(فیس بک کا گیان، ایتھے وی!)
ایکس پر تو فیمینازیوں اور کھسروں کو بھگت چکا، سمیت اخلاقی الٹی بریگیڈ کے۔ اب فیس بک پر بھی فوڈ پانڈا کی اک رائیڈر بچی کی تصویر لگا کر پوٹیویشنل تقاریر جھاڑی جا رہی ہیں۔ اس بچی کی تصویر لگا کر، سمیت مفتاح اسمعیل کے، تم سب میں سے کوئی اک شخص بھی اپنی بیٹی، بہن، بیوی کے لیے فوڈ پانڈا کا رائیڈر بننے کا شوقین نہیں ہو گا۔ ایک بھی۔
میں جینڈر ایکوالٹی اور ایکؤل رائیٹس کو بکواس سمجھتا ہوں۔ وہ مرد، مرد ہی نہیں کہ جس کے وجود اور کوشش سے اس کے ایکوسسٹم میں موجود خواتین کو اس سے بہتر مہیا نہ ہو اور وہ اپنے ایکوسسٹم میں موجود خواتین کو اپنے سے کہیں بہتر ٹریٹ نہ کرتا ہو۔ عورت پر فطرت یا معاشرہ، دنیا میں کہیں بھی زیادہ مہربان نہیں ہے: بائیالوجی ہو، اکانومی ہو، یا سوسائٹی ہو۔ وہ بہت سے مسائل سے مسلسل نبرد آزما رہتی ہے۔ ان کے لیے ایسی برابری تراش اور تلاش کرنے والے لوگ کہ وہ مرد کی ہمسری کر سکے، سارے کے سارے حرامی گھات لگائے یک ہیں۔ اکثریت نہیں، سارے کے سارے۔
زندگی میں بہت سارے مشاہدے ہو چکے ہیں اور اس بات پر حتمی طور پر لینڈ کر لیا کہ خواتین کو جینڈر ایکوالٹی نہیں، جینڈر پرائرٹی دی جانی چاہیے۔ انہیں ایکؤل رائیٹس کے چکر میں نہیں، بلکہ مور رائیٹس کا تیقن ہونا چاہیے۔ یہ مگر ان خواتین کے لیے ہی سختی سے مخصوص رکھا کیجیے جو برابری کے ڈیزل پر نہیں چلتیں۔ وہ جو برابری کے ڈیزل پر چلتی ہیں، ان کے لیے بھرپور برابری عطا کی جانی چاہیے۔ یہ بھی معلوم ہے کہ برابری کے ڈیزل پر چلنے والیاں بھی کہیں اکیلے میں شاید خود کو تبریٰ ہی کرتی ہوں گی، وہ مگر بیانیاتی غلامی کے کیمیا کا دوسرا موضوع ہے۔
مسلسل خسارے کی وہ مخالفت جو فطرت اور معاشرت نے عورت کی جانب ازل سے (اور ابد تک) روا رکھی ہے، اس خلا کو تعمیری انداز سے بھرنا مردوں پر فرض ہے اور وہ مرد جو ایسا کرنے سے قاصر ہیں یا نظام میں خواتین کی بابت اپنا کردار نہیں سمجھ سکتے، وہ پین یک کھسرے ہیں۔ تمام وہ کہ جنہیں یہ سب پڑھ کر کوڑ چڑھ رہی ہے، ان تمام کی بہنوں، بیٹیوں، بیویوں کو فوڈ پانڈا رائیڈر بننے کی دلی دعائیں ہیں۔ ہمت و حمیت کیجیے۔ اپنے ایکوسسٹم کی خواتین کو بھی وہی بنائیے تاکہ میں بھی آپ کی دلی تعریف کر سکوں۔
مورلز آف دا سٹوری: ہک: برابری کے ڈیزل پر چلتی خواتین کو بھرپور برابری کا چس ملنا چاہیے۔ دو: مردوں کو اپنے ایکوسسٹم میں موجود تمام خواتین کے ساتھ اپنے سے بہتر سلوک کرنا چاہیے۔ ترے: خواتین کی بابت فطری اور معاشرتی خسارے کی ٹرانزیکشن کو فائدے میں بدلنا مرد کی ��ولین ذمہ داری ہے۔ چار: وہ مرد کہ جن کی وجودگی اور موجودگی سے خواتین خود کو بہتر محسوس نہیں کرتیں، وہ پین یک کھسرے ہیں۔ پنج: ہر مرتبہ کی طرح، مرضی آپ کی اپنی ہے۔ See less
ایک عمر کے بعد دوست آہستہ آہستہ کم ہوتے جاتے ہیں، جو لوگ کبھی بے حد پسندیدہ لگتے تھے، وہ بھی ایک دن بالکل عام محسوس ہونے لگتے ہیں۔۔۔
خواہشوں کا شور مدھم پڑ جاتا ہے، جسم سے زیادہ ذہن تھکنے لگتا ہے، اور پھر تنہائی بوجھ نہیں، سکون محسوس ہونے لگتی ہے۔۔۔
دنیا میں کوئی ملک مکمل جنت اور دوزخ نہیں ہے، سب مبالغے کی مختلف قسمیں ہیں ۔ ہر جگہ کی کچھ خوبیاں اور کچھ خامیاں ہیں ۔ زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ ذاتی یا اجتماعی مشاہدے یا تجربے میں کوئی جگہ باقیوں سے بہتر ہے ۔۔۔