@MaryamNSharif میم امید کرتا ہوں آپ خیریت سے ہوں گی۔ میں آپ کو بتاتا چلوں کہ میں فیلڈ میں کام کرتا ہوں اور روزانہ کئی لوگوں سے اور کئی خاندانوں سے ملتا ہوں ۔ میم میں نے دیکھا ہے کہ جو محبت لوگوں میں میاں صاحب کے لیے تھی وہ اب ختم ہو رہی ہے اور اب لوگوں میں عمران کی جگہ بن 1
زاہد ریکی کا پاسپورٹ منسوخ کر دیا جانا چاہئیے۔ اس کے پاس اگر کسی دوسرے ملک کا پاسپورٹ ہوا تو آٹومیٹیکلی نااہل ہو جائے گا۔ یہ پارلیمان میں موجود ہے تو یقینا پیسے والا ہو گا۔ نمک حرامی یقینا خون میں شامل ہو گی۔
پاکستان نے کیا کچھ نہیں کیا ایران کے لیے لیکن ایران میں پاکستانی ولاگر ساتھ نہایت تضحیک آمیز سلوک کیا گیا اسے امریکہ ،اسرائیل کا جاسوس سمجھ کر پکڑا گیا اور 4 گھنٹوں تک نہایت تضحیک ساتھ تفتیش کرتے رہے جب کچھ نہیں ملا تب بھی ناروا سلوک کرنے سے باز نہیں آئے اور بس والے کو کہا اسے سیٹ پر مت بیٹھنے دینا بس کے فرش پر بیٹھا کر اسے سفر کرنے پر مجبور کیا گیا
> Saudi Arabia is setting the region on fire to save itself to save itself
To save itself from whom? Logically that "who" is setting the region on fire.
@AHD_from_TX For those interested in how the TTP side of the drone program got elevated, I put a snapshot out of our investigation into that program here. You can thank Iran.
مزاکرات کامیاب نہ ہونے کے بعد یک نشستی راجہ ناصر عباس نے آ کر میڈیا میں جس ایکسائٹمنٹ اور والہانہ انداز میں اشارہ کر کے کہا ڈیڈ لاک ان کی خوشی چہرے سے چھپائی نہیں جا رہی تھی ۔۔ سوچ رہا ہوں آخر ایسا کیا ہوا ہے کہ علامہ بہت خوش ہے ؟
سمجھ نہیں آ رہا ھے کہ جو لانگ مارچ پہلے پشاور اسلام آباد کے محفوظ روٹ (موٹر وے) پر ہونے والا تھا اس لانگ مارچ کو شدید دہشت گردی کی لپیٹ میں آئے جنوبی پختونخوا (لکی مروت، کرک اور کوہاٹ) کی طرف "کس" نے اور کس "مقصد" کے لئے موڑ دیا ؟؟؟
@SohailAfridiISF
وزیر اعظم کی تقریر کا سب سے خوبصورت موقع!
یہ مناظر دنیا میں یاد رکھے جائیں گے جب وہ ملک جسے اسلام کا قلعہ قرار دیا گیا تھا، اقوام متحدہ میں غزہ کے مظلوم عوام کے لئے بات کر رہا تھا اور فلسطین کے نمائندے خوشی سے تالیاں بجا رہے تھے، جن کیلئے بات کرنے کی کسی اور کی جرائت نہیں ہوئی
کعبہ و خضریٰ اول، نجف و کربلا بعد!
ہر جنگ اور محاذ کی اک معیشت اور سیاست ہوتی ہے جس سے عمومی طور پر حکمران طبقات کے مفادات جڑے ہوتے ہیں۔ حکمران طبقات پوری دنیا میں اپنے ساتھ ساتھ، اپنی ریاستوں کے مفادات کے بھی نگہبان ہوتے ہیں۔ یہی ریاست نامی عفریت کا سٹرکچر تھا، ہے اور ہمیشہ کے لیے ہی رہے گا۔ حکمران طبقات اپنے مفادات کے ساتھ ساتھ اپنی ریاستوں کے مفادات کی بھی نگرانی دیگر وجوہات کے ساتھ ساتھ اس لیے بھی کرتے ہیں کہ وہ انہی ریاستوں میں حکمران ہوتے ہیں۔ نہ رہیں تو وہ دوسری ریاستوں میں بطور ایلیٹ مہاجر کے طور پر رہتے ہیں۔
اک بات بطور اک رند کے، بہت کلئیر مگر ذہن میں ہے کہ میرے لیے خانہ کعبہ اور مسجد نبوی، کربلا، نجف، قم، مشہد و اصفہان سے کہیں بلند و بالاتر ہیں۔ کربلا، نجف، قم، مشہد و اصفہان وغیرہ کی باری کہیں بہت دور اور دیر کے بعد آتی ہے۔ کعبہ و خضریٰ کے مقام کے سامنے اور برابر اپنے لیے بطور اک پیدائشی و ثقافتی مسلمان، کچھ اور نہیں، نہ ہی ہو گا۔ اس لیے بھی کہ دیسی لبرل و ملحدین جو مرضی ہے کہتے رہیں، مذاہب انسانوں کی شخصیات اور پہچان کا حصہ ہوتے ہیں۔ نہ ہوتے تو ان کا پیغمبر، رچرڈ ڈاکنز بھی اپنے آپ کو ثقافتی مسیحی نہ کہتا۔ مذہبی نہ ہی سہی، میں تو اپنے مفاد میں بھی بھلے نام کا ہی سہی، مسلمان اس لیے بھی رہوں گا کہ قران حیات بعد از موت کی ضمانت دیتا ہے اور میں مرنے کے بعد اپنی ماں اور دیگر پیاروں سے ملنا چاہوں گا۔
