Buddy you're a scodem at best yourself. Keep sucking that US and Pakistani military cock btw. At least they jailed the real threat to Pakistan, the man you call Taliban Khan for opposing WoT and drones
@SamiYousafzaii 🚨 Fact Check: Russia blamed the Taliban, not Pakistan, for the Moscow Format meeting’s failure to produce a joint statement. https://t.co/ZEMKZsOdEu
A diplomat in moscow says
“For Pakistan, being a U.S. partner and pushing a draft that clearly favours Islamabad was never going to work in Moscow.”
The Taliban’s strong objection to Pakistan’s airstrikes and reported civilian casualties appears to have prevented consensus at the Moscow Format consultations and joint statement.
Russian envoy Zamir Kabulov said Afghan and Pakistani delegates clashed during the drafting of the final joint statement, leaving participants unable to agree on a common text.
This is a significant diplomatic Challenge for Pakistan , the Pakistan–Afghanistan conflict is now directly affecting the ability of regional powers to reach consensus on Afghanistan.
They were happily doing military operations & drones in tribal areas without permission and any resistance of Provincial Govt. I dont know who was behind the idea of pushing the operation idea in dialogue. Now public is in full support with #PTI
حکومتی مذاکراتی ٹیم نے بتایا تین چار ہفتے خان صاحب کا بلڈ پریشر ادویات دینے کے باوجود کنٹرول نہیں ہو رہا تھا پھر لندن سے ڈاکٹر بلایا گیا اور اس کی ادویات سے بلڈ پریشر کنٹرول ہوا
ایک لمحہ ضائع کیے بغیر خان صاحب کو ہسپتال منتقل کیا جائے اور ان کے ڈاکٹرز کی نگرانی میں علاج اور ان کے مقدمات فورا میرٹ پر سنے جائیں نہیں تو لانگ مارچ کے ساتھ ساتھ پورے پاکستان کی ہائی ویز کو بند کر کے احتجاج کرنے کا اعلان کیا جائے
کے پی حکومت کی 11 اضلاع نہیں بلکہ پورے صوبے میں ہی رِٹ نہیں ہے۔ ان کے صوبائی وزیروں اور ایم پی ایز کو اٹھایا جاتا ہے۔ نہ ڈی پی او نہ ڈی سی ان کی بات سنتا ہے۔ وہ اپنی مرضی کا ڈی سی اور نہ ہی ڈی پی او لگا سکتے ہیں، مجھے بتائیں کہاں رِٹ ہے؟ علامہ ناصر عباس
گورنر صاحب، سیاسی بیان بازی اپنی جگہ، مگر حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش نہ کریں۔ یارک پر واپسی کو صرف دفعہ 144 سے جوڑنا درست نہیں؛ سکیورٹی اور انتظامی صورتحال بھی سامنے تھی۔ کارکنوں کو قانون ہاتھ میں نہ لینے کا کہنا بھاگنا نہیں، ذمہ داری ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ صوبے کے آئینی عہدے پر بیٹھ کر آپ کب سنجیدہ سیاست کریں گے؟
#خان_کی_سالگرہ_مزاحمت_کے_نام
ڈیڈ لاک بنیادی طور پر ایک ہی بات پر آیا ہے، جو کہ ہمارا بنیادی مطالبہ ہے اور جہاں سے ہمارے خدشات بھی جنم لیتے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) اپنی پارٹی کی ترجمانی کر رہی تھی اور جو مسودہ (ڈرافٹ) تیار ہو رہا تھا، اس پر وہ اپنے قائد نواز شریف صاحب اور شہباز شریف صاحب سے مشاورت بھی کر رہے تھے اور ان کی توثیق بھی لے رہے تھے۔ یہی صورتحال پاکستان پیپلز پارٹی کی بھی تھی، وہ بھی اپنی قیادت کی توثیق کے ساتھ تمام معاملات کو آگے بڑھا رہے تھے۔
تو پھر یہ پابندی پاکستان تحریک انصاف پر کیوں عائد تھی؟ یا ہم سے یہ تقاضا کیوں کیا جا رہا تھا کہ ہم عمران خان صاحب کی مشاورت اور ان کی رضامندی کے بغیر آگے بڑھیں؟ محمود خان اچکزئی صاحب اور مذاکرات کا حصہ بننے والی ہماری پوری ٹیم کا صرف ایک ہی موقف تھا کہ یہاں جو بھی پیش رفت ہو، ہم اس وقت تک اس پر دستخط نہیں کریں گے اور آگے نہیں بڑھیں گے جب تک بانی پی ٹی آئی سے ہماری ملاقات نہیں کرائی جاتی،
لیکن حکومت اس پر آمادگی ظاہر کرنے کے لیے تیار نہیں تھی۔
جہاں تک صوبائی حکومت کے موقف کا تعلق ہے، تو وہ گزشتہ دو تین سالوں سے بالکل واضح ہے۔ خیبر پختونخوا اسمبلی نے صوبے کی تمام سیاسی جماعتوں کو ایک جرگے کی صورت میں خیبر پختونخوا اسمبلی میں مدعو کیا تھا، جس کی مشترکہ میزبانی گورنر خیبر پختونخوا کر رہے تھے جو آج کل آئین کی بالادستی کی باتیں کرتے ہیں۔ اس جرگے کی منظور کردہ متفقہ قرارداد وزیر اعظم، صدرِ مملکت اور چاروں صوبائی وزرائے اعلیٰ کو ارسال کی گئی تھی۔ آج ہم چیلنج کر کے پوچھتے ہیں کہ کیا اس قرارداد پر کوئی عمل درآمد ہوا؟
آج بھی سپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی نے واضح کیا ہے کہ اگر آپ کے پاس کوئی تجاویز ہیں یا آپ سمجھتے ہیں کہ ہمارے مابین معاملات میں کوئی ڈیڈ لاک ہے، تو صوبائی اسمبلی کی امن و امان سے متعلق قائم کردہ کمیٹی میں آئیں، جس میں خود پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے نمائندے بھی موجود ہیں۔
ترجمان تحریک تحفظ آئین پاکستان اخونزادہ حسین احمد یوسفزئی
” یہ الزامات محض ایک بیانیہ بنانے کے لیے ہیں۔ آپ کا بیانیہ بکتا نہیں ہے۔ آپ نے 9 مئی کے بعد ہمارے خلاف ایک بیانیہ بنایا، کیا عوام نے اسے قبول کیا؟ 8 فروری کو جس طرح عوام نے آپ کے اس بیانیے کو زمین بوس کیا اور جس طرح تحریک انصاف اور عمران خان کو ووٹ دیا، وہ ایک تاریخ اور انقلاب تھا۔ جب آپ اپنی ذاتی انا میں اس حد تک آگے بڑھ جائیں کہ ’میں نے ہی اس ملک کو چلانا ہے‘، تو اس طرح ملک نہیں چلتا۔ ملک کے تمام ادارے جب اپنے اپنے دائرہ اختیار میں رہ کر اپنا آئینی و قانونی حق استعمال کریں گے، تب ہی ملک آگے بڑھے گا۔“
سیکرٹری جنرل تحریک تحفظ آئین پاکستان اسد قیصر
میں لعنت بھیجتا ہوں آپ کی سمجھداری پر!
اگر اپنے صوبے اور اپنے لوگوں کی بات کرنا ناسمجھی ہے تو یہ ناسمجھی کل بھی کرتا تھا، آج بھی کرتا ہوں اور آئندہ بھی کرتا رہوں گا۔
اگر پاکستان سے محبت کرنا جرم ہے تو یہ جرم ہم بار بار کریں گے۔
سہیل آفریدی
Good to see. That the Pakistani honoured the request by the wife of Indian officer. 👏
And you will notice that the Pakistani Ranger saluted first because the Indian Officer was senior in rank, and Indian responded very gracefully.
Despite everything Soldiers understand and respect each other.
How has #India built influence across #LatinAmerica through culture, commerce and people-to-people ties?
Watch Manuel Gonzalo unpack the rise of India’s soft power in the region.
https://t.co/iuTD5nXL30