پمز ہسپتال اسلام آباد میں آتشزدگی کے نتیجے میں 14 نو مولود بچوں کی ہلاکت پہ گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کرتا ہوں ۔۔
انتہائی دردناک، دلخراش، افسوسناک سانحہ ہے ۔
جانبحق ہونے والے معصوم بچوں کے والدین اور لواحقین سے دلی تعزیت کرتا ہوں ۔۔
یہ حقیقت ایک بار پھر سامنے آ گئی ہے کہ پاکستان میں عام انسان کی جان اور سلامتی کس قدر غیر یقینی ہو چکی ہے۔ افسوس کہ ہمارا ملک ایک ایسے غیر محفوظ معاشرے کی صورت اختیار کرتا جا رہا ہے جہاں انسانی جان کی وہ قدر و قیمت نہیں جو ہونی چاہیے۔
جب ریاست اپنے شہریوں کو بنیادی تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہو جائے اور معمولی غفلت بھی قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کا سبب بننے لگے تو یہ ایک انتہائی تشویش ناک صورتِ حال ہے۔
حکومت غفلت برتنے والے زمہ داروں کا تعین کرے اور عبرتناک سزا دے
,ابراہیمی سیاست کا خلاصہ،
1۔آمن وسلامتی۔2۔معاشی خوشحالی۔3۔فکری آزادی:
نمرودی سیاست۔ا۔اقتدار۔2۔جبر۔3۔شخصی حاکمیت۔
سوال یہ ہے کہ پاکستان میں کونسی سیاست ہے؟
اگر نمرودی سیاست ہے؟ پھر نمرودی سیاست کے خلاف
عالم بغاوت بلند کر نا سنت ابراھیمی ہے۔
کون کون تیار ہے؟
ٹیم جے یوآئی ٹوئٹر کی جانب سے سرکار دو جہاں حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو نذرانہ عقیدت و محبت کے سلسلہ میں آج 6 بجے ٹوئٹر (x) پر ٹرینڈ چلایا جائیں گا۔ احباب درود شریف کا اہتمام بھی کریں اور ٹرینڈ کیلئے تیار بھی رہے۔ شکریہ۔
پمز ہسپتال میں نومولود بچوں کی آتشزدگی پر دل خون کے آنسو رو رہا ہے ۔ترجمان جے یو آئی
ہر ادارہ تباہی وبربادی کے دہانے پر کھڑا ہے ۔اسلم غوری
وفاقی حکومت میں اپنے زیر انتظام چند ہسپتالوں کا نظام درست کرنے کی اہلیت بھی نہیں ۔اسلم غوری
یہ حکمران ملک کیا سنبھالیں گے ؟ اسلم غوری
خطے میں سب سے زیادہ مراعات لینے والی پارلیمنٹ سے چند فرلانگ پر پمز ہسپتال بنیادی سہولیات سے محروم ہے ۔ اسلم غوری
حکمران قوم کا پیسہ اپنی عیاشیوں پر خرچ کریں گے تو ایسے حادثات ہی رونما ہونگے ۔اسلم غوری
متاثرہ خاندانوں کے دکھ درد میں شریک ہیں ۔اسلم غوری
اللہ کریم لواحقین کو صبرجمیل دے ۔اسلم غوری
میڈیا سیل جے یو آئی پاکستان
تحقیق المسائل گروپ ♥️
روز مرہ کے پیش آمدہ مسائل کے حل کے لیےاس 👇 گروپ کو جوائن کریں
https://t.co/LnKdes5SVo
ڈیلی حدیث مبارکہ حاصل کرنے کیلئے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کریں
شکریہ 🌹🌹
https://t.co/U1kLzwYGvx
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ولادت کے اس مبارک مہینے میں اجتماعات تو کرتے ہیں لیکن ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سیرت کو نہیں اپناتے۔ نہ ہم آپ کے اخلاق کو اپناتے ہیں، نہ آپ کی دی ہوئی تہذیب کو ہم اپناتے ہیں، نہ آپ کی تعلیم کو ہم قبول کر رہے ہیں، اور نہ آپ کی طرزِ حکمرانی کو ہم قبول کر رہے ہیں۔ آپ خود دیکھ رہے ہیں یہ ساری چیزیں، کس طرح معاشرے کو بگاڑا جا رہا ہے اور دین پر عمل پیرا لوگ، ان کا مذاق اڑایا جاتا ہے، انہیں دقیانوسی کہا جاتا ہے، انہیں قدامت پسند کہا جاتا ہے۔
English:
We hold gatherings in this blessed month of the birth of the Prophet Muhammad (peace be upon him), but we do not adopt his character and biography (Seerat). We do not adopt his morals, nor do we adopt the culture and civilization he provided, nor are we accepting his teachings, nor are we accepting his system of governance. You are seeing all these things yourself—how society is being corrupted, and those who act upon religion are mocked, called conservative, and labeled as backward.
