آپ موبائل فون میں ایک ہزار کا ریچارج کرتے تو کو کتنا بیلنس ملتا ہے؟؟ 655 روپے
جی ہاں 655 روپے ۔ کیونکہ 15 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس اور 5۔19فیصد۔ GST الگ دونوں ملاؤ تو 345 روپے بنتے ہیں اور تو اور پٹرول لیوی کی صورت میں سب سے بڑا کانچا بنک سے پیسے نکالو تو withholding tax
اور یہ ٹیکس سب سے غریب اور مڈل کلاس طبقہ ادا کرتا ہے ۔ کیا اس کے خلاف آواز نہیں اٹھانی چاہیے ؟؟
بالکل اسی کیلئے آواز اٹھانی پڑتی ہے اپنے حقوق کی حفاظت خود کرنا سیکھین ۔
ورنہ ان چمکتے دمکتے گھروں اور دفتروں میں بیٹھی اشرافیہ خود سے آپ کے یہ حقوق سرینڈر نہئں کرے گی ۔۔
جاگو پاکستانیو جاگو!
Legend Of The Fall
بہت ساری معذرت کے ساتھ آپ جو عوام میں اہم ایشوز پر کہتی ہیں یا ٹوئٹر پر ٹوئٹ لکھتی ہیں، اس سب کے الٹ آپ کمیٹی اجلاسوں میں پوزیشن لیتی ہیں بلکہ حکومتی وزراء اور بابوز اور افسران کو مشکل وقت میں بڑے آرام سے bail out کرتی ہیں۔
میں آپ کا ماضی میں فین رہا ہوں کہ آپ نے بہت مشکل اور اہم ایشوز بہادری سے اٹھائے جس کے ہم مداح رہے ہیں۔
لیکن پچھلے کچھ عرصے سے آپ کی پبلک پوزیشن اور بند کمروں میں پوزیشن میں خود دیکھی ہے جس میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ اس کے بعد آپ کی ان باتوں پر یقین نہیں رہا۔
آپ کو یاد ہے سابق چیرمین محمد علی رندھاوا نے جو اسلام آباد کی خوبصورتی اور 40 ہزار درختوں کو تباہ برباد کیا تھا اس پر آپ نے بیرون ملک سے ٹوئٹ کیا تھا کہ وطن واپسی پر آپ سب کا حشر نشر کر دیں گی کیونکہ آپ سینٹ ماحولیاتی کمیٹی کی چیرپرسن ہیں۔ ہم سب کو امید پیدا ہوئی۔ لیکن آپ نے کمیٹی اجلاس والے دن کیا کیا؟
آپ نے اجلاس سے دو دن دن پہلے سینٹ داخلہ کمیٹی کے اجلاس میں وزیر طلال چوہدری اور رندھاوا کو تسلی دی کہ پریشان نہ ہوں میں سی ڈی اے چیرمین کو اجلاس میں ٹف ٹائم نہیں دوں گی۔ ہم صحافی یہ باتیں سن رہے تھے۔
میں نے آپ کو اجلاس کے بعد ہمارے قریب سے گزرتے ہوئے افسوس سے کہا کہ کیا یہ ہمارا ذاتی مسلہ ہے سی ڈی اے یا رندھاوا سے؟
میں نے کہا آپ کو رندھاوا کو شہر کی ماحولیاتی بربادی ٹف ٹائم دینا چاہئے جس پر آپ نے مجھے کہا آپ یہ بات مجھے نہیں کہہ سکتے۔
میں نے جواب دیا تھا آپ ہمارے نمائندے ہیں ہم کہہ سکتے ہیں۔ اس بیس گریڈ افسر نے تباہی بول دی اور اپ سب چپ رہے۔
پھر آپ نے اس ماحولیات اجلاس میں کیا کیا تھا جس کی آپ چیرپرسن ہیں؟
میں دیگر صحافیوں کے ساتھ موجود تھا۔ آپ نے کمال مہربانی سے سی ڈی اے اور رندھاوا کو ٹف ٹائم نہیں دیا جس کا وعدہ طلال چوہدری سے آپ نے کیا تھا۔ اسلام آباد کی بربادی کرنے والا رندھاوا آپ کے اس اجلاس میں “حسن سلوک “ کی وجہ سے سب کو چڑاتا ہوا آپ کے اجلاس سے خوش خوش گیا تھا۔
