اسڪول جي پڙھائڻ جي وقت وڌائڻ تي ايتري تنڪيد عجيب ڳالھ آھي . ڇا استاد نه ٿا چاھين ته سنڌ جا ٻار پڙھن. ڪاش اھيا وٽ پڪڙ اسڪولن جي موڪلون گهٽ ڪرڻ تي ڏيو ھا ته ڪيترو نه سٺو ٿي وڃي ھا.
#EducationForAll#سنڌ#Sindh
یہ ایک انتہائی تکلیف دہ اور افسوسناک واقعہ ہے جو معاشرے کے چہرے پر ایک بدنما داغ کی مانند ہے
جب ایک تعلیمی ادارہ، جسے "دوسرا گھر" اور استاد کو "روحانی باپ" کا درجہ دیا جاتا ہے
ایک طالبہ کے لیے خوف اور اذیت کا گڑھ بن جائے، تو یہ پورے نظام کی ناکامی ہے
#JusticeForDrFahmeedaLaghari
ایک جھٹکے میں پیٹرول اور ڈیزل 55، 55 روپے فی لیٹر مہنگا ۔
فیصلہ چند منٹ میں ہو جاتا ہے،
مگر اس کا بوجھ کروڑوں لوگوں کی زندگیوں پر پڑتا ہے ۔
ہر بار وہی کہانی:
عالمی قیمتیں بڑھ گئیں، جنگ ہو گئی، حالات غیر معمولی ہیں ۔
مگر سوال یہ ہے:
جب عالمی قیمتیں کم ہوتی ہیں تو ریلیف اتنی تیزی سے کیوں نہیں آتا؟
ایک لیٹر پیٹرول میں پہلے ہی
کسٹم ڈیوٹی، پٹرولیم لیوی، کلائمیٹ لیوی، کمپنی اور ڈیلر مارجن شامل ہیں۔
یعنی قیمت کا بڑا حصہ ٹیکسوں پر کھڑا ہے ۔
پھر کہا جاتا ہے کہ یہ “مشکل فیصلہ” ہے ۔
مشکل فیصلہ عوام کے لیے کیوں؟
حکومت کے اخراجات میں کمی کیوں نہیں؟
وفود بڑھتے جا رہے ہیں،
وزراء کی فوج موجود ہے،
بیرونِ ملک دورے جاری ہیں،
مگر قربانی ہمیشہ عوام ہی دے ۔
پیٹرول مہنگا ہوتا ہے
تو صرف گاڑی نہیں چلتی ۔
ٹرانسپورٹ مہنگی،
سبزی مہنگی،
آٹا مہنگا،
ہر چیز مہنگی۔
اصل سوال یہ ہے:
کیا معیشت صرف عوام کی جیب سے ہی چلنی ہے؟
کرپشن، نااہلی اور کمزور پالیسیوں کا بوجھ
آخر کب تک عوام اٹھائے گی؟
ریاست کا کام عوام کو ریلیف دینا ہوتا ہے،
نہ کہ ہر بحران کا حل
قیمتیں بڑھانا۔
آج پھر وہی ہوا:
فیصلہ اوپر،
بوجھ نیچے۔
حکمرانوں کو تو پٹرول فری ہی ملنا ہے ۔
اور عوام سے توقع یہ کہ وہ خاموش رہے ۔
اسلام آباد کے نوجوان ڈٹ گئے کچھ بھی ہوجاۓ امریکی قونصلیٹ میں گھسنا ہے
حکومت کو پیغام ہے ابھی بھی آپکے باس وقت ہے اپنے سرداروں کو جتنا پروٹوکول دینا ہے دیدو ہم نے آج گُھسنا ہے
پھر اسلام آباد کی سڑکوں پر شہادتیں ہی شہادتیں ہوں گی
لبیک یا خمینی کی صدائیں بلند