@AmjadHafeez19@MaryamNSharif نونی ٹونز جہلاء۔ منحوسو عمران خان کا منصوبہ اب مریم نے چوری کر کے شروع کر لیا تو گوبر چاٹنا شروع کر دیا اور جب خان نے شروع کیا تھا تو اسکا مذاق اڑاتے تھے
اس ملک کے ساتھ جتنی بڑی غداری کرو گے تمہیں اتنا ہی بڑا عہدہ دیا جائے گا۔
ڈاکٹر عبد القدیر خان
۔۔۔۔۔۔۔
اقتدار میں بیٹھا ہر غدار اس قول کی صداقت کا گواہ ہے۔
انڈیا نے اپنے ایٹمی سائنسدان کو صدر بنایا تھا۔ پاکستان نے اسے گھر میں قید کر دیا تھا اور زرداری کو صدر بنایا۔
رجیم چینج سازش کے بعد آنے والی تبدیلیاں۔
1) لوگوں نے نیوز چینل دیکھنا چھوڑ دیا
2) کرکٹ دیکھنا ختم کر دی
3) اخبارات بند کروا دئیے
4) لوگوں نے ملی نغمے سننا چھوڑ دیے
5) فوج اور ایجنسیوں سے اعتبار اٹھ گیا
6) سپریم کورٹ اور الیکشن کمیشن سے باقاعدہ نفرت ہوگئی
7) کٹھ پتلی سیاسی جماعتوں سے گھن آنے لگی
8) مذہبی جماعتوں کی منافقت مذید عیاں ہو گئی
9) فتویٰ ساز ملاں ننگے ہو گئے
10) عمران خان کی عزت و احترام دل میں اور بھی زیادہ بڑھ گیا۔
@UrduVirsa ہے اختیارمیں تیرے تو معجزہ کر دے وہ شخص میرانہیں ہےاسے میرا کر دے
یہ ریگ زار کہیں ختم ہی نہیں ہوتا
ذرا سی دورتورستہ ہرابھرا کر دے
میں اسکےزورکودیکھوں وہ میراصبروسکوں
مجھےچراغ بنادے، اسےہوا کر دے
اکیلی شام بہت جی اداس کرتی ہے
کسی کوبھیج کوئی میراہمنواکر دے
حبیب اکرم
سب سے اچھی مثال مخدوم شہاب الدین ہیں۔ تحریک انصاف کے ٹکٹ پر اسمبلی جانے کی کوشش کی ناکامی ہوئی۔ “غداران ملت “کے بورڈ ٹانکے گئے تو اس کی تصویر کو بھی ساتھ چپکا دیا گیا۔ پھر انہی بورڈز کے سامنے ویڈیو بنا کر شہیدوں میں نام لکھوانے کی کوشش کی۔ لیکن جد ہی انکی کھلڑی اتر گئی۔
اتنا تردد کیوں تھا؟ تاکہ کچھ لوگ بظاہر تحریک انصاف کے ہمدرد بنا کر میڈیا مارکیٹ میں چھوڑے جائیں اور وقتا فوقتا ان سے کام لیاجاتا رہے ۔ لندن والااحتشام ، لاہور والا درانی ، ان سوشل میڈیائی مجاہدین کی اچھی مثالیں ہیں جنہیں فوج نے دونوں طرف کھلانے کی کوشش کی لیکن یہ لوگ رن آوٹ ہوئے۔
الیکٹرانک میڈیا میں یہ فہرست طویل ہے۔ ان لوگوں کے آئی ایس پی آر میں اچھے روابط ہیں۔ یہ ان سے فون پر لمبی لمبی گفتگو کرتے ہیں۔ موجودہ حالات کی وجہ سے کبھی کبھی بالمشافہ ملاقات کرتے ہیں۔ کوئی بھی مشکل حد عبور نہیں کرتے۔ اس کے عوض ان کی نوکریاں بحال رہتی ہیں۔ انکی دس بارہ پندرہ لاکھ کی تنخواہ جاری رہتی ہے۔ انکو سکرین ملی رہتی ہے۔ مختلف پراجیکٹس کی مد میں بھی ان میں سے کچھ لوگوں پر خصوصی نوازشات جاری رہتی ہیں۔
یہ سلسلہ التفات محض فوج کے لیے نہیں ہے۔ بیکری والے ، کالج والے ، فیکٹری والے ، مل والے ، سمگلنگ والے اور پراپرٹی والے سیٹھ کے سامنے بھی انکی آزادی اظہار رائے اور ان کا چوتھ ستون ڈھیلا ہی رہتا ہے کیونکہ یہ سیٹھ کے چینل میں ملازم بھی تو ہوتے ہیں۔ البتہ عوام کے لیے انکی گردن میں “ سچ کے سفر “ کا سریا ضرور ہوتا ہے۔ شاید اس زعم کے سبب یہ لوگ اپنی انا کی بھی تسکین کرتے ہیں۔ یہ ویسا ہی سریا ہے جو فوجی افسران کی گردنوں میں خود کو ریاست سمجھنے والا ہے۔
