پیپلز پارٹی کے رہنما تیمور تالپور کھلے عام ریاستِ پاکستان کو دھمکیاں دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ "اگر سندھ کی تقسیم کی بات کی تو ایک اشارے پر پورا پاکستان بند ہو جائے گا اور سندھ کا بچہ بچہ خودکش بن جائے گا۔"
افسوسناک امر یہ ہے کہ جب سندھ میں "پاکستان نہ کھپے"، "پاکستان مردہ باد" کے نعرے لگتے ہیں، مغلظات بکی جاتی ہیں یا سندھو دیش کی ریلیاں نکالی جاتی ہیں، تب ان رہنماؤں کی زبان سے یہ نہیں نکلتا کہ "سندھو دیش کا خواب کبھی پورا نہیں ہوگا اور پاکستان کے لیے ہم کٹ مریں گے۔"
اگر پیپلز پارٹی واقعی ایک جمہوری اور عوامی جماعت ہوتی، تو اس کے رہنما آئین کی بالادستی کا درس دیتے۔ اس کے برعکس عام گلی محلوں اور ٹاک شوز میں خودکش حملوں، پرتشدد کارروائیوں اور ملک کو جام کرنے کی دھمکیاں دینا کھلم کھلا دہشت گردی اور ریاست کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے۔
انتظامی یونٹس یا کسی بھی آئینی و سیاسی موضوع پر اختلافِ رائے ہر شہری اور جماعت کا جمہوری حق ہو سکتا ہے، لیکن اس کی آڑ میں عوام کے بچوں کو پرتشدد راستوں پر دھکیلنا اور ملک کو یرغمال بنانے کا دعویٰ کرنا پاکستان میں قانون کی حکمرانی پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔
کراچی کا ایک عام اور لاچار شہری جب اپنے اوپر ہونے والے مظالم، پانی کی عدم فراہمی یا ناانصافی پر صرف آہ بھی بھرتا ہے، تو پوری ریاستی مشینری فوراً حرکت میں آ جاتی ہے اور پرچے کاٹ دیے جاتے ہیں۔ دوسری طرف جب کوئی بااثر سیاسی رہنما کیمروں کے سامنے بیٹھ کر ریاست کے وجود، امن و امان اور قانون کو سیدھا چیلنج کرتا ہے اور بچوں کو خودکش بنانے کی بات کرتا ہے، تو تمام ادارے مجرمانہ خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔
یہ دہرا معیار اس تلخ سوال کو جنم دیتا ہے کہ: کیا ملک کا قانون صرف کمزوروں کو دبانے کے لیے بنایا گیا ہے؟
میررضاعلی کیس میں اٹھائے گئے ہمارے سوالات پرتحقیقاتی ٹیم کےسربراہ ڈی آئی جی عامرفاروقی کااہم مؤقف۔ سوچ رہے ہیں کہ آخری لمحات کی فوٹیج جاری کردیں؛سربراہ تحقیقاتی ٹیم۔۔میررضاعلی کی منگیترسےپوچھے گئےسوالات پربھی موقف دیدیا۔تفصیلات دیکھیے
قادر مگسی نامی جیب کترا کہتا ہے کہ صوبے کا نام لوگے تو غزہ بنادیں گے ، اردو بولنے والے 47 میں نانا نانی ، دادا دادی ، خاندان سب کٹواکر لٹواکر یہاں بیٹھے ہیں ۔ صوبے کی بات کرو گے تو آج پھر کاٹ دیں گے
انہیں بے شک لائسنس ٹو kill ملا ہوا ہے لیکن کیا اس license 2 kill کی تشہیر پر پیمرا کوئی نوٹس لے گا یا یونہی قتل کی دھمکیاں کھلے عام دی جاتی رہیں گی۔ پولیس تو ان کے گھر کی لونڈی ہے لیکن ایجنسیز سے اداروں سےرینجرز کے ٹھاکر بھائی سے اس کا سافٹ ویئر اپ ڈیٹ کرنے کی درخواست ہے @SindhRangers
پاک فوج پونچھ ڈویژن کے راستے کلئیر کرتے ہوئے!
یہ ان بیغیرت نسل پرست کن کتروں کی حقیقت ہے۔ خود راستے بند کرتے ہیں پھر جلسوں میں بولتے ہیں کہ پاکستان نے ہماری خوراک کا راستہ بند کردیا تاکہ عوام کو پاکستان مخالف کیا جائے۔
اتنے پتھروں کے ساتھ کونسی خوراک وہاں پہنچے گی؟
کراچی میں صرف دو مہینوں میں 4 بوری بند لاشیں مل چکی ہیں!
1)23 جون: قائدآباد سے 3 سالہ کلثوم کی تشدد زدہ بوری بند لاش
2) 8 جولائی: 6 سالہ بچے کی بوری بند لاش
3) 11 اگست: ملیر سے ایک شخص کی لاش تین بوریوں میں ٹکڑوں میں
4) 19 اگست: اور کل لانڈھی نالے سے 6-7 سالہ بچی کی بوری بند لاش ملی ہے۔ تمغہ امتیاز یافتہ وزیر داخلہ ضیاء لنجار صاحب اور انکے ماتحت پولیس کب عوام کی حفاظت کا بھی سوچے گی؟
راجہ بازار، راولپنڈی کی اوپر سے تو بیوٹیفکیشن تو کردی گئی لیکن جو نیچے عشروں پرانے بند گٹر اور نالے تھے اُن میں نئے پائپ کسی نے نہیں ڈالے یا تبدیل کئے
نتیجہ سب کے سامنے ہے!
میرے ایک فالور ایجوکیشن کنسلٹنٹ ہیں بیرون ملک بچوں کو تعلیم کے لیے بھجواتے ہیں ایک مسلہ جس کی انہوں نے نشاندہی کی جس کی وجہ سے سٹوڈنٹ آف لوڈ ہو رہے ہیں وہ سٹڈی گیپ کا ہے یورپ میں آسٹریلیا اور امریکہ میں گیپ ائیر ایک معمول کی بات ہے اکثر فارن یونیورسٹیاں اسے اچھا سمجھتی ہیں یہ یہاں کا کلچر ہے اب اگر کسی سٹوڈنٹ کو یورپی ملک نے ویزا دے دیا ہے یونیورسٹی نے داخلہ دیا ہے تو پھر ایف آئی اے کا کام نہی کہ سٹوڈنٹ کے گیپ ائیر پر اعتراض کر کے اسے آف لوڈ کر لیں وہ اتنا چیک کریں کہ ویزہ یا یونیورسٹی جیبوئن ہے یا نہی اس کے بعد کسی کا مستقبل مت تباہ کریں
"میں نے عمران خان کا ہاتھ دیکھا ہے اور اس کے ہاتھ میں صحت کی لکیر ہی موجود نہیں؛ جس کا مطلب یہ ہے کہ عمران خان کو کبھی کوئی بیماری ہو ہی نہیں سکتی۔"
اوریا مقبول جان جو کہ آج کل یوتھیا الٹرا پرومیکس بن کر عمران نیازی کی بیماری کی خبریں دیتا ہے، ماضی میں یہ بولا کرتا تھا
کراچی کی تباہی کی ذمہ داری حصہ بقدر جثہ اس پر حکومت کرنے والی تمام سیاسی جماعتوں پر عائد ہوتی ہے ، اس کی بربادی سب کا مشترکہ گناہ ہے ۔ اگر قصہ پارینہ ہوجانے کے سبب جماعت اسلامی پر اس ذلت کا بوجھ سