تمہیں لگا ھم وہ شخص نہیں رھے جو تمھارا ذھنی سکون بنے سو تم نے چھوڑنا مناسب سمجھا ،
سو ھمارے لئے تم وہ واحد شخص تھے جس کا ذھنی سکون ھمیں اپنی انا سے زیادہ عزیز تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!
بہتری کبھی خود نہیں آتی اس کیلیے شعوری کوشش محنت اور مسلسل نگہداشت درکار ہوتی ہے
صاف ستھرا کمرہ مہینوں یونہی چھوڑ دیا جائے تو وہ خود بخود بکھر جائے گا گرد و غبار جمع ہو جائے گا اور اس کی ترتیب ختم ہو جائے گی لیکن وہ کمرہ خود سے کبھی صاف نہیں ہوگا صفائی کیلیے محنت کرنا پڑتی ہے۔
انسان کی زندگی بھی کچھ ایسی ہی ہے اگر ہم اپنی اصلاح اپنے کردار اپنے علم اور اپنے اعمال پر محنت کرنا چھوڑ دیں تو وقت کے ساتھ ہم بھی آہستہ آہستہ زوال غفلت اور بگاڑ کی طرف بڑھنے لگتے ہیں۔
اس لیے اصلاح کرنے والوں کو نوچنے کی بجائے ہمیں اپنی حالت پر غور کرنا چاہیے اپنے آج کا اپنے گزرے کل سے موازنہ کریں کیا ہم پہلے سے بہتر ہوئے ہیں یا بدتر اگر ہم نے خود کو وقت کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا تو اینٹروپی کے اصول کی طرح ہماری زندگی بھی بتدریج بگاڑ اور انتشار کا شکار ہو جائے گی۔
اینٹروپی ہمیں ایک گہرا سبق دیتی ہے فزکس کے مطابق اگر کسی نظام کو اس کے حال پر چھوڑ دیا جائے تو وہ خود بخود ترتیب سے بے ترتیبی اور بہتری سے خرابی کی طرف بڑھنے لگتا ہے
قومیں ہوں یا افراد ترقی اتفاق سے نہیں ملتی اس کیلیے مسلسل جدوجہد احتساب اور اصلاح کی ضرورت ہوتی ہے جو کوئی اپنی اصلاح چھوڑ دیتا ہے وہ بھی اس صاف ستھرے کمرے کی مانند آہستہ آہستہ بکھرتے اور زوال کا شکار ہو جاتا ہے۔
اور جب ہم انسـان پر کوئی اِنعــام کرتے ہی
تو وہ منہ موڑ لیتا اور پہلو بدل کر دُور چلا
جاتا ہےاور جب اُسےکوئی بُرائی چھو جاتی
ہے تو وہ لمبی چـوڑی دُعـائیں کرنے لگتـا ہے
سورۃ فصلت آیت نمبر 51
مارننگ گائیز 💝
اپنے ظرف کو اتنا وسیع رکھیں کہ وہ تنقید کو جذب کر سکے ،اور تعریف میں بہہ نہ جائے کیونکہ اصل مضبوطی وھی ھے جو انسان کو ھر حال میں متوازن رکھے ،نہ تعریف سے غرور آئے نہ تنقید سے دل ٹوٹے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!
یار ہم نے سکول، کالج یونیورسٹی ہر جگہ سوالوں کے جواب دئیے ہیں تو تب ہی آج زندگی کے سوالوں کے جوابات دے رہے ہیں
تو
بلیو ٹک والوں سے مؤدبانہ گذارش ہے اگر آپ لوگوں کے پاس کوئی بیسٹ کانٹینٹ نہیں تو
سوالات پوچھ پوچھ کر ہمھیں مزید کسی امتحان میں نہ ڈالیں 😅🙏