پنجاب میں آج بیٹیاں اتنی محفوظ ہیں کہ یہ شخص بغیر اجازت ان کی وڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر شئیر کر رہا ہے جو سائبر کرائم کے زمرے میں آتا ہے۔ یہ حرکت کرنے والا کوئی عام آدمی نہیں پنجاب کا وزیر تعلیم ہے۔
کیا NCCI اس حرکت پر رانا سکندر حیات کے خلاف کاروائی کرے گی؟
یاد رہے کہ حبیب اکرم کو کم از کم پچیس سال سے تو میں صحافت کرتے دیکھ رہا ہوں جس میں ظاہر ہے پرویز مشرف کا دور شامل ہے۔ اب دوبارہ پڑھیں کہ جب وہ کہتے ہیں زندگی میں پہلی بار میں روز یہ سوچنے پر مجبور ہوں اگر مجھے اٹھا لیا گیا تو کیا ہو گا۔ انیق ناجی
@aniqnaji
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
#Pakistan
"28000 سے زائد گھنٹے اس شخص (عمران خان ) کو جیل میں ہوچکے ہیں جو 90 فیصد عوام کے دلوں میں بستا ہے۔ میں اسے قیدی نمبر 804 کہتا ہوں۔ 28 ہزار گھنٹوں کی اتنی اذیت ناک سزا ؟ یہ مکامات عمل ہے، سب کو بھگتنا پڑے گا۔ آپ کسی لیڈر کو 28 گھٹنے کیا، 28 سیکنڈ قید تنہائی میں رکھ کر دکھاؤ، نہیں رہ سکتا۔ یہاں ایک قیدی کو اذیت ناک سزا دی جارہی ہے، آپ کے پلیٹ لیٹس کم ہوجائیں تو لندن جاکر ٹھیک کرائیں"- ابوذر شاد (سابق صدر لاہور چیمبر آف کامرس)
سورس جاننے کیلئے QR Code سکین کریں
ہمارا مسئلہ ہی ایسے پبلسٹی سٹنٹس ہیں۔ کیوں ہمیں وزیر کے چھاپے کا انتظار کرنا پڑے؟ ادارہ چلانے والے خود کیوں رزق حلال نہیں کرتے؟ موٹر سائیکل سوار کو تھپڑ پڑنے پر وزیر اعلیٰ سے ہی کیوں اپیل کرنا پڑتی ہے؟ مسئلہ شخصی نمائش سے نکلے گا تو حل کی جانب آئے گا۔
ستمبر میں جوہر آباد سے ایک مولوی صاحب کو پکڑا کہ نکاح کرانے پر رشوت لی ہے، اب اطلاعات کے مطابق، مظفر گڑھ سے ایک مولوی کو پکڑ لیا ہے۔ میری تو سمجھ سے باہر ہے کون سا نکاح ہے جس کیلئے 10 ہزار روپے رشوت لی جا رہی ہے، ہدیہ لوگ خود دیتے ہیں۔ شریف لوگوں کو بے عزت تو نہ کریں
حامد میر صاحب نے ٹویٹس پر پیسے لینے متعلق جو کہا یقینا اس متعلق مزید وضاحت وہی کر سکتے ہیں
لیکن ایک بات مجھے معلوم ہے دس سال سے زائد عرصہ مجھے بھی ایکس پر ہو گیا ہے معلوم ہو ہی جاتا ہے کون کہاں سے بول رہا کون واٹس ایپ پر ملنے خبروں کی زیر زبر بھی اوپر نیچے کرتا اور پوسٹ کر دیتا ہے پھر فنانشل بنیفٹ کسی صورت میں بھی ہو سکتے ہیں ڈائریکٹ پیسے ، ان ڈائریکٹ دوسری جگہ جاب کرا کے پیسے اور دیگر بنیفٹس بھی ہو سکتے ہیں ایک چیز طے ہے سب نہیں کچھ ضرور اس پلیٹ کو مالی فائدہ کے لئے استعمال کر رہے ہیں
اب آپ دائیں بائیں ٹائم لائن پر نظر رکھیں آپ کو سمجھ آجائے گی
امریکہ کو خوش کرنے کے لئے ایران سے بارڈر بند کرکے اپنی عوام پر اربوں کھربوں کا بوجھ ڈال دیا ۔۔ سلنڈر گیس 400 سے 600روپے کلو ہوگئی مزید مہنگی ہورہی
یہ ہے عمران خان کی اصل لڑائی کہ بیرونی طاقتوں کو خوش کرنے کے لئے اپنی عوام کو نہ کچلو اپنی عوام کو نہ زلیل کرو
