1۔ لاہور سے خود لانگ مارچ شروع کیا تا کہ عاصم منیر کی آرمی چیف تعیناتی کو روکا جائے۔
2۔ مجھے ڈی چوک میں دھرنا دینے کو کہا تا کہ جسٹس فائز عیسی کی تعیناتی کو روکا جائے۔گنڈاپور
3۔ مجھے بلا کر مخالفین کے خلاف کیسز اور گرفتار کرنے کا حکم دیا۔ سابق DG ایف آئی اے۔
صُوبہ اسلام آباد کے رہائشی ۔۔۔
صدر
وزیر اعظم
نائب وزیر اعظم
سینیٹ چیئرمین
سپیکر قومی اسمبلی
چیف جسٹس پاکستان اور ججز
چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت اور ججز
چیف جسٹس اسلام آباد اور ججز
وزیر صحت
وزیر داخلہ
وزیر خارجہ
وزیر دفاع
وزیر تعلیم
فیلڈ مارشل/چیف آف ڈیفنس فورسز/آرمی چیف
ائیر چیف مارشل
نیول چیف
ڈی جی آئی ایس آئی
چیف الیکشن کمشنر
100 سینیٹرز
336 ممبران قومی اسمبلی
کمشنر
ڈپٹی کمشنر
سی ڈی اے چیئرمین
آئی جی پولیس
درجنوں وزیر/مشیر
دسیوں درجن سینئیر بیوروکریٹس
جس دن ان سب کے بچے اسلام آباد کے سرکاری سکولوں میں تعلیم حاصل کرنا شروع کر دیں اور ان کا علاج اسلام آباد کے دونوں سرکاری ہسپتالوں میں ہونا شروع ہو جائے تو سارے پاکستان میں حالات بہتر ہو جائیں گے۔ پھر جتنے چاہے صوبے بنا لیں۔
پروفیسر محمود اختر
لیکچرر، ویمن یونیورسٹی باغ
"جو آزادی کالعدم ایکشن کمیٹی چاہتی ہے، وہ آزادی مجھے قبول نہیں۔ اگر کشمیر کبھی آزاد یا خودمختار ہو گیا تو ہم لیاقت باغ، راولپنڈی میں جھونپڑی بنا کر رہنا پسند کریں گے، مگر ایسے کشمیر میں نہیں رہیں گے۔"
مرحوم سردار خالد ابراہیم نے بھی کہا تھا:
"اگر کبھی کشمیر خودمختار ہو گیا تو میں اسلام آباد ہجرت کر جاؤں گا۔"
عمر ایوب
زرتاج گُل
مراد سویٹ
میں اسلم اقبال
حماد اظہر
وغیرہ وغیرہ ۔ کو نو مئی حملوں میں 30 , 30 سال قید ہو چکی ہے !
اور ہمارا ششٹم ان کو Kpk سے گرفتار نہی کر سکتا !!
ششٹم تو واقعی خراب ہے سر
پشاور یونیورسٹی کے اسٹیج پر وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے جب سٹوڈنٹس سے عمران خان کے لئے تالیاں بجانے کا کہا تو کچھ خاص جوش نظر نہیں آیا،سہیل آفریدی نے اپنی طرف سے طنزیہ کہا اسٹبلشمنٹ کے لئے تالیاں بجاؤ گے،سٹوڈنٹس نے اتنے جوش و خروش سے تالیاں پیٹیں کہ وزیر اعلیٰ حیران رہ گئے
پولنگ ٹھیک پانچ بجے ختم ہوئی اور پانچ بج کر دو منٹ پر یعنی صرف دو منٹوں میں جیو نیوز کو نتائج بھی موصول ہونا شروع ہوگئے ۔۔۔ اس سے بڑا جھوٹ اور کیا ہوسکتا ہے، دو منٹ تک ڈبے بھی نہیں کھولے گئے ہوں گے تو نتائج کہاں سے آئے ۔۔۔
🤔
میڈیا تیزی سے اپنی ساکھ گنواتا جا رہا ہے ۔۔۔
اتفاق۔۔یاپھر۔۔ایک جیسے کرتوت پر ایک جیسا انجام۔۔۔!!!!
