یکم جولائ�� 2011 میرے سیاسی استاد اور میرے والد عبدالغفار لانگو کو 2 سال جبری گمشدہ کرنے کے بعد انکی مسخ شدہ لاش ریاست نے ہمیں تحفے میں دی۔اپنے مہروان والد کے خون آلود چہرے کو دیکھتے انکے تابوت کے پاس بیٹھے ہم پانچ بہنوں اور ہمارے اکلوتے بھائی کی زندگیاں یکسر بدل گئی۔
شوکت نواز میر گرفتار ہوئے ہیں مگر تحریک نہیں
یقیناً اگر شوکت نواز میر صاحب دھرنے میں پہنچ جاتے تو عوام کے حوصلے کئی گنا بڑھ جاتے جذبے مزید بلند ہوتے لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا اور ہر طرف ایک نئی توانائی پیدا ہوتی....بدقسمتی سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ دھرنے تک پہنچنے کی کوشش کے دوران مخبری یا پولیس اور دیگر اداروں کے قومبینگ اپریشن کی وجہ سے انہیں گرفتار کر لیا گیا...مگر ایک بات پوری قوم کو یاد رکھنی چاہیے..عوامی تحریکیں کسی ایک فرد کے سہارے نہیں چلتیں...یہ نہ صرف شوکت نواز میر کی تحریک ہے اور نہ ہی صرف کور ممبران کی...یہ پوری عوام کی تحریک ہے
شوکت نواز میر ہمارے قائد ہیں اور ہمیشہ قائد رہیں گے مگر خود انہوں نے ہمیں یہی سبق دیا ہے کہ قیادت سے زیادہ اہم تحریک ہوتی ہے اور تحریک سے بھی زیادہ اہم اس کے مقاصد ہوتے ہیں...انہوں نے ہمیں راستہ دکھا دیا ہے اب اس راستے پر چلنا عوام کی ذمہ داری ہے...کسی ایک گرفتاری سے نہ حوصلے پست ہونے چاہئیں نہ قدم رکنے چاہئیں بلکہ آج پہلے سے زیادہ مضبوط ہو کر پہلے سے زیادہ متحد ہو کر پہلے سے زیادہ بڑی تعداد میں میدان میں نکلنے کا وقت ہے
شوکت نواز میر نے کبھی اپنی ذات کے لیے جدوجہد نہیں کی...انہوں نے عوام کے حقوق کی جنگ لڑی..انہوں نے ظالمانہ نظام کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہونے کا حوصلہ دیا...ایسی جدوجہد میں گرفتاریاں بھی ہوتی ہیں چھاپے بھی پڑتے ہیں جیلیں بھی آتی ہیں اور قربانیاں بھی دینی پڑتی ہیں...یہی ہر عوامی تحریک کی تاریخ رہی ہے...ہمیں یقین ہے کہ شوکت نواز میر جلد دوبارہ عوام کے درمیان ہوں گے..اور اس وقت تک عوام ان کا حوصلہ بنے گی ان کی آواز بنے گی اور ان کے مشن کو آگے بڑھائے گی...ان شاء اللہ یہ تحریک کسی گرفتاری سے کمزور نہیں ہوگی بلکہ پہلے سے زیادہ طاقتور بن کر ابھرے گی...آخرکار فتح عوام کی ہوگی
اور شکست ظلم تکبر اور استحصالی نظام کی ہوگی
اللہ اکبر
ایک ماہ سے جاری مسلسل ہراسانی کے بعد گزشتہ رات تقریباً ایک بجے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور پولیس کے اہلکار، جو بائیس گاڑیوں میں سوار تھے اور جن کی تعداد تقریباً 60 سے 70 کے درمیان تھی، لیڈی پولیس اہلکاروں کے ہمراہ مجھے گرفتار کرنے کے لیے میرے گھر پہنچے۔
اس وقت میں گھر پر موجود نہیں تھی۔ اہلکاروں نے گھر کے دروازے توڑ کر زبردستی اندر داخل ہوئے اور تقریباً پانچ گھنٹے ��ک گھر کے اندر موجود رہے۔ اس دوران انہوں نے پورے گھر کی تلاشی لی اور گھر میں موجود تمام سامان، بشمول لیپ ٹاپ، کیمرے، موبائل فون، کتابیں، دستاویزات اور زیورات اپنے ساتھ لے گئے۔
اگر ان کا مقصد مجھے گرفتار کرنا تھا تو میری غیر موجودگی کا کنفرم کرنے کے باوجود میرے گھر کے دروازے توڑ کر داخل ہونے کی کیا مقصد تھا؟ میرے گھر میں موجود قیمتی اشیاء کو چوری کرنے، سامان کی توڑ پھوڑ کرنے اور ہمسائیوں کو تشدد اور ہراساں کرنے کا کیا مقصد تھا؟ کس قانون کے تحت یہ سب کچھ کیا جارہا ہے؟
میں متعدد بار یہ واضح کر چکی ہوں کہ اگر میرے خلاف کوئی مقدمہ ہے تو میں اسے قانونی فورمز پر سامنا کرنے کے لیے تیار ہوں۔ تاہم ایک پُرامن انسانی حقوق کے کارکن کے گھر پر رات کے اندھیرے میں دھاوا بولنا، ہمسایوں کو تشدد اور دھمکیوں کے ذریعے خوفزدہ کرنا، اور میرے خاندان کو ہراساں کرنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مقصد قانون کا نفاذ نہیں بلکہ مجھے اور میرے اہلِ خانہ کو ڈرانا اور خاموش کرانا ہے۔
