اگر آپکا ضمیر زندہ اور نیت صاف ہے۔
تو اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ لوگ آپکے بارے میں کیا سوچتے ہیں
کیونکہ آپ اپنی نیت سے جانچے جائیں گے
دوسروں کی سوچ سے نہی
جی ڈی وینس نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کو عظیم سفارت کار قرار دے دیا اور کہا میرئ زندگی میں دو اہم ترین بندے ایک انڈین ایک پاکستانی ہے انڈین میری بیوی اور پاکستانی عاصم منیر ہے پچھلے تین مہینے ان سے زیادہ میرئ کسی سے بات نہی ہوئی ہے
آج تو برنول مک جانا ہے
🚨🚨بڑی خبر
باوثوق ذرائع سے پتہ چلا کہ ایران نے حتمی معاہدے میں اڈیالہ کے ایک قیدی کی رہائی کی شرط رکھی تھی جسے پاکستان نے راتوں رات ڈرافٹ سے ننکلوا دیا اسی وجہ سے سعودیہ نے بھی تین سو ارب ڈالر دینے سے انکار کر دیا ہے اس کے بعد ایران نے کہا اگر عمران خان سوئزر لینڈ نہی آئے گا تو ہم بھی نہی جائے گا اس لیے تقریب ملتوی کرنی پڑی ایران نے کہا ہے ہمیں جنگ جیتنے کا پلان عمران نے جیل سے بھجوایا تھا اور ہم نے خوف کے بت اس کے بعد توڑ دیے اور امریکہ کو absolutely not کہہ دیا تھا
’میں اسرائیلی کابینہ میں ہوتا تو اپنے واحد اور طاقتور اتحادی کو نشانہ نہ بناتا۔‘ امریکی نائب صدر جے ڈین وینس کا مزید کہنا تھا کہ اُنھیں اسرائیلی وزرا کے بیانات دیکھ کر برا لگتا ہے کہ وہ ایسے ملک کے سربراہ کو نشانہ بنا رہے ہیں جو اُن سے ہمدردی رکھتا ہو۔
جب سے پاکستان کے جے ایف17 سعودی عرب پہنچے ہیں، سعودی عرب بھی اسرائیل کو انکھیں دیکھانے لگ گیا ہے،
ورنہ امریکا کے دباؤ پر اسرائیل کے لئے نرمی اور تجارت کی باتیں ہوتی تھی۔
تازہ بیان،
اسرائیل غزہ والوں کو بھوکا مار کر، بمباری کر کے کہتے ہو ،"وہ خود چلے جائیں گے"،
شہزادہ فیصل بن فرحان
سعودی عرب غزہ باسیوں کو انکی زمین سے نکالنے اور انکو بھوکا پیاسا مارنے کو مسترد کرتا ہے
دو ٹوک بیان
قطر سے جان چھڑوانے کا سلسلہ شروع ہو چکا ھے۔
اس بجٹ میں وزیر خزانہ نے بتایا تھا کہ ہم نے 24 گیس کارگو جہاز قطر اور 11 ای این آئی کمپنی سے بات چیت کر کے منسوخ کروائے ہیں۔ قطر اور متحدہ عرب امارات سے پاکستان کو سالانہ 108 کارگو آتے ہیں، اس کے بعد 12 کارگو جہاز اطالوی ملٹی نیشنل انرجی کمپنی ای این آئی سے آتے ہیں۔
ای این آئی سے 11 گیارہ کارگو منسوخ ہو چکے ہیں۔ یہ منسوخ کرنے کی وجہ ذاتی گیس پروڈکشن میں تیزی ھے اور سولرائزیشن کیطرف عوامی رجحان کا بڑھنا بتایا گیا ہے مگر میرے خیال میں ان کارگو کی کمی پاکستان کی ذاتی پروڈکشن پورا نہیں کر سکتی۔ جبکہ پاکستان قطر سے مزید بات چیت کر رہا ہے کہ مزید کارگو منسوخ کئے جائیں اور ابتدائی طور 45 کارگو منسوخ کرنے کی بات چیت چل رہی ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے 35 کارگو منسوخ کرنے سے ذاتی پروڈکشن سالانہ کوٹہ پورا نہیں کرسکتی تو مزید 45 منسوخ کرنے کی بات کیوں چل رہی ہے؟ اس کے پیچھے ایسی کیا کہانی ہے پس منظر میں کیا چل رہا ہے پاکستان یہ کوٹہ کہاں سے پورا کرنے کا سوچ رہا ہے۔ کچھ ہفتے قبل میں نے ایک خبر دی تھی کہ پاکستان اور ایران کے ٹیکنیکل ایکسپرٹ ایران پاکستان گیس پائپ لائن (IP Gas Pipeline) پر دوبارہ نظر ثانی کر رہے ہیں۔ اور یہ امریکی حکام کو اعتماد میں لیکر کام ہو رہا ہے۔ یہی کام قطری حکام بھی کر رہے تھے انھوں نے جلد اعلان کر دیا۔ لیکن پاکستان فلحال کام کر رہا ہے۔ پاکستان کو سالانہ 121 کارگو کی ضرورت پڑتی ہے جو قطر اور ای این آئی سے آتے ہیں۔ 35 منسوخ ہوئے ہیں تو باقی 86 کارگو آئیں گے 45 مزید منسوخ کرنے کی بات چیت کر رہے ہیں تو باقی 41 کارگو رہ جائیں گے کیا یہ پاکستان کا کوٹہ مکمل کر سکتے ہیں ؟ ہر گز نہیں۔
پاکستان کی ذاتی پروڈکشن 4 سے 5 ایل این جی کارگو ماہانہ کی بنتی ہے مگر پاکستان اس پروڈکشن کے علاؤہ قطر سے 9 اور ایک این آئی سے 1 ماہانہ منگوا رہا تھا۔ ایران پاکستان گیس پائپ لائن تقریباً 750 ملین کیوبک فٹ فی روز (mmcfd) گیس فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے یہ تقریباً ماہانہ 7-8 LNG کارگو جہاز کے برابر ہے۔ایل این جی پائپ لائن گیس سے مہنگی پڑتی ہے پائپ لائن گیس سستی پڑتی ہے۔اور مقامی تقسیم میں آسانی ہوتی ہے بجٹ بھی کم ہوتا ہے۔ لیکن ایرانی گیس پائپ لائن منصوبے کو مکمل کرنے کیلئے پاکستان کو بہت سے مسائل کا سامنا ہے بیرونی پابندیوں کے علاؤہ پاکستان کو اندرونی چیلنج کا سامنا ہے۔
بلوچستان میں پولیٹکل سٹیبیلی نہیں ہے انفراسٹرکچر کیلئے بجٹ نہیں ہے۔ سیکیورٹی کے مسائل زیادہ ہیں۔ سعودی عرب اور قطر کی کمپنیاں پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کو ذخیرہ کرنے کے پراجیکٹ پر کام کر رہی ہیں، ان میں سے دو کمپنیاں اسی پائپ لائن منصوبے پر کام کرنے کے فریم ورک پر کام کر رہی ہیں اسی طرح اگر یہ کمپنیاں ٹھیکہ لے بھی لیتی ہیں تو بھی پاکستان کو مسائل کا سامنا رہے گا۔دوسرا پاکستان کی ہمیشہ سے پالیسی رہی ہے وہ کسی بھی پالیسی میں بیلنس قائم کرتا ہے آئل و گیس ہو یا پھر ملٹری سازو سامان اور ٹیکنالوجی ہو پاکستان ہمیشہ ملٹی پل ڈومین میں کام کرتا ہے یعنی کسی ایک پر انحصار نہیں کرتا۔ اور شاید پاکستان گیس کے معاملے میں ایران پر بھی مکمل انحصار نہ کرے۔ اسی وجہ سے پاکستان اور ایران کے ٹیکنیکل ایکسپرٹ نئے فریم ورک پر کام کر رہے یعنی وہ تبدیلیاں مکمل انحصار نہ کرنے پر ہو رہی ہیں۔ جتنے ایل این جی کارگو رہ جاتے ہیں باقی کا کوٹہ ایران سے مکمل کیا جائے گا۔ ممکن ہے کہ پائپ لائن منصوبے کے مکمل ہونے سے پہلے کارگو منگوائے جائیں۔ جو قطر اور ای این آئی کی نسبت سستے پڑیں گے۔ اسکے بعد کارگو منگوانے کی ضرورت ہی نہ پڑے۔