خلافت سے ملوکیت کا سفر طے کرنے والی یزید کی حکومت کا دورانیہ۔۔۔3 سال 7 مہینے 22 دن۔۔۔۔۔!!!!
صیہونیت اور مرزائیت کی چھتری تلے بننے والی قیدی نمبر 420 اور نوسرباز نمبر 804 کی حکومت بھی 3سال 7 مہینے اور 22 دن کی تھی۔۔۔۔!!!!
جب ایران جنگ شروع ہوئی پی ٹی آئی والوں نے فورا پاکستان پر اٹیک شروع کر دیا کہ پاکستان نے ایران کا سودا کر دیا ہے اسرائیل تسلیم کر لیا ہے اور گریٹر اسرائیل اور ابراھیم اکارڈ کے لئے ایران میں رجیم چینج ہو رہا ہے راجہ ناصر عباس جیسوں نے آگ بھڑکائی اور کراچی میں امریکی سفارت خانے پر حملہ ہوا گلگت سکردوں میں فوجی زندہ جلا دیے پھر وقت نے ثابت کیا پاکستان نے ایران کی ہر ممکنہ مدد کی اور جنگ بند کروا کر امن معاہدہ کروایا اب ایران کے صدر باقاعدہ مبارک دینے آئے ہیں اور یہ لوگ پھر بھی خوش نہی ساڑ پھونک رہے ہیں
آخر یہ چاہتے کیا ہیں ؟
سندھ پیپلزپارٹی نے تباہ و برباد کردیا لیکن میڈیا پر کہیں آپ کو سندھ سے متعلق کوئی ٹاک شو ھوتا ھوا نظر نہیں آئے گا،پی ٹی آئی نے خیبرپختونخواہ تباہ کردیا ،کرپشن لی آماجگاہ بنادیا صوبے کو لیکن نام نہاد صحافیوں کا ٹولہ آپ کو خیبر پختونخواہ کے حالات الیکٹرانک میڈیا یا سوشل میڈیا پر نہیں دکھائے گا،آزاد کشمیر ،جی بی اور بلوچستان کی تباھی میں بھی پیپلزپارٹی کی کرپشن اور نااھلی کا ھاتھ ھے ،رہ گیا پنجاب اور وفاق ،جہاں کام ھوتے ھوئے نظر آتے ھیں ،نئے منصوبے لگ رھے ھیں،ترقیاتی کام ھورھے ھیں ،نئے ھسپتال بن رھے ھیں،تعلیم پر ریکارڈ بجٹ لگایا جارھا ھے،سڑکوں کا جال،پبلک ٹرانسپورٹ کا نظام ،بازاروں کی ری ماڈلنگ سمیت بہت سے منصوبے پائپ لائن میں ھیں اور بہت سے تعمیر ھوکر عوام کے لئے آسانی پیدا کررھے ھیں لیکن میڈیا کے ٹاؤٹس سارے کیمرے یہاں رکھ کر بیٹھے ھیں اور رپورٹنگ ھورھی ھے کہ مریم نواز نے کتنے کے جوتے پہنے اور کتنے کے کپڑے۔کاش ھمارا میڈیا وہ حالات دکھاتا جو دو جماعتوں کی نالائقی سے پیدا ھوئے ھیں۔
پنجاب کے بجٹ میں پچھلے سال غریب ججوں کو گھر بنانے کے لئے قرضے دینے کے لئے ایک ہزار ارب رکھا گیا تھا اور اس سال بھی ہزار ارب ہی رکھا ہے سوچیں پندرہ بیس لاکھ تنخواہ اور مفت بجلی گیس والے جج کو گھر بھی سرکاری قرضے سے بنانا ہے اور عام سرکاری ملازم بارے مریم صاحبہ کہتی ہیں وہ ہم پر بوجھ ان کی تنخواہ پینشن کے پیسے نہی ہیں
جناب اسپیکر میں جیل میں تھا ایک دن 9 وجے 30 افراد آئے ان کے ہاتھ میں قیدیوں کی یونیفارم تھی مجھ سے کہا یونیفارم پہن لیں
میں نے کہا نہ پہنوں تو کیا ہوگا
یونیفارم پہن لی مجھے ہتھکڑی لگا کر تصاویر بنائی گئی وہ تصاویر بھی کوئی منگوا کر دیکھتا تھا۔ حنیف عباسی