Dear Mahira, you are the queen for a reason. Big fan of your since Humsafar. Your each and every aspect of work makes me your fan. Seeing your support towards SKMCH always makes me feel proud of choosing you as one of the most “Finest Actor of Pakistan”
Always stay blessed and yes IK will be inaugurating SKMCH Karachi.
🚨🔴 بریکنگ نیوز | انتہائی اہم
⚖️ حماد اظہر کا آج لاہور کی عدالت میں جج کے سامنے انتہائی اہم بیان!
🔴 مکمل بیان پڑھیے اور اصل آڈیو سنیے۔
"میں نے پہلے وہ فیٹف (FATF) والا سارا کیس جو ہے، وہ آپ کے سامنے رکھ دیا کہ یہ کل ہمارے لیے جو ہو رہا ہے یہاں پہ، یہ ہمارے لیے اس فورم میں ایک پرابلم کریئیٹ کرے گا، اور جس طرح ہم اس فورم سے نکلے ہیں، میرے سے بہتر کوئی نہیں جانتا۔
اور جو اس کے ہمارے اوپر سنگین نتائج آنے والے تھے، اور جہاں جہاں پہ پریشانی تھی اس چیز کی، وہ بھی میرے سے زیادہ کوئی نہیں جانتا۔
خیر، بہرحال، وہ تو وہ جانیں اور فیٹف کا فورم جانے، لیکن یہ چیزیں جو ہیں، میں ہنڈرڈ پرسنٹ کہتا ہوں کہ یہ ہمارے حق میں نہیں جائیں گی۔
دوسری چیز یہ ہے کہ دیکھیں، میں بھی ایک وکیل ہوں۔ اس عدالت کا، لوگ آتے جاتے رہتے ہیں۔ کل میں یہاں پہ کھڑا ہوں، میری جگہ کوئی اور ملزم ہوگا۔ آپ جج ہیں، آپ کی جگہ کوئی اور جج ہوگا۔
لیکن اس عدالت کا جو وقار ہے، جو نیک نامی ہے اور جو احترام ہے، وہ قائم رہنا چاہیے۔
Institutions are more important than personalities.
اب ہم یہاں پہ کر کیا رہے ہیں؟ اس میں یہ دیکھیے۔
ساڑھے تین سال بعد پراسیکیوشن نے اپنا ورژن بدل لیا۔ پہلے خود مان رہے ہیں ایف آئی آر میں کہ حماد اظہر موقع پہ موجود نہیں۔ ایف آئی آر کے اندر جو لوگ موقع پہ موجود ہیں، ان میں میرا نام ہی نہیں ہے۔
ساڑھے تین سال سے کسی جگہ انہوں نے ذکر نہیں کیا۔ اُس دن میں گکھڑ منڈی میں موجود تھا، جو کافی سو کلومیٹروں کے فاصلے پر ہے لاہور سے۔
آج انہوں نے میرے سے ڈنڈا اور وہ بھی برآمد کر لیا، پٹرول بم۔
مطلب یہ کہ ہم تھوڑا سا تو احترام کریں اس عدالت کا اور اس کے قانون کا، جس کو ہم اس طرح blatantly misuse and abuse کر رہے ہیں۔
پچھلی دفعہ میں آیا تو یہاں پہ مجھے بڑی اچھی طرح یاد ہے کہ انہوں نے کہا کہ جی ابھی کچھ ریکور نہیں ہوا۔
آج کہہ رہے ہیں کہ پچھلی دفعہ ہی ریکور کر لیا تھا ہم نے۔ یعنی اپنی پچھلی دفعہ کی اسٹیٹمنٹ بدل لی اور ایک contemptuous قسم کی حرکت کی انہوں نے۔
چلیں، آخری چیز آ جاتے ہیں۔
سترہ دن سے میں ریمانڈ میں ہوں۔ پولیس کے، نہیں، سترہ دن پچھلے، اس سے پہلے اکیس دن، ٹھیک ہے؟
پچھلے سترہ دن کا میرے سیل کے اوپر لگا ہوا ہے کیمرہ۔ نکال کے دیکھیں، کوئی بندہ میرے پاس آیا ہے تفتیش کرنے؟ میرے سیل کا دروازہ کھول کے مجھے کوئی باہر لے کے گیا ہے؟
ریکارڈ موجود ہے، منگوا لیں۔ ابھی بات سچ کا سچ اور جھوٹ ثابت ہو جائے گا۔
اور اگر میں سچا ثابت ہوتا ہوں تو کیا کل جھوٹی ایف آئی آر کے اوپر جو قوانین ہیں...