اس عظیم ثالثی پر سویلین اور فوجی حکام کے کرداروں کو سراہتے ہیں جنہوں نے ایران اورامریکہ کی صلح کروائی
ناظرین چیئرمین پی ٹی آئی کے اس بیان سے یوٹیومر مافیا تتے توے پر تڑف رہا ہے
یہ شبر زیدی ہے جو پورا سال ملحد ہوتا کسی مذہب کو نہیں مانتا بس محرم کے دس دنوں میں یہ ذاکر بن جاتا کیوں کہ اس فیلڈ میں دس دنوں میں اتنا کمایا جاتا جو باقی کسی کام میں پورے سال بھی نہیں کمایا جا سکتا...!
اگر آپ کو اب بھی بینظیر انکم سپورٹ فنڈ کے سالانہ آٹھ ارب روپے پاکستان اور پاکستان کی عوام کیساتھ بھیانک واردات نہیں لگتی تو پھر یقیننا آپ BISP سے مستفید ہونے والوں میں سے ایک ہیں۔
پہلے کہتے تھے پاکستان تو ثالثی کروا ہی نہیں رہا ہے
اب کہتے ہیں ثالثی عاصم نے کروائی ہے شہباز نے نہیں
اب کہتے ہیں ثالثی قطر کروا رہا تھا
اب کہتے ہیں ڈیل سائن ہو گئی پاکستان میں کیوں نہیں ہوئی ؟
یہ وہ لوگ ہیں جن کا بائیڈن فون نہیں اُٹھاتا تھا اور سعودیہ سے صدقے کے چاول لانا کامیابی ہوتا تھا اور کشمیر بیچنے پر ورلڈکپ جیسی انہیں خوشیاں محسوس ہوتی تھی
11 سال قبل راولپنڈی/اسلام آباد میٹرو بس کا افتتاح،4 روٹس سے زیادہ راستوں پر روزانہ 30 لاکھ سے زیادہ لوگوں کی خدمت،کچھ لوگ کہتے ہیں 2 سال نہیں چلے گی،11 سال سے چل رھی ھے۔
جس پاکستان نے ان نمک حرام طالبان کی مدد کی،
اس پاکستان کو گالیاں دیتے اور لڑتے ہیں
جس روس نے قبضہ کیا،
پچھلے دنوں اسی روس کے پاؤں چوم رہے تھے
جس امریکہ نے قبضہ کیا،
اس امریکہ کا صدر ٹرمپ بول رہا ہے کہ یہ نمک حرام طالبان ہمارے پچھواڑے چوم ریے ہیں
سلطنتوں کا قبرستان 🤣🤣🤣🤣
پاکستان میں آپ کے پاس فیلڈ مارشل ہے جو گریٹ ہے اور آپ کے پاس وزیر اعظم ہے وہ اُس سے بھی گریٹ ہے اور وہ بہت اچھے طریقے سے ملتے ہیں
فوجی آدمی “ فیلڈ مارشل عاصم منیر “ وزیراعظم کا مکمل احترام کرتے ہیں یہ دیکھنا ایک خوبصورت چیز ہے ۔ ٹرمپ
سھیل وڑائچ و سیٹھ میڈیا کچھ نیا لائیں اب
اس آوارہ کتے کا پٹا کھول دیا ہے
اس کو سندھ کراچی پیپلزپارٹی کا حال نظر نہیں آتا
جب گٹر کا ڈھکن کھلتا بکوا س پنجاب اور ن لیگ پر کرتا ہے۔
سندھ کے خلاف بولے گا تو اگلے گاڑیوں کی سمگلنگ سمیت اٹھا کر باہر پھینکے گے ۔
ریاست آزاد کشمیر نے 30 لاکھ مقبوضہ کشمیری مہاجر بھائیوں کی شناخت کا حق چھیننے والے 154 کن کترا کمیٹی ممبروں کے شناختی کارڈ ختم کردئے!
