یاد رکھیے، کرسی ہمیشہ کسی ایک کی نہیں رہتی، اقتدار کے موسم بدلتے رہتے ہیں؛ مگر ناانصافی کی کہانیاں تاریخ کے صفحات پر دیر تک زندہ رہتی ہیں۔
پاکستان کسی جماعت، کسی خاندان اور کسی ادارے کی جاگیر نہیں؛ یہ 25 کروڑ عوام کا ملک ہے
بے نسلے جھوٹے چور حکمرانوں! اگر عمران خان غلط ہے تو اسے دلیل سے غلط ثابت کرو، کارکردگی سے شکست دو اور ��وام کو فیصلہ کرنے دو۔ یہ کیا منطق ہے کہ مخالف کو کمزور کرنے کی ہر تدبیر آزمائی جائے، پھر بھی اس کا نام ہی خبروں، تقریروں اور سیاسی بحثوں پر چھایا رہے؟
۔
قیامت کی ٹیکنالوجی
سائنس نے 1400 سال بعد قرآن کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے.
تحریر: اسٹرائیکر راجپوت
کیا ہم غلط عضو (Organ) سے سوچ رہے ہیں؟
بات صرف دماغ (Brain) تک محدود نہیں ہے، کہانی اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔
جدید سائنس نے ابھی حال ہی میں نیورو کارڈیالوجی دریافت کی ہے۔
ڈاکٹرز حیران ہیں کہ انسانی دل میں بھی 40,000 سے زائد نیورونز (Neurons) ہیں
یعنی دماغ کے سیلز
سائنسدان اب کہہ رہے ہیں کہ دل صرف خون پمپ کرنے والی موٹر نہیں، بلکہ یہ سوچتا ہے، محسوس کرتا ہے اور فیصلے لیتا ہے۔
اب ذرا 1400 سال پیچھے مڑ کر دیکھو
قرآن نے دماغ کا ذکر نہیں کیا، بلکہ بار بار "دل" کو سمجھنے کا مرکز کہا
"لَهُمْ قُلُوبٌ لَّا يَفْقَهُونَ بِهَا"
(ان کے پاس دل ہیں لیکن وہ ان سے سمجھتے نہیں ہیں۔)
(القرآن، الاعراف: 179)
ہمارے لبرل دوست مذاق اڑاتے تھے کہ دل تو صرف پمپ ہے، سوچتا تو دماغ ہے
آج وہی گورے سائنسدان بتا رہے ہیں کہ دل کی "الیکٹرومیگنیٹک فیلڈ" دماغ کے مقابلے میں 5000 گنا زیادہ طاقتور ہے
جب آپ کا دل ذکر کرتا ہے یا کسی کے لیے نفرت پالتا ہے، تو یہ ایک ایسی مقناطیسی لہر (Magnetic Wave) چھوڑتا ہے جو کئی فٹ دور کھڑے انسان کو بھی متاثر کرتی ہے۔
یہی وہ روحانی وائی فائی ہے جسے مومن کی فراست کہا جاتا ہے۔
اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کی سوچ صرف ہوا میں غائب ہو جاتی ہے، تو جاپانی سائنسدان ڈاکٹر مسارو ایموٹو کی تحقیق پڑھ لیں
اس نے ثابت کیا کہ پانی کی یادداشت ہوتی ہے۔
اگر پانی پر اچھی بات (Good Intentions) بولی جائے، تو مائیکروسکوپ کے نیچے اس کے کرسٹلز ہیرے جیسے خوبصورت بن جاتے ہیں۔
اور اگر پانی کو گالیاں دی جائیں یا بری نیت سے دیکھا جائے، تو اس کی شکل بگڑ کر بدصورت ہو جاتی ہے۔
اب سمجھ آیا کہ ہم بیمار پر پانی د�� کیوں کرتے ہیں؟
یا زمزم میں شفاء کیوں ہے؟
انسانی جسم 70 فیصد پانی ہے۔ جب آپ اپنے بارے میں یا دوسروں کے بارے میں منفی سوچ رکھتے ہیں، تو دراصل آپ اپنے جسم کے پانی کا مالیکیولر سٹرکچر ت��اہ کر رہے ہوتے ہیں۔
حسد اور کینہ صرف گناہ نہیں، یہ سیلف ڈسٹرکشن کا بٹن ہے جو آپ خود دباتے ہیں۔
اب میں آپ کے سامنے وہ حقیقت رکھنے جا رہا ہوں جسے سن کر آپ کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں گے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہماری سوچ ہماری ذاتی ملکیت ہے اور ہمارے دماغ کے اندر محفوظ ہے۔
نا جی
غلط! سراسر غلط!
