۸ فروری کے احتجاج کی تیاری میں مختلف حلقوں میں کارنر میٹنگز اور فلیش پروٹیسٹ ہورہے ہیں۔ آئندہ آنے والے دنوں میں آپ کو ان میں مزید تواتر دیکھنے کو ملے گا۔ اس کے علاوہ آئی ایس ایف او یوتھ کی ممبر سازی مہم کا بھی آغاز کردیا گیا ہے۔ گذشتہ رکنیت سازی مہم کے نتیجے میں بننے والے ۲۷ لاکھ ممبران کو فعال کرنے کے لیے ان سے رابطے اور پارٹی سطح پر ممبر شپ مہم کا بھی جلد آغاز کیا جائیگا۔ ہماری تحریک اس وقت پاکستانی قوم کی آئین و قانون کی بحالی، جمہور کی حکمرانی اور ملک کے روشن مستقبل کی اکلوتی امید ہے۔ اس لیے جہاں گراؤنڈ پر احتجاج کی تیاری جاری ہے وہیں سوشل میڈیا ایکٹویسٹس اور بیرون ملک مقیم پاکستانی یہ سوال اٹھاتے رہیں کہ #گولی_کیوں_چلائی اور اسی شدت کے ساتھ ناحق اسیران کی رہائی کے لیے اپنی آواز بلند کرتے رہیں۔ اپنے آج اور اپنی جانوں کو داؤ پر لگا کر یہ ہمارےمستقبل کے لیے نکلے تھے، ان شہیدوں اور ان اسیران کو انصاف دلانا ہمارا فرض ہے۔ گرفتار کارکنان کی رہائی کے لیے پارٹی سطح پر اور انفرادی کوششیں ہورہی ہیں۔ اسلام آباد سے گرفتار متعدد کارکنان رہا ہوچکے ہیں تاہم پنڈی ریجن سے گرفتار ہونے والے افراد آج بھی اٹک اور جہلم وغیرہ کی جیلوں میں مقید ہیں۔ ان کارکنان کے خلاف ایک ایک فرد پر ۷-۸ مقدمے درج کیے گئے ہیں۔ ان کی رہائی کی کوششوں کے ساتھ ساتھ ان کے اہل خانہ کی دلجوئی اور حوصلہ افزائی کے لیے بھی اپنے تئیں ٹیمیں تشکیل دی ہیں جو ان سے رابطے میں ہیں۔
آپ کی معلومات کے لیے بتا دوں کہ ۲۶نومبر کے قافلوں میں شریک گاڑیاں جن میں بیشتر کو یا تو رینجرز اور سیکیوریٹی فورسز نے توڑ دیا تھا یا انہیں آگ لگا دی گئی تھی، ان کی علاوہ جن گاڑیوں کو قبضے میں لیا گیا تھا ان کی واپسی کے لیے پہلے پیسے مانگے گئے۔ اور جب قانونی راستے سے ان کی واپسی کا حکم نامہ حاصل کیا گیا تو ان گاڑیوں کے پارٹس یہاں تک کہ ٹائرز تک چرا لیے گئے۔ یہ قتل و غارتگری یہ ننگی فسطائیت، یہ بدمعاشی صرف اور صرف آپ کا حوصلہ توڑنے کی کوشش ہے۔ آپ کو کبھی دہشتگرد، کبھی انتشاری، کبھی ملک دشمن کہہ کر ہر پریس کانفرنس ہر ٹاک شو میں نشانہ اسی لیے بنایا جاتا ہے کہ تمام بڑے چینلز پر اپنی اجارہ داری قائم کرکے اربوں روپے کا پراپگینڈہ اور ریاستی مشینری کا استعمال بھی آپ کے بولے اس سچ کے سامنے ہیچ ہے جس کی ترویج کے لیے نہ فالس فلیگ کرنے پڑتے ہیں، نہ چادرو چاردیواری پامال کی جاتی ہی نہ ماورائے قانون اغوا اور گرفتاریاں کی جاتی ہیں۔ ارشد شریف نے کیا خوب کہا تھا ”یہ تو آئینہ ہے، اگر اس میں آپ کی شکل بری نظر آرہی ہے تو آئینہ مت توڑیں۔ اپنے خدوخال درست کریں“۔ جہاں غاصب مافیہ کے لیے مناسب ہوگا کہ اس تلقین پر غور کر لے (کیونکہ جبر سے جمہور کیا زیر ہونا تھا اپنے نقش مٹنے کی نوبت آگئی ہے) وہاں آپ بھی اپنی طاقت کا ادراک کریں۔ اپنا نشانہ درست اور توجہ منزل پر مرکوز رکھیں۔ سفر طویل ضرور ہوگیا ہے مگر بے منزل نہیں۔
ہیڈکوارٹر آئی ایس آئی میں ڈرٹی ہیری پی ٹی آئی قیادت کو گالیاں نکال رہا ہے، اور فون کرکے وعدہ خلافی پر دھمکیاں دے رہا ہے۔ پی ٹی آئی ریلی کو قیادت نہیں بلکہ کارکن لیڈ کررہے ہیں۔ اکثر قیادت عمران خان کی واپسی سے خوفزدہ ہے، بشری بی بی کا بیان درست ہے!
