Performative peacemaking abroad, while green-lighting atrocities at home! Under what law is @ImranKhanPTI being kept in illegal isolation and denied access to family, physicians and lawyers since 7 months?!
اگر عمران خان سے ملاقات نہ کروائی گئی تو ہم بہنیں خود لائحۂ عمل کا اعلان کریں گی اور ہمارا لائحۂ عمل انتہائی سخت اور فیصلہ کن ہوگا عوام تیار رہیں
علیمہ خان صاحبہ
2022 میں عمران خان کی ایک امریکن سرکاری افسر کے کہنے پر اسٹیبلشمنٹ نے بڑی محنت کر کے حکومت گرا دی۔۔۔۔۔
عمران خان کے اوپر 200 کیسز بنائے گئے
انہوں نے نو مئی کو عدالت کے اندر کود کے عمران خان کو اغوا کیا
نو مئی کا فالس فلیگ کیا اور فالس فلیگ کے بعد ان لوگوں نے پورے پاکستان میں خاص طور پر پنجاب پر ظلم کیا
کم از کم 10 ہزار لوگوں کو ان لوگوں نے قید میں ڈالا۔۔۔۔۔
علیمہ آپا کی میڈیا سے گفتگو۔۔۔۔
🚨 Closure of the Strait of Hormuz… the natural consequence of Israel’s behavior in Lebanon.
What Iran has just announced comes as no surprise; rather, it is the activation of a clause in the memorandum of understanding signed by Trump himself. Washington pledged to end the war on Lebanon. It failed to rein in Netanyahu. And today, the global energy artery is being shut down.
The question now is not “What has Iran done?” but “What will the U.S. do?” If Washington is serious about its agreement, will we see a halt to arms supplies to Israel—that lifeline without which war is impossible?
We are not concerned with America’s pretense of being at odds with Israel. The reality on the ground is this: the arms pipeline from Washington to Tel Aviv has not stopped. Whoever extends a hand of peace with their right hand while arming the criminal with their left is primarily responsible for what is happening now.
The ball is in America’s court. And the world is waiting. 🦅
ایک بڑی اہم ڈیولپمنٹ ہوئی ہے اور اس کی وجہ سے مختلف قیاس آرائیوں کا سلسلہ زور پکڑ رہا ہے وہ یہ ہے کہ شہباز شریف صاحب نے جو اپنی ایکس پر پوسٹ کی تھی جس میں یہ کہا تھا کہ آیران اور امریکہ کے درمیان معاہدہ اسلام آباد کی تقریب پاکستان کی میزبانی میں جنیوا میں ہوگی کو اپنی پوسٹ سے ڈیلیٹ کر دیا ہے اور ایسا لگ رہا ہے کہ شاید وہ تقریب منسوخ یا ملتوی کر دی گئی ھے اور پاکستانی قیادت کا دورہ سوئٹزرلینڈ بھی خطرے میں ہے اور اس کی وجہ یہ بتائی جا رہی ہے کہ ایران کا کہنا ہےکیونکہ امریکہ اور ایران اس پر الیکٹرانک دستخط کر چکا ہے تو اس لیے اس تقریب کی ضرورت نہیں ہے لیکن کچھ لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ کیونکہ اسرائیل نے اس معاہدے کو تسلیم نہیں کیا تو ایران کا یہ کہنا ہے کہ امریکہ اس معاہدے پر ایران اسرائیل سے عمل درآمد کروائے تو یہ ایک بڑی عجیب سیچویشن ہے اور اس پر ابھی وزارت خارجہ کا کوئی رییکشن نہیں آیا لیکن شہباز شریف صاحب نے جو ایگز پر اپنی پوسٹ لگائی تھی اس میں سے یہ حصہ ڈیلیٹ کر دیا ہے
میں نے جنگ اس لیئے ختم کی کہ ورنہ دُنیا میں تیل چار ہفتوں میں ختم ہوجاتا۔
یعنی میں نے گَھٹنے اِس لئیے ٹیک دئیے کہ ایران نے آبناۓ ہرموز بند رکھا ہوا تھا۔
کبھی پوری زندگی میں نہیں سوچا تھا کہ ایک امریکی صدر کو اپنی بے بسی کا اعتراف ایران کی وجہ سے کرنا پڑیگا۔
سبحان اللہ۔