میرے فیورٹ سائنٹسٹ نکولا ٹیسلا نے 1933ء میں کہا تھا کہ انسان کے خیالات دراصل انرجی ہیں اور انہیں تصویر میں بدلا جا سکتا ہے۔ سائنس اس بات کو تسلیم کر رہی ہے کہ دماغ کے الیکٹریکل سگنلز کو ڈی کوڈ کیا جا سکتا ہے۔
لیکن ہم ابھی تک اسکولوں میں نیوٹن کے سیب گرنے کی کہانی پڑھ رہی ہیں، جبکہ مغرب ایسی مشین بنا رہا ہے جو آپ کے دماغ کو اسکینکر کے آپ کے خیالات کو اسکرین پر دکھا دے گا
آئیے دیکھتے ہیں کہ قرآن اور حدیث نے 1400 سال پہلے استھوٹ ٹیکنالوجیکے بارے میں کیا کہا تھا
رسول اللہ ﷺ کی مشہور ترین حدیث ہے
"إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِ��يَّاتِ"
(اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔)
(صحیح بخاری: 1)
ہم نے اسے صرف ایک اخلاقی جملہ سمجھا
لیکن ٹیسلا کی تھیوری کی روشنی میں دیکھیں تو یہ کوانٹم فزکس ہے۔
عمل مادی دنیا (Physical World) ہے۔
نیت (Intention/Thought) یہ فریکوئنسی (Frequency/Energy) ہے۔
ٹیسلا کہتا ہے کہ خیال ایک انرجی ہے۔
جب آپ کوئی نیت کرتے ہیں، تو آپ کے دماغ سے ایک خاص ویو لینتھ (Wavelength) نکلتی ہے۔
اگر آپ کا عمل بہت بڑا ہو لیکن اس کے پیچھے نیت کمزور یا گندی ہو، تو کائنات میں اس کا وزن نہیں ہوتا۔
یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں (خیالات کے مرکز) کو دیکھتا ہے۔ ہماری سوچیں خلا میں ضائع نہیں ہو رہیں، وہ ایک ��لیکٹریکل دستخط چھوڑ رہی ہیں۔
ہم بچپن سے سنتے آئے ہیں کہ دو فرشتے (کراماً کاتبین) ہمارے کندھوں پر بیٹھے لکھ رہے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ شاید ان کے پاس کوئی رجسٹر اور پینسل ہے۔
خدا کے لیے! فرشتوں کی ٹیکنالوجی کو ہماری پرانی عقل سے مت تولیں
قرآن کہتا ہے:
"مَّا يَلْفِظُ مِن قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ"
(وہ کوئی لفظ منہ سے نہیں نکالتا مگر اس کے پاس ایک نگہبان تیار ہوتا ہے۔)
(القرآن، ق: 50:18)
اور سورۃ الجاثیہ میں فرمایا:
"هَذَا كِتَابُنَا يَنطِقُ عَلَيْكُم بِالْحَقِّ ۚ إِنَّا كُنَّا نَسْتَنسِخُ مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ"
(یہ ہماری کتاب ہے جو تمہارے بارے میں سچ سچ بول رہی ہے (Dataبیشک ہم لکھواتے جاتے تھے جو تم کرتے تھے۔)
(القرآن، الجاثیہ: 45:29)
یہ نستنسخ کا لفظ بہت اہم ہے۔
اگر انسان (ٹیسلا اور آج کی AI) ایسی مشین بنا سکتا ہے جو دماغ کی لہروں کو تصویر میں بدل دے، تو ک��ا اللہ کا نظام آپ کی پوری زندگی کی آڈیو ویڈیو ریکارڈنگ نہیں کر رہا؟