ابھی بھی اس ٹیلی کام بل پر آپ وہی رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ آپ کی پبلک اور اندر کھاتے پوزیشن میں زمین آسمان کا فرق ہے۔
آپ کی پوری پارٹی جانتی ہے آپ اور نوید قمر کی اس بل پر حکومت کو پوری سپورٹ تھی جس وجہ سے اسمبلی سے پاس ہوا۔ آپ نے کوئی مزاحمت نہیں کی۔ آپ کی سب مزاحمت یہاں ٹوئٹر پر ہے، اجلاس میں آپ حکومتی وزراء اور افسران کے ساتھ ہوتی ہیں۔ خود شزا فاطمہ نے جیو کو انٹرویو میں بتایا کہ پی پی پی کی ساری مرضی اور تعاون کے ساتھ بل پاس ہو۔
افسوس ہوتا ہے آپ جیسی کبھی کی بہادر اور ذہین سینٹر دھیرے دھیرے اس سیاسی رنگ میں رنگی گئی ہیں جو ہمارے جیسوں کے لیے مایوس کن ہے جو آپ کو کبھی آپ کے زبردست ہیرالڈ کے دنوں کے بیک گراونڈ کی وجہ سے بہت امیدیں باندھے ہوئے تھے کہ آپ کبھی سیاسی یا کارپوریٹ مفادات کی مصلحتوں کاشکار نہیں ہوں گی۔ آپ عوامی مفادات پر بیوروکریٹس اور وزیروں یا کارپوریٹ ورلڈ کے مفادات کو اہمیت نہیں دیں گی۔
لیکن ہم سب غلط نکلے۔ آپ بھی اب وہی سیاست کرتی ہیں جو دیگر عام سیاسی لوگ کرتے ہیں۔ وہ فرق مٹ گیا کہ کوئی آپ کی طرح پڑھے لکھے اربن بیک گراونڈ سے تعلق رکھتا ہو فارن کوالیفائڈ ہو وہ اس ایم این اے یا سینٹر سے مختلف اور بہتر ہوگا جو عام دیہاتی پس منظر سے عام تعلیم کے ساتھ محض کسی پارٹی کو بڑا فنڈ دے کر پارلیمنٹ پہنچ گیا ہو۔
آپ پھر اس ٹیلی کام بل پر بھی سب کو وہی پرانی آزمودہ گولی دے رہی ہیں جو آپ نے اسلام آباد کی ماحولیاتی بربادی پرٹوئٹ کر کے دی تھی کہ کس کو نہیں چھوڑیں گی۔ پھر ہم سب نے دیکھا آپ نے اپنی کمیٹی اجلاس میں محمد علی رندھاوا سمیت سب کو کلین چٹ دی تھی۔ آپ اپنی سیاسی ساکھ کھو چکی ہیں۔آپ پر اب کون اعتبار کرے۔
What a fall
@BBhuttoZardari@sharmilafaruqi@ShaziaAttaMarri@A_Qadir_Patel@PalwashaKhan18@naveedqamarmna@SyedAghaPPP@HinaRKhar@Ali_MuhammadPTI@SyedAliZafar1@SenatorSaleem@Nabilgabol@ninoqazi@najamsethi@SyedaAyeshaNaz1@murtazasolangi@AyazSadiq122@BilalAKayani@DrTariqFazal@CMShehbaz@MIshaqDar50@MohsinnaqviC42
پارلیمینٹ لاجز کو ویگو ڈالا سے بچائیں۔(خواجہ آصف وفاقی وزیر) صاحب: بات اچھی ہے مگر پہلے شہریوں کو ویگو ڈالا کے خوف سے بچانے کی بات کیجئیے۔پارلیمینٹ تب ہی باوقار ہوگی جب قانون سب کےلئے برابر ہوگا۔
