صحافی روخانہ رحیم وزیر کیلئے آواز اٹھائیں
شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والی خاتون صحافی روخانہ رحیم وزیر کو 19 دسمبر 2025 کو اسلام آباد پولیس نے افغان مہاجرین کے نام پر حراست میں لے لیا۔
روخانہ وزیر ابھی بھی تاحال ڈیپورٹیشن سنٹر حاجی کیمپ مرکز اسلام آباد میں خاندان کے دیگر خواتین کے ساتھ موجود ہے۔ انھیں کسی بھی وقت افغانستان منتقل کیا جا سکتا ہے۔
اعلی حکام سے درخواست ہے کہ روخانہ رحیم وزیر اور ان کے خاندان کے دیگر خواتین کو فوری رہا کیا جائے ۔ صحافی خان زیب محسود
حامد میر صاحب کے ساتھ گفتگو میں ہماری فوج کے ڈی جی آئی ایس پی آر کی بات کا خلاصہ یہ تھاافغان طالبان اقتدار میں آ کر ویسے نہ نکلے جیسے ہم نے بنائے تھے۔یہ تو بہت برے نکلے۔
حضور والا!
ہمیں یہ بات تو 25 سال قبل سمجھ آگئی تھی۔۔ اس پر ہم جیسوں نے بہت کچھ لکھا اور کہا کہ یہ مذہبی جہادی فکر جو پروان چڑھائی جا رہی ہے یہ تباہ کن ہے۔ یہ کینسر ہے۔
لیکن اس وقت آپ لوگ ہمیں بزدل کہتے تھے۔ اس وقت آپ کے سر پر سٹریٹجک ڈیپتھ کا بھوت سوار تھا۔
آپ نے جن پر چالیس سال انوسٹ کیا جب وہ آپ کی سٹریٹجک ڈیپتھ میں حکمران بنے تو ہی نکلے جو آپ کو ہم عرصہ دراز سے بتا رہے تھے۔
جب ہم کہتے تھے کہ یہ گڈ طالبان اور بیڈ طالبان کوئی نہیں سب ایک جیسے ہیں اس وقت آپ ہم کو بے خبر کہتے تھے۔
کم از کم اب اپنی اور اپنی چالیس سالہ پالیسی کی غلطی کو تسلیم کریں۔۔
لیکن مسئلہ یہ ہے کہ آپ اس وقت جو کررہے تھے وہ بھی درست نہ تھا ۔۔ اور اب جو کررہے ہیں وہ بھی کاونٹر پروڈکٹو ہے۔
اصل بات یہ ہے کہ یہ اپ کی کپیسیٹی ہی نہیں کہ آپ بطور ادارہ دیرپا پالیسی بنا سکیں اور اس سے بڑا المیہ یہ ہے کہ آپ نے کوئی ایسا ادارہ بننے بھی نہیں دیا جس میں یہ کپیسیٹی ہو۔
جناب صدر ! یہ بچی آصفہ بھی ہو سکتی تھی۔ اس کا مسئلہ آصفہ سمجھ کر حل کیجیے اور زمینوں پر قبضے ختم کرانے کو یقینی بنائیے ۔ آپ یہ سب کرسکتے ہیں
@AAliZardari
پاکستانی ماؤں کو کہتے ہو پھر کیا ہوا اگر مر گیا اور بچے پیدا کرلو۔۔
ایک پاکستانی کی زندگی ایک ہزار افغانی؟ جناب کسے چونا لگا رہے ؟
کیسے پکے منہ سے جھوٹ بولتے ہو۔۔
پاکستانی کن کو گنتے ہو؟ جرنل ؟ کرنل ؟ برگیڈیر ؟نواز شریف ؟مریم نواز ؟ زرداری ؟
آج بتا ہی دو؟
طالبان نشے کے عادی افراد کو خود کش حملوں کے لیے استعمال کرتے ہیں؟
تم پلاٹ ، پنشن ، تنخواہ ، ترقی اور نوکری کو
ننگی ویڈیوز بنانے
تشدد کرنے
مینڈیٹ چھیننے
لاپتہ کرنے
اغواء کرنے
قتل کرنے
آئین شکنی کرنے
جھوٹے مقدمات بنانے
کے لیے استعمال کرتے ہو۔
پاکستان میں جو آدمی بھی افغان معاملہ پر بات کرتا ہے اسے غدار ڈکلئیر کیا جارہا
ناحق قتل چاہے پاکستان ایران یا افغانستان میں ہو وہ قابل مزاحمت ہیں
امریکہ میں لوگ اپنی حکومت پر تنقید کررہے ہیں آپ اسرائیل کی جنگ میں کیوں گئے انکو تو غدار نہیں کہا جارہا ؟
عمران ریاض خان
یورپی یونین کے وفد افغانستان پہنچنا، اور خاص طور پر یہ کہنا کہ
1.“ہم نے 26 ملین سے ذیادہ لوگوں ڈرک کی ٹریٹمنٹ دی اور ٹرینگ دی ہے ہم Rehabilitation Senator کو پہچان سکتے ہیں کہ وہ کیسا ہوتا ہے“
