If it’s true that Tabish Hashmi has been removed from Hasna Mana Hai, it only further exposes the insecurity & narrow-mindedness of those ruling Pakistan today. His video was spot on. It was respectful, factual, and offensive to no one. A little thicker skin would go a long way. Well done, @Tab_Hash_Me, for standing up for our Kashmiri brothers and sisters.
Watch the video for yourself and decide.
"میں نے اتنی بے حس حکومت نہیں دیکھی کہ جہاں لوگ بجلی کا بل دیکھ کر خود کشی کر رہے ہوں اور حکومت ایک کمپنی کی طرح چلائی جا رہی ہو، اسلام آباد میں نئے DHA کیلئے یونیورسٹیز کی 250 ایکڑ زمین وزیراعظم نے 24 گھنٹوں میں DHA کو دے دی، اسوقت 10 سے زیادہ وزیر نہیں ہونے چاہییں لیکن ایک وزارت میں وزیر، مشیر، معاون خصوصی، وزیراعظم کا کوارڈینیٹر اور پارلیمانی سیکرٹری سمیت 5-6 لوگ ہیں، پورے جنوبی ایشیا میں تیل پاکستان میں سب سے مہنگا ہے، ڈیتھ سرٹیفیکیٹ سمیت کئی سروسز کی فیس میں 100 فیصد اضافہ ہو چکا ہے"
سینئر صحافی @SanaullahDawn کا ہائبرڈ نظام کی کارکردگی پر بے لاگ تجزیہ
@DRTPakistan
https://t.co/LPkohboWsl
Seeing this 52-minute documentary leaves little doubt that @DeutscheWelle has done such a crude, intellectually dishonest, hatchet job of raising alarm about Pakistan’s nuclear program by questioning its legitimacy & safety, recycling old propaganda to link it to religious extremism! For example, the documentary starts off with the laughable proposition that Pakistan ‘illegally developed’ The Bomb, as if there’s a legal path to acquiring nuclear weapons, which Germany’s friends like India & Israel may have pursued! Then this documentary goes on to say the Pakistan Government ‘officially revealed’ the Bomb via the nuclear tests in 1998, WITHOUT MENTIONING that Pakistan’s tests were in response to the nuclear tests of India, also the architect of nuclearisation of South Asia, a fact that Deutsche Welle conveniently overlooks in its quest to demonise Pakistan! Given these low standards of professionalism of Germany’s ‘state-funded international broadcasting network’, it is perhaps no accident that Germany’s own international standing has fallen, since Germany suffered a humiliating defeat in elections to the UN Security Council in June 2026, losing to Austria & Portugal. Ironically, this defeat at the UN coincided with the first anniversary of German Chancellor Merzl’s shocking acclaim of Israeli aggression against Iran in June 2025, when he said ‘Israel is doing our dirty work’ & ‘rules of international law do not apply to Iran’!
India’s Education Minister Dharmendra Pradhan resigns after youth-led protests over exam paper leaks. The move follows nationwide anger over student demands for accountability, jobs and education reforms.
Al Jazeera’s Neha Poonia reports.
عمران خان کے دور میں عوام کے لیے ایک پراجیکٹ شروع ہوا.
50 ہزار سستے گھروں کے اس پراجیکٹ کے سلسلے میں 4 ہزار گھر اسلام آباد فراش ٹاؤن میں تعمیر ہونے تھے جن میں سے ڈھائی سے تین ہزار گھروں کہ تعمیر تقریبا مکمل ہو چکی تھی ۔ کہیں تو پپینٹ ہو کر کھڑکیاں اور دروازے بھی لگ گئے تھے لیکن پھر عمران خان کی حکومت چکی گئ۔
اور نئے چہرے ہم پر مسلط ہوے جن کے لیے غریب اور عوام کبھی بھی اہمیت نہیں رکھتے اس لیے عمران خان کے دور میں سرکاری فنڈز سے بنائے گئے اس پراجیکٹ کو نئ حکومت نے اہمیت ہی نہیں دی اور یوں یہ عمارتیں اب کھنڈر کا سما پیش کر رہی ہیں۔
پاکستانی اشرافیہ کے نام پر بدمعاشیہ، مافیا کے ہوش ربا کارنامے سنئے۔
میری آپ سے درخواست ہے کہ اس ویڈیو کو سنئے اور اس کو آگے پھیلائیے ،مافیا کیخلاف شعور کو جگائیے۔
بریکنگ نیوز 🚨دفاعی تجزیہ کار جنرل (ریٹائرڈ) اعجاز اعوان سخت پابندیوں کے بعد منظر عام پر آگئے۔ عمران خان کے حق میں کھل کر بول اُٹھے 🔥🔥