👇
��ہزاد اقبال نے نواز شریف کے توشہ خانہ پر ڈاکوں کی کہانی کھول کر رکھ دی
نواز شریف نے توشہ خانہ کو مال غنیمت سمجھ کر لوٹا اور الیکشن فارم پر ان تحائف کا کہیں زکر بھی نہیں تھا
دورانِ انٹرویو، جب کمرے میں خاموشی چھا گئی، باس نے ایک گہرا سوال کیا،
"آپ اس نوکری کے لیے کتنی تنخواہ کی توقع رکھتی ہیں؟"
خاتون نے اپنی آنکھوں میں اعتماد اور عزم کی چمک لیے جواب دیا،
"کم از کم ساٹھ ہزار۔"
اس کا لہجہ پختہ اور پراعتماد تھا، جیسے وہ اپنی قدر خوب جانتی ہوں۔
باس نے مسکراتے ہوئے اگل�� سوال کیا،
"آپ کو کوئی کھیل پسند ہے؟"
"جی ہاں، شطرنج،" خاتون نے فوراً جواب دیا،
"واہ! تو پھر شطرنج کی بات کرتے ہیں۔ اس کھیل کا کون سا مہرہ آپ کا پسندیدہ ہے؟ یا یوں کہیں، کون سا مہرہ آپ کے دل کو چھوتا ہے؟"
باس نے تجسس بھرے لہجے میں پو��ھا۔
خاتون کی آنکھوں میں ایک چمک ابھری اور مسکراتے ہوئے بولی،
"وزیر۔"
"دلچسپ انتخاب! لیکن کیوں؟ میرا تو خیال ہے کہ گھوڑے کی چال سب سے منفرد ہوتی ہے،"
باس نے دلچسپی سے پوچھا۔
خاتون نے اپنی بات کو گہرائی سے بیان کیا،
"بےشک، گھوڑے کی چال منفرد ہے، لیکن وزیر وہ مہرہ ہے جو ہر خوبی کو سمیٹے ہوئے ہے۔ وہ پیادے کی طرح ایک قدم چل کر بادشاہ کی حفاظت کرتا ہے، کبھی فیل کی طرح ترچھا چلتا ہے اور کبھی توپ کی طرح دور تک حملہ کرتا ہے۔ وزیر کی طاقت اس کی لچک اور ہر مشکل حالات میں ڈھل جانے کی صلاحیت میں ہے۔"
باس متاثر ہوا۔ اس نے اگلا سوال داغا،
"بادشاہ کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟"
خاتون نے ایک لمحے کے لیے رُک کر، گہری سوچ میں ڈوب کر جواب دیا:
"بادشاہ... میری نظر میں سب سے کمزور مہرہ ہے۔ وہ صرف ایک قدم چل سکتا ہے اور اپنی حفاظت کے لیے ہر وقت دوسروں پر انحصار کرتا ہے۔ وزیر اسے ہر طرف سے بچاتا ہے، اس کی حفاظت کی مضبوط دیوار بنتا ہے۔"
باس نے اب تک کے انٹرویو سے لطف اندوز ہوتے ہوئے پوچھا:
"بہت خوب! اب یہ بتائیں، ان تمام مہروں میں آپ خود کو کون سا مہرہ سمجھتی ہیں؟"
خاتون کی آواز میں اچانک ایک گہری لرزش آئی۔ ان کی آنکھیں ڈبڈبائیں، لیکن انہوں نے ہمت سے جواب دیا:
"میں خود کو بادشاہ سمجھتی ہوں۔"
باس حیران ہوا۔
"لیکن آپ نے تو ابھی کہا کہ بادشاہ کمزور ہوتا ہے، خود کو بچانے کے لیے وزیر کا محتاج ہوتا ہے۔ پھر آپ خود کو بادشاہ کیوں سمجھتی ہیں؟"
خاتون کی آواز میں ایک درد اور عزم کا عجیب امتزاج تھا۔ انہوں نے کہا،