اب کن کترا ڈرامہ کرتے نظر آئے کہ ہم پر ظلم ہو رہا ہے تو انکو صاف صاف بتانا ہے کہ جس پاکستان کو گالیاں دیتے ہو، اسکی شہریت کیلئے کیوں رو ریے ہو
آج اطالوی وزیراعظم کے سیاسی مخالفین ایک پیج پر ہیں اور آج وہ لوگ بھی جورجا میلونی کے ساتھ ہیں جنہوں نے گزشتہ انتخابات میں اپنا ووٹ میلونی کے خلاف دیا اور آج وہ عام شہری بھی میلونی کے ساتھ کھڑے ہو گئے ہیں جو میلونی کے ناقدین تھے جبکہ دوسری جانب جب بھی پاکستان پر بیرونی حملہ ہوا عمران نیازی کی جماعت باجماعت ہوکر پاکستان کے خلاف کھڑی ہوئی جب ایران نے میزائل حملہ کیا تو یوتھیوں نے ایران کو جی ایچ کیو پر میزائل مارنے کا مشورہ دیا جب ہندوستان نے حملہ کیا تو علیمہ باجی سمیت پوری جماعت ہندوستان کے ساتھ کھڑی ہوئی اور جب افغانستان نے حملہ کیا تو قوم یوتھ افغانیوں کے حق میں کھڑی ہوگئی اور اب ایکشن کمیٹی کے ہندوستانی غنڈے پاکستانی ریاست پر حملہ کرکے کشمیر کو ہندوستانی قبضہ میں دھکیلنا چاہتے ہیں تو پوری قوم یوتھ ایکشن کمیٹی کے ساتھ کھڑی ہے
سلام ہے اطالوی عوام پر جو آج اپنی وزیراعظم کے ساتھ کھڑی ہے جبکہ لعنت ہے عمران خان اور اسکی جماعت پر جو ہر موقع پر پاکستان کے خلاف کھڑے ہوئے
ایران مشکور ھے ، امریکا مشکور ھے، عرب مشکور ہیں ، یورپ مشکور ھے- دنیا مشکور ھے- فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی اور وزیر اعظم شہباز شریف کی-
اچھا نصیب بھی اچھی نیت سے ملتا ھے- پاکستان کی قیادت کی نیت درست تھی کہ نہ عرب رسوا ہیں نہ ایران تباہ ہو اور امریکہ کو بھی کوئی باوقار راستہ نکلنے کا دیا۔ پاکستانیوں خوش ہونا سیکھ لو
وزیراعظم نے سینے پہ جو پتھر رکھا تھا وہ ہٹا دیا اور یوتھیوں سمیت تمام سیاسی مخالفین اور ملک دشمن عناصر پر پیٹرول بم بھی گرا دیا-
سوشل میڈیا پہ پیٹرول کی نئی قیمتوں اور لیوی کو لیکر اب بھی انواع و اقسام کی بکواسیات پڑھنے کو ملیں گی, لیکن یہ سب سیاسی مخالفین اور پروپیگنڈسٹ ہیں جنکا کام ہر طرح کے حالات میں صرف اور صرف تنقید کرنا ہے- انہیں شکرانے کی توفیق نہ کبھی تھی اور نہ کبھی ہو گی-
حقیقت یہ ہے کہ ہمیں خود بھی یقین نہیں تھا کہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بالترتیب 74 روپے اور 67 روپے کم ہونگی-
وزیراعظم صاحب, آپکا شکریہ- 💚❤