اتنی بارشیں ہوئیں، ڈیمز پانی سے بھرے ہیں، دریاؤں میں درمیانے درجے کے سیلاب ہیں، مگر بجلی پھر بھی نہیں بن رہی۔ کبھی ہائیڈل پروڈکشن کم ہونے کا بہانہ، اب تیل مہنگا ہونے کا جواز۔
اصل مسئلہ شاید وسائل کی کمی نہیں، نیت میں فتور اور لالچ ہے!
عوام کی تینوں اطراف سے بجائی جا رہی ہے جس پر پرائم منسٹر کوئی کمیٹی نہیں بنائیں گے
حکومت کا گیس ٹیرف کے بارہ سلیب ختم کر کے یکساں نرخ نافذ کرنے کا فیصلہ یعنی عوام کی تہہ لگا کر برابر ماری جائے گی
ایران امریکہ چوتیاپے کے باعث آر ایل این جی کا جہاز پورٹ پر نہ پہنچنے کے باعث گیس بحران مزید بڑھنے کا خدشہ ہے گیس اور تیل کی بچت کیلئے پاور پلانٹس کو کم صلاحیت پر چلایا جارہا ہے جس کے باعث لوڈشیڈنگ ہے
بجلی صارفین پر 36.5 ارب روپے کے اضافی بوجھ کا امکان ہے
یہ تینوں آج کی خبریں ہیں چوتھی خبر رات کو وزیر پیٹرولیم پچاس پیسے پیٹرول سستا کر کے دیں گے
موڈییز نے معیشت کے اشاریے بہتر بتائیں ہیں کیونکہ عوام کو نچوڑا گیا ہے
1.وزیر پٹرولیم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نااہل اور نالائق
2.وزیر پانی وبجلی۔۔۔۔۔۔۔ نااہل اور نالائق
3.وزیر داخلہ۔۔۔۔۔۔۔۔ نااہل اور نالائق
4.چئیرمن کرکٹ بورڈ ۔۔۔۔۔۔۔نااہل اور نالائق
5.وزیر صحت۔۔۔۔۔۔۔ نااہل اور نالائق
6.وزیر ریلوے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نااہل اور نالائق
7.وزیر ہوا بازی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نااہل اور نالائق
مزید آپ کمنٹ میں شامل کردیں
یہ ویڈیو بھیگی آنکھوں کے ساتھ بیسیوں مرتپہ دیکھ چکی ہوں مگر دل نہیں بھر رہا۔۔۔
ایک نابینا شخص کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ساتھ عشق کی انتہا دیکھیں۔ ۔
شاہ غلام قادر فاروق حیدر ان افراد میں شامل ہیں جو مشکل وقت میں جماعت کے ساتھ کھڑے رہے اور آج ایسی کیا مجبوری آن پڑی کہ ایک ہارے ہوئے شخص کو پھدو سیٹ پر چَنتخب کروا کر وزیراعظم بنوایا جارہا ہے حالانکہ اوکھے وقت میں شاہ غلام قادر اور فاروق حیدر ڈانگیں کھاتے رہے
پتہ نہیں گیلانی پائن کی کونسی پھکی مشہور ہے
کشمیر بُحران شدید ہو گیا۔
آزاد کشمیر کے سابق وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر اور مسلم لیگ ن کے صدر شاہ غلام قادر کا غیرمُنتخب ممبر افتخار گیلانی کو وزیر اعظم بناکر کشمیر پر مُسلط کرنے کے فیصلے پر واضح اختلاف
گیلانی کو ووٹ نہ دینے کا فیصلہ !!!!
