@fawadchaudhry صوبہ سرائیکستان ۔ ۔سرائیکی بولنے والے علاقوں پر مشتمل ایک مجوزہ صوبہ ہے。 اس تحریک کا بنیادی مقصد خطے کی دہائیوں پر محیط معاشی و سیاسی محرومیوں کا خاتمہ اور الگ لسانی و ثقافتی شناخت کا حصول ہے
@2Kazmi@ayezanadeem@FarhatJavedR اس خطرناک صورتحال کے پیش نظر اب کوئی بھی غریب شخص سرکاری ہسپتال جاتاہے تو وہ سرنج باہر سے خرید کر جاتا ہے ۔ ۔ ۔ یا پھر قرض لیکر پرائیویٹ ہسپتالوں کا رخ کرتا ہے
الیکشن سے قبل جو کیا گیا عمران خان کو جھوٹے مقدمات میں دن رات عدالتیں چلا کر سزائیں سنائی گئیں۔
تیرہ جنوری جو انتخابی نشان دینے کا آخری دن تھا اس دن سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی سے انتخابی نشان چھین لیا تاکہ اس کے امیدوار آزاد ہوں اور پھر ہارس ٹریڈنگ کی منڈیاں لگائی جائیں لیکن آفرین ہے ان ممبران اسمبلی کے سوائے ایک دو کے تمام عوام کے ووٹ کے وفادار رہے جو انہوں نے عمران خان کے نام پر لیا تھا۔
8 فروری کو جب عوام نے ان کی امیدوں پر پانی پھیرتے عمران خان کے امیدواروں کو بڑی تعداد میں جتوایا تو پھر فارم 47 کے ذریعے ان کی جیت کو ہار میں بدلا گیا۔ سلمان اکرم راجہ
ملتان میں ہاؤسنگ سکیموں نے آم کے باغات کو تو پہلے ہی فنا کر دیا تھا رہی سہی کسر حالیہ سیلاب نے پوری کر دی یہ سیلاب موضع خزاں پور اور بہت سی بستیوں سمیت آم کے ہزاروں درخت بھی غرق کر گیا ان ڈوبی ہوئی بستیوں اور آم کے باغات کے اوپر کشتی میں سفر کرتے ہوئے دل خون کے آنسو رو رہا تھا
سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے اہم پیغام
(۲ اگست، ۲۰۲۵)
“تمام پاکستانیوں کو ملک پر مسلط ظلم کے نظام کے خلاف حقیقی آزادی کی تحریک کا حصہ بننا چاہیے تاکہ ہم حقیقی معنوں میں ایک آزاد قوم بن سکیں۔ ہم یکجا ہو کر مقابلہ کریں گے تو یہ ظلمت کا نظام ضرور زمین بوس ہو گا۔
پانچ اگست کو شروع ہونے والی تحریک اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ملک میں جمہوریت اپنی اصل روح کیساتھ بحال نہیں ہو جاتی۔ اب عوام نڈر ہو چکے ہیں، ہر خوف کا بت ٹوٹ چکا ہے- 5 اگست کے بعد 14 اگست کی تاریخ بھی اس سلسلے میں اہم ترین ہے۔ 14 اگست 1947 کو ہم نے بیرونی غلامی سے آزادی حاصل کی تھی۔ اب ہمیں غلامی کی اس سے بھی بدتر صورتحال کا سامنا ہے جہاں تمام اداروں کو اپاہج کر کے سارے بنیادی حقوق معطل کر دئیے گئے ہیں۔ جیسے ہمارے آباؤاجداد نے انگریزوں کے خلاف جدوجہد کر کے آزادی حاصل کی تھی ہمیں بھی اس کرپٹ نظام سے آزاد ہونا ہے اور غلامی کو ٹھکرانا ہے۔
پیپلز پارٹی اور نون لیگ عاصم منیر کے لیے ویسا ہی کٹھ پتلی کا کردار ادا کر رہی ہیں جیسا ق لیگ نے مشرف کے لیے کیا تھا۔ ان کا کردار سیاسی جماعت کا نہیں اسٹیبلشمنٹ کے پولیٹیکل فرنٹ کا ہے۔ اسی آڑ میں کرپشن اور لوٹ مار کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
77 سال لگا کر پاکستان میں مشکل سے چند ادارے کھڑے ہوئے تھے- یہاں بار بار مارشل لاء لگتے رہے جس نے اس عمل کو دشوار بنایا مگر پھر بھی ادارے موجود تھے لیکن عاصم منیر کے مارشل لاء نے صرف اپنے اقتدار کی طوالت کے لیے ان اداروں کو بھی ایک ایک کر کے تباہ کر دیا ہے۔ سب سے پہلے انتخابی فراڈ کر کے عوام کا ووٹ چوری کیا گیا اور چوروں کو ملک پر مسلط کر کے جمہوریت کا خاتمہ کیا گیا۔ پھر میڈیا کا گلا گھونٹا گیا، ملک میں بدترین سنسر شپ لگائی گئی۔ اور اب عدلیہ کو چھبیسویں آئینی ترمیم کر کے ایک سرکاری ادارہ بنا دیا گیا ہے۔ اوپر سے لکھی لکھائی سزائیں ججز کے ہاتھ میں تھما دی جاتی ہیں۔ جج خود اسکا اعتراف کرتے ہیں کہ ہمارے ہاتھ میں کچھ نہیں ہے جو ہمیں تھما دیا جاتا ہے ہم اسی پر سائن کر کے دے دیتے ہیں۔ اس وقت ملک میں عدلیہ مکمل مفلوج ہے۔ یہاں کینگرو کورٹس چل رہی ہیں جو ہر طرح سے قانون کی دھجیاں بکھیر رہی ہیں۔ ان عدالتوں سے انصاف کی کوئی توقع نہیں ہے۔ یہ عدالتیں قانون کی نہیں صرف عاصم لا کی پیروی کرتی ہیں۔ اسی کے مطابق سب ٹرائل چلیں گے اور سزائیں ہوں گی۔ یہ سب ٹرائل آن ریکارڈ ہیں آج نہیں تو کل سب پر حقیقت عیاں ہو گی کہ کس جج نے انصاف کی پیروی کے بجائے یزیدِ وقت کی پیروی کی۔
راولپنڈی، لاہور، سرگودھا اور فیصل آباد کی عدالتوں کے ذریعے ہمارے پارٹی رہنماؤں، ممبران اسمبلی اور کارکنان کو جھوٹے کیسز میں سزائیں دلوا کر ہماری تحریک کا راستہ روکنے کی ایک اور ناکام کوشش گئی ہے۔ حق پرستی کی پاداش میں سزاؤں کی حق دار ٹھہرنے والی پارٹی لیڈرشپ اور کارکنان کو خصوصی خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔
سکندر سلطان راجہ نے ہائیکورٹ کی اپیلوں کا انتظار کیے بغیر ہمارے ممبران اسمبلی کو نا اہل قرار دیا۔ تاریخ جب لکھی جائے گی سکندر سلطان راجہ کا نام سیاہ ترین حروف میں درج ہو گا۔ اس شخص نے ڈیڑھ سال میں 17 سیٹوں والی جماعت کو دو تہائی اکثریت دلوانے میں سب سے اہم کردار ادا کیا ہے۔ ملک کا نظام ان کے ہاتھ میں دے دیا گیا ہے جنھوں نے عوام کا ووٹ اور پیسہ دونوں چرایا۔ جو لوگ آئین اور جمہوریت کے ساتھ کھڑے ہوئے ان کو جیلوں میں ڈال دیا گیا تاکہ اس ملک میں کوئی جمہوریت کا نام لیوا نہ ہو۔
ہمارے جو ممبران اسمبلی ناجائز طریقے سے نااہل کیے گئے ہیں ان کی جگہ ضمنی انتخابات میں کسی کو کھڑا نہیں کیا جائے گا۔ کیونکہ ان لوگوں نے کئی طرح کی مشکلات جھیل کر انتخاب لڑا تھا اور مسلسل تحریک انصاف کے ساتھ کھڑے رہے۔ لہذا ضمنی انتخابات میں تحریک انصاف حصہ نہیں لے گی۔
علی امین کو واضح پیغام دیتا ہوں کہ خیبرپختونخوا اور قبائلی علاقوں میں وفاق کو ایک اور فوجی آپریشن کی ہرگز اجازت نہیں دینی چاہیئے۔ فوج اور عوام کے آمنے سامنے آنے سے فوج کا ادراہ تباہ ہوتا ہے۔ آپریشن کسی مسئلے کا حل نہیں ہے۔ وہاں کے نظام کے مطابق بات چیت سے مسائل حل کریں۔ افغانستان ہمارا مسلمان ہمسایہ ملک ہے۔ ان کے ساتھ بھی تعلقات بہتر ہونے چاہئیں اور مسائل پر بیٹھ کر بات کرنی چاہیے-“
“میں تمام عمر بھی جیل میں رہنے کو تیار ہوں لیکن ظلم و جبر کے آگے جھکنے کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔ پاکستانی قوم کو بھی یہی پیغام دیتا ہوں کہ کسی صورت جبر کے اس نظام کے سامنے نہ جھکیں۔
مذاکرات کا وقت اب گزر چکا ہے، اب صرف قوم کے احتجاج کا وقت ہے۔
پچھلے کچھ روز سے جیل میں مجھ پر سختیاں مزید بڑھا دی گئی ہیں۔ میری اہلیہ بشرٰی بیگم پر بھی سختی کا دائرہ کار بڑھا دیا گیا ہے۔ ان کے سیل میں جو ٹی وی موجود تھا وہ بھی بند کروا دیا گیا ہے۔ میرے اور میری اہلیہ کے تمام انسانی اور قیدیوں کو دئیے جانے والے حقوق معطل ہیں- جس کا حساب ہونا چاہیئے۔
مجھے معلوم ہے کہ ایک کرنل اور جیل سپرنٹنڈنٹ انجم، یہ سب کچھ عاصم منیر کے کہنے پر کروا رہے ہیں۔
اپنی پارٹی کو واضح ہدایت کرتا ہوں کہ اگر مجھے جیل میں کچھ ہوا تو اس کا حساب عاصم منیر سے لیا جائے۔
بشری بیگم پر ظلم اس لیے کیا جا رہا ہے کیونکہ میرے دور میں جب عاصم منیر کو عہدے سے ہٹایا گیا تو انہوں نے زلفی بخاری کے ذریعے بشرٰی بیگم کو ملاقات کا پیغام بھیجا تھا، جسے بشریٰ بیگم نے ٹھکرا دیا تھا۔ اسی لیے عاصم منیر نے ان پر سختیاں رکھی ہوئی ہیں۔ شروع دن سے ہی ان کی کوشش ہے کہ بشری بیگم پر سختی کر کے مجھے توڑا جا سکے۔
جس جیل میں مجھے رکھا ہوا ہے وہاں سینکڑوں پاکستانیوں کے قاتل اور دہشتگرد بھی مجھ سے بہتر حالت میں رہ رہے ہیں- ایک فوجی رضوان کو شان و شوکت سے رکھا ہوا ہے لیکن مجھ پر ہر طرح کا ظلم جاری ہے۔ یہ جو بھی کر لیں اس ظلم کے آگے نہ میں پہلے جھکا تھا نہ ہی اب جھکوں گا۔
پنجاب میں پچھلے دو سال سے مریم نواز اور محسن نقوی کے زیر سایہ جبر و فسطائیت کا جو ماحول ہے اس نے جمہوریت اور سیاسی سرگرمیوں کا خاتمہ کر رکھا ہے۔ تمام ممبران اسمبلی کا قافلے کی صورت میں پنجاب آ کر سیاسی اجتماع کرنا خوش آئیند ہے-
اس وقت مجھ سمیت کئی افراد سخت ترین جیلیں کاٹ رہے ہیں اس لیے پارٹی کا ہر شخص اپنے ذاتی اختلافات کو مکمل طور پر نظر انداز کرے، میڈیا کے سامنے اپنے ذاتی اور اندرونی معاملات کو زیر گفتگو لانا کسی طور قابل قبول نہیں ہے۔ میری سختی سے ہدایات ہیں کہ پارٹی میں بڑے سے بڑا عہدیدار یا چھوٹے سے چھوٹا رکن یا ذمہ دار سوشل میڈیا، الیکٹرانک میڈیا، پرنٹ میڈیا یا کسی بھی اور فورم پر پارٹی کے اندرونی معاملات یا اختلافات کا اظہار مت کرے۔ اپنی ساری توجہ صرف اور صرف احتجاجی تحریک پر رکھیں تاکہ ملک میں انسانی حقوق کی بحالی ممکن ہو سکے۔ اگر کسی ذمہ دار نے اس احتجاجی تحریک میں حصہ نہ لیا پھر اس کا فیصلہ میں جیل سے خود کروں گا۔
تمام پارٹی ممبران اور عہدیداران کو ہدایت کرتا ہوں میرے ٹوئیٹر پیغامات کو خود ریٹویٹ بھی کریں اور زیادہ سے زیادہ افراد تک میرے یہ پیغامات پہنچائیں-
سینیٹ کی ٹکٹوں کے حوالے سے پارٹی باہمی مشاورت سے فیصلہ کرے۔”
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں وکلاء اور اہل خانہ سے گفتگو (15 جولائی 2025)
@arifhameed15 بزدار کہیں نہیں بھاگا سیاست سے دستبردار ہوا ہے اب کوئی کسی کو زبردستی تو سیاست میں نہیں گھسیٹ سکتا نہ ؟باقی اپ خود سمجھدار ہیں انہوں نے دستبرداری کا اعلان کن حالات میں کیا ہوگا ۔ ۔ ۔
عمران خان نے میرے اوپر نیکی کی ہے قیامت تک نہیں بھولوں گا عمران خان کے دور میں میری بیوی کا مفت آپریشن ہوا ریگولر دوائی ملتی تھی لیکن جب سے مریم آئی ہے بہت پریشان ہوں پہلے دو مہینے دو ڈبے دیے اب 2500 روپے کی دوائی لکھ دیتے ہیں ۔
راولپنڈی کا شہری بتا رہا ہے کہ مریم نواز نے عمران خان کے دور کی مفت علاج کی سہولت چھین لی ہے
@MShehzadSpeaks جب لوگ کسی کے معیار تک نہیں پہنچ پاتے تو اسکے کردار پر انگلی اٹھاتے ہیں ۔ ۔ میں حسنین سے ملا ہوں وہ عمران خان کے ہر جلسے پر اپنے خرچے پر اتا تھا اور اپنی خود کی ٹیم کے ساتھ صرف اور صرف عمران خان کے جلسہ کو کوریج دینے کے لئے ۔ ۔ ۔ وہ یہ سب اپنی خوشی سے کرتا ہے ۔
پاکستان کا بچہ بچہ جانتا ہے یہ الیکشن ہارے ہوئے ہیں یہ کس حیثیت میں اقتدار کی کرسی پر بیٹھے ہیں،یہ فارم 47 والے جھوٹے ہیں یہ کبھی سچ نہیں بولیں گے،ملک اپنی تاریخ کے بدترین دور سے گزر رہا ہے،8 فروری کو عوام نے بڑے مشکل حالات میں پاکستان تحریک انصاف کو ووٹ ڈال کر انکے خطرناک منصوبے کو ناکام بناکر انھیں رسوا کیا تحریک انصاف کو سب سے زیادہ ووٹ پنجاب سے ملے ۔علامہ راجہ ناصر عباس
@iqrarulhassan اس وقت دھاندلی نہیں سیاسی انجینئرنگ ہوئی تھی لولی لنگڑی حکومت دی گئی تھی خان صاحب کو تاکہ وقت انے پر اپنا اصل مقصد حاصل کیا جاسکے ۔ ۔ مگر اس دفعہ تو کھلے عام عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالا گیا ہے ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کے ووٹ چرا لیے گئے ہیں وہ بھی زور زبردستی
@DaRockyPak@MashwaniAzhar کوئی ان کو ڈیٹا پر وائیڈ نہیں کرتا یہ ٹوئیٹر پر بیٹھے ہیں جو بھی کمنٹ کرتا ہے یہ پوسٹ لگاتا ہے اور وہ پی ٹی ائی کے آفیشل اکاونٹس کے نیچے یہ اس کی پروفائل کھولتے ہیں اور اس تک پہنچ جاتے ہیں نادرا کے ذریعے ڈیٹا نکال کر ۔ ۔ پھر وہاں کی انتظامیہ کے ذریعے اس تک پہنچتے ہیں ،💔🙁
ثمینہ پاشا کی بات بلکل ٹھیک ہے جو پراجیکٹس عثمان بزدار نے شروع کیے ہوئے تھے سب کا ہمیں بھی نہیں پتہ تھا وہ تو مریم نواز نے جب ان پراجیکٹس پر اپنے نام کی تختی لگائی تو پھر پتہ چلا کہ یہ تو عثمان بزدار نے شروع کیے ہوئے تھے