پاکستانی اولادیں جونکیں بن کر ماں باپ کے ساتھ چمٹی انکا خون چوستی ہیں ۔۔ شادی شدہ بیٹے بیٹیاں تک ماں باپ کے سر پہ پل رہے ہوتے ہیں ۔ انکی ہنشنیں تک کھا رہے ہوتے ہیں ۔۔ انہیں بوڑھا ضعیف لاچار کر دیتے ہیں ۔ پھر کس منہ سے کہتے ہیں کہ اب انہیں آخری عمر میں سنبھالنا نہیں ہے ؟
کار سے لے کر ٹرک تک میں بیٹھے موٹر سائیکل اور رکشے میں جہاں کوئی عورت نظر پڑ جائے آنکھ سے اوجھل ہونے تک اسے دیکھی جاتے ہیں۔ اور اگر کسی عورتوں سے بھری سواری کے گرد پیچھے دور تک جتنی بھی چھ سات گاڑیاں بائیک ہوں گی۔ سب میں بیٹھے مرد ان عورتوں کو برابر گھورتے جا رہے ہوں گے۔ 😀😀
پاکستان میں عوامی مقامات پر مرد عورتوں کو بلاوجہ گھورتے ہیں
خواتین میں عمر، قد کاٹھ، لباس، حلیہ اور معاشی حیثیت سے کچھ فرق نہیں پڑتا۔ پاکستان میں کسی ایک معاملہ میں برابری ہے تو وہ یہی ہے کہ عورت کو کسی بھی حال میں، کسی بھی روپ میں، بلا امتیاز گھورا جائے۔
جواب مرد حضرات یہ کہہ سکتے ہیں ’ناٹ آل مین‘۔ جی ہاں، تمام مرد ایسا نہیں کرتے ہوں گے۔ لیکن تمام عورتیں اسے برداشت ضرور کرتی ہیں۔ سو ’یس آل ویمن یہ برداشت کرتی ہیں
خواتین کو ہراساں کرنے میں ’گھورنا‘ کمزور ترین درجہ ہے۔ آوازیں کسنا، پیچھا کرنا، نازیبا اور زو معنی جملے کہنا اور چھونا اس سے بڑھ کر ہیں۔ گھورنے پر وہی اکتفا کرتے ہیں جنھیں اس سے بڑھ کر کچھ کرنے کا موقع نہیں ملتا۔
خواتین نے سیکھ لیا ہے کہ انھیں اس کے ساتھ ہی جینا ہے۔ جب بھی گھر سے نکلنا ہے اس رویے کو سہنے کے لیے تیار رہنا ہے۔ وہ لباس اور حلیہ بدل بھی لیں، وہ اپنے آنے جانے کے روٹ اور اوقات تبدیل کر لیں، وہ اپنی کمپنی تبدیل کر لیں، کچھ بھی کر لیں وہ مردوں کی نگاہوں کا رُخ نہیں بدل سکتیں۔