I am proud to be a part of Jamiat Ulema-e-Islam, the largest group of Ulema-e-Haq.
مجھے علماء حق کی سب سے بڑی جماعت جمعیت علماءِاسلام کاحصہ ہونے پرفخرہے
نیوٹن کا تیسرا قانون ہے کہ ہر عمل کے جواب میں مخالف سمت سے برابر ردِعمل آتا ہے، لیکن بعض معاملات میں برابر سے بھی کہیں زیادہ ردِعمل آ جاتا ہے۔ اب مولانا فضل الرحمن کو ہی دیکھ لیں، ’’سائنسدان ‘‘ ان کے خلاف جتنا زور لگاتے ہیں، اس سے ڈبل، ٹرپل واپس وصول کرنا پڑ جاتا ہے۔😳
وزارت خارجہ اور داخلہ سمیت ڈی جی آئی ایس پی آر کو اس بات کا نوٹس لینا چاہیئے کہ ایک ملک کی ایمبیسی پاکستان کی سرزمین کے اندر دشمن کی معاونت سے ملک کے خلاف سازش کررہی ہے۔ اس سفارتکار کو ملک بدر کرکے اقوام متحدہ میں شکایت کرنی چاہیئے۔
عقیل یوسفزئی کی باتیں بڑی تشویش ناک ہیں اگر یہ سب درست نہیں تو پھر ان کو کٹہرے میں لانا ہوگا کہ یہ تین ممالک کے تعلقات کو مزید نقصان کا سبب بن سکتی ہیں۔
@MohsinnaqviC42@KhSaad_Rafique@CMShehbaz@OfficialDGISPR
میں کچھ نہ کچھ لکھتا رہتا ہوں اسٹیبلشمنٹ کے بارے میں جج جنرل لیکن میری پوسٹ کبھی رپورٹ نہیں ہوئی لیکن ایرانیوں کے بارے میں لکھا تو میری دو پوسٹوں کو رپورٹ کیا گیا گورنمنٹ لیول سے لگ ایسے رہا پاکستان آہستہ آہستہ مجوسی اسٹیٹ میں تبدیل ہو رہا اللہ نہ کرے اگر ایسا ہو
تمہیں مولانا فضل الرحمٰن صاحب کی وفاداری اس وقت یاد آتی ہے جب وہ اسٹیبلشمنٹ کو آئینہ دکھاتے ہیں۔ تمہیں مولانا فضل الرحمٰن صاحب کے انڈیا کے ساتھ تعلقات اس وقت نظر آتے ہیں جب وہ تمہاری پالیسیوں پر انگلی اٹھاتے ہیں۔ اس سے پہلے تم گونگے، بہرے ہوتے ہو۔
"چلا تھا ذکر میری خامیوں کا محفل میں،
جو لوگ بہرے تھے، ان کو سنائی دینے لگا۔"
@ziaurrehman76
کوہاٹ:
اسٹیبلشمنٹ کو پیغام دینا چاہتا ہوں۔ہم آپ کی غلط پالیسیوں پر بھی تنقید کریں گے، ہم آپ کو پاکستان کو صحیح راستہ دکھانے کے لیے بھی آپ کی رہنمائی بھی کریں گے۔ ہم پاکستان میں توہینِ رسالت کے قوانین کا تحفظ بھی کریں گے، اور ہم پاکستان میں کسی مائی کے لال کو یہ اجازت نہیں دے سکتے کہ میرے آقا ﷺ کی ختمِ نبوت کے قانون میں کوئی ترمیم کرنے کا سوچ بھی سکے۔انجینئر ضیاء الرحمٰن کا خطاب
@ziaurrehman76
سنجیدہ سوال ہے ایران ابھی فیلڈ مارشل گے تھے ساتھ محسن نقوی تھا ڈار صاحب بطور وزیر خارجہ اس معاملے سے آوٹ ہیں
ایران کا معاملہ فیلڈ مارشل دیکھ رہے سعودیہ سے دفاعی معاہدہ بھی فوج کا معاملہ وہی دیکھتے ہیں کویت سے ڈیل بھی فوج نے ہی کی ہے
وزیراعظم اور سولین حکومت اٹھارہ گھنٹے جاگ کر کیا کام کرتی ہے وہ کونسی انویسٹمینٹ وغیرہ ملک میں لائی ہے ؟ ملک کے اندر تو جو حال وہ سامنے لمبی لوڈ شیڈنگ مہنگے ترین بل اور روز کوئی بڑا حادثہ ہوتا ہے
17 تاریخ کو مولانا فضل الرحمان اور محمود خان اچکزئی نے جس تقریب میں شرکت کی اور تقریریں کیں اس کی ساری فنڈنگ انڈین ہائی کمشن نے کی تھی یہ میں ثابت کر سکتا ہوں ! عقیل بھنگی ۔۔
فوج سے گزارش ہے کہ الزامات لگوانے ہوں تو کسی منہ متھے والے سے لگوایا کریں اب اس بھنگی کی بات پہ کون یقین کرے گا
فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ہماری عقیدت اس لیے نہیں کہ ہم کسی نئے ڈکٹیٹر کا مزہ چکھنا چاہتے ہیں۔ اس کی بنیاد صرف یہ تھی کہ یہ پہلے حافظ قرآن فورسز سربراہ ہیں کرپٹ نہیں ہیں لیکن سارے نظام کو اپنے تابع کر لینا بھی کرپشن ہے۔ جرنیلوں کی ترقی میں لفظ 'سید' کونہیں اہلیت معیار بناناچاہیے۔