یہ ڈاکٹر جدون خان کی ٹائم لائن سے لیے گئے تین اسکرین شاٹس ہیں۔ ایک میں یہ اپنے نام کے ساتھ افغانستان کا جھنڈا لگا کر محبت کے گیت گا رہا ہے، دوسری جانب بھارت کی تعریف میں رطب اللسان ہے اور تیسری جانب پی ٹی آئی کی ہمدردی میں گھل رہا ہے۔ لیکن اس کی پوری ٹائم لائن پر آپ کو نہ پاکستان کا جھنڈا ملے گا، نہ پاکستان کی تعریف میں کوئی لفظ، جس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ اس کی جڑیں کہاں کی ہیں۔
بنیادی طور پر اس کا تعلق بنوں، خیبر پختونخوا سے ہے، لیکن سب جانتے ہیں کہ بنوں میں سب سے زیادہ غیر قانونی افغان باشندے موجود ہیں، جنہوں نے غیر قانونی طریقے سے پاکستان کے شناختی کارڈ بنا رکھے ہیں۔ یہ بھی انہی میں سے ایک ہے۔
اس نے ڈاکٹر آئینہ کا بیک گراؤنڈ جاننے کے بعد انہیں باقاعدہ ٹارگٹ کرکے ہراساں کیا، اور چند دن قبل اسلام آباد یونیورسٹی سرحد کیمپس میں ہونے والا فائرنگ کا واقعہ بھی پوری پلاننگ کے تحت کیا گیا۔ ڈاکٹر آئینہ کو اس حد تک زچ کیا گیا کہ وہ اپنے ہسبینڈ کو بلائیں، اس کے بعد لڑکے تیار تھے جنہوں نے ان پر حملہ کیا اور کرنل صاحب کو بھی ذدوکوب کرنے کی کوشش کی۔ کیمرے بھی تیار تھے اور ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت یہ سارا پروپیگنڈا سوشل میڈیا پر پھیلایا گیا، جس میں پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا ونگ شامل تھا، اور ساتھ ہی بھارتی اکاؤنٹس بھی سرگرم ہوگئے۔
اگر اب بھی کسی کو سمجھ نہ آئے کہ یہ لوگ ہمارے ملک اور ہمارے اداروں کی جڑوں کو کیسے کھوکھلا کر رہے ہیں تو اپنی عقل پر ماتم کیجیے۔ اداروں پر یہ اہم ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے اور ملک میں موجود غیر قانونی افراد کو نکالا جائے۔ یہ عناصر دیمک کی طرح ہمارے ملک کو کھوکھلا کر رہے ہیں۔
اس ڈاکٹر جدون نے بھی افغانوں کی اجارہ داری سرحد کیمپس میں قائم کی ہوئی ہے، جہاں افغان طالب علم، جو پشتونوں کے بھیس میں ہیں، انہیں بغیر امتحان دیے ہی پاس کیا جا رہا ہے، جبکہ پاکستانی طلبہ کا مستقبل برباد کیا جا رہا ہے۔ یہ غیر محسوس طریقے سے ان کی ملک کے خلاف ذہن سازی بھی کر رہا ہے۔ اور یہ سب کچھ اس کی اپنی ٹائم لائن سے سامنے عیاں ہے۔
سننے والوں کی یقیناً اپنی اپنی رائے ضرور ہو گی لیکن میں زینب کی بات سے اتفاق کرتا ہوں-
پاکستان کے نظام کو بدبودار بنانے میں سرکاری محکموں, افسروں اور اہلکاروں کا کلیدی کردار ہے-
یہ سارے افغانی پاکستان میں نادرہ کے زریعے چند لاکھ روپے دے کر پاکستانی خاندانی شجرہ میں گھس کر اپنا نام اور خاندان بنواتے ہیں ۔۔
اس طرح کے لاکھوں لوگوں کو پاکستانی پشتون اسٹیبلشمنٹ نے پاکستانی خاندانوں میں گھسایا ہے خاص طور پر جتنے پشتون ہیں ۔۔
بلوچستان میں تو %80 افغانی ہیں جنہوں نے شناختی کارڈ بنوا رکھے ہیں اور تمام سرکاری ملازمتوں پر قبضہ کر رکھا ہے ۔انہیوں نے سرکاری اداروں میں باقاعدہ جتھے بنا رکھے ہیں کسی بھی پنجابی سیٹلر کا کام نہیں کرتے اسے تنگ کرتے ہیں ۔۔
