کیا مولانا فضل الرحمن کا بیٹا میجر عدنان شہید جتنی تنخواہ کی خاطر مادر وطن حفاظت کرتے ہوئے اپنے سینہ پر گولی کھائے گا ؟ جواب کا انتظار رہے گا
یہاں مورخ لکھے گا کہ اسد محمود میجر عدنان کی مونچھ کے وال برابر نہیں ہے
کیا مولانا اسعد محمود کی والدہ اپنے بیٹے کیلئے یہ الفاظ استعمال کرسکتی ہیں جس کی جیب میں نیلا پاسپورٹ ہے اور بینک میں کتنا بیلنس ہے پتہ نہیں اور بلٹ پروف امپورٹڈ گاڑیوں میں سفر کرنے اور محلوں میں رہنے والا اسعد محمود اور اسکا باپ شہادت کا رتبہ کیا جانیں
یہ جنوری کی ویڈیو ہے جب یہ شہزادے افغان بارڈر پر ڈیوٹی دے رہے تھے جب یہ ڈیوٹی دے رہے تھے تب مولانا گرم کمبلوں میں سکون سے بیٹھے تھے
ایسے شہزادوں کی تنہواہیں گننے والوں کی ذہنیت پر لعنت بھیجنا ہی بنتی ہے
پنجاب میں اس وقت لوگوں کا معاشی قتل ہو رہا ہے اور افسر شاہی نے مریم صاحبہ کی سیاسی تباہی کا مکمل بندوبست کر دیا ہے اس قدر مہنگائی اور بجلی کے بل گیس کے بل ہیں ایسے میں پیرا فورس جیسے بدمعاش غریب پر چھوڑ دیے ہیں
خدا کے لئے لوگوں کے کاروبار تباہ مت کرو
حکومت نے پٹرول مہنگا کیا تو ن لیگ کا ہر رکن اپنی حکومت پر کھل کر تنقید کر رہا ہے وگرنہ کچھ ایسے 🐕 کے بچے بھی تھے جو کہتے تھے پٹرول ایک ہزار روپے لیٹر ہو جائے ووٹ پھر بھی خان کا!!
پنجاب حکومت کے خیال میں تعلیم اور صحت کے شعبے اس لیے آوٹ سورس کر دیے ہیں
تاکہ یہ درست ہو جائیں
۔
@تو پھر اسمبلیاں برطانیہ کو
@عدالتی نظام جاپان کو
@بجلی کا محکمہ چائنہ کو آوٹ سورس کر دیں
۔
تاکہ ان کا نظام بھی ٹھیک ہو جائے اور عوام سکھ کا سانس لی
چینی کا بحران
آٹے کا بحران
بجلی کا بحران
گیس کا بحران
پانی کا بحران
پیٹرول کا بحران
تعلیم کا بحران
صحت کا بحران
شعور کا بحران
قانون وانصاف کا بحران
غربت کی افراط
لوٹ مار کی افراط
کرپشن کی افراط
کالا بازای کی افراط
دھوکا دھاندلی کی افراط
اقربا پروری کی افراط
اشرافیہ نوازی کی افراط
پہچانا؟؟
پاکستان اب ترقی کے نئے دور میں داخل ہو چکا ہے۔۔۔۔ احسن اقبال
وہ دور جس میں۔۔
پاکستانیوں کے پاس بجلی کا بل دینے کے پیسے نہیں۔۔۔
وہ دور جس میں ڈیزل، پیٹرول اور گیس پہ لوٹ مچی ہوئی ہے۔۔۔۔
وہ دور جس میں تعلیم اور صحت سر سے اتار کے پھینک دی گئی ہے۔۔۔
وہ دور جس میں روزگار نہیں مل رہا
حکومت جتنی مرضی ہے روڈ بنا لے، بازار کی رینویشن کرا لے یا کوئی بھی پروجیکٹ لگا لے اگر مہنگائی کے طوفان پہ قابو نہیں پا سکتی تو یہ سب عام عوام کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتا۔
مہنگائی کا جن قابو نہ آیا تو پھر حکومت قل پڑھنے کی تیاری کر لے۔
🤐
اپنی حکمران جماعت کا دفاع کرنا چاہے اور کھل کر کرنا چاہیے مگر اگر تو آپ کی جماعت کے وزیراعظم عوامی مفاد کا کوئی حکم جاری کرتا ہے فرض کریں پیٹرول سستا کرتا ہے اور افسر شاہی یا اسٹیبلمنٹ رکاوٹ ڈال رہی تو آپ جماعت کے لئے ڈٹ جائیں
مگر اگر آپ کا وزیراعظم سستا پیٹرول مہنگا بیچ کر افسر شاہی اور الیٹ کی مراعات بڑھا رہا تو چھتر اٹھا لیجئے اور گننے کی زحمت مت کیجئے