نواز شریف نے شاہ غلام قادر کو ساتھ بٹھا کر وزیر اعظم نامزد کیا پھر شاہ غلام قادر نے حلف برداری کی تقریب میں شرکت کی دعوت دی پھر شاہ غلام قادر کو باقاعدہ وزیر اعظم کا پروٹول ملنا شروع ہو گیا اور جب حلف برداری کی دعوت نامے پرنٹ ہونے کا مرحلہ آیا تو پیغام آیا روک دیں پھر محسن نقوی شہباز شریف سے ملے اور بتایا کہ وذیر اعظم بیرسٹر کو بنانا ہے جس پر معمولی چوں چراں کے بعد بڑے میاں صاحب مان گئے ظاہر ہے ناں کی قیمت ذیادہ تھی کیونکہ اڈیالہ جیل میں بندہ تیار بیٹھا ہے۔
اگر سی ایم ایچ میں فوجی جوان سے جرنیل تک سب کا علاج ہوسکتا ہے تو سرکاری اسپتالوں میں نائب قاصد سے چیف سیکریٹری/وفاقی سیکریٹری اور یوسی چیئرمین سے وزیراعظم تک سب پبلک آفس ہولڈرز اور سرکاری ملازمین کے بچوں کا علاج کیوں نہیں ہوسکتا۔سب کو پابند کریں،اس نظام کے پتھارے دار ہیں تو اسی میں رہ کر اپنا اور اہلخانہ کا علاج کروائیں۔صحت کا نظام ٹھیک کرنا ہے تو پبلک آفس ہولڈرز اور ان کے اہلخانہ کے نجی اسپتال اور بیرون ملک علاج پر پابندی لگائیں باقی سب ڈھکوسلہ اور فریب ہے
ووٹ کو عزت دو کا میرا لگایا ہوا نعرہ اپنانے والے میاں نواز شریف نے آج ووٹ کی عزت کو ایک بار پھر دفن کر دیا۔ عاصم منیر کے حکم کے آگے سر جھکا دیا!
آزاد کشمیر کی اسمبلی تو نہیں چلے گی، اور عاصم منیر بھی چلا جائے گا۔ مگر یہ دھوکا عوام نہیں بھولے گی۔
شیر زمان ٹکر کی لکھی ہوئی نظم کا عنوان ہی یہی نعرہ بن گیا:
اک نعرہ لگانا چاہتا ہوں، قاضی کو سنانا چاہتا ہوں،
ووٹ کو عزت دو۔
امریکہ اور ایران کی صلح کروانے والوں نے اپنے سوشل میڈیا لشکر کو مولانا فضل الرحمن کے خلاف جنگ شروع کرنے کا سگنل دے دیا ہے۔۔۔ حالانکہ انہیں اچھی طرح پتہ ہے کہ
جنگ کھیڈ نئیں ہندی زنانیاں دی
#ادارہ_یا_پروپیگنڈا_سیل#کالے_چینلز_فلاپ#پیڈ_چمچے
موجودہ رجیم غلط راستے پر چل پڑی یے۔۔۔!!
مجھے کہیں بھی پاکستان مقدم نظر نہیں آرہا ہے
ایران کی فکر پاکستان اسکے مفاد سے زیادہ اہم یے
دن رات صبح شام ایران کی فکر ستائے جارہی ہے
ایران نے چند دن پہلے ہی بھارت کے ساتھ معاہدے کی بات کی سعودی دفاعی معاہدہ کے مقابلے میں ۔۔
میری پہلی ملاقات 2004 میں عمران خان سے بٹخیلہ میں متحدہ مجلس عمل کے جلسے میں ہوئی ۔بختیار معانی ہمارے امیدوار تھے مولانا فضل الرحمن صاحب اور مرحوم قاضی حسین احمد صاحب نے آنا تھا کہ اچانک عمران خان بھی ہمارے جلسے میں آے تھے اس ٹائم ہمارا ان کے ساتھ کوئی اتحاد بھی نہیں تھا لیکن وو مولانا کے معتقد تھے عمران خان نےتقریر میں کہا واحد دو آدمی ہیں اسمبلی میں ایک مولانا اور ایک قاضی حسین احمد صاحب جو کسی سے ڈکٹیشن نہیں لیتے اور اسی بات پر مجھے پسند بھی ہیں پھر عوام سے متحدہ کے امیدوار کیلئے ووٹ کی درخواست بھی کرلی اس کے بعد جب مولانا صدارتی امیدوار کے طور پر سامنے آے تو بھی عمران خان نے ووٹ مولانا کو دیا
لیکن پھر جب ایسٹیبلشمنٹ کی نظر عمران خان پر پڑی تو وو ہم سے دور ہوتے چلے گئے جنرل پاشا سے جنرل ظہیر پھر فیض حمید اور باجوہ تک پہنچ گئے خوب استمعال کر ہاتھ کینچ لیا
خلاصہ یہ ہے مولانا کل بھی ایسٹیبلشمنٹ کے خلاف تھے اج بھی ہیں جو بھی ہمارے ساتھ چلیگا اسے خوش آمدید کہینگے اب بھی عمران خان کی خواہش ہے کہ مولانا سے اتحاد ہو جائے ویسے بھی مولانا نے کہا ہے کہ نافرمان شاگرد اگر معافی مانگ لے تو معافی دینی چاہییں۔
محمد اللہ اکا خیل
#رہبر_امن_مولانا
#کالے_چینلز_بےنقاب
#بلوچستان_مانگے_امن
#ھارڈنہیں_معتدل_ریاست
#ہائبرڈ_مہنگائی_نامنظور