکے دیگر پلیٹ فارم سے ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کےاراکین اور دیگر ذمہ داران کےخلاف مسلسل بےبنیاد،جھوٹا،منفی اور بیہودہ پروپیگنڈہ کرکے وفاپرست کارکنان کوگمراہ کرنےاوران میں کنفیوژن پھیلانے کی سازش کررہےہیں لہٰذا تمام وفاپرست ساتھی اگر کسی بھی ایسی گرےآئی ڈیز پر جاری کیے جانےوالےگمراہ کن ٹوئٹ یا پوسٹ کو پڑھیں جس میں رابطہ کمیٹی کےکسی بھی رکن، کسی تحریکی ذمہ دار یارابطہ کمیٹی کےخلاف کسی بھی قسم کی گمراہ کن بات کی گئی ہو توایسے عناصر سےالجھنے یاانہیں جواب دینےکے بجائے ان کےاکاؤنٹس کوبلاک کردیں اور سوشل میڈیا کےکسی بھی پلیٹ فارم پر ہونےوالےایسے کسی پروگرام میں ہرگزشرکت نہ کریں جہاں میرے بنائے گئے تنظیمی اسٹرکچراورتحریک کے خلاف گمراہ کن باتیں کی جاتی ہوں۔
اللہ تعالیٰ آپ سب ساتھیوں کو ثابت قدم اور وفاپرست بنائے رکھے۔(آمین ثمہ آمین)
دعا گو
آپ کا اپنا
الطاف حسین
بانی وقائدایم کیوایم
ڈونلڈ ٹرمپ @realDonaldTrump کے منشور کے مطابق اب جنگیں نہیں بلکہ امن ہوگالہٰذا پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کو بھی چاہئےکہ وہ ہوش کےناخن لے،فوج اپنے دائرہ کار میں رہے، عمران خان سمیت @PTIofficial ، ایم کیوایم کےگرفتار کارکنوں کو رہا کیا جائے، تمام لاپتہ مہاجروں، بلوچوں، سندھیوں، پشتونوں، سرائیکیوں، کشمیریوں، گلگتیوں، بلتستانیوں کو بازیاب کیا جائے۔
اگر اسٹیبلشمنٹ اپنا رویہ تبدیل نہیں کرتی تو پھر عوام کو انقلاب کیلئے تیار رہنا چاہئے