کوئٹہ آتے ہوئے دشت میں راستہ بھٹکنے والے سیاح خاندان پر حملہ انتہائی افسوسناک، شرمناک اور قابلِ مذمت ہے، بے گناہ مسافروں کو نشانہ بنانا بلوچ روایات، مہمان نوازی اور اصولوں کے سراسر خلاف ہے، بلوچ روایت میں مہمان ہمیشہ عزت، احترام اور تحفظ کا حق دار ہوتا ہے
یہ منصف بھی تو قیدی ہیں
ہمیں انصاف کیا دیں گے۔
لکھا ہےان کے چہروں پر
جو ہم کو فیصلہ دیں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈرتے ہیں بندوقوں والے ایک نہتی لڑکی سے۔
عظیم رہنماؤں کے خون کا حساب کب دیا جائے گا
منصب. طاقت اور وقت گزر جانے سے حقائق دفن نہیں ہوتے۔ تاریخ گواہ ہے کہ قومیں اپنے شہداء اور رہنماؤں کے خون کا حساب مانگنا کبھی نہیں چھوڑتیں۔
مجھے حساب دو وڈیرہ غلام سرور کے قاتل کہاں ہے؟
مجھے حساب دو سردار زادہ میر کامران کے قاتل کہاں ؟
15 جون یومِ وفات باباۓ جھالاوان سائیں بابا جان 😥💔
محسن جہلاوان وڈیرا عبدالخالق موسیانی زہری
جب کبھی بھی تاریخ میں بہادروں کا ذکر ہوگا
تو مجھے یقین ہے کہ وہاں
میرے شیر
میرے بہادر
میرے مرحوم دادا کو ضرور یاد رکھا جائے گا
اللہ پاک آپ پر کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے آمین💔
Baloch Voice for Justice demands the immediate and unconditional release of Mir Zehri Khan Mosiyani and other forcibly disappeared individuals.
Mir Zehri Khan Mosiyani, Shakar Khan, Sanaullah Mosiyani, Umeed Ali Khan, Dost Muhammad, and Irshad Ahmed, along with others who were forcibly disappeared during the military aggression in Zehri Bulbul, must be safely recovered without delay.
Human rights organizations must play an effective and urgent role in securing the recovery of all forcibly disappeared persons, as their lives remain under serious threat in military custody.
There are grave concerns that, just as Mir Khalil Mosiyani was martyred after being subjected to torture in custody while injured, other forcibly disappeared individuals may also face torture and severe harm.
This is a serious human rights crisis that demands immediate attention and action.
Baloch Voice for Justice appeals to the United Nations, Human Rights Watch, Amnesty International, and other human rights organizations to raise their voices for an end to the military siege of Zehri. Due to curfew and the ongoing military blockade, the people of Zehri are being deprived of basic necessities of life, raising fears of an emerging humanitarian crisis.
#ReleaseMirZehriKhan
#EndEnforcedDisappearances
@amnestysasia@OHCHRAsia@hrw@HRCP87@KenRoth@SammiBaluch@HamidMirPAK@UNPOintl@UNHumanRights@FrontLineHRD@MaryLawlorhrds@UNinPak@WGEID@voicepkdotnet@MunizaeJahangir
زہری بلبل میں سردار نصیر احمد میوسانی اور ان کے صاحبزادگان زہری خان و میر خلیل کی گرفتاری، میر خلیل کو زخمی کرنے اور چادر و چاردیواری کے تقدس کی پامالی کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ عوام میں خوف و ہراس پھیلانا اور سیاسی و قبائلی قیادت کو طاقت کے زور پر دبانے کی کوشش ناقابلِ قبول ہے .
شاخیں رہی تو پھول بھی پتے بھی آئیں گے
یکم مارچ 2025 کو گولیاں ان کے جسم کو چھید سکیں، مگر ان کے نظریے کو نہیں۔ دشمن سمجھا کہ ایک آواز خاموش ہوگئی — مگر وہ آواز آج سینکڑوں دلوں کی دھڑکن بن ��کی ہے۔
شہادت انجام نہیں، اعلان ہوتی ہے
بلوچستان میں حملہ کیا جاتاہے تو کہا جاتاہے یہ کاروائی فتنہ ہندوستان کی ہے۔جب خیبر پشتونخوا میں حملہ کیا جاتاہے تو کہا جاتاہے یہ کاروائی فتنہ خوارج کی ہے۔لیکن رد��مل میں افغانستان پر جیٹ طیاروں سے بمباری کی جاتی ہے۔مگر ہندوستان پر جیٹ طیاروں سے بمباری نہیں کی جاتی یہ کیوں؟
سنا ہے سال بدلے گا,
نتیجہ پھر وہی ہوگا,
پرندے پھر وہی ہوں گے، شکاری جال بدلے گا,
بدلنا ہے تو دن بدلو، بدلتے ہیں کیوں ہندسے کو,
مہینے پھر وہی ہوں گے، سنا ہے سال بدلے گا,
وہی حاکم، وہی غربت,
وہی قاتل، وہی ظالم,
بتاؤ کتنے سالوں میں ہمارا حال بدلے گا؟
میر یوسف علی خان قلندرانی، جو دو ماہ سے لاپتہ تھے، بازیاب ہونے کے بعد ضلعی انتظامیہ خضدار کے حوالے کر دیے گئے ہیں۔ انہیں 3 ایم پی او کے تحت سنٹرل جیل خضدار منتقل کر دیا گیا ہے
یہ داغ داغ اجالا یہ شب گزیدہ سحر .
وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں.
یہ وہ سحر تو نہیں جس کی آرزو لے کر چلے تھے یار کہ مِل جائے گئ کہیں نہ کہیں فلک کے دشت میں تاروں کی آخری منزل،
کہیں تو ہوگا شب سُست مَوج کا ساحِل .
کہیں تو جاکے روکےگا سفینہء غمِ دل.
زہری جل رہا ہے، زہری مر رہا ہے!
زہری میں بے گناہ لوگ ڈرون حملوں میں شھید ہورہے ہیں۔
زہری کی بقاء خطرے میں ہے، معصوم بچوں کو نشانہ بنانا کہا�� کا قانون ہے ، زہری کے لئے آواز بلند کرے.
جس امن کے لئے ہم ہمیشہ آواز اُٹھاتے تھے اُسی بد امنی کا ہم خود شکار ہوگئے ،اور آج تاریخ پھر سب کو دکھا رہا ہے زہری کے حالات.
!شہید بابا جان کے تاریخی الفاظ
اور آج زہری افغانستان کے ماضی کے مانظر پیش کر رہا ہے
ہم حکومت بلوچستان سے کہتے ہیں ،بارڈر بندش سے ھر نوجوان رو رہا ہے کیا آپ نے اچھے فیصلے کرلئے ہیں ،ان بھوکے کا آنسو پونچھ لیں،
@sakhtarmengal@Senator_Baloch @