2.”سویلنز، ہوسپٹل، ری ہیبلیٹیشن سینیٹر، مریضوں کو چاہے وہ کیسے “نشے” بھی مریض کیوں نہ ہوں انفااسٹرکچر جنگ کہ دوران کسی صورت میں بھی نشانہ نہیں بنانا چاہئیے۔ نہ جان بوجھ کر، نہ حادثاتی طور پر۔”
اب آپ ڈی جی آئی ایس پی آر کا حامد میر کے ساتھ ہنگامی انٹرویو دیکھیں تو آپکو اندازہ ہو گا عاصم منیر کی فوج نے کتنا بڑا بلنڈر مارا ہے جو پاکستان کے گلے پڑنے جا رہا ہے یہ سب بری طرح پھنس گئے ہیں ۔
پاکستان خود کو اسرائیل سمجھ بیٹھا تھا مگر بھول گیا تھا وہ ایک اسلامی ایٹمی ملک ہے جسکی جارحیت کسی کو سوٹ نہیں کرتی۔
آج جو افغانستان کے حوالے سے 12سال پہلے والا اے پی ایس سانحہ سامنے لا کر جنگ لگائی جا رہی ہے
اگر افغانستان نے مشرف کی دہشت گردی کی جنگ میں پاکستان کی شمولیت سے ان کے جو 5لاکھ سے زاہد لوگ مارے گیے حساب کتاب کر لیا تو بہت مشکل ہوجائے گی۔ 33ارب ڈالر لے کر مشرف نے کیا تھا۔
1️⃣ کابل میں ڈرون فیکٹری پر حملہ کیا
(آئی ایس پی آر پہلا بیان)
2️⃣ افغانستان میں کوئی ڈرون انڈسٹری نہیں ہے، افغانستان کو بھارت ڈرون فراہم کر رہا ہے،
(آئی ایس پی آر دوسرا بیان)
"پاکستانی جرنیل جب منہ کھولتے ہیں جھوٹ بولتے ہیں"
ایک نے فلسطینیوں کو قتل کیا تھا دوسرا فلسطینیوں کو قتل کرنے کے لیے معاہدہ کر چکا ہے اور فلسطینیوں سے پہلے وہ افغانستان کو قتل کر رہا ہے اور افغانستان سے بھی پہلے اس نے پاکستان کے اندر قتل و غارت کی
اللہ جانتا ہے کہ ان کو اللہ نے اتنا ننگا کر دیا ہے ۔اتنا ننگا کر دیا ہے کہ یہ چاہ کے بھی کپڑے نہیں پہن سکتے ۔
آپریشن غضبِ ناحق میں وقفہ عید کی وجہ سے نہیں ہے۔ اسلامی تہوار کا اتنا خیال ہوتا تو اسلام کے بابرکت مہینے رمضان میں یہ قتل عام لانچ نہ کرتے۔ دراصل نشے کے مریضوں کے ہسپتال پہ فضائی حملہ کر کے جنگی جرائم کے مرتکب ہوئے اور دنیا بھر میں ذلیل ہو چکے ہیں۔ مسلم دنیا کے لوگ افغانستان کے ساتھ ہمدردی کرتے ہوئے ان پہ لعنت بھیج رہے ہیں۔ دراصل ضربِ ناحق بری طرح ناکام ہوا ہے۔
Reply to Defense Minister of Pakistan.
Israel justified its hospital bombing by claiming Hamas was hiding under it and using Palestinians as human shields — your statement mirrors that exactly.
Pakistan clearly bombed a hospital with unarmed patients, killing over 400.
You cannot cover this up like the Israeli government does. Imran Khan is the only Pakistani politician who truly represents the people, while you rule with a fake and stolen mandate.
Breaking News: At least 400 people were killed in Afghanistan after Pakistan struck a drug rehabilitation center in Kabul, Afghan officials said. https://t.co/sCUKuwg3hg
ڈی جی ائی ایس پی ار صاحب ،کوئی شرم کوئی حیا کوئی تکلیف ایسی ماؤں کو روتا بلکتا دیکھ کے ۔ویسے اپ کو تو کبھی ضل شاہ کی ماں پہ ترس نہیں ایا ،اپ کو تو کبھی ارشدشریف کی ماں پہ ترس نہیں ایا ،تو اس بیچاری پہ کیا ائے گا جو سرحد پار بیٹھی تھی 🥹
Pakistanis who are hell bent on attacking Afghans should remember how the Pakistani Government colluded with the U.S when it invaded Afghanistan, which killed nearly half a million people.