بہرحال ، مجھے یقین ہے کہ یہ لوگ دل سے اس فوجی فسطائیت کے خلاف ہیں۔ یہ ہماری طرح فوجی جرنیلوں سے نفرت کرتے ہیں۔ یہ لوگ چاہتے ہیں کہ فوج سیاست سے بیدخل ہوجائے یا کردی جائے۔ لیکن اس منزل کی قیمت یہ خود ادا کرنے کو تیار نہیں۔ انکے آگے نوکری ، گھر ، روزگار ، کاروبار کی مجبوریاں آتی ہیں۔ بھرے پیٹ کیساتھ جدوجہد اور مزاحمت اور چیز ہے اور بچوں کی بھوک کا خوف اور چیز۔
اس میں کچھ نیا بھی نہیں۔ میں ، آپ ، ہم سب کسی نا کسی مجبوری میں جکڑے ہوئے ہیں۔ کسی کے گلے میں گمنامی کی زنجیریں ، کوئی الفاظ کے محتاط رہتا ہے ، کچھ وقتا فوقتا پاک فوج زندہ باد والی پوسٹس سے تاوان ادا کرتے ہیں۔ ہم بھی اگر دھر لیے جائیں تو اپنی کمزور اور بزدل طبیعت کے زیر اثر ممکن ہے ان لوگوں کی نسبت بہت زیادہ تعاون پر آمادہ ہوجائیں۔ بنٹوں پر کرنٹ لگنے کا خوف کسی بھی شخص کو مجبورکردے۔ مجھے تو یقیننا کردے۔
ہم جیسے لوگ انکی مجبوریوں کا پاس رکھیں ، رکھتے بھی ہیں ، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہم ایک جدوجہد کے عین وسط میں ہیں۔ کچھ سرپھرے ایسے تھے جنہوں نے ہر طرح کی سختی کے جواب میں آگے سے پلو اٹھا کر دکھا دیا ، انکی قربانیوں کا باج ہم پر قرض ۔ جس طرح ہمیں خوفزدہ کیا گیا ، جس طرح اس ملک کا مستقبل تباہ کیا جارہا ہے ، جس طرح کی لوٹ کھسوٹ جاری ہے ہم نے لائن ڈرا کرنی ہے۔ عمران خان کی قید ، گرفتاری ، بیماری ہمارے سینوں میں پھانس کی طرح اٹکی ہوئی ہے۔ ہم نے اس سب کے حساب برابر کرنے ہیں۔
نا حبیب اکرم غدار ہے نا صدیق جان ، نا کوئی بھی اور صحافی ،مخدوم شہاب الدین بھی نہیں ، نجانے کونسی مجبوری کسے کھا گئی۔ ہم جیسوں پر انکی والی آزمائش آتی تو شاید ہم اتنا توازن بھی نا رکھ پاتے اور کوئی گندہ نالہ بن جاتے یا کوئی ایم ایف ہوجاتے۔ ممکن ہے ان کے سروے نے متعلقہ حلقے سے درست صورتحال ہی بتائی ہو، لیکن ہم نے اپنی تحریک کے لیے ، اپنی جدوجہد کے لیے ، اپنی ناکامیوں ، اپنی کامیابیوں کے لیے ، اپنے بدلے اور حساب برابر کرنے کے لیے ، اس ملک کے لیے اور اس ملک کے پسے ہوئے عوام کے لیے ، ان سیٹھ اور فوج کے آگے مختلف مجبوریوں میں جکڑے ہوئے لوگوں کے سرویز کا اعتبار نہیں کرنا انکی خبروں پر یقین نہیں کرنا۔ کسی اینگلنگ پر یقین نہیں کرنا۔ ہم نے آسرے نہیں ڈھونڈنے ہم نے نشانے لگانے ہیں۔
الیکٹرانک میڈیا فوج کا آلہ کار بنا ہوا ہے۔ اس سے وابستہ صحافی فوج اور سیٹھ دونوں کے آگے مجبور ، ان پر اعتبار نہ کرنا ہماری مجبوری ہے۔
@MoeedNj اس لئے معید بھائی کہ یہ بھی عسکری گشتوڑی ھے
زاہد گشتوڑی۔
میں دوں بریکنگ نیوز۔۔۔۔۔
----'تاریخ کو ایک پاکستانی خاتون نے ایک یک گشتوڑی کو جنم دیکر گندی کے ڈھیر پر پھینک دیا جہاں سے عسکری بوٹ اٹھا کر لے گئے۔۔ بریکنگ گشتوڑی