عاصمہ چوہدری کا سوال : آپ کو لگتا ہے پاکستان میں اس وقت حقیقی مینڈیٹ ہے؟ اصلی لیڈرشپ ہے؟ جسے عوام پسند کرتی ہے اور کیا یہ اصلی مینڈیٹ ہے؟
جنرل عجاز اعوان : دیکھیں اس مینڈیٹ کے بارے میں جو پوری قوم کہے رہی ہے میری رائے بھی وہی ہے۔ میری رائے وہی ہے جو میجورٹی کی رائے ہے۔
عاصمہ چوہدری : آپ کیا سمجھتے ہیں عمران خان کا پھر قصور کیا تھا؟
جنرل اعجاز اعوان کا دبنگ جواب : عمران خان کا کوئی قصور نہیں ہے۔ ملٹری لیڈرشپ نے پولٹیکل لیڈرشپ کو آگے لا کر ملکر عمران خان کو اقتدار سے ہٹایا۔ کہاں سے حکم آیا تھا، کس کے آرڈرز تھے خان کو ریموو کرنے کے وہ پوری قوم جانتی ہے۔ آج ہم جب دیکھتے ہیں تو کیا اُس وقت مہنگائی زیادہ تھی؟ کیا اُس وقت بے روزگاری زیادہ تھی؟ کیا اُس وقت ملک میں امن کی حالت اس سے ابتر تھی؟ جواب تو ہے کہ نہیں اس سے بہتر تھی۔ اس سے حالات بالکل بہتر تھے۔ تو آنے والوں نے جنہیں زبردستی قوم پر مسلط کیا گیا، انہوں نے نہ بہتری معشیت میں لائی، نہ امن وامان میں لائی، نہ روزگار میں لائی۔ تو اگر کوئی بہتری نہیں لاسکے تو میرے خیال میں یہ جو فیصلہ تھا اگر اس کو اگلے الیکشن تک عوام پر چھوڑ دیا جاتا تو آج شاید میرے خیال میں بہت بہتر ہوتا لیکن یہ جو دو ڈائنسٹیز ہیں بڑی اور تیسری چھوتی قوت جو شامل ہوگئی تھی ، ایم کیو ایم، کیو لیگ اور ایک جو ج�� ڈی اے تھی بلوچستان والی۔ جب ان سب لوگوں نے کچڑی میں اپنا اپنا حصہ ڈالا تو عدم اعتماد ہوگیا۔ کہنے کو یہ Constitutional تبدیلی ہے لیکن جیسے آئی ہمیں پتہ ہے مفاد پرست لوگ تھے، آج اقتدار میں ب��ٹھے ہوئے ہیں اور مزے کر رہے ہیں اور اسکی قیمت ادا کر رہی ہے عوام۔ تو میں سمجھتا ہوں جتنا جلدی ہم فری اینڈ فیئر الیکشن کی طرف جائیں گے، جتنا True Representative of the People اقتدار میں آئیں گے، جو عوام کے ساتھ جاکر اپنے آپ کو Connect کرسکیں، تو میرے خیال میں اتنا جلدی ملک میں امن قائم ہو جائے گا۔
پاکستان اب غریب کیلئے زندگی گزارنے کے قابل نہیں رہا، اس ملک کو چھوڑ بھی نہیں سکتے۔ مہنگائی نے ہمارا جینا بھی مشکل کر دیا اور مرنا بھی اور خود کشی ویسے ہی حرام ہے ۔حالات سے تنگ نوجوان رو پڑا
پاکستان کے علاوہ دنیا کے کسی ملک میں ایسا نہیں کہ جو شخص 1988 میں وزیراعظم کا امیدوار تھا وہی 2024 میں وزیراعظم کاامیدوار ہے۔۔ 1985 کی اسمبلی میں جو لوگ تھے وہ آج بھی اسمبلی میں ہیں۔۔ ماہر قانون بیرسٹر سعد رسول
پہلی خبر:پاکستان نے سعودی عرب سے 6.7 ارب ڈالر کا تیل مانگ لیا
دوسری خبر:پاکستان نے امریکہ سے 10 ارب ڈالر مانگ لئے۔
تیسری خبر:پاکستان نے اعلیٰ بیوروکریسی کےلئے 2 ارب روپے کا پیکیج منظور کرلیا۔
چوتھی خبر:پاکستان کی ترقی دشمنوں کو ہضم نہیں ہو رہی۔
https://t.co/vU55OqyPJZ
It has now been around 1,100 days since my father, Imran Khan, was imprisoned, and my brother and I haven’t heard his voice since March. For months, we’ve been denied contact with him. We remain in the dark about his access to healthcare as his eyesight continues to deteriorate. He urgently needs medical attention, and with no family or legal access, we don’t even get any second hand information or reassurance.
I’ve found myself especially missing him recently. I want to speak to him about mundane things like my cricket, books I’ve been reading and what new movies are good. I understand the people of Pakistan want their chosen leader free, but I miss my father more than ever.
But this is not just about a father. It is about Pakistan, and its future. A rigged, authoritarian regime continues to crush political opposition, undermine democratic institutions, and deny millions of Pakistanis their right to freely choose their leaders, whilst terrorising those who speak their beliefs.
I once again plea to the international community to not look away. Silence in the face of injustice only enables it.