"جی ہاں، میں بادشاہ ہوں۔ اور میرا وزیر۔۔۔ میرا شوہر تھا۔
وہ میری طاقت، میری حفاظت اور میری ہر مشکل میں ڈھال بنتا تھا۔ اس کی سوچ اور محبت نے مجھے ہر مشکل حالات میں سنبھالا۔ وہ میرا سب کچھ تھا۔"
کمرے میں ایک گہری خاموشی چھا گئی۔ باس کی آنکھوں میں بھی ایک عجیب سی چمک تھی۔ اس نے ہلکے ہاتھوں سے تالی بجاتے ہوئے کہا،
"بہت خوب! یہ واقعی ایک متاثر کن جواب تھا۔"
پھر، انٹرویو کو سمیٹتے ہوئے، باس نے آخری سوال کیا:
"آپ یہ نوکری کیوں حاصل کرنا چاہتی ہیں؟"
خاتون کی آواز اب بھرائی ہوئی تھی،
"کیونکہ میرا وزیر اب اس دنیا میں نہیں رہا۔"
کمرے میں موجود ہر شخص کی آنکھیں نم تھیں۔ یہ انٹرویو محض ایک سوال و جواب کا سلسلہ نہیں تھا، بلکہ ��یک ایسی عورت کی کہانی تھی جس نے اپنے درد کو طاقت بنایا، اپنی کمزوری کو عزم میں بدلا اور اپنے وزیر کی یادوں کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لیا۔ یہ کہانی ہر اس شخص کے لیے ایک پیغام ہے جو زندگی کے شطرنج کے کھیل میں ہمت اور محبت کے ساتھ آگے بڑھنا چاہتا ہے۔
اپنا جائزہ لیجیے.....!💔
مچھلی پانی میں ہی پیدا ہوتی ہے اسے کیا معلوم کہ یوں پانی میں رہنا ڈوب کر مرنے کا باعث ہے،
جنات آگ کے بنے ہیں انھیں کیا معلوم کہ آگ جسم کو جلا دیتی ہے،
کیڑے مکوڑے زیر زمین رہتے ہیں وہ بھی بے خبر ہیں کہ زیر زمین مردے دفن کئے جاتے ہیں،
اسی طرح جب ہم برائی کے ماحول میں پلتے بڑھتے ہیں تو ہمیں اندازہ ہی نہیں ہو پاتا کہ اچھائی کی سفارشات کیا ہوتی ہیں ۔
آج کل زیادہ تر بچوں کی پرورش ٹیلیویژن اور بے لگام موبائل فون کے سامنے ہو ��ہی ہے۔۔
آپ نے یقیناً محسوس کیا ہوگا کہ جب ابتدا میں لوگوں نے ڈرامے دیکھنا شروع کئے تھے تب انہیں بیوی اور بہنوں بیٹیوں کی موجودگی کی وجہ سے ڈرامے کے کئی مراحل پر ناگواری محسوس ہوتی تھی..
لیکن آج کسی صابن کے اشتہار میں جب آنکھوں کے عین ��امنے ایک نیم برہنہ خاتون کو نہاتے ہوئے جسم پر صابن لگاتے دکھایا جاتا ہے تو جنبش بھی پیدا نہیں ہوتی کیونکہ گندے جوہڑ کے حشرات کی طرح غلیظ پانی میں رہ رہ کر ہم پاکیزگی کے اطوار بھول چکے ہیں ۔
آج فلمی انداز کے نیم برہنہ لباس جب ہم اپنی معصوم بچیوں کو پہناتے ہیں تو درحقیقت ہم اس ناری ماحول کی طرف انھیں لے کے جا رہے ہوتے ہیں جو جسم کو جلا دیتا ہے،
یونیورسٹی میں بیٹوں کا لڑکیوں کے ساتھ مل بیٹھنا، بلا وجہ گپ شپ اب والدین کو بھی برا نہیں لگتا کیونکہ ہم مینڈک کی طرح گرم پانی میں خود کو ڈھالتے جا رہے ہیں،.
