رضی صاحب،یہ معاملات سیاست سے دور رکھیں، یہ جھاں بھی ہوں قابل مذمت ہیں،اور سیاسی وابستگی سے بالاتر اس کیخلاف آواز اٹھانی چاہئے،حکومت اور اقتدار آنی جانی چیز ہے۔میں نے پارلیمنٹ کے فلور پر کئی دفعہ ریپسٹ کیلئے سر عام پھانسی کی قانون پیش کیا لیکن سب لوگوں نے اتحاد کرکے مجھے ناکام بنالیتے تھے،اب بھی کہتا ہوں کہ سر عام پھانسی Deterrence ہوگا،
باقی آپ لوگوں کا مسلہ یہ ہے کہ پوزیشن بدلنے سے آپ کا موقف بھی بدل جاتا ہے،آپ خود یہ خبر دیکھ لیں اس میں پولیس نے ایف آئی آر میں درج ملزموں کو گرفتار کر لیا ہے،جب مسلم لیگ پارلیمنٹ میں می��ے ساتھ پی ٹی آئی کی اپوزیشن میں تھی تو آپ لوگوں کو میرا موقف پسند تھا جب مسلم لیگ حکومت میں آئی یا لائی گئی تو انہی ایشوز ،ایف اے ٹی ایف،ٹرانسجینڈر، آئی ایم ایف، ریپ واقعات اور دیگر عوامی ایشوز پر میرا موقف ان کو برا لگتا تھا،یہاں تک کہ جنرل باجوہ کے ایکسٹنشن کے معاملے پر دونوں میں اتفاق ہوا اور مسلم لیگی اپوزیشن نے مجھے اکیلے چھوڑ دیا۔
میں پی ٹی ایم کے زیر اہتمام پشتون جرگے کے انتظامات/تیاریوں پر پولیس ایکشن کی مذمت کرتا ہوں۔
جرگے کا مطلب ہوتا ہے بات چیت، گفتگو، مذاکرات،ڈائیلاگ، بحث مباحثے کے ذریعے مسائل کا حل نکالنا۔
ریاستی تشدد سے پختون نوجوانوں کو کیا پیغام مل رہا ہے؟ کیا آپ ان پر آئینی جد و جہد کے دروازے بند کر کے ��شدد کی طرف دھکیلنا چاہتے ہیں؟
پختونخوا کے عوام جبری گمشدگی، بھتہ خوری، ملٹری آپریشن، دہشتگردی، ٹارگٹ کلنگ اور بم ڈھماکے اور دہشتگردی کو ہر گز قبول نہیں کریں گے۔
بدامنی، غربت، تعلیم و صحت کی سہولیات سے محرومی، پشتون نوجوانوں میں بے روزگاری کی بلند شرح اور قومی وسائل میں دستوری حصہ نہ دینا اور اپنے وسائل پر اختیار کا نہ دیناپختونخوا کے اصل مسائل ہیں۔
ان مسائل پر قومی قیادت کا اکھٹے بیٹھ کر گفتگو کے ذریعے ان کا حل نکلنا ایک پر امن دستوری آئینی طریقہ۔
میں حکومتی اداروں سے مطالبہ کرتا ہوں کہ پی ٹی ایم کے گرفتار لوگوں کو فوری رہا کیا جائے، تمام جبری گمشدہ افراد ک�� رہا کیا جائے اور پختونخوا کے عوام کے ساتھ ہونے والے ریاستی جبر کو بند کیا جاے۔اور قومی جرگہ کے پرامن انعقاد کو یقینی بنایا جائے۔
@ManzoorPashteen @ImranRiazKhan @Shiffa_ZY @HamidMirPAK
@OryaMaqboolJan اوریا صاحب فکری بددیانتی نہ کریں بتاہیں تحریک انصاف کو کے جماعت اسلامی نے تحریک برپا کی جبکہ یہاں تحریک انصاف والے چ��ری کھانے والے مجنوں ہیں
⚡️JUST IN:
Inas Haniyeh, wife of the son of the martyr leader Ismail Haniyeh, follows up on his assassination in Tehran and mourns him.