عام انتخابات میں ٹانک سے 42 ہزار 629 ووٹ لینے والے محمد عثمان اب معطل ہیں، جبکہ عرفان اللہ کنڈی 8 ہزار 794 اور نوابزادہ عبدالوہاب 61 ووٹ لینے کے بعد اب مشاورتی کونسل کا حصہ ہیں اور ٹانک کے مستقبل کا فیصلہ کریں گے۔ عرفان اللہ کنڈی عام انتخابات میں پرویز خٹک کی جماعت کے امیدوار تھے۔ محمد فہیم
#pakistan @MeFaheem
خبر کا سورس لنک جاننے کیلئے QR Code سکین کریں۔۔
دنیا میں جرائم کی شرح سب سے کم scandanvian ممالک جیسے ناروے اور ڈنمارک میں ہے۔ ساتھ ہی جمہوریت کے انڈیکس پر بھی یہ ممالک دنیا میں سب سے اوپر ہیں۔ ساتھ ہی دنیا میں سب سے کم سزائیں بھی انہی ممالک میں رائج ہیں اور پھانسی وغیرہ جیسی موت کی سزائیں بھی یہاں کسی کو نہیں دی جاتیں
چوہنگ میں پٹرول پمپ کے ملازم کو تشدد کا نشانہ بنانے والا ملزم صلح کی بنیاد پر مقدمہ سے ڈسچارج کردیا گیا۔
ملزم ادریس بھٹی کے خلاف پولیس سے مزاحمت کا مقدمہ بھی درج تھا اس مقدمہ میں بھی ملزم کی ضمانت منظور، ملزم کو رہا کرنے کا حکم
نکتہ یہ ہے کہ عمران خان اوپر ہیں اور نیچے ورکرز ہیں۔
شیر افضل مروت صاحب سے معذرت کے ساتھ، سہیل آفریدی ہوں یا دیگر جتنے بھی رہنما، وہ سب عمران خان کی وجہ سے ہی ہیں۔
عمران خان کسی کے سر سے ہاتھ ہٹا لیں، جیسے انہوں نے علی امین گنڈا پور اور ان کو ہٹا دیا، تو وہ صفر ہو گئے۔
یہ وہی اسمبلی تھی جس نے دو تہائی اکثریت کے ساتھ گنڈا پور کو وزیر اعلیٰ بنایا تھا، اور اسی اسمبلی نے بڑی خوشی کے ساتھ انہیں تبدیل کر کے سہیل آفریدی کو ووٹ دے دیے۔
جس سیاسی جماعت کو اتنی زیادہ سختیاں برداشت کرنی پڑیں، اس میں مایوسی اور فرسٹریشن ہونا فطری بات ہے۔ پی ٹی آئی کو پچھلے چار ساڑھے چار سالوں میں جتنی سختیاں برداشت کرنی پڑی ہیں اور جو اب بھی جاری ہیں، پاکستان کی تاریخ میں اس کی مثال کم ہی ملتی ہے۔
اس لیے ان کی مایوسی اور ردعمل بھی اسی حساب سے ہو گا۔ ہر کوئی اتنا باشعور نہیں ہوتا، کاش سب باشعور ہوتے۔
جہاں تک محمود اچکزئی صاحب کا تعلق ہے، تو ان کے لیے صورتحال تھوڑی سی مشکل اس لیے ہے کہ اول تو وہ 'تحریک تحفظ آئین پاکستان' کے چیئرمین ہیں اور اس میں پی ٹی آئی بھی شامل ہے۔ لہٰذا جو بھی فیصلے ہوتے ہیں، پی ٹی آئی ان میں مکمل طور پر شامل ہوتی ہے۔
ابھی حال ہی میں گورنر راج لگنے کے بعد پچھلے بدھ کو جو میٹنگ ہوئی تھی، اس میں سلمان اکرم راجہ اور چیئرمین بیرسٹر گوہر بھی موجود تھے۔ اس وقت وہ دونوں کافی مایوس بھی نظر آ رہے تھے۔ ظاہر ہے گورنر راج لگ چکا تھا، لانگ مارچ کامیاب نہیں ہوا تھا اور جو منصوبہ بنایا گیا تھا اس پر عمل درآمد نہیں ہو سکا تھا۔ لیکن اس کے باوجود انہوں نے محمود اچکزئی پر سو فیصد اعتماد کا اظہار کیا اور یہ طے پایا کہ اب تمام معاملات کا اختیار اچکزئی صاحب کے پاس ہوگا۔ یہ اختیار پی ٹی آئی کے چیئرمین اور سیکرٹری جنرل نے پچھلے ہفتے ہی دیا ہے۔ اب ان کی آپس کی لڑائیاں اور مایوسی اپنی جگہ ہے۔
معاشی ترجمان تحریک تحفظ آئین پاکستان محمد زبیر عمر
@Real_MZubair