گذشتہ سالوں کے دوران موبی لنک نے وارد کو اور پی ٹی سی ایل نے ٹیلی نار کو ٹیک اوور کیا۔ ان دونوں کمپنیوں نے دن دیہاڑے ڈکیتی کرتے ہوئے کئی دہائیوں سے لگے ٹاور اتارنے کے لئے ٹاور کی جگہوں والوں کو اپنی سے ذیلی کمپنیوں سے نئے معاہدے کرنے کو کہا تا کہ پرانے معاہدوں میں شامل شرائط سے نجات حاصل کی جا سکے۔ اور اس کے بعد نئی کمپنیوں نے نئے معاہدے کر کے چھ ماہ کے اندر ان نئے معاہدوں کو ختم کرنے کا اعلان کر کے وہاں سے ٹاور اتار لئے گئے۔ اب اس پر کوئی عدالت کوئی وزیراعظم بات کرنے کو تیار نہیں۔
ان دو مہا ڈکیتیوں پر بھی بات ہونی چاہئے
کیا خیال ہے ؟؟؟
🙏🙏🙏
آزاد کشمیر کے معزز مکین شعور اور غیرت رکھتے ہیں ۔ تمام پرانے لیڈروں کو انہیں مسترد کر دینا چاہیے ۔ ان میں سے بیشتر بکاو ہیں یا بزدل۔اپنے امیدواروں کا خود انتخاب کریں اور ان کی مہم بھی خوداپنے چندے سے چلائیں۔ عوامی تحریکوں میں تشدد سے زیادہ تباہ کن چیز کوئی نہیں اور انتہا پسندی بھی۔ جدوجہد کو شائستہ اور جمہوری ہونا چاہیے۔ پی ٹی آئی والی غلطی نہ کریں۔طاقت دلیل میں ہوتی ہے، دشنام میں نہیں۔
وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ کا ماننا ہے سینئر صحافیوں نے ایشو بنایا ہے ورنہ یہ ٹیلی کام بل والی اتنی بڑی بات تھی نہیں۔ان کے کہنے کا مطلب ہے سینئر صحافیوں کے پاس خبر نہ تھی تو بنالی. انہیں یہ صحافیانہ شرارت لگتی ہے۔
یہ وہ کلاسک سیاسی سوچ ہے کہ اس کلپ میں وزیرقانون اپنی غلطی مان بھی رہے ہیں اور نہیں بھی مان رہے۔ بل کے سنگین اثرات کا پاکستانی عوام کی جائیدادوں ذکر بھی ہے لیکن اسے کوئی بڑا ایشو بھی نہیں مانتے۔ ہر اعتراض مان بھی رہے ہیں لیکن انکاری بھی ہیں۔
ان کا مطلب ہے ٹیلی کام بل سینٹ نے روک دیا لیکن یہ کوئی اتنی بڑی خبر یا بات نہیں ہے۔سینر صحافیوں کی شرارت ہے۔
بل پر وزیراعظم شہباز شریف نے نوٹس لیا اور گیارہ رکنی کمیٹی بنا دی کہ غلطیاں دور کریں لیکن وزیرقانون کے نزدیک یہ کوئی اتنی بڑی خبر ہے نہیں۔
وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ صاحبہ نے تسلیم کیا اس بل میں غلطیاں ہیں جنہیں دور کریں گے ، اس بل کی زبان ٹھیک ہونے والی ہے لیکن وزیرقانون فرماتے ہیں یہ اتنی بڑی خبر ہے نہیں۔
پی پی پی کا کہنا ہے ہم اس بل کو موجودہ شکل میں سینٹ میں سپورٹ نہیں کریں گے لیکن بقول وزیرقانون یہ کوئی بڑی خبر یا بات نہیں ہے جسے سینئر صحافی رپورٹ کرتے۔
وزیرقانون کہنا چاہ رہے ہیں ہم نے بل میں ان غلطیوں کو دور کرنے کے لیے اب تک وزیراعظم کی ہدایت پر دو میٹگینز کر لی ہیں اور کل تیسری میٹنگ کریں گے لیکن یہ کوئی اتنی بڑی خبر نہیں ہے۔ بس سینئر صحافیوں کی شرارت لگتی ہے۔
