سوشل میڈیا پر جاری ہیجان کا حصہ نہ بنیں! ✨🇵🇰
مشرقِ وسطیٰ کی آگ کو پاکستان میں لانے کی کوششیں تیز ہو چکی ہیں۔ فیلڈ مارشل یا ریاستی اداروں کے خلاف فرقہ وارانہ رنگ دے کر کی جانے والی تنقید دراصل دشمن کے ایجنڈے کو تقویت دے رہی ہے۔ ہم نے پہلے ہی بہت قربانیاں دی ہیں، اب وقت ہوش مندی کا ہے، جوش کا نہیں۔ ریاست کو اپنا کام کرنے دیں اور اتحاد کا دامن نہ چھوڑیں۔
شیخوپورہ کے دس سالہ معصوم بچے کا جرم صرف
اتنا تھا کہ اس کا رکشہ ایک سرکاری گاڑی کے سامنے آگیا۔
مبینہ طور پر سرکاری گاڑی کو راستہ نہ دینے کے
معمولی تنازع پر پولیس اہلکاروں نے سنگدلی کی
انتہا کر دی اور سرکاری گاڑی سے رکشے کو ٹکر مار دی۔
پھر اسی پر بس نہیں کیا گیا
بلکہ بچے کو پکڑ کر تشدد کرنا شروع کر دیا
جس کے ن��یجے میں بچے کی جان چلی گئی
کم عمری میں رکشہ چلوانا والدین کی غلطی ہے
لیکن اتنی بھیانک سزا کیوں دی گئی ؟؟؟
رکشے میں سوار دیگر افراد تو خوف کے مارے اپنی جان بچا کر بھاگ نکلے، لیکن یہ بچہ جو اپنے معذور بھائی اور بوڑھے والدین کا واحد سہارا تھا، ظالموں کے ہتھے چڑھ گیا۔ عینی شاہدین کے مطابق، وردی میں ملبوس ان اہلکاروں نے اس ننھے سے پھول پر اس قدر بہیمانہ تشدد کیا کہ وہ اندرونی چوٹوں کی تاب نہ لا سکا۔
انسانیت سوز رویہ یہاں ختم نہیں ہوا، بلکہ اسے بے یار و مددگار اس کے محلے "غریب آباد" میں پھینک دیا گیا۔ جب اس کی تڑپتی ہوئی ماں، شمشاد بی بی نے اسے سہارا دیا تو بچے کا پورا جسم زخموں سے چور تھا۔ وہ اپنی ماں کی گود میں سسکتا رہا اور بالآخر دم توڑ گیا۔
کیا غریب ہونا ہی سب سے بڑا جرم ہے؟
حیرت اور افسوس کا مقام ہے کہ تھانے میں ایف آئی آر بھی "نامعلوم افراد" کے خلاف درج کی گئی ہے۔
کیا ان طاقتور ظالموں کا کوئی نام نہیں؟
ہم آئی جی پنجاب اور ڈی پی او شیخوپورہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس واقعے کا فوری نوٹس لیا جائے اور اس معصوم کے بے بس والدین کو انصاف فراہم کیا جائے۔ ان ظالموں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے تاکہ آئندہ کسی غریب کا گھر اس طرح اجڑنے سے بچ سکے۔ اس آواز کو اتنا پھیلائیں کہ حکام بالا کے کانوں تک پہنچ سکے اور اس معصوم کو انصاف مل سکے۔
#JusticeForInnocentChild #JusticeForSheikhupuraVictim #IGPunjab #DPOSheikhupura #StopPoliceBrutality #HumanityRefuge #JusticeForPoor #PunjabPolice #PakistanNews #JusticeDelayIsJusticeDenied