میرے گھر کو پہنچنے والے تمام نقصان اور اس کار��وائی کے نتائج کی ذمہ داری بغدادی پولیس، لیاری پولیس اور سندھ حکومت پر عائد ہوگی۔
ایک متنازعہ قتل کے مقدمے کو بنیاد بنا کر ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور شاہ جی صبغت اللہ کو عمر قید کی سزا سنا دی گئی لیکن کیا اسی راجی مچی کے دوران ایف سی کے اہلکاروں کی براہِ راست فائرنگ سے قتل ہونے والے چار نہتے بلوچوں کے قاتلوں کو بھی کبھی عمر قید کی سزا ملی؟ کبھی ان نہتے سیویلینز کے قتل پر کوئی ایف آئی آر درج ہوئی، کبھی انکے قاتلوں کوکٹھرے میں کسی عدالت نے کھڑا کیا؟ نہیں، کیونکہ ان کے لیے قانون کا معیار مختلف ہے، کیونکہ وردی پہن لینے سے قتل جرم نہیں رہتا، اور قانون صرف مظلوم کے خلاف طاقتور ہو سکتا ہے۔
جولائی 2024 میں ایک پرامن عوامی اجتماع کو روکنے کے لیے پورے بلوچستان کو عملاً محاصرے میں بدل دیا گیا۔ سڑکیں کھودی گئیں، راستے بند کیے گئے، بسوں پر فائرنگ کی گئی، اور پھر نہتے لوگوں پر گولیاں برسائی گئیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ چار افراد اپنی جانوں سے گئے، درجنوں زخمی ہوئے، تین افراد مستقل معذوری کا شکار ہوئے، اور ایک شخص کے سر میں گولی مار کر اسے عمر بھر کی اذیت کے حوالے کر دیا گیا۔
مگر ان قتلوں پر کوئی مقدمہ نہیں۔ ان زخمیوں کے لیے کوئی انصاف نہیں۔ ان معذوروں کے لیے کوئی احتساب نہیں۔ جنہوں نے عوام پر گولیاں چلائیں، جنہوں نے بسوں کے ٹائر پھاڑے، جنہوں نے گھروں پر دھاوے بولے، جنہوں نے طاقت کے زور پر ایک عوامی اجتم��ع کو کچلنے کی کوشش کی، ان میں سے کسی ایک کو بھی قانون کے کٹہرے میں نہیں لایا گیا، وہ اس لیے کہ اس نظام میں قانون جرم کو نہیں، مجرم کی حیثیت اور طاقت کو دیکھتا ہے۔ اگر آپ کمزور ہیں تو الزام ہی سزا بن جاتا ہے، لیکن اگر آپ طاقتور ہیں تو لاشیں بھی آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں۔
یہاں انصاف کا ترازو براب�� نہیں، بلکہ طاقت کے وزن سے جھکا ہوا ہے۔
اور یہی نظام ہیکہ قاتل آزاد ہیں اور مظلوم قید۔
گولیاں چلانے والے محفوظ ہیں اور گولیاں کھانے والے مجرم۔
بندوق والوں کے لیے استثنا ہے اور خالی ہاتھ لوگوں کے لیے عمر قید۔
یہی اس سامراجی اور ہائبرڈ نظام کا اصل چہرہ ہے
اور یہی اسلامی جمہوریہ پاکستان میں انصاف ہے۔
کرپشن، دو نمبری میں جہاں باقی ادارے 78 سال میں پہنچے ہیں وہ سفر پیرا فورس نے چند ماہ میں طے کرلیا ہے۔ اوکاڑہ، رینالہ خورد میں یہ اہلکار موٹر سائیکل واش کروانے کے بعد پیسے دینے سے انکاری ہے۔ شرٹ سے اپنی Name Plate بھی اتاری ہے تاکہ شناخت نہ ہو۔
@CMComplaintCell@DC_OKARA
پنجاب پولیس کی غنڈہ گردی جاری مریم منیر کا ڈوبتا پنجاب 🚨جہاں عورتیں اب سیکورٹی اداروں سے محفوظ نہیں ۔۔
رجیم چینج کے بعد ہر سیکورٹی کا ادارہ فیملی میں سے عورتوں کو نشانہ ضرور بناتا ہے ،کیونکہ پاکستان کی کمپنی کو پتہ ہے مردوں کو خاموش کرانا ہے تو عورتوں کے ساتھ بدتمیزی بے حرمتی کرو تو پوری فیملی خاموش ہو کر گھروں میں بیٹھ جاتی ہے ۔
رجیم چینج میں ہزاروں ایسی فیُملیاں ہیں جھنوں نے خان کے لیے آواز اٹھائی لیکن جو پولیس اور کمپنی نے بدتمیزی ،ریپ کی دھمکیاں ،ویڈیو بنانے کی دھمکیاں دے کر خاموش کرا دی ہیں ۔
پولیس کانسٹبل کو سینیئر اہلکار نے تھپڑ مارا تو اس نے آئ جی آزاد کشمیر لیاقت ملک سے شکایت کی ۔۔۔ جس پے آئی جی صاحب نے اس سینئر کو بلا کے اسپیشل شاباش دی ۔۔۔۔۔