“With hearts content with God's decree and destiny, I mourn my uncle Ismail Haniyeh, the great and revered martyr leader.
Indeed, to God we belong, and to Him we shall return.
Good bye O great leader of the nation”
مجیب الرحمٰن شامی صاحب نے بھی عمران خان کی مزید بےجا مخالفت کرنے سے انکار کر دیا۔
منیب فاروق اسٹیبلشمنٹ کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے فرما رہے تھے کہ اب قومی سلامتی اور عمران خان ساتھ نہیں چل سکتے۔
اس پر بزرگوار نے یہ بوگس بیانیہ چیر پھاڑ کر رکھ دیا۔ 👇
@arjoiya@SenatorMushtaq@NaeemRehmanEngr حیرت ہے لوگوں کے پاس اتنا فضول وقت ہے ایسی بے راگنی الانہنے کی ۔بہت سارے مرکزی قائدین شامل نہیں ہوئے سندھ اور کراچی کے ۔حلف برداری میں عموماً مرکز اور لاہور کے لوگ ہی ہوتے ہیں ۔پہلی بار روایت سے ہٹ کر زیادہ لوگ شریک ہوے
کیا آپ نے امریکی سفیر سے پاکستان کے بیلسٹک میزائل پروگرام کو مبینہ طور پر پرزے فراہم کرنے والے سپلائرز کمپنیوں پر پابندیوں کا ایشو اٹھایا؟؟؟
کیا بھارت کو نیوکلیئر سپلائرز گروپ تک رسائی اور پاکستان پر پابندیاں؟پاکستان کی حکمران اشرافیہ کو یہ کب سمجھ آئیگا کہ امریکہ پاکستان کو کسی بھی صورت معاشی، عسکری اور سیاسی خودمختاری کیطرف نہیں بڑھنے دیگا۔
مریم نواز کا نیا کارنامہ ملاحظہ ہو ۔👇
مریم نواز کی مشہوری کیلئے ہر تندور پر پوسٹر لگاۓ گئے ہیں، جن کے پیسے 200 روپے فی پوسٹر تندور والوں سے زبردستی وصول کیے جا رہے ہیں
��اکہ شونگ کے دوران جب مریم نواز 4 روپے سستی روٹی کا سکرپٹ پڑھیں تو یہ پوسٹر نظرآئیں
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے سہولتکار کون؟؟
یہ بات تو روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ صاحب نے جج ہوتے ہوئے حدیبیہ کیس فیصلے سے جسٹس عمر بندیال کی ریٹائرمنٹ کے آخری دن تک جو لیٹر لکھے ،ان میں بینفشری مسلم ��یگ ن تھی اور ہر موقع پر مخالفت عمران خان اور تحریک انصاف کی گئی،
انہوں نے جج ہوتے ہوئے جو سوموٹو لیے وہ نوے فیصد عمران خان اور تحریک انصاف کے خلاف تھے،
انہوں نے چیف جسٹس بن کر چھ ماہ میں جتنے کیسز لگائے ان سے فائدہ مسلم لیگ ن کو ہوا اور تمام تر نقصانات پی ٹی آئی کو ہوئے،
عمران خان کی کہی گئی ایک بات دوبارہ کاپی پیسٹ کررہا ہوں جو انہوں نے جیل میں اپنے وکلا سے ایک ملاقات میں کہی،اس کاپی پیسٹ کے بعد اگلی بات کرتے ہیں،
عمران خان نے ڈیڑھ ماہ قبل جیل میں ملاقات کرنےو الوں سے کہا کہ
بلا کس نے چھینا؟قاضی فائز عیسیٰ نے