پریس ریلیز
اسلام آباد میں متنازع پریس کانفرنس اور "حزب الشیطان" گروپ کی سہولت کاری
قانون ناموس رسالت کو "کالا قانون" کہنے کے حوالے سے "پریس ریلیز"
شبان ختم نبوت پاکستان
تم اپنی حکمتِ عملی میں بدنیت بھی ہو، تم چاہتے بھی نہیں ہو کہ ملک میں کوئی آرام آئے اور اطمینان آئے۔
اور کہتے ہو ریاست ماں ہے، ریاست ماں ہے۔ ماں وہ تو اولاد کو اکٹھا کرتی ہے۔ اگر اس کی اولاد میں کہیں کوئی مسئلہ پیدا ہوتا ہے، اختلاف پیدا ہوتا ہے اور وہ تقسیم ہوتے ہیں، ماں پر کیا گزرتی ہے؟ ماں اپنے اولاد کو جوڑتی ہے۔
ہمیں اللہ نے ایسی ماں عطا کی ہے جو قوم کی تقسیم اور انتشار کی پالیسیاں بناتی ہے۔ لڑاؤ اور حکومت کرو، لڑاؤ اور حکومت کرو۔ قوم کو تقسیم کرنا، سیاسی جماعتوں کو تقسیم کرنا، مذہبی جماعتوں کو تقسیم کرنا، مدارس کی تنظیموں کو تقسیم کرنا، لڑانا، ہر جگہ لوگوں کو ایک دوسرے کے ساتھ، اور تم اس کو مارو اور اس کے ذریعے نیچے کرو۔ یہ حکمتِ عملی بنانا۔
اگر یہ ماں ہے تو ایسی ماں پہ لعنت، ماں اس طرح ہوتی ہے؟ ماں کی ممتا تڑپتی ہے، اپنے اولاد کی، اس کی خیرخواہی کے لیے، ان کی وحدت کے لیے۔ وہ اپنے اولاد کو ایک صف میں دیکھنا چاہتی ہے۔ اس کے دل میں جو اپنے اولاد کے لیے رأفت اور رحمت ہوتی ہے، کیا ہم وہ دیکھ رہے ہیں؟ اس ملک پہ ماں اس طرح ہوتی ہے؟ یہ ماں تو نہیں ہوتی، یہ کوئی ڈائن ہوگی۔ ماں بناؤ ریاست کو، ماں بناؤ، قوم کو ایک قوم بناؤ۔
اور اس حالت پہ کہتے ہیں کہ جو صوبے پہلے سے بنے ہوئے ہیں، ان کو بھی توڑو۔ اب باقی کام رہ گیا ہے، صوبوں کو توڑنا۔ کس لیے؟ خوبصورت نعروں کو قوم کے سامنے رکھتے ہیں۔ ہر برے کام میں آپ اس کی ایک خوبصورت تصویر بنا دیتے ہیں، قوم کے سامنے پیش کرنے کے لیے۔
اب بہت سی باتیں اس کو اصول کے حوالے سے زیرِ بحث نہیں لے جاتی، عملی حوالے سے، ماحول کے حوالے سے اس کو دیکھا جاتا ہے۔ اور ہمیں تو حکمرانوں کی نیت پر بھی شک ہے کہ اٹھارویں ترمیم اور اس پہ صوبوں کے اختیارات ان کے حلق کا کانٹا بنے ہوئے ہیں، اندر نہیں جا رہا ہے۔
اب آئین کہتا ہے کہ صوبوں کے جو حقوق ہیں، NFC ایوارڈ، اس پہ اضافہ ہوگا، کم ہی نہیں ہو سکے گا۔ اب کہتے ہیں یہ تو سارے محصولات صوبے رکھ جاتے ہیں، تو جب صوبے ٹوٹ جائیں گے تو پھر نیا معاہدہ کرنا پڑے گا، نیا NFC ایوارڈ آئے گا۔ تو ہمارے ملک کی قوموں، مختلف صوبوں، اس کے اندر رہنے والے لوگوں، ان کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کے لیے۔
تو میں نے یہ بات ضرور کہی ہے کہ کوئی بندہ لحاف میں لیٹا ہوا تھا، تو اس کے اندر ایک جوں اس کو لگ گیا ہے، تو جوں کو تلاش کرنے کی بجائے اور جوں کو مارنے کی بجائے، اس نے رضائی کو آگ لگا دی ۔
امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا اسلام آباد میں ورکز کنونشن سے خطاب
25 اگست 2026