پنجابی کے گھروں کاروباروں کی جاسوسیاں کرتے ہیں نوکریوں پر نظر رکھتے ہیں ۔۔
اور موقع ملتے ہی ٹارگٹ کلنگ کروا کر جائیداد کاروبار نوکریوں پر قبضہ کرتے ہیں ۔۔
صوبہ سرحد اور بلوچستان میں یہ کام پچھلے 75سال سے جاری ہے ۔۔
سندھ میں اور خاص طور پر کراچی میں قتل وغارت گری کروا کر سندھ ان کے نشانے پر آگیا اور آخر کار سارا افغانی شہر قندھار کراچی میں منتقل کر دیا گیا ۔۔
تاکہ پشتونائزیشن مکمل کروائی جا سکے پنجاب میں بڑی کوشش کروائی گئی زمینیں الاٹ کی گئیں اسمبلی میں ممبر بنائے گئے ہر چیز کو بدلنے کی کوشش کی گئی عمران خان بھی پشتونائزیشن کا حصہ ہے مگر پنجابی نہیں مانے حالانکہ پنجابیوں خلاف خوفناک ترین پروپیگینڈہ کیا گیا مگر پنجابی نے پشتونائزیشن کا انکار کردیا اسی وجہ سے پنجابی سے نفرت انتہا کو پہنچی اور پھر انہیں تینوں صوبوں قتل کیا گیا ۔۔۔
پنجابیو ۔۔۔افغانی پشتونوں کی ماں کو لن مارنا پڑے گا ۔۔
یہ ہیں قوم پرست افغانی ڈاکٹر جدون کے غنڈے جنہوں نے آج آزاد ڈیجیٹل کے صحافی شاہد قریشی کو چار گھنٹے اغوا کرکے رکھا۔
نوکری پاکستان میں،
تنخواہ پاکستان میں،
جھنڈے افغانستان کے لگانے والا جدون اپنے طلبا کی یہی ذہن سازی کرے گا۔
یونیورسٹیوں سے یہ گند صاف ہونا چاہئے۔
بلوچستان میں دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کو مزید مؤثر بنانے کے لیے صوبائی حکومت کی جانب سے دہشت گردو لڑکیوں کی تصاویر، نام، مقامات اور انعامی رقوم پر مشتمل نوٹس جاری کیا گیاہے ۔ جن میں سے زیادہ تر دہشت گرد لڑکیوں کا تعلق گوادر سے ہے۔
حنیفاں ولد شیر محمد — گوادر
عائشہ ولد عبدالرشید — گوادر
رقیہ ولد ولید — گوادر
اقرٰی ولد علی مولا — گوادر
عزیزاں ولد ابراہیم — گوادر
امینہ ہانی ولد عبدالرشید — گوادر
حفصہ ولد اقبال - جیوانی
زہرہ ولد ملک محمد - جیوانی
زرمین ولد واحد بخش - تربت
مولانا صاحب خود اتنے ایجوکیٹڈ نہیں ہیں اور ماڈرن ٹیکنالوجی سے لاعلم ہیں، تو فیشل ریکگنیشن سسٹم، جو چیک پوسٹ پر انسٹال کیا گیا ہے، اس کے بارے میں چیخ و پکار اور پروپیگنڈا کرنے کی آپ کی کوشش کیا ظاہر کرتی ہے؟
کیا مولانا صاحب، آپ کو یہ معلوم ہے کہ گوادر میں یہ فیشل ریکگنیشن سسٹم کیوں نصب کیا گیا ہے اور ان چیک پوسٹوں پر اسے کیوں انسٹال کیا گیا ہے؟ کیونکہ آپ کے ناک کے نیچے یا آپ کی پشت پناہی میں بی ایل اے گوادر سے اتنی بڑی تعداد میں لڑکیوں اور خواتین کو ریکروٹ کر رہی ہے۔
تو کیا یہ آپ کا دوغلا پن نہیں ہے کہ گوادر کی بیٹیوں کو محفوظ رکھنے کے لیے کیے جانے والے سیکیورٹی اقدامات کو آپ سبوتاژ کر رہے ہیں؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ آپ یہ سب اس لیے کر رہے ہیں کہ بی ایل اے میں گوادر کی خواتین کی بھرتی کا سلسلہ، بالخصوص، اسی طرح جاری رہے تاکہ آپ کی سیاست زندہ رہے؟