جنیوا پریس کلب میں شہید ارشد شریف ہیومن رائیٹس ایوارڈ کا اعلان کر دیا گیا۔ بین الاقوامی میڈیا، انسانی حقوق سے تعلق رکھنے والوں کی شرکت۔
اگلے سال سے شہید ارشد شریف ہیومن رائیٹس ایوارڈ انسانی حقوق کے لیے خدمات سر انجام دینے والے پاکستانیوں کو ہر سال دیا جائے گا۔
نیلسن مینڈیلا 27 سال تک جیل میں رہے۔ ان کی رہائی دو سال بعد ممکن تھی لیکن اس کی پارٹی افریکن نیشنل کانگریس ANC پیچھے سے سفید فام قابض حکمرانوں سے مل گئی تھی۔ جس کی وجہ سے مینڈیلا کو مزید 25 سالوں تک قید میں رہنا پڑا۔
آخر 27 سالوں بعد نیلسن مینڈیلا نے قابض حکمرانوں سے خود مذاکرات کیے اور رہائی پائی۔
عمران خان کو یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ تحریک انصاف بھی ANC بن چکی ہے۔ اگر چیزیں اس پر چھوڑ دی گئیں تو یہ عمران خان کو مزید 25 سالوں تک قید میں رکھے گی۔ جس کا مطلب ہوگا کہ عمران خان جیل کے اندر ہی مختلف بیماریوں کا شکار ہو کر خدانخواستہ انتقال کر جائیں گے۔ کیونکہ کوئی انسان اس طرح کی ذہنی اور جسمانی تشدد برداشت نہيں کرسکتا جس سے عمران خان گزر رہا ہے۔
ایسا لگتا ہے تحریک انصاف کے رہنما عمران خان کی قید تنہائی پر بھی خوش ہیں اور سہیل آفریدی کی احتجاجی تحریک سے جان چھوٹنے پر بھی۔
ایسا زیادہ دن نہیں ہوگا کہ آپ یوں بچوں کی طرح لڑتے رہیں ایک دوسرے کی خبریں لیک کرتے رہیں اور وقت گزارتے رہیں۔ بے وقعت سی اسمبلیاں چھوڑیں ورنہ آپکے لیے زمین گرم کردی جائے گی۔
گورنر راج لگنے کے ٹھیک 2 دن بعد کور کمانڈر پشاور نے خاص میٹنگ کی ہے میٹنگ معدنیات کے بارے میں تھی ذرائع نے بتایا کور کمانڈر برق رفتاری سے معدنیات نکلوانا چاہتے ہیں انہوں نے کہا ہے ایسے طریقے بتائیں کہ ہم تیز ترین طریقے سے ان معدنیات کو باہر نکال سکیں اور انہیں بیچ سکیں
شہباز گل
ایک غدار نے یورپ میں جائیدادیں بنانے کی بجائے کراچی میں تیسرا شوکت خانم ہسپتال کھڑا کر دیا ہے، جس کا افتتاح 29 دسمبر 2026 کو ہونے جا رہا یے، ان شاءاللہ
کچھ چیزیں واضح ہیں۔
خیبرپختونخوا کی جمہوری حکومت تحریک انصاف کے احتجاج کی وجہ سے ختم نہیں کی گئی۔ سہیل آفریدی کا اس میں کوئی قصور نہیں ہے۔ گورنر راج لگانے کا فیصلہ پہلے ہی ہوچکا تھا۔
لانگ مارچ میں لوگ عمران خان کی رہائی کے لئے شامل ہوئے تھے۔ بلوچستان اور وزیرستان اور دوسرے قبائلی علاقوں سے سے خان سے محبت کرنے والے لڑکے پانچ دنوں تک بےسروسامانی کے عالم میں لانگ مارچ کے ساتھ جڑے رہے۔ لیڈرز انہیں گھوماتے رہے۔ لیکن لانگ مارچ خان صاحب کی رہائی کے لئے نہيں تھا۔ ایک بھی بار مذاکرات میں خان کی رہائی پر بات نہیں پوئی۔
لانگ مارچ خان صاحب کے نام پر اپنا سیاسی سرمایہ political capital اکٹھا کرنے کے لئے تھا تا کہ بوقت ضرورت کام آئے۔
عمران خان کے ساتھ تحریک انصاف میں گنتی کے دو چار لوگوں کے علاوہ کوئی ایک بھی مخلص نہيں ہے۔ خان کے ساتھ اللہ کے علاوہ صرف فیملی ہے اور عوام ہیں۔
ناقابل یقین!!! الان مسک 250 ہزار ڈالر کی یہ کار 2028 میں مارکیٹ میں لا رہا ہے۔
ہمیں اس سے کیا ہم تو آلٹو والے لوگ ہیں🤪۔ ہمارے ج۔رلز امریکہ کے اتحادی ہیں اور جنرلوں کے آلہ کاروں۔ نے بس یہ دیکھنا ہے کہ اگلے سال کا بجٹ پیش کرنے کے لیے آئی ایم ایف سے قسط ملنی ہے یا نہیں..👋
اس میں کوئی شق نہیں کہ معدنیات کب سے یہ لوگ نکال رہے ہیں اصل مسلہ تحریک انصاف کا ایک محفوظ گڑ پشتونخواہ کو نشانہ اس لئے بنایا گیا
کہ عمران خان کے دفاع میں ہر وقت نکلنے والی صوبے کو کریش کریں تاکہ اگلی جو وار یہ لوگ کرینگے اس سے پہلے کی تیاری ہیں تاکہ پشتونخواہ سے پھر لوگ نہ نکلے
اللہ کامیاب کرے۔ کوشش پوری کریں۔ کامیابی ناکامی اللہ کے ہاتھ میں ہے- کم از کم ایک بھرپور کوشش ہونی چاہیئے۔ اللہ آپکا حامی و ناصر ہو۔
میں آپکا شکریہ ادا کرتا ہوں اس سارے کرائسس میں آپ ورکرز کے ساتھ جڑے رہے۔ روز بات کی۔ امید دی۔
خُدا کی قسم اب ٹویٹر کو دیکھ کر لگ رہا ہے
کے "مائنس عمران خان" کی مکمل ذہن سازی کی جا چُکی ہے۔
اللٰ٘ہ ہمارے خان پر اپنا رحم کرے ، عمران خان ایک ہی ہے ، اور ایک ہی رہے گا۔۔
یہ اعصاب کی جنگ ہے کہ پہلے کون غلطی کرتا ہے ایمرجنسی گورنر راج انتہائی اقدام ہے، حکومت کیلئے مسائل بڑھتے ہیں یعنی غلطی حکومت نے کردی، پر امن سیاسی تحریک ایسے ہی کامیابیاں حاصل کرتی ہے اور طاقت ور کو مشکلات میں پھنساتی ہے میں اس سارے عمل کا ناکام نہیں کامیاب سمجھتا ہوں!
اس سارے کھیل سب سے بڑا نقصان سابق وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید کو ہوا ہیں
باقی کو عدالت میں پیش ہونگے کسی کی ضمانت ہوگی لیکن خالد بھائی کو ایسا غائب کیا گیا کہ اس کا یہ بھی پتہ نہیں چلتا
کہ ان کے ساتھ وہاں کیا کچھ ہو رہا ہوگا یہ لوگ خالد بھائی کو ہر طرح نقصان پہنچا دیگا
جنرل باجوہ کو سب سے زیادہ غصہ خان کی طرف سے اپنی تقریر میں میر جعفر میر صادق کے الفاظ استعمال کرنے پر تھا۔
کبھی آپ نے سوچا خان نے یہ کیوں استعمال کئیے تھے۔خان کو باہر والوں کا تو پتہ ہی تھا۔ اصل دکھ خان کو یہ تھا کہ اپنے ہم وطن میر جعفر میر صادق بن گئے۔