آپ کو بات کرنی ہو تو مسیج کر لیا کرنا لیکن میری طرف سے تب ہی مسیج آئے گا جب آپ کے پاس اپنا پرسنل موبائل ہو گا۔ میں صرف سٹوریز ہی لگایا کروں گا انسٹاگرام پر ٹھیک ہے
میری طرف سے صرف آپ کو
بڑی عید مبارک
اللہ آپ کو آگے سے کوئی دکھ نا دکھائے امین ثم آمین
Be Happy Be Positive 🥹
@ikkhan1357@Lubna_Syed11 اسلام یہ کہتا ہے کہ عدالت لاؤ پہلے جو سزا عدالت دے اس پر عمل کرو پھر وہ پھانسی ہی ہو
لیکن یہ نہیں کہ عدالت لانے سے پہلے ہی پولیس کو مار دے
پشاور سے 5 ماہ سے لاپتہ بچے کا کیس، پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عتیق شاہ کا پولیس کو مزید مہلت دینے سے انکار
آئی جی کی غیر حاضری پر سی سی پی او عدالت میں پیش
پانچ ماہ گزر جانے کے باوجود بچہ غائب کیوں ہے؟ چیف جسٹس عتیق شاہ کا استفسار
بچے کی بازیابی کے لیے کچھ وقت دیں، سی سی پی او
مزید مہلت نہیں دی جا سکتی، آئندہ پیر تک ہر صورت بچہ بازیاب کرکے عدالت میں پیش کیا جائے، چیف جسٹس عتیق شاہ
نوٹ: چیف جسٹس صاحب! دو ہفتوں سے صوبے کا وزیراعلی بھی لاپتہ ہے، اس پر کوئی ایکشن لینے کا ارادہ ہے یا مزید 5 ماہ انتظار کی ضرورت ہے؟
پاکستان میں صحافت کا حق اصل میں تو یہ شخص ادا کر رہا ہے جو اس مائ کا انٹرویو کر رہا ہے ۔۔
صحافی نے سوال پوچھا تو محترمہ اس پر اگ بگولا ہو گئی ہیں اور اتنی چیخیں ماریں اس کا سٹوڈیو بھی ہلنے لگا ۔۔
جب صحافی کے کان کے پردے پھٹنے لگے تو اس نے کہا محترمہ اپ جا سکتی ہیں مزید میری برداشت ختم ہے ۔۔
محترمہ کہنے لگی نہی میں تو نہی جاونگی میرا انٹرویو پورا لیں 😜
لوگ ہم سے دانش اسکول کا مطالبہ کرتے ہیں ! ثمر عرفان اللہ مروت ۔۔
ان لوگوں کو اٹک کے اس کالج کا بتانا تھا جہاں ایک بھی ٹیچر ریگولر نہیں ہے آپ نے دانش اسکول کے لیے ایمرجنسی نہیں لگائی آپ نے امن دینے کے لیے ایمرجنسی لگائی ہے ! طلعت ۔۔
آنیوالی نسلوں کو اگر سمجھانا پڑا کہ اکیسویں صدی کے اوائل میں ہمارے قومی مجموعی شعوری انحطاط اور اخلاقی پستی کی کیا وجہ تھی تو یہ چند کردار مثال کے طور پر پیش کیے جائینگے :
ٹک ٹاکر طوائفیں، چاہت فتح علیخان، عمران خان، اور یوتھی بھونکا سوشل میڈیا ۔۔
عمران خان کے 50 لاکھ گھروں کا خواب، اسلام آباد میں 4ہزار سے زائد فلیٹس تیار، 90 فیصد سے زائد کام مکمل، مگر غریب آج بھی اپنے گھروں کے منتظر! آخر ان کا قصور کیا ہے؟ کیا عوامی منصوبے بھی سیاست کی نذر ہوں گے؟، موقع پر جا کر تیار کی گئی خصوصی تحقیقاتی رپورٹ کا لنک 👇
https://t.co/JmQNMLsbng
Ghalat bat kr rahay Hain aap Bhai Jan
January 2023 main Punjab or kpk ki asambaly desolve hoi thi
14 may mo Punjab or kpn main election krwane ka order Suprema court ne dia tha us se pehle Pakistan ki socold state ne 9 may krwa dia
چوہدری صاحب خود بھی تحقیق کرلیا کرے،یاد تو ہوگا جنوری 2022 سے فروری 2024 تک خیبر پختونخوا میں طویل نگران حکومت قائم تھی، نگران وزیر اعلی اعظم خان بوجھ تلے فوت ہوئے اور بعد میں ریٹائرڈ جج ارشاد حسن وزیر اعلی بنے!!
سرکاری آڈٹ رپورٹ نے خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کے دورِ حکومت کے دوران محکمہ معدنیات میں بڑے پیمانے پر منظم کرپشن اور مالی بے ضابطگیوں کا پردہ فاش کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق سال 2022 اور 2023 کے دوران صوبائی خزانے کو تقریباً 17 ارب روپے کا بھاری مالی نقصان پہنچایا گیا۔
نقصانات اور بے ضابطگیوں کی اہم تفصیلات درج ذیل ہیں:
* غیر قانونی مائننگ: صوبے بھر میں متعلقہ عملے اور چیک پوسٹوں کی موجودگی کے باوجود غیر قانونی کان کنی جاری رہی، جس سے مجموعی طور پر 11 ارب روپے سے زائد کا نقصان ہوا۔
* واجبات کی عدم وصولی: نادہندہ ٹھیکیداروں سے 4 ارب 31 کروڑ روپے جان بوجھ کر وصول نہیں کیے گئے، جبکہ مختلف کانوں (کوئلہ، لائم اسٹون، باکسائیٹ وغیرہ) کے 81 کروڑ روپے سے زائد کے بقایاجات معاف کر دیے گئے۔
* تعمیراتی منصوبوں میں خرد برد: سڑکوں اور چھوٹے ڈیموں کی تعمیر کی آڑ میں ریت اور بجری نکال کر 3 ارب 7 کروڑ روپے کا نقصان پہنچایا گیا۔
* محصولات اور رائلٹی: ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں 54 کروڑ 72 لاکھ روپے وصول نہیں ہوئے، جبکہ مردان میں رائلٹی کے 6 کروڑ 36 لاکھ روپے دبا لیے گئے۔
* سرکاری زمین کوڑیوں کے مول: پشاور میں محکمہ معدنیات کی زمین مارکیٹ ریٹ (10 ہزار روپے فی ایکڑ) کے برعکس محض 200 روپے فی ایکڑ کے معمولی کرائے پر دے کر 14 کروڑ روپے کا نقصان کیا گیا۔
* ڈیمز کے واجبات: کوہاٹ، نوشہرہ، صوابی اور ہری پور سمیت مختلف اضلاع میں سمال ڈیمز کے واجبات نہ ملنے سے 53 کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔
مختصر یہ کہ آڈٹ رپورٹ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ یہ محض انتظامی کوتاہی نہیں بلکہ سرکاری سرپرستی میں کی جانے والی باقاعدہ اور منظم لوٹ مار تھی۔
ناظرین یہ دگڑ دلا جب آرمی چیف بنا ڈالر 100 پیٹرول 60روپے لیٹر تھا ہر بندہ خوشحالی محسوس کررہا تھا پھر اس بےغیرت نے 2018 میں بکسے چوری کرکے سب زانی شرابی اسمبلیوں میں لاکر ایسی تباہی پھیری کہ آج اسکی اولاد خوشحال ہے لیکن پاکستان خطے کا سب سے غریب مُلک ہے
تاریخ کی تصحیح:
عمران خان کو جمہوریت کا چیمپئن بنا کر پیش کرنے والوں کو اپنی تاریخ درست کرنی چاہیے۔ تاریخ 2021-22ء سے شروع نہیں ہوتی بلکہ یہ تاریخ 2008ء کے بعد سے شروع ہوتی ہے اور اس پروجیکٹ کی باقاعدہ شروعات (لانچنگ) 2011ء کے جلسے سے ہوئی تھی۔
یہ دراصل ایک عسکری منصوبہ بندی (ملٹری پروجیکٹ) تھا جس پر جنرل (ر) شجا پاشا اور جنرل ظہیر الاسلام جیسے اعلیٰ عہدے داروں نے کام شروع کیا، (دونوں کردار حیات ہیں کبھی ملاقات ہو تو یہ سوال ضرور کیجئے گا)۔ اس سے قبل جنرل پرویز مشرف سے بھی توقع کی گئی تھی۔ انہوں نے انہیں اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی، مگر بات نہ بن سکی۔ مشرف کے بعد اس خاکے پر باقاعدہ پیش رفت کی گئی۔
عمران خان کو جمہوری رہنما یا سول بالادستی (سول سپریمیسی) کا علمبردار بنا کر پیش کرنے والوں کے لیے یہ حقیقت تلخ گھونٹ کی طرح کڑوی ہو سکتی ہے، لیکن سچائی یہی ہے کہ وہ عسکری سوچ کی پیداوار ہیں۔
2018ء کے عام انتخابات کے بارے میں یہ تاثر دینا کہ وہ نہایت شفاف تھے، تاریخی غلط فہمی ہے۔ وہ محض ایک طے شدہ اور حساب شدہ (کیلکولیٹڈ) انتخابات تھے۔ جسٹس (ر) کھوسہ، اور پھر جسٹس (ر) ثاقب نثار سمیت دیگر ججز بھی مکمل آن بورڈ ہوا کرتے تھے۔ عمران خان صاحب اس بات سے خوب واقف تھے کہ 2018ء کا عوامی مینڈیٹ بنیادی طور پر ان کا نہیں تھا؛ اسی بنا پر انہوں نے اپنے دورِ اقتدار میں تمام تر اختیارات اور باگ ڈور جنرل باجوہ اور جنرل فیض کے سپرد کر دی۔
جو لوگ یہ واویلا کرتے ہیں کہ موجودہ حکومت نے پورا ملک عسکری اداروں کے حوالے کر دیا ہے، وہ تاریخ کا سراسر غلط منظرنامہ پیش کرتے ہیں۔ حقیقت یہی ہے کہ ملک کے اختیار و اقتدار کو عسکری قیادت کی تحویل میں خود عمران خان نے دیا تھا۔
بعد ازاں 2021-22ء میں جب ان کی حکومت ختم ہوئی تو انہوں نے خود مختلف انٹرویوز میں اس بات کا اعتراف کیا کہ "حکومت میری تھی لیکن اختیار کسی اور کے پاس تھا"۔
ہاں اب اگلی بات ہوسکتی ہے!
