ںریکنگ نیوز دے رہا ہوں کہ
راولپنڈی کے سابق کمشنر لیاقت چٹھہ نے کورٹ مارشل کا سامنا کرنے والے جنرل ر فیض حمید کے خلاف بڑی گواہی دے دی ہے ۔ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ لیاقت چٹھہ کو ٹرائل کے دوران فیض حمید کے سامنے بھی لے جایا گیا تھا اور انہوں نے ان کے سامنے یہ بڑا اعتراف کیا ہے کہ آٹھ فروری کے انتخابات اور راولپندی سے ن لیگ کے ہارنے اور نتائج تبدیل کرنے سے متعلق جو پریس کانفرنس انہوں نے کی تھی وہ بھی جنرل ر فیض حمید کے کہنے پر کی تھی ورنہ ان کے پاس اس کے کوئی شواہد نہیں تھے یہ انکشاف بھی سامنے آیا کہ فیض حمید نے انھیں بتایا تھا کہ نومبر 2024 میں وہ صدر پاکستان ہوگا اور پھر عمران خان کو جیل سے نکال کر وزیر اعظم بنوا دے گا ۔۔دوران ٹرائل یہ بات بھی ثابت ہوگئی کہ عمران خان کے اقتدار سے ہٹتے ہی احتجاج جلسوں اور ہنگاموں کی ایڈوائس بھی جنرل ر فیض نے ہی کی تھی تاکہ ملک میں عدم استحکام رہے جبکہ اس وقت جو تحریک انصاف کی احتجاج کی پالیسی چل رہی ہے اس کا ماسٹر مائنڈ بھی یہی تھا تاکہ حکومت اور فوج پر دباؤ رہے یہ سب ریکارڈ سے ثابت بھی ہوگیا ہے ۔۔۔
بہت سے عہدوں کی امید لگائے بیٹھا تھا بہت سے لوگوں کو لالچ دے رکھا تھا مگر وہ کہتے ہیں ناں ۔۔۔
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے ۔۔۔
@soldierspeaks یہ نئی قسم کی مصیبت ہمارے ملک پر مسلط ہوئی ہے کہ ڈنڈے کیساتھ ہر چیز کو چلانا ہے، یہ ڈنڈے والا پتہ نہیں کہ کونسا خبط سوار ہوگیا ہے، کونسی صدی میں آپ جارہے ہیں کہ آپ ڈنڈے سے پوری ریاست چلانا چاہتے ہیں۔ثمینہ پاشا
آخری جنگ شروع ہو چکی.....!!!
جیسا کے کچھ دن پہلے پوسٹ کی تھی کہ یہ لوگ کشمیر سے احتجاج شروع کروا کر اسے پورے ملک میں بڑھانے کی کوشش کریں گے، اور کل عمران نیازی نے بھی یہی کہا ھے کہ کشمیر میں شروع ہونے والا احتجاج پورے ملک میں پھیل سکتا ھے اور اگر سچ پوچھیں تو یہی ان کنجروں کی خواہش ھے، انکے نزدیک پاکستان اسکی سالمیت یا معیشت کوئی معنی نہیں رکھتی، ان لوگوں کا اصل ایجنڈا ہی پاکستان کی تباہی ھے، اور اب اس جنگ کا آخری مرحلہ شروع ہو چکا ھے،
جس میں نیازی کشمیر میں ناکامی کے بعد پختونخواہ حکومت کو استعمال کرے گا اور اس آخری جنگ میں عمران نیازی کے سہولتکار کھل کر سامنے آ رھے ہیں، دوسری طرف حافظ صاحب بھی اپنی ٹیم تشکیل دے رھے ہیں اور نیازی کے سہولتکاروں کو سائیڈ لائن لگا رھے ہیں، میرا خیال ھے اس آخری جنگ میں نون لیگ پپلزپارٹی سمیت تمام اتحادی پارٹیوں کو نہ چاہتے ہوئے بھی پرانی باتوں کو بھلا کر اسٹبلشمنٹ کیساتھ کھڑا ہونا پڑے گا کیونکہ اس بار طاقت کی جنگ نہیں بلکہ پاکستان کی سالمیت کی جنگ ھے، اس جنگ میں اگر آپ لوگوں نے مصلحت کا شکار ہو کر قاضی فائز عیسیٰ یا جنرل عاصم منیر کو اکیلا چھوڑ دیا تو یہ یاد رکھنا ان دونوں کے بعد اگلا ٹارگٹ آپ لوگ ہوں گے، اگر اسکے ساتھ امریکہ اور یہودی طاقتیں ہیں تو آپکے ساتھ عرب ممالک اور چائنہ کھڑا ھے، ایک بار بے رحم ہو کر ڈنڈا ہاتھ میں پکڑ لیں، کسی اور ملک کا پریشر برداشت مت کریں، کیونکہ اگر اب آپ نے ایسا نہ کیا تو پھر سمجھ لیں تباہی ہم سبکا مقدر ہو گی۔