پچیس کروڑ لوگوں کی جائیدادوں کے حقوق کا مسلہ تھا لیکن یہ کوئی اتنی بڑی خبر یا بات نہیں تھی کہ یہ خبر بنتی یا سینئر صحافی اس پر پروگرام کرتے۔۔ یہ صحافیانہ شرارت ہے۔۔
پورا ملک اس بل پر خوفزدہ ہے لیکن وزیرقانون مانتے ہیں یہ کوئی بڑی بات نہیں تھی۔۔ صحافیوں کے پاس خبر نہ تھی تو اسے بنا لیا۔۔ 😎
@PalwashaKhan18@sherryrehman@naveedqamarmna@A_Qadir_Patel@AzamNazeerTarar@AyazSadiq122@najamsethi@SyedaAyeshaNaz1@BilalAKayani@DrTariqFazal@HinaRKhar@ShaziaAttaMarri@sharmilafaruqi@SyedAghaPPP@Nabilgabol@SyedAliZafar1@CMShehbaz@MIshaqDar50
اس ملک کو تبدیل کرنا ہے تو پہلے پارٹیوں کو صحیح و جمہوری کرنا پڑے گا۔ اسکے بغیر ملک کی ترقی کا تصور بھی کرنا محال ہے۔
اگر چاہتے ہیں ملک بہترہو تو اپنے اداروں، پارٹیوں میں جمہوریت اورمیرٹ لے آئیں ملک صحیح ہوجائے گا
@AI_highlight@FaizullahSwati@EjazAhmedJI
#ایک_ہماری_جمہوریت_ہے
ایک یہ جمہوریت ہے، وزیراعظم برطانیہ کیئر اسٹارمر جسے کچھ جگہوں پر شکست ہوئی اسکی مقبولیت بھی کم ہوئی اورلوگ ان پر اب پہلے کی طرح اعتماد نہیں کررہے خاص کر ان کی پارٹی، جبکہ وہ دو سال پہلے دو تہائی اکثریت لیکر منتخب ہوئے تھے۔
1/4
پی ٹی آئی کے قائد 30 سال سے، مسلم لیگ ن کے قائد 40 سال سے پیپلز پارٹی اپنی پیدائش یعنی 60 سال سے ایک خاندان کے گرد گھوم رہی ہے۔ اسی طرح قوم پرست و مذہبی پارٹیاں بھی باپ کے بعد بیٹا کے اصول پر چل رہی ہیں۔
تبدیلی آئے تو کیسے آئے۔
4/5
لبنان کے عوام کو پاکستان سے بڑی توقعات وابستہ ہیں لیکن جب تک اسرائیلی فوج جنوبی لبنان سے واپس نہیں جاتی سوئیٹزرلینڈ میں امریکا اور ایران کے مذاکرات میں کوئی بریک تھرو بہت مشکل ہے
Tireless Pakistani and Qatari mediation has delivered major progress to end Lebanon War. Oil and petrochem exports are waived, blockade lifted, some frozen assets released, and major reconstruction & development plan launched for Iran.
1st real test: Lebanon deconfliction cell
محمود خان اچکزئی مذاکرات کیلئےبہترین اور موزوں شخص ہیں حکومت اور مقتدرہ بھی اس حوالےسے کوئی معتبر اور معزز شخص مقرر کرے تاکہ واقعی سنجیدہ اور بامعنی مذاکرات ہو سکیں۔ برف پگھل کر دوبارہ سردیوں میں جم ہی نہ جائے گرمیوں میں ہی پگھلی ہوئی برف سے فائدہ اٹھا لیں https://t.co/Y0KmJOwkXM
ایک بندہ غلط ہو سکتا دو غلط ہو سکتے مگر یہاں تو وہ لوگ جو تیس چالیس سال سے پارلیمنٹ کور کر رہے وہ صحافی کہہ رہے کہ یہ ایسٹ انڈیا کمپنی کے قبضے جیسا معاملہ ہے اور وہ حیران رہ گئے ہیں کہ حکومت کی ہر سطح پر اس بل پر کسی نے کوئی اعتراض نہی کیا ہے