تہذیب جو کسی مذہب اور خطے کا لباس ہوتی ہے اسے ہم تاریخ کی کتابوں میں ب��د کرتے جا رہے ہیں۔
ٹیلیویژن کی سکرین سے لے کر شادی بیاہ اور منگنی کی تقاریب تک ہم جس ماحول کی طرف بڑھ رہے ہیں، یہ ماحول کل تک ہمارے آباؤ اجداد کے سامنے حد درجہ قابل نفرت تھا،
اپنے آپ کو دیکھو اور اپنی آنے والی نسلوں کو بچاؤ اس آگ سے جس نے سب کچھ جلا کر راکھ کر دینا ہے۔
شرم و حیا جو مسلم��ن کے لیے کئی برائیوں کے خلاف ایک ڈھال کی حیثیت رکھتی ہے کہیں ہم یہ ڈھال پھینک تو نہیں بیٹھے؟
کہیں ہم وہ بیج تو نہیں بو رہے جس کی جڑیں کل کو ہماری عمارت ہی اکھاڑ پھینکیں گی؟؟؟؟؟
اک چھوٹی سی کوشش اپنی آنکھیں کھولنے کی۔
امید ہے کہ یہ بات تیرے دل میں اتر جائے
خواہش صرف اتنی ہے کہ کچھ الفاظ لکھوں جس سے کوئی گمراہی کے راستے پر جاتے جاتے رک جائے نہ بھی رکے تو سوچ میں ضرور پڑ جائے۔
ایک ساس ڈاکٹر کے پاس گئی اور کہنے لگی:
"ڈاکٹر صاحب! کوئی ایسی دوا دے دیں کہ اس بار میری بہو کے بیٹا ہی ہو۔ دو بیٹیاں پہلے ہو چکی ہیں، اب تو بیٹا ہی ہونا چاہیے۔"
ڈاکٹر نے سکون سے جواب دیا:
"میڈیکل سائنس میں ایسی کوئی دوا موجود نہیں۔"
ساس نے فوراً کہا:
"اگر آپ کے پاس نہیں تو کسی اور ڈاکٹر کا بتا دیں؟"
ڈاکٹر نے نرمی سے کہا:
"آپ نے شاید میری بات غور سے نہیں سنی۔ میں نے یہ نہیں کہا کہ مجھے دوا کا نام نہیں آتا، میں یہ کہہ رہا ہوں کہ میڈیکل سائنس میں ایسی کوئی بھی دوا ہے ہی نہیں۔"
اسی وقت لڑکی کا سسر بولا:
"لیکن فلاں لیڈی ڈاکٹر تو کہتی ہے کہ…"
ڈاکٹر نے بات کاٹتے ہوئے کہا:
"وہ جعلی ڈاکٹر ہوگی۔ اس طرح کے دعوے جعلی پیروں�� فقیروں اور نام نہاد حکیموں کا کام ہے۔ یہ سب فراڈ ہے۔"
پھر لڑکی کا شوہر بولا:
"تو کیا مطلب ہماری نسل نہیں چلے گی؟"
ڈاکٹر نے کہا:
"نسل چلنے کا مطلب ہے آپ کے جینز کا اگلی نسل میں منتقل ہونا۔ یہ کام تو آپ کی بیٹیاں بھی کر سکتی ہیں۔ بیٹا ہونا کیوں لازمی ہے؟ ویسے بھی، آپ لوگ عام انسان ہیں، آپ کی نسل میں ایسی کیا خاص بات ہے کہ وہ بیٹے کے ذریعے ہی چلنی چاہیے؟"
سسر نے حیرانی سے کہا:
"میں سمجھا نہیں!"