مجھے سپریم کورٹ کے ایک جج نے بڑا عرصہ پہلے کہا تھا۔ وہ مجھے ملے، انہوں نے مجھے کہا کہ حماد بیٹا، جب بھی تم اگلی دفعہ آؤ اقتدار میں، تو سپریم کورٹ کے میرے اس جج کی اس بات کو یاد رکھنا کہ جعلی ایف آئی آر کے اوپر سخت سے سخت سزا ہے، اور جعلی گواہی دینے کے اوپر سخت سے سخت سزا ہے۔
اس کو تم نے ضرور لاگو کرنا ہے، کیونکہ جب تک اس کو تم لاگو نہیں کرو گے، یہ ہمارا سسٹم ٹھیک نہیں ہوگا۔
یہ ایسے ہی ایف آئی آرز میں نمبر دے دیتے ہیں، ایسے ہی ٹھپے لگا کے آگے، کیا نام ہے، کبھی ایک بیان دے دیا، کبھی دوسرا بیان دے دیا۔
اچھا، آپ بندہ خود لاجکلی سوچیں، چلیں میں ملزم نہیں ہوں۔
ساڑھے تین سال گزر گئے اس واقعے کو، نو مئی کے۔ پٹرول بم اور ڈنڈا، یہ چیزیں اب برآمد ہو سکتی ہیں؟
مطلب وہ ساڑھے تین سال پٹرول بم اور ڈنڈا سنبھال کے رکھے گا؟
مطلب ایک کامن سینسیکل سی بات ہے، لاجیکل بات ہے۔
مجھے ابھی یہاں، میں بیٹھا ہوا تھا کرسی پہ، تو میرے وکیل بتا رہے تھے کہ یہاں پہ جو دوسرے میرے کولیگز آئے ہوئے ہیں، پارٹی کے بھی، وہ مجھے بتا رہے تھے کہ آپ کا جو کیس ہے، اکیس دن کا فزیکل ریمانڈ اور سترہ دن کا فزیکل ریمانڈ، بعد میں اڑتیس دن بنتے ہیں۔
وہ سپریم کورٹ کے بار روم میں بھی ڈسکس ہو رہا تھا کہ ایسے کبھی پہلے ہوا ہی نہیں کہ ایک پرچہ، جو سیاسی پرچہ، جس کا سب کو پتا ہے کہ جعلی تھی، جس کے اندر موقع پہ ملزم بھی موجود نہیں ہے، اس کو ہم نے اکیس دن اور سترہ دن کا فزیکل ریمانڈ دے دیا۔
اور آج اوپر سے اس کے اوپر ایک اور سونے پہ سہاگہ یہ جو contemptuous چیز ہوئی ہے کہ جو برآمدگی اپنی طرف سے شو کر رہے ہیں، جو پچھلی دفعہ شو نہیں کی تھی، یعنی وہ رپورٹیں بھی بدل گئی ہیں۔
میرا فرانزک ٹیسٹ ہوا ہے کافی دن پہلے، ہفتہ دس دن ہو گئے ہیں، وہ جو سارا سوشل میڈیا...
کہاں ہے اس کی رپورٹ؟
نکالیں میرا جیو ٹیگنگ، گکھڑ منڈی کی نکلے گی۔
نکالیں میری اس کے اوپر فرانزک کی رپورٹ۔ کیا میرا کوئی میچنگ ہو رہی ہے وہاں پہ جو لوگ وہاں موجود تھے، ان کے ساتھ؟
نہیں ہو رہی۔
تو پھر ہم کیوں اس عدالت کا بھی وقت ضائع کر رہے ہیں، اس عدالت کا وقار بھی تباہ کر رہے ہیں؟
دیکھیں، کل میں اکثر یہ افسروں کو بھی یہ بات کہتا ہوں کہ کل یہ ایکسکیوز نہیں مانی جائے گی کہ اوپر سے پریشر تھا۔
بھائی، بات یہ ہے کہ اگر آپ اتنے بدنصیب ہیں کہ اپنی چھوٹی سی نوکری بچانے کے لیے آپ جھوٹی گواہیاں دینے کے لیے تیار ہیں، آپ بے گناہوں پہ ناانصافی کرنے کے لیے تیار ہیں، تو آپ سے بدنصیب آدمی کوئی نہیں۔
کل روزِ حشر یہ قلم گواہی دے گا، یہ کاغذ گواہی دیں گے، آپ کا حلق گواہی دے گا۔
یہی ایسی عدالت لگے گی، صرف فرق یہ ہے کہ میرے علاوہ سب کٹہرے میں کھڑے ہوں گے۔ میں بھی کٹہرے میں کھڑا ہوں گا، باقی سب بھی۔
اس دن میرا پورا یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ کہے گا اُس دن، اُس دن اللہ تعالیٰ کہے گا کہ اُس دن جو تم کہتے تھے کہ اپنی نوکری بچانے کے لیے اوپر سے مجھے پریشر تھا، اور میں نے...