اسلام علیکم پی ٹی آئی فیملی ( پاکستان کے اندر باہر سب)۔ اس ٹویٹ کو غور سے پڑھے اور سمجھنے کی کوشش کریں، میں صرف اپنا خوف اور نقطہ نظر شیئر کرہا ہوں، مانے یا نہ مانے اپکے مرضی ہے۔
ہم نے عمران خان کو دیکھ کر پرویز خٹک بھی پختونخواہ کا بادشاہ بنایا تھا، ہم نے عمران خان کو دیکھ کر محمود خان کو بھی بادشاہ بنایا۔۔ لیکن یہی دونوں خان کیلئے پختونخواہ میں کھڈے کھول رہے ہیں۔ اس طرح بہت سے لوگوں کو گلی کوچوں سے اٹھا کر ہم نے ایم این ایز ، ایم پی ایز ، وزیر اور مشیر بنائے، ہم نے کسی ذات پات کو نہیں دیکھا۔ باجوڑ میں ہم نے 2018 الیکشن میں 2 میں سے 2 ایم این اے کی سیٹس نکالے، 2019 کی الیکشن میں تین میں 2 ایم پی ایز نکالے۔۔ لیکن پر وہی ہوا باجوڑ کو ملنی والی ترقیاتی فنڈز پاک پی ڈبلیو ڈی کی دفاتر میں بانٹے گئے، ایس ڈی جیز کی اربوں فنڈ غائب کردی گئی، نوکریوں کی خرید و فروخت ہوئی، میرٹ کو سرعام کچل دیا گیا۔
کرپشن ایک طرف قومی اور صوبائی سطح پر انکی نمائندگی بھی بدترین رہی۔۔ یہ وجہ تھا کہ خان صاحب نے نومبر 2022 کو زمان پارک میں ایک ملاقات میں مجھے الیکشن لڑنے اور ان کرپٹ لوگوں کو سسٹم سے نکالنے کا کہا تھا، اور خان صاحب نے یہ بھی کہا تھا، کہ ان جیسے لوگوں ٹکٹس دینے پر افسوس ہے ( جس کے گواہ شبلی فراز اور اعظم سواتی صاحب ہے)۔
پارٹی قیادت اور خاص کر علامہ نور الحق قادری صاحب، جنید اکبر و دیگر سے حلفا پوچھئے کہ 9 مئی سے پہلے خان صاحب نے جن 70 امیدواروں کی لسٹ جاری کرکے انکو ٹکٹس نہ دینے کا کہا تھا اس میں خیبرپختونخوا اور ملاکنڈ ڈویژن کے کون کون لوگ شامل تھے۔۔؟
اگر صابقہ پارلیمنٹیرینز کو ٹکٹس دینے کی بات ہے تو پھر پرویز خٹک اور محمود خان بھی سابقہ پارلیمنٹیرین میں سے ہے۔ اب یہ ڈرامے بلکل چھوڑ دینا چاہئے اور یہ بتائیں کہ کس بنیاد پر پارٹی ٹکٹس جاری ہوئی؟
میں اللہ تعالٰی کو حاضر ناظر جان کر یہ اقرار کرتا ہوں کہ مجھے اس بات سے دکھ نہیں کہ مجھے ٹکٹ کیوں نہیں ملا۔ مجھے دکھ اس بات کا ہے پارٹی رانگ نمبرز اور ایکٹرز کی ہاتھوں یرغمال ہوچکا ہے۔ مجھے باجوڑ سے ٹکٹ ہولڈرز ( 2 بندو کے علاوہ ) کے کوئی تصویر یا ویڈیو دیکھائے کہ وہ رجیم چینج اپریشن یا 9 مئی کے بعد کونسی مقدمات کا سامنا کیا اور کس جگہ ورکرز کے ساتھ کھڑے رہیں؟ یہ مخصوص ٹولہ اب ٹکٹس کی وقت اچانک کیسے نمودار ہوا؟ بھاڑ میں جائے ہماری مشکلات اور خدمات، بھاڑ میں جائے ٹکٹس۔۔ لیکن یہ بتائیں کہ خان نے کب کہا ہے کہ ایک خاندان میں 2، 2 اور 3، 3 ٹکٹس بانٹے جائے اور وہ بھی ان لوگوں میں جس کو نظریئے کی A, B , C کا بھی علم نہیں ہو۔
