@ShamsAmjadJI بی ٹیم کا ٹائٹل آپ کی جماعت کو دینے والوں کی بھی ہم نے مخالفت کی اور ابھی آپ کے اس الزام کو بھی جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں. جماعت کو اپنے کارکنوں کا دماغ یوتھیا وائرس کا شکار ہونے سے بچانے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنے چاہیے
@khalidmabbasi عمران خان کو ہٹانے اور پاکستان کو ڈیفالٹ سے بچانے میں بھی حکومت کے ہر فیصلے پر مولانا نے پاکستان کا ساتھ دیا ہے.اب اچانک برطانوی اثاثہ بن گیا کچھ سمجھ نہیں آرہی.
سانحہ پمز ہاسپٹل کے پس پردہ محرکات کی دھندلی تصویر سولہ ستمبر کو ہونے والی عدالتی کاروائی کے دوران ابھرنا شروع ہو گی !
لال مسجد،اے پی ایس اور کاشانہ ویلفیئر ہوم لاہور کے سانحات کے بعد اب پمز ہسپتال۔۔۔!!
رجیم چینج کے باوجود ریاست کی گردن پر نیٹ ورک کی گرفت تاحال مضبوط ہے۔...!!!
نیٹ ورک کی جڑیں اسٹیبلشمنٹ،ریاستی اداروں،حکومتی مشینری،اقتدار کے ایوانوں،سیاسی و مذہبی جماعتوں اور میڈیا ہاؤسز کی گہرائی تک اتری ہوئی ہیں۔
کشمیر،بلوچستان،خیبرپختونخوا اور ریاستی بدانتظامی سب ایک ہی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔
مسلمان قوم اور امت مسلمہ تو الگ الگ حقیقتیں ہیں۔معاملات کو سمجھنے کیلئے انھیں الگ الگ دیکھنا بہت ضروری ہے۔مسلمان قوم کا مطلب ہے کہ جیسے رنگ نسل زبان کی بنیاد پر قومیں بنتی ہیں اور اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے ہر حربہ اختیار کرتی ہیں اور ہر چال چلتی ہیں ایسے ہی کلمے کی بنیاد پر ایک وسیع تر قوم وجود میں آتی ہے جو دیگر اقوام عالم کی طرح اصولوں کو برطرف کر کے زمینی حقائق کی روشنی میں اپنے دنیوی مفادات کے تابع اپنے لیے لائحہ عمل بناتی ہے۔اس تصور نے جیسے کبھی بنگالی پنجابی سندھی بلوچی اور پختون کو متحد کیا تھا اور جسے بعد میں اندرا گاندھی نے خلیج بنگال میں ڈبو دینے کا دعویٰ کیا تھا وہ تصور میثاق مکہ کے بعد برصغیر سے نکل کر عالمی افق پر ایک حقیقت بنکر ابھر رہا ہے۔یہ اپنی جگہ ایک خوش کن منظر ہے جو آنکھوں کی ٹھنڈک کا ذریعہ ہے۔رہا امت مسلمہ کا تصور تو وہ ایک اصول پرست،نظریاتی اور دنیوی مفادات سے بالاتر جماعت کا تصور ہے۔وہ تصور مسلمان قوم کے تصور سے الگ تھلگ ہونے کے باوجود اس کے اندر پیوست بھی ہے کیونکہ جیسے ایک عاقل بالغ فرد تزکیے کے عمل سے گزر کر اپنی خلقی کمزوریوں اور جبلی ضرورتوں سے بالا تر ہو کر اصولی زندگی بسر کرتا ہے ایسے ہی کوئی منظم قوم کسی نظریے کو بالا تر مان کر اسے اپنا مقصد وجود قرار دیکر اسکی ترویج کیلئے اپنے دنیوی مفادات قربان کرنے کا مشن اپناتی ہے۔گویا مسلمان قوم میں ڈھلنے والی اجتماعیت سے ہی یہ توقع لگائی جا سکتی ہے کہ وہ کل اسلامی مشن کی امین بن پائے گی۔۔۔
ڈاکٹر اسرار احمد رح نے آج سے سترہ سال قبل قبائلی اسلام یا طالبانی اسلام کے خطرات اور اس کے سدباب کے موضوع پر خطاب فرمایا تھا۔اس خطاب کا وقتی سبب تو کراچی کے اس وقت کے مخصوص حالات تھے مگر اس گفتگو کو سنتے ہوئے آپ کی آنکھوں کے سامنے آج کے مناظر گھوم جائیں گے
https://t.co/oLMMzUfiQK