تاریخ کو غلط پڑھنے، سننے اور بیان کرنے والوں کے لیے یہ درستگی کا پیغام ہے کہ وہ اپنی تاریخ کا ازسرِ نو مطالعہ کریں اور حقائق کو تسلیم کریں۔
جو لوگ دہشت گردوں کے ساتھ ہمدردی رکھتے ہیں یا ان کی حمایت میں تاویلیں گھڑتے ہیں وہ بھی اس ملک کے مجرم ہیں ہمارے شہدا کا خون بہانے والوں کی صفائی تو ضروری ہے ہی، لیکن ان کا دفاع اور حمایت کرنے والوں پر بھی مکمل قابو پانا اور انکو قانون کے شکنجے میں لانا بھی ضروری ہے دہشت گردی کا دفاع کرنے والوں کے لیے اب کوئی جگہ نہیں
#CrushTTPTIapologists
23 سال پہلے وزیراعظم شہباز شریف کا دیا لیپ ٹاپ آج بھی میرے پاس ہے 23 سالوں میں پہلی بار اسکی بیٹری تبدیل کروائی ہے حکومت کا شکریہ ہمیں اتنا اچھا گفٹ دیا جبکہ 22 سالہ یدویہد والے نے قوم کو 9 مئی کا تحفہ دیا تھا
اگر عمران خان مجھے کہتا کہ چھت سے چھلانگ لگاؤ تو میں نے دوسری مرتبہ پوچھنا نہیں تھا کہ کیوں لگاؤں ہماری کامیابی کا راز یہی ہے کہ ہم نے ایک ایسے لیڈر کو فالو کیا جو بہادر تھا ایماندار تھا !
وقار یونس کا اہم بیان
🔸 پی ٹی آئی کا تعلیمی سونامی بچوں کو محفوظ کلاس روم تک نہ دے سکا!
🔸 خیبر پختونخوا میں 13 سالہ حکمرانی، اربوں روپے کے تعلیمی بجٹ اور تعلیمی ایمرجنسی کے بلند و بانگ دعوؤں کے باوجود اگر بچے غیر محفوظ اسکولوں میں تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں تو یہ حکومتی کارکردگی پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔
🔸 اسکول بچوں کے روشن مستقبل کی بنیاد ہوتے ہیں، لیکن جب تعلیمی اداروں کی عمارتیں ہی محفوظ نہ ہوں تو والدین اپنے بچوں کو تعلیم کے لیے بھیجتے ہوئے کیسے مطمئن ہوں؟
🔸 پی ٹی آئی نے تعلیم کے نام پر بڑے بڑے دعوے کیے، مگر اصل امتحان نعروں کا نہیں بلکہ زمین پر نظر آنے والے نتائج کا ہوتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ 13 سال میں اسکولوں کی عمارتوں کو محفوظ بنانے اور بچوں کے لیے بہتر تعلیمی ماحول فراہم کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے گئے؟
🔸 تعلیمی ایمرجنسی کا نعرہ کہاں گیا؟ اربوں روپے کے بجٹ کے باوجود اگر اسکولوں کی حفاظت ایک سوال بنی ہوئی ہے تو عوام کو اس کی وضاحت ملنی چاہیے۔
🔸 معصوم بچوں کی جانیں کسی بھی سیاسی بحث سے زیادہ اہم ہیں۔ ان کی حفاظت ریاست اور متعلقہ حکام کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ تعلیمی بجٹ کے استعمال، اسکولوں کی حالت اور حفاظتی اقدامات کا شفاف جائزہ لیا جانا چاہیے۔
🔸 13 سالہ حکومت کے بعد بھی اگر محفوظ کلاس روم ایک سوال ہے تو پھر پی ٹی آئی کے تعلیمی سونامی کے دعوؤں کا حساب کون دے گا؟ بچوں کا مستقبل سیاسی نعروں سے نہیں، عملی اقدامات اور جواب دہی سے محفوظ بنایا جاتا ہے۔