میں تو آج بھی فخر کی ساتھ خان کی ساتھ کھڑا ہوں اور پختونخواہ میں سب سے زیادہ مقدمات کا سامنا کیا اور مشکل ترین جیلیں کاٹے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ہم نے یہ جنگ کس لئے لڑا اور لڑ رہے ہیں؟ اگر خان کیلئے لڑا تو ان لوگوں کو ٹکٹس کیو جاری ہوئی جو آج بھی ان لوگوں کے بغل بچے ہیں جن لوگوں نے میرے قائد پر زمین تنگ کیا ہے۔۔۔ خیر کہانی لمبی ہے لیکن میں ان دو شرائط پر اپنی کاغذات نامزدگی( این اے 8، پی کے 22 اور پی 20 سے) سے واپس لوں گا۔
شرط نمبر 1: کہ برسٹر گوہر، عمیر نیازی یا شیر افضل مروت صاحب اللہ کو حاضر ناظر جان کر یہ بتائیں کہ خان صاحب نے ہی باجوڑ کے ان دو خاندانوں میں 5 ٹکٹس بانٹنے کا کہا ہے۔ اور ٹکٹس کی تقسیم میں ہم نے میرٹ اور انصاف کیا ہے۔
شرط نمبر 2: باجوڑ میں جن جن کو ٹکٹس ملے ہیں وہ قرآن پاک پر ہاتھ رکھ کر باجوڑ کے نوجوانوں کے ساتھ یہ عہد کریں کہ سیٹس جیتنے کے بعد ہم خان صاحب کے خلاف کبھی نہیں جائیں اور نہ کسی سازش یا فاروڈ بلاک کا حصہ بنیں گے۔
ان 2 شرائط قبول ہونے کی صورت میں اپنے کاغذات نامزدگی واپس لوں گا۔ بصورت دیگر میں اپنے نظریئے، نوجوانوں کی محنت اور خوابوں پر کسی کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہیں کروں گا۔
ہاں جہاں تک عمران خان کے ساتھ کھڑے ہونے یا نظریئے کا سوال ہے تو یہ وقت ثابت کرے گا کہ کون کہا کھڑا تھا۔
عمران خان پائندہ باد
پاکستان زندہ باد
اسلام علیکم پی ٹی آئی فیملی ( پاکستان کے اندر باہر سب)۔ اس ٹویٹ کو غور سے پڑھے اور سمجھنے کی کوشش کریں، میں صرف اپنا خوف اور نقطہ نظر شیئر کرہا ہوں، مانے یا نہ مانے اپکے مرضی ہے۔
ہم نے عمران خان کو دیکھ کر پرویز خٹک بھی پختونخواہ کا بادشاہ بنایا تھا، ہم نے عمران خان کو دیکھ کر محمود خان کو بھی بادشاہ بنایا۔۔ لیکن یہی دونوں خان کیلئے پختونخواہ میں کھڈے کھول رہے ہیں۔ اس طرح بہت سے لوگوں کو گلی کوچوں سے اٹھا کر ہم نے ایم این ایز ، ایم پی ایز ، وزیر اور مشیر بنائے، ہم نے کسی ذات پات کو نہیں دیکھا۔ باجوڑ میں ہم نے 2018 الیکشن میں 2 میں سے 2 ایم این اے کی سیٹس نکالے، 2019 کی الیکشن میں تین میں 2 ایم پی ایز نکالے۔۔ لیکن پر وہی ہوا باجوڑ کو ملنی والی ترقیاتی فنڈز پاک پی ڈبلیو ڈی کی دفاتر میں بانٹے گئے، ایس ڈی جیز کی اربوں فنڈ غائب کردی گئی، نوکریوں کی خرید و فروخت ہوئی، میرٹ کو سرعام کچل دیا گیا۔
کرپشن ایک طرف قومی اور صوبائی سطح پر انکی نمائندگی بھی بدترین رہی۔۔ یہ وجہ تھا کہ خان صاحب نے نومبر 2022 کو زمان پارک میں ایک ملاقات میں مجھے الیکشن لڑنے اور ان کرپٹ لوگوں کو سسٹم سے نکالنے کا کہا تھا، اور خان صاحب نے یہ بھی کہا تھا، کہ ان جیسے لوگوں ٹکٹس دینے پر افسوس ہے ( جس کے گواہ شبلی فراز اور اعظم سواتی صاحب ہے)۔
پارٹی قیادت اور خاص کر علامہ نور الحق قادری صاحب، جنید اکبر و دیگر سے حلفا پوچھئے کہ 9 مئی سے پہلے خان صاحب نے جن 70 امیدواروں کی لسٹ جاری کرکے انکو ٹکٹس نہ دینے کا کہا تھا اس میں خیبرپختونخوا اور ملاکنڈ ڈویژن کے کون کون لوگ شامل تھے۔۔؟
اگر صابقہ پارلیمنٹیرینز کو ٹکٹس دینے کی بات ہے تو پھر پرویز خٹک اور محمود خان بھی سابقہ پارلیمنٹیرین میں سے ہے۔ اب یہ ڈرامے بلکل چھوڑ دینا چاہئے اور یہ بتائیں کہ کس بنیاد پر پارٹی ٹکٹس جاری ہوئی؟
میں اللہ تعالٰی کو حاضر ناظر جان کر یہ اقرار کرتا ہوں کہ مجھے اس بات سے دکھ نہیں کہ مجھے ٹکٹ کیوں نہیں ملا۔ مجھے دکھ اس بات کا ہے پارٹی رانگ نمبرز اور ایکٹرز کی ہاتھوں یرغمال ہوچکا ہے۔ مجھے باجوڑ سے ٹکٹ ہولڈرز ( 2 بندو کے علاوہ ) کے کوئی تصویر یا ویڈیو دیکھائے کہ وہ رجیم چینج اپریشن یا 9 مئی کے بعد کونسی مقدمات کا سامنا کیا اور کس جگہ ورکرز کے ساتھ کھڑے رہیں؟ یہ مخصوص ٹولہ اب ٹکٹس کی وقت اچانک کیسے نمودار ہوا؟ بھاڑ میں جائے ہماری مشکلات اور خدمات، بھاڑ میں جائے ٹکٹس۔۔ لیکن یہ بتائیں کہ خان نے کب کہا ہے کہ ایک خاندان میں 2، 2 اور 3، 3 ٹکٹس بانٹے جائے اور وہ بھی ان لوگوں میں جس کو نظریئے کی A, B , C کا بھی علم نہیں ہو۔
میں تو آج بھی فخر کی ساتھ خان کی ساتھ کھڑا ہوں اور پختونخواہ میں سب سے زیادہ مقدمات کا سامنا کیا اور مشکل ترین جیلیں کاٹے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ہم نے یہ جنگ کس لئے لڑا اور لڑ رہے ہیں؟ اگر خان کیلئے لڑا تو ان لوگوں کو ٹکٹس کیو جاری ہوئی جو آج بھی ان لوگوں کے بغل بچے ہیں جن لوگوں نے میرے قائد پر زمین تنگ کیا ہے۔۔۔ خیر کہانی لمبی ہے لیکن میں ان دو شرائط پر اپنی کاغذات نامزدگی( این اے 8، پی کے 22 اور پی 20 سے) سے واپس لوں گا۔
شرط نمبر 1: کہ برسٹر گوہر، عمیر نیازی یا شیر افضل مروت صاحب اللہ کو حاضر ناظر جان کر یہ بتائیں کہ خان صاحب نے ہی باجوڑ کے ان دو خاندانوں میں 5 ٹکٹس بانٹنے کا کہا ہے۔ اور ٹکٹس کی تقسیم میں ہم نے میرٹ اور انصاف کیا ہے۔
شرط نمبر 2: باجوڑ میں جن جن کو ٹکٹس ملے ہیں وہ قرآن پاک پر ہاتھ رکھ کر باجوڑ کے نوجوانوں کے ساتھ یہ عہد کریں کہ سیٹس جیتنے کے بعد ہم خان صاحب کے خلاف کبھی نہیں جائیں اور نہ کسی سازش یا فاروڈ بلاک کا حصہ بنیں گے۔
ان 2 شرائط قبول ہونے کی صورت میں اپنے کاغذات نامزدگی واپس لوں گا۔ بصورت دیگر میں اپنے نظریئے، نوجوانوں کی محنت اور خوابوں پر کسی کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہیں کروں گا۔
ہاں جہاں تک عمران خان کے ساتھ کھڑے ہونے یا نظریئے کا سوال ہے تو یہ وقت ثابت کرے گا کہ کون کہا کھڑا تھا۔
عمران خان پائندہ باد
پاکستان زندہ باد
@Muhamma39160749 @soldierspeaks واہ واہ اور یہ کہہ کون رہا ہے جس کی اپنی ساری جماعت کومہ میں چلی گئ ہے. جو اپنی جماعت چلانے کے لئے پیپلز پارٹی سے چیرمین لے کر آئے ہیں 🤣🤣🤣🤣🤣🤣