افغانستان ہمارا پڑوسی اسلامی ملک ہے، پاکستان کی جانب سے افغانستان پر حملے تشویشناک اورسمجھ سے بالاتر ہیں۔
یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ کچھ عرصہ قبل پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی تھی جس میں صدرٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ انہیں افغانستان کا بگرام ایئربیس چاہیے۔اس کے بعد سے افغانستان سے لڑائی کاسلسلہ شروع ہوگیا ہے اور پاکستان کی جانب سے افغانستان میں حملے کئے جارہے ہیں۔
افغانستان سےپاکستان کی کبھی جنگ نہیں تھی،جب 1979ءمیں افغانستان میں سوویت یونین کی آمد کے خلاف افغانیوں نے لڑائی شروع کی تو وہ پاکستان کی لڑائی نہیں تھی لیکن بیرونی طاقتوں کے مفادات کے لئے اس لڑائی کوجہاد کانام دیاگیا اور اس کا مرکز افغانستان سے اٹھاکرپاکستان لے آیاگیا، روس کے خلاف افغان مجاہدین کوتیار کیاگیا،انہیں اسلحہ اورٹریننگ دی گئی، اس کے لئے پاکستان کے قبائلی علاقوں کوچنا گیا، پاکستان کے تمام شہروں میں جہادی مدرسے قائم کئےگئے، علمااورمفتیوں کی جانب سے افغان جہاد میں شرکت کے فتوے جاری کئے گئے،ملک بھرمیں مذہبی جماعتوں کی جانب سے کیمپ لگائے گئے اورلوگوں کوافغانستان میں جہاد میں شرکت کے لئے کھلی دعوت دی گئی، ان کے نام لکھے گئے اورافغان جہاد کے نام پر انہیں ٹریننگ دیکرسوویت یونین کے خلاف لڑنے کے لئے افغانستان بھیجا گیا، اس مقصد کے لئے بوریوں میں بھر بھر کے ڈالر ملے۔حالانکہ وہ پاکستان کی جنگ نہیں تھی لیکن بیرونی طاقتوں کے مفادات کے لئے پاکستان کو اس جنگ میں جھونک دیا گیا اورپاکستان کواس جنگ کا اڈہ بنادیا گیا۔آج پھرپاکستان کوبیرونی طاقتوں کے مفادات کی لڑائی کا اڈہ بنایا جارہا ہے اور افغانستان پر حملے کئے جارہے ہیں اورپاکستان کامیڈیا اس حوالے سے بڑی بڑی بریکنگ نیوز دے رہاہے۔
میں پاکستان کے حکمرانوں سے کہتا ہوں کہ امریکہ اورمغربی طاقتوں نےبھی کئی برسوں تک افغانیوں سے لڑائی کی اورپھربالآخر انہیں وہاں سے نکلناپڑا۔ اب پاکستان کی جانب سے افغانستان سے لڑائی کی جارہی ہے۔ میں پاکستان کےحکمرانوں سے کہتا ہوں کہ افغانستان ہماراپڑوسی اسلامی ملک ہے، اس سے جنگ نہ کریں، اس پر حملے نہ کریں، بیرونی طاقتوں کے مفادات کے لئے جنگیں نہ کریں۔آخر ہم کب تک غیروں کے مفادات کی لڑائی لڑتے رہیں گے اوراپنانقصان کرتے رہیں گے؟ خداکے لئے یورپ سے سبق حاصل کریں جنہوں نے برسوں تک جنگیں کیں، جن میں لاکھوں لوگ مارے گئے، بالآخر انہوں نے جنگیں ختم کیں، امن کے راستے پرچلے اور ایک دوسرے سے جنگ وجدل کے بجائے آپس میں بہترتعلقات قائم کئے۔ آپ بھی افغانستان سے جنگ وجدل کے بجائے بات چیت کرکے معاملات کوطے کریں اور بہتر تعلقات قائم کریں۔
ایک طرف تو افغان باشندوں کوپاکستان کے قبائلی علاقوں سے نکالاجارہاہے اور انہیں ٹرکوں میں بھربھر کے افغانستان واپس بھیجا جارہا ہے، انہیں وہاں رہنے تک کی اجازت نہیں ہے لیکن دوسری طرف وہ افغان باشندے جو کراچی میں بڑے بڑے کاروبار کررہے ہیں، جن کے عالیشان کاروبارہیں انہیں نہ صرف کراچی میں رہنے سہنے کی آزادی ہے بلکہ ہرطرح کاکاروبارکرنے کی کھلی اجازت ہے، میں حکومت اورفوج کے حکام کودعوت دیتاہوں کہ وہ خود کراچی کادورہ کرکے دیکھ لیں کہ وہاں بڑے بڑے کاروبار کون کررہاہے۔ یا توافغان باشندوں کوافغان جنگ ختم ہونے کے بعد ہی ان کے ملک واپس بھیج دیاجاتا لیکن اب جبکہ انہیں یہاں رہتے ہوئے 40سال ہوگئے ہیں توانہیں واپس بھیجاجارہا ہے۔
میں یہی سمجھتاہوں کہ افغانستان ہمارا پڑوسی ملک ہے اس سے جنگ کسی بھی طرح درست نہیں لہٰذا میں پاکستان اور پاکستان سے باہررہنے وا لوں سے کہتاہوں کہ وہ افغانستان پر حملوں کے خلاف آواز اٹھائیں۔اس وقت پاکستان کوامن و استحکام اوریکجہتی کی ضرورت ہے۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 389 ویں فکری نشست سے خطاب
16 مارچ 2026ء