ایران اور سعودی عرب نے پاکستان میں اپنے اپنے سپورٹ سسٹم بنا رکھے ہیں۔ ایران کا سپورٹ سسٹم بہت جاندار اور خونخوار بھی ہے۔ سعودیوں کا سپورٹ سسٹم اب پاکستان میں عمومی خونخواری پر بنیاد نہیں کرتا جب کہ ایرانیوں کا زینبیوں اور فاطمیوں تو ابھی کل پرسوں کی باتیں ہیں۔ ان دونوں ممالک کی آپس کی سیاست اور جنگجوئی سے بالکل الگ، پاکستان میں خود کو ایران کے قریب سمجھنے والے کل سے ان باتوں کی توجیہات پیش کر رہے ہیں کہ مکہ، مدینہ کیا ہیں اور سعودی حکومت کیا ہے۔ ان ایرانڈؤں پر لعنت بھیجیے اس لیے نہیں کہ آپ خود کو سعودی حکومت کے قریب تر محسوس کرتے ہیں، اس لیے کہ جنہوں نے مکہ پر ڈرون روانہ کیا، ان کی پشت پر ایران ہے جہاں موجود ملائیت نجانے کب سے اس سارے خطے میں، سمیت بلوچستان و کراچی کے، شورش کا سبب بنی ہوئی ہے۔ فی الحال تو ریاض ہی مکہ و مدینہ کا خادم و محافظ ہے تو جو سیاسی و جغرافیائی حقیقت زمانہ موجود میں موجود ہوتی ہے، وہی سیاسی و جغرافیائی حقیقت ہوتی ہے۔ تو اپنا مکہ و مدینہ کے معاملہ پر ایران اور حوثیوں پر صرف لعنت بھیجنا ہی بنتا ہے۔
مکرر: کعبہ و خضریٰ اول، نجف و کربلا کہیں بہت بعد!
قطعاً بعید از قیاس نہیں کہ حوثی باغی مکہ معاہدے کے اہم رکن پاکستان پر ڈرون حملے کرینگے
مکرر عرض ہے کہ ایران جن ممالک پر حملے کا جواز یا منہ نہیں رکھتا ان ممالک پر ہمیشہ اپنی پروکسی سے حملے کرواتا آیا ہے
بہرکیف ام الحرب کا زمانہ آ پہنچا ہے
بغیر کسی اگر مگر بغیر کسی چوں چراں اور بغیر کسی لگی لپٹی کے ہر مسلمان ہر پاکستانی حرمین شریفین کی حرمت کیلئے سعودی عرب کی حمایت میں کھڑا ہے اور ان شاءاللہ کھڑا رہے گا
#PakistaniStandsWithSaudi
اور ناظرین گزشتہ روز حرمین شریفین بارے کی گئی لفاظی پر عمرانی کُتے افغانی کتے اور ایرانی کُتے یکزبان ہوکر مغلظات بک رہے ہیں اور حوثی دہشتگردوں کی حمایت میں تلواریں نکال کر میدان میں موجود ہیں اور اب یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ حرمین شریفین کے خلاف سازش کرنے والے مجوسی ہیں
مکۃ المکرمہ پر ہونے والے، یہودیوں اور یہودیوں کے ایجنٹوں کے، دونوں ڈرون حملوں کو روک لیا گیا ہے، حملوں کی تصدیق میں ان دیگر ڈرونز کے بارے میں نہیں بتایا گیا جنہیں ہیک کرکے اتارا گیا اور اب یہ ثابت کیا جائے گا کہ ڈرون کہاں سے اڑے اور کس نے اڑائے۔
کہا تھا ناں
نورالدین محمود زنگی کے وارثین اپنی ��یوٹی پر پہنچ چکے ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے سعودیہ پر ان حملوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔
جنگ تھی اسرائیل امریکہ ایران کی، سعودیہ نے نہ مدد دی نہ جہاز اڑنے دیے لیکن ایران نے ڈائریکٹ حملے کیے اپنے پالے سور بھی چھوڑ دیے،اسرائیل امریکہ پیچھے ہٹ گئے اور مسلمانوں کی مقدس ترین مقامات پر مجوسی حملہ آور ہیں
ایران شروع سے اسرائیل کی جانب سے کھیل رہا بہت جلد سب سمجھ جائیں گے
ایرانی اپنی لیڈرشپ مروانے کی معاونت کرنے والے بھارت کی گودی میں بیٹھ گئے اس سے پہلے یہی بدبخت پاکستان میں بھارت کی آشیرباد سے آگ لگاتے رہے لیکن پاکستان میں موجود ایک منافق طبقہ بضد ہے کہ اس کو اگنور کر کے اس سعودیہ کے خلاف کھڑا ہوا جائے جو ہمیشہ ہمارے ساتھ رہا
مرگ بر غداران
یہ جو دہشتگرد ہیں انہیں مقامی لوگوں کی طرف سے سہولت کاری ملتی ہے ایک ID بنتی ہے لوجسٹک فراہم ہوتی ہے رہائش فراہم کی جاتی ہے روٹیاں بنا کر کھلائی جاتی ہے
پنجاب پر بھونکنے والے ہر KUTTAY BILLAY کے منہ پر چپیڑ ہے
کیس از ڈسمس مائی لارڈ