پارٹی نے دھرنہ ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ پارٹی ممبر کے طور پر میں اس فیصلے کا پابند ہوں۔ لیکن میں آپ کے ساتھ اپنی سوچ شئیر کرنے کا بھی پابند ہوں۔ میں نے سیاسی کمیٹی میں اپنا زاتی خیال رکھ دیا- آپ کے سامنے بھی رکھ رہاُہوں۔ مجھے لگتا ہے سب کچھ آپکے سامنے رکھنا ضروری ہے۔
اتنی لاشیں گرنے کے بعد میرے خیال میں احتجاج کال آف نہیں کرنا چاہئیے۔ جب اتنے بندے مروا لئیے تو پھر اب کال آف کیسا اور کس لئیے ؟
اب جب انہوں نے بندے مار دئیے ہیں تو میرے خیال میں احتجاج جاری رہنا چاہئیے تھا۔ اب مارنے والے جانتے اور مرنے والے۔ اب عوام جانے اور ظالم۔ عوام کا حق تھا کہ وہ کل صبح اسمبلُ ہو کر دوبارہ اکٹھی ہو اور اپنا حق حاصل کرے۔ میں زاتی حیثیت میں احتجاج کال آف کرنے کے ساتھ نہیں ہوں۔ میرے خیال احتجاج کال آف کروانا اسٹبلشمنٹُ کی خواہش تھی۔ پہلے اور طریقوں سے کرواتے رہے۔ اس بارے بھی پلان وہی تھا۔ پھر بشری بی بی اور ورکر راستے میں آ گئے۔ اس لئے یہ سب کرنا پڑا۔ اس لئے اب عوام جانے اور یہ جانے۔
اتنی لاشوں کے بعد احتجاج پہلے سے بھی زیادہ شدت سے ہوتا، اگر اس کو جاری رکھا جاتا تو۔
اسلام آباد کے سب سے بڑے پمز ہسپتال میں مظاہرہ کرنے والے اور فوج کی فائرنگ کا نشانہ بننے والے کتنے پاکستانی شہریوں کی لاشیں لائی گئیں؟
اس سوال کا جواب کیا ہے؟
بس اتنا جان لیجیے کہ اس سوال کو جواب تلاش کرنے کیلیے پمز جانے والے مطیع اللہ جان کو آئی ایس آئی نے اغوا کر لیا ہے۔
#ReleaseMatiullahJan
پارا چنار کی تصویریں اور ویڈیوز دیکھ کر دل پھٹ رہا ہے
درجنوں مسلمان بھائیوں کو بےدردی سے شہید کرنے والوں کو کیا یوم آخرت بھول جاتا ہے؟؟؟
پاکستان کے وفاقی اور صوبائی اداروں کو سیاسی کارکنوں کو اغوا کرنے سے فرصت ملے تو مل بیٹھ کر کرم ایجنسی کے مسئلے کا مستقل حل نکالنا چاہیے اور ظلم میں شامل افراد کو کڑی سے کڑی سزائیں دینی چاہییں
پی ٹی آئی میں مصدقہ ذرائع کا دعوٰی ہے کہ علی امین گنڈاپور نے گزشتہ روز صوابی میں اپنا پورا زور لگا کر جرنیلی اسٹیبلشمنٹ مخالف قیادت کو تقریر کرنے سے روکنے کی کوشش کی۔ پارٹی لیڈران کیمطابق علی امین جرنیلوں کی ناراضگی سے شدید خوفزدہ دکھائی دیا۔
جب اونچا ہاتھ پڑنے لگ جائے تو عام عوام ٹکے ٹکے کی ہی نظر آتی ہے قصور آپ کا نہیں ہے
۔۔
اور انکے دور سے کیا مراد ہے PTI کا دور ؟
مطلب دور بدلے تو آپ کا ضمیر بھی بدلتا ہے ؟
پہلے ہمارے گُن گاتی تھیں، آج اُن کے گاتی ہیں کل پھر ہمارے ؟؟
تالیاں بھئی سچ بولنے پر 👏
جنوبی پشتونخوا میں سینکڑوں کلومیٹر زمین الاٹ کی گئی ہیں۔ ان تمام آلاٹمنٹس کو کینسل کیا جائے بصورت دیگر ہم تحریک چلائیں گے۔
کور کمانڈر سمیت تمام فوج نے حلف لیا ہے کہ وہ سیاست میں مداخلت نہیں کریں گے۔ کور کمانڈر کا جرگہ بلانا غیر آئینی ہے۔
آپ کا کام جرگے بلانا نہیں ہے
کل شیخ وقاص نے کھل کر سوشل میڈیا پر الزام لگائے اور آج شیر افضل مروت نے سوشل میڈیا پر الزام لگائے
پاکستانیوں ٹاؤٹ اپنی حرکتوں سے کھل کر سامنے آ رہے ہیں
صحافیوں کو غلط معلومات دی جا رہی ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ عمران خان کے ساتھ معاہدہ کر رہی ہے، جو سراسر جھوٹ ہے۔ میں اسد طور کو مشورہ دوں گا کہ وہ اپنے ذرائع سے محتاط رہیں، خاص طور پر برگیڈیئر فہیم اور ڈرٹی ہیری کے بارے میں۔ مریم کسی کینسر میں مبتلا نہیں ہیں؛ یہ بھی جعلی خبر ہے، لہذا ہمدردی کی سیاست سے پرہیز کریں۔
یہ کتنی سفاک عورت ہے ایک ریپ کی کہانی کو کور اپ کر رہی ہے
حالانکہ وزیر تعلیم اور اسپیکر برملا اقرار کر چکے کے ریپ ہوا پھر گارڈ کو بھی گرفتار کیا گیا ہے
اب پولیس والد اور چچا کو ڈرا دھمکا کر یہ بیان دلوا رہی ہے
اور یہ گھٹیا عورت پھر پیش پیش ہے