لیول پلینگ فیلڈ کس نے نہیں دی؟قاضی فائز عیسیٰ نے
بیورو��ریٹس کو بطور آر او کس نے بحال کیا؟قاضی فائز عیسیٰ نے
نواز شریف کی تاحیات نااہلی کس نے ختم کی؟قاضی فائز عیسیٰ نے
مخصوص نشستیں کس کی وجہ سے نہیں ملیں؟قاضی فائز عیسیٰ کے
بلے والے فیصلے کی وجہ سے مختلف نشان ہونے کے باوجود خان کے نامزد کردہ امیدوار پی ٹی آئی کے امیدوار قرار پا سکتے تھے لیکن کیس قاضی فائز عیسیٰ صاحب نے نہیں لگا��ا،جو کیس فارم 33 کے حوالے سے سلمان اکرم راجہ لے کر گئے تھے ایک کے بعد ایک کیس میں گرفتاری سے روکنے کے ہائی کورٹ کے فیصلے کو کس نے کالعدم کیا؟قاضی فائز عیسیٰ کے دوست سردار طارق مسعود نے
سویلینز کے ملٹری کورٹس میں ٹرائل کے حوالے سے جسٹس اعجاز الاحسن کے بنچ کا فیصلہ کس نے معطل کیا؟قاضی فائز عیسیٰ کے دوست سردار طارق اور قاضی فائز عیسیٰ گروپ کے چار دیگر ججز نے
الیکشن کمیشن کو کس کی سپورٹ حاصل ہے؟قاضی فائز کی
سکندر سلطان راجہ کے سامنے چٹان بن کر کون کھڑا ہے؟قاضی فائز عیسیٰ
الیکشن میں دھاندلی پر پردہ ڈالنے کی پوری کوشش کون کررہا ہے؟؟؟سب کے سامنے ہے
خان نے کہا کہ نچلی عدالتوں سے اگر ہمیں ریلیف نہیں مل رہا تو اس کی وجہ بھی قاضی فائز عیسیٰ کا نچلی عدالتوں پر دباو کی وجہ سے ہے،
خان نے یہ سب باتیں کہہ کر پارٹی کو ٹاسک دیا کہ روزانہ سپریم کورٹ کے باہر پریس کانفرنس کرکے مطالبہ کریں کہ ہمارا مینڈیٹ واپس کریں،ہمارے کارکنان اور خواتین قیدیوں کو رہا کریں،ہمارے جتنے کیسز ہیں ،وہ فوراً سماعت کے لیے مقرر کریں، خان نے پارٹی کو سمجھایا کہ جتنا سپریم کورٹ پر آپ دباو بڑھائیں اتنا ہمیں فائدہ ہوگا،
خیر یہ اوپر کاپی پیسٹ تھا جو میں نے 22 مارچ کو ٹویٹ کیا تھا،
آج 28 مارچ ہے لیکن آج کے دن تک پی ٹی آئی کوئی ایک لسٹ جاری نہیں کر سکی کہ ان کے کون کون سے کسیز سپریم کورٹ میں کب سے پینڈنگ ہیں،اور ان کیسز کی اہمیت کیا ہے
اب آگے چلتے ہیں،ویسے تو پچھلے ڈیڑھ سال میں ایسے 75 واقعات ہیں جو پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوئے ہیں کہ کیسے ایک پارٹی پر وہ تمام مظالم ڈھائے گئے جو پاکستان کی تاریخ میں کسی جماعت پر نہیں ہوئے،عمران خان پر دو سو سے زائد کیسز بنے،پاکستان کی تاریخ میں پاکستان کے تمام سیاستدانوں پر کل ملا کر جو کیسز بنے وہ کیسز اگر کسی ایک شخص پر بنے تو اس کا نام ہے عمران خان،عمران خان نے سرنڈر نہ کیا،ڈیل نہ کی،باہر نہیں بھاگا،گولی کھا کر بھی کھڑا تھا،کھڑا ہے اور کھڑا رہے گا،
بات چلتے چلتے 8 فروری تک آ گئی،عمران خان نے جیل سے قوم کو پکارا اور قوم نے عمران خان کی لاج رکھی،بھرم رکھا اور پاکستان کی 77 سالہ تاریخ بدل دی،عمران خان کہتے ہیں کہ 8 فروری کو انتخاب نہیں تھا انقلاب تھا،
8 فروری کے مینڈیٹ پر پہرہ کس نے دینا تھا؟انہوں نے جن کے ہاتھ میں عمران خان نے پارٹی کی باگ دوڑ دی،خیر اس پر میں انہیں زیادہ الزام نہیں دیتا کیونکہ نظام بہت طاقتور تھا،ننگا تھا،عدالتیں ساتھ تھیں اور پی ٹی آئی تنظیمی طور پر ابھی سنبھلی نہیں تھی،لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پی ٹی آئی کی روپوش قیادت باہر آئی،سپیس بنی،ماحول وہ نہ رہا جو 8 فروری سے پہلے تھا،
اب آتے ہیں ان دو مواقع پر جو قدرت نے پی ٹی آئی کو دیے لیکن پی ٹی آئی کی نااہل،نکمی،کمزور اور کمپرومائزڈ لیڈر شپ نے مواقع ضائع کردیے،
یاد رہے کہ ان دو واقعات سے پہلے جتنے بھی واقعات پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوئے وہ عمران خان،ان کے کارکنان اور عوام پاکستان کی طرف سے تھے،
لیکن اس نظام میں بیٹھے ہوئے افراد میں سے پہلی تاریخ رقم ہوئی جب کمشنر راولپنڈی نے آکر کہرام بر پا کردیا،
اس پر پی ٹی آئی نے صرف ایک پریس کانفرنس کی،کوئی دھرنا نہیں دیا،کوئی احتجاج نہیں کیا،سپریم کورٹ یا کسی عدالت میں کوئی پیٹیشن نہ گئی،اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ سرکار کو سنبھلنے کا موقع ملا اور پھر کمشنر کو فکس کردیا گیا،آج تک وہ بیوی بچوں سمیت لاپتہ ہے،پی ٹی آئی اسے مکمل طور پر بھول چکی ہے،
پی ٹی آئی اس کا نام تک نہیں لیتی،وہ بھی سوچتا ہو گا کہ میں نے تو سمجھا تھا کہ انقلاب آ گیا ہے،لیکن میں یہ کیا کر بیٹھا؟وہ ٹھیک سمجھ رہا تھا کہ 8 فروری کو عوام نے انقلاب برپا کردیا تھا لیکن اس انقلاب کی باگ دوڑ عمران خان کے ہاتھ میں نہیں تھی،پی ٹی آئی کی باہر موجود لیڈر شپ کے ہاتھ میں تھی جو گیدڑ شپ ثابت ہوئی،
دوسرا موقع تو ایسا ہے کہ اس کا کسی نے تصور بھی نہیں کیا تھا اور وہ تھا 26 مارچ کو چھ ججز کا اس نظام پر پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا حملہ،
اس پر پی ٹی آئی کا رد عمل یہ تھا کہ انہوں نے 26 مارچ کو کوئی رد عمل دینے کے بجائے 27 مارچ کو ایک بھونڈی سی پریس کانفرنس کی اور وہ بھی اپنے سیکرٹریٹ میں،حالانکہ اس دن پورا فوکس سپریم کورٹ پر تھا،جب فل کورٹ اجلاس چل رہا تھا تو احاطہ عدالت میں پی ٹی آئی کا کوئی ایک وکیل نہیں تھا،
اگر ن لیگ کے حق میں یہ گواہی آئی ہوتی تو انہوں نے 26 مارچ کو ہی سپریم کورٹ کے باہر دھرنا شرو�� کر دیا ہوتا،
جتنا بڑا واقعہ ہو،اس کا رد عمل بھی اتنا ہی بڑا ہوتا ہے لیکن پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑے واقعے پر پی ٹی آئی کا رد عمل ہو میوپیتھک سا تھا،ایسے جیسے روٹین کا معاملہ ہوا،ذرا سوچیں کہ اگر 27 مارچ کو پی ٹی آئی کے پانچ سو وکلا بھی سپریم کورٹ پہنچ جاتے اور رات کو سپریم کورٹ کی پارکنگ میں نماز تراویح پڑھی جا رہی ہوتی اور رات کو یہ کہہ کر دھرنا ختم ہوتا کہ کل صبح دس بجے پھر احتجاج شروع ہو گا تو قاضی فائز عیسیٰ کے لیے حکومت کی سہولتکاری اتنی ہی آسان ہوتی جتنی آج آسان بنی؟
میں پہلی بار تین نام لے رہا ہوں جو پی ٹی آئی کی ناکامی کے ذمہ دار ہیں،اگلے ٹویٹ میں ان کی وجوہ��ت بھی بتاوں گا
ایک نام لے چکا ہوں پہلے اور وہ ہیں حامد خان،
باقی دو نام جو ان سے بھی اوپر ہیں،وہ ہیں بیرسٹر گوہر اور عمر ایوب۔۔۔۔یہ میری رائے ہے اور اس رائے کے لیے میرے پاس کیا دلائل ہیں وہ اگلے ٹویٹ میں لکھوں گا،میرے نزدیک یہ تین نام پی ٹی آئی کی ہومیوپیتھک حکمت عملی سے دانستہ یا غیر دانستہ طور پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سہولتکاری کر رہے ہیں کہ وہ بہت خوبصورتی سے پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑے واقعے سے شہ��ازشریف حکومت کو ایسے نکالیں جیسے مکھن سے بال نکالتے ہیں۔عمران خان،عمران خان اور عوام پاکستانم کی قربانیوں کے ساتھ بیرسٹر گوہر،عمر ایوب اور حامد خان ایسا کھلواڑ کریں گے،کسی نے تصور نہیں کیا تھا۔عمران خان تمام تر کیسز،مظالم اور گولی کھا کر بھی نہیں ٹوٹا لیکن ان کو مل کر آنے والے دو لوگ بتاتے ہیں کہ عمران خان نظام کے خلاف تو پہلے سے مضبوط کھڑا ہے لیکن اپنوں کی رویے پر بے بس ہو کر ٹوٹ رہا ہے،کڑھ رہا ہے،وہ کچھ نہیں کر پارہا،خان سے مل کر آنے والے ایک رہنما نے مجھے کہا کہ میرا دل خون کے آنسو روتا ہے،خان وہ deserve نہیں کرتا جو ہم اس کے ساتھ کرتے ہیں،ایک اور رہنما حلفاً کہتا ہے کہ خان جو ہدایات دے رہا ہے،ان پر باہر عمل نہیں ہورہا،یہ بہت خطرناک صورتحال ہے۔اگلے ٹویٹ میں ان تین ناموں کے بارے میں بات کرتے ہیں
کراچی NA240 میں جعلی بیلٹ بکس پکڑی گئیں بیلیٹ بک کے اندر اضافی بیلیٹ پیپر جس پر نمبر ہی نہیں ڈالے گئے پکڑے گئے ایک بک میں کئی پیج اضافی یعنی سو نمبر شدہ میں بیچ میں بغیر نمبر کے بیلٹ پیپر موجود
الیکشن کمیشن بتائے یہ کیا تماشاہے؟
30 میں سے 10 بیلٹ پیپرز کی books غائب۔ ایسی کسی حرکت کو برداشت نہیں کیا جائیگا۔
کارکنان نظر رکھیں اور ایسے تمام ہتھکنڈوں کو ناکام بنادیں۔
@ECP_Pakistan