ڈاکٹر نے مثال دیتے ہوئے کہا:
"ساہیوال کی گائے کی ایک مخصوص نسل زیادہ دودھ دیتی ہے۔ اگر اس نسل کی ایک ہی گائے بچ جائے تو فکر ہونی چاہیے کہ کہیں یہ نسل ختم نہ ہو جائے۔
طوطوں کی ایک خاص قسم بولتی ہے۔ اگر اس نسل کی ایک ہی طوطی بچی ہو تو پریشانی بنتی ہے کہ کہیں یہ نسل نایاب نہ ہو جائے۔
لیکن آپ لوگ تو عام انسان ہیں۔ دنیا میں چھ سات ارب انسان اور بھی ہیں۔ آخر آپ میں ایسا کیا خاص ہے؟"
یہ سن کر سسر بولا:
"ڈاکٹر صاحب! کوئی نام لینے والا بھی تو ہونا چاہیے!"
ڈاکٹر نے مسکرا کر پوچھا:
"اچھا یہ بتائیں… آپ کے پردادا کا کیا نام تھا؟"
سسر ہکلاتے ہوئے بولا:
"وہ… وہ… ہممم… شاید… وہ…"
ڈاکٹر نے کہا:
"دیکھیے! آپ کو اپنے پردادا کا نام بھی یاد نہیں، حالانکہ انہیں بھی یہی فکر رہی ہوگی کہ میرا نام کون لے گا۔ اور آج اُن کی اولاد کو اُن کا نام بھی معلوم نہیں۔
ویسے بھی، آپ کے مرنے کے بعد کوئی آپ کا نام لے یا نہ لے، آپ کو کیا فرق پڑے گا؟ قبر میں پڑی ہوئی ہڈیوں کو کس چیز کا سکون ملے گا؟"
ڈاکٹر نے مزید کہا:
"علامہ اقبال کو گزرے کتنے برس ہو گئے، مگر آج بھی ان کا نام نصاب میں زندہ ہے۔
گنگا رام دنیا سے رخصت ہو گئے، مگر گنگا رام ہسپتال کی وجہ سے آج بھی یاد کیے جاتے ہیں۔
ایدھی صاحب چلے گئے، مگر ان کا نام ہمیشہ زندہ رہے گا۔
اور سب سے بڑھ کر… رسولِ اکرم ﷺ کی مبارک زندگی دیکھیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو بیٹے عطا فرمائے مگر انہیں واپس بلا لیا، اور تین بیٹیوں کے ذریعے پوری دنیا میں آپ ﷺ کی نسل کو پھیلا دیا۔"
آخر میں ڈاکٹر نے کہا:
"لہٰذا بیٹی اور بیٹے میں فرق نہ کریں۔ بیٹا نعمت ہے، تو بیٹی رحمت ہے۔"
منقول
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
@UrduVirsa داغ دل نکلیں گے تربت سے مری جوں لالہ
یہ وہ اخگر نہیں جو خاک میں پنہاں ہوں گے
چاک پردے سے یہ غمزے ہیں تو اے پردہ نشیں
ایک میں کیا کہ سبھی چاک گریباں ہوں گے
@UrduVirsa ہر دل کی طلب سے ہے غم یار پریشاں
جب ایک ہی مہماں ہو کس کس کے گھر آئے
ترسیں گے اسے بھی شب فرقت مری آنکھیں
رونا بھی جبھی تک ہے کہ خون جگر آئے
اے داغ گلہ غیر سے کیا بزم میں تم کو
جب دوست کہے آپ کے دشمن کدھر آئے
@UrduVirsa فرصت جو ملی دفن سے پھر رنج کسے تھا
ہنستے ہوئے ساتھ ان کے مرے نوحہ گر آئے
موت آئی ہوئی ٹل بھی گئی آج تو پھر کیا
کیا عمر رواں ہے کہ نہ بار دگر آئے
کم حلقہ گیسو سے نہیں دام تصور
جانے بھی نہ دوں اس کو وہ اب کے اگر آئے