آج بلاؤ اُس اوپر والے کو اور بچاؤ اپنے آپ کو اس عذاب سے جو میں تمہیں دینے لگا ہوں۔ اُس کو بلاؤ۔
تو یہ ایک فیکٹ ہے، فیکٹ ہے۔
تو یہ جناب، یہ ساری چیزیں ہو رہی ہیں۔ بڑے بدنصیب ہیں وہ لوگ جو آج بے گناہوں پہ ظلم کر رہے ہیں، ناانصافی کر رہے ہیں، صرف اپنی پوسٹیں بچانے کے لیے۔
مجھے بڑا دکھ ہوا، مجھے آج بڑا دکھ ہوا کہ پچھلی دفعہ جب مجھے، میں سمجھا کہ جی ٹھیک ہے، کسی چیز کی ریکوری نہیں ہوئی کیونکہ میں موقع پہ موجود نہیں تھا۔
آج ریکوری انہوں نے کیسے کر لی؟
یہ تو کیس اب بہت آگے جائے گا۔ یہ تو شاید کیس اب ہائی کورٹ تک جائے، سپریم کورٹ تک جائے گا، اور میں اس کیس کا پیچھا نہیں چھوڑوں گا۔
میں آپ کو یقین دلاتا ہوں، کیونکہ میرے پاس ثبوت موجود ہیں کہ میں وہاں پہ موجود نہیں تھا۔
کیسے انہوں نے یہ ریکوری ڈال دی ہے؟
تو جج صاحب، آپ پہ بھی احترام سے یہ ایک چیز، ذمہ داری لاگو ہوتی ہے کہ جہاں پہ اس طرح کا mala fide behaviour شو ہوتا ہے، جہاں پہ اس طرح کا contemptuous behaviour شو ہوتا ہے، جہاں پہ عدالت کے سامنے ایسے جعلی دستاویز رکھے جاتے ہیں، جن کو چینج کیا جاتا ہے ایک کے بعد دوسری جگہ، جہاں پہ اس حد تک فورجری اور جھوٹ پیدا کیا جا رہا ہے کہ کامن سینسیکل بات ہی نہیں ہے کہ ساڑھے تین سال بعد پٹرول بم اور ڈنڈا جو ہے، وہ ریکور ہو سکتا ہے؟
اور کس نے تفتیش کی میرے سے؟
نکالیں ریکارڈنگ، نکالیں اس کی، میرے سیل کی۔
سترہ دن سے مجھے وہاں پہ آپ نے نکالا ہی نہیں دو ہفتے سے، تو آپ نے تفتیش کس نے کی میرے سے آ کے وہاں پہ؟
تو یہ سر ساری چیزیں ہیں۔
میں سمجھتا ہوں کہ اس عدالت کے وقار کو آج مجروح کیا گیا ہے۔ ہمارے کریمنل جسٹس سسٹم کو، جو کہتا ہے کہ بے گناہ کو ایک دن بھی فزیکل ریمانڈ نہیں دینا چاہیے، اس کو بھی مجروح کیا گیا۔
مجھے اڑتیس دن کے، اب الحمدللہ مجھے حوالات کے فرش پہ گھر سے بہتر نیند آتی ہے، وہ مجھے کوئی پرابلم نہیں ہے۔
لیکن جو اس ملک کے ہمارے کریمنل جسٹس سسٹم کے ساتھ کیا گیا، کیونکہ میں اس انسدادِ دہشت گردی کے قوانین کے ساتھ وابستہ رہا ہوں، میں پاکستان کو فیٹف کی گرے لسٹ سے نکالنے میں ایک چھوٹا سا کردار ادا کر چکا ہوں، تو میں ان سارے قوانین کو جانتا ہوں۔
اور میں جانتا ہوں کہ اس کو کس طرح اب abuse کیا جا رہا ہے اور ہماری محنت کو تباہ کیا جا رہا ہے۔
شکریہ۔"
میرے ملک کے مستقبل کا سوال نہ ہوتا، میرے لوگوں کی زندگیاں داؤ پر نہ لگی ہوتیں تو مجھے اس خدائ کے دعویدار مافیہ کی مراد سعید فوبیا پر ہنسی آتی۔
مئی جون ۲۰۲۲ میں مراد سعید دہشت گردی کے پھیلاؤ کا ریاست مخالف پراپگنڈہ کررہا تھا۔ لوگوں کو اُکسا رہا تھا۔
ارشد شریف پر جعلی ایف آئ آرز انہوں نے کاٹیں، اُس کو ہراساں کرنے ان کے ہرکارے اُس کے گھر تک گئے، قتل انہوں نے کیا۔ مطلوب ہوا مراد سعید۔
عمران خان کے گھر پر ان کے پہ در پہ حملے ناکام ہوئے تو مراد سعید کے لائے شرپسندوں نے زمان پارک میں ڈیرے ڈال رکھے تھے۔
جوڈیشل کمپلیکس میں عمران خان کی زندگی پر حملہ انہوں نے کیا عمران خان کے زندہ بچ نکلنے پہ قصوروار مراد سعید تھا۔ اس لیے وہ درکار تھا، ”زندہ یا مردہ”۔
۹ مئی کو کالر سے گھسیٹ کر تشدد کرکے اغوا عمران خان کو انہوں نے کیا۔ فالس فلیگ انہوں نے کیا۔ ذمہ دار مراد سعید تھا۔
۵ اکتوبر کو وزیر علی امین گنڈاپور لانگ مارچ لے کر آئے، روابط مراد سعید سے تھے۔ (پھر اُسی علی امین گنڈاپور کو ان کے ٹاوٹس یقین دہانیاں کراتے رہے کہ آپ کو وزارت سے ہٹانے کی سازش مراد سعید نے رچائی)۔
۲۶ اکتوبر کو گولی کیوں چلائی کا جواز یہ تھا کہ مراد سعید کنٹینر پر موجود تھا، بلکہ لانگ مارچ کے لیے افغانستان سے ۱۵۰۰ بندہ لے کر آیا تھا۔ وہی مراد سعید جس نے اپنی قوم کو ساتھ ملا کر انہیں مجبور کیا تھا کہ اپنے فوجی ٹرکوں میں، اپنے لائے ہوؤں کو اُس افغانستان چھوڑ کر آئیں جس کے ساتھ بارڈر کی سیکیوریٹی ان کی ذمہ داری تھی۔
عمران خان نے قبائلی نوجوان سہیل آفریدی کو وزیر اعلی نامزد کیا بندوقوں کا رُخ پھر مراد سعید کی جانب ہوگیا۔ روپوش مراد سعید نے جیل میں بیٹھے عمران خان سے اپنے دستِ راست کی منظوری کرالی۔
سہیل آفریدی امیدوں پر پورا نہیں اتر رہا تھا، تو ”عمران خان کو مروانا چاہتا ہے؛ جان نشینی کا طلبگار“؛ مراد سعید
۲۷ ستمبر کے لانگ مارچ کا اعلان ہوا تو ٹاؤٹوں نے جا کے اہل خانہ کو پیغام دیا کہ خان صاحب سے ملاقاتیں نہیں ہوسکتیں کیونکہ مراد سعید کو ان کا پیغام پہنچ جاتا ہے پھر وہ احتجاج پر زور دلواتا ہے۔ یعنی ان کے جائز حقوق چھیننے کا مجرم بھی مُراد سعید۔
خیبر پختونخواہ کے امن کا سودا انہوں نے کیا، یہاں کے وسائل کا اختیار انہیں چاہئیے تھا۔ خان صاحب کی رہائی کے بدلے عوام کے خون کی بلی یہ مانگ رہے تھے۔ مذاکرات ناکام مُراد سعید نے کیے۔
گورنر سے لے کر، وزیر داخلہ، وزیر اطلاعات، سیکٹر کمانڈرز سے لے کر، اُس کے میڈیائی پالتوؤں اور پارٹی کے اندر کے ٹاؤٹوں سے لے کر سوشل میڈیائ گھس بیٹیھوں تک۔ سب کی نااہلیوں، بے غیرتیوں اور غداریوں کے لیے موردِ الزام مراد سعید۔
بات میری قوم کے مستقبل، میرے لوگوں کی زندگیوں کی نا ہوتی تو مجھے آپ خدائ کے دعویداروں کی اس مراد سعید فوبیا پر ہنسی آتی۔
یہ غنڈہ گردی نامنظور ،رہا کرو رہا کرو عمران خان کو رہا کرو خیبرپختونخوا کی عوام گورنر راج کے خلاف سڑکوں پر شدید احتجاج جاری، ملک میں جاری فسطائیت کے خلاف شدید نعرے بازی۔
#آئین_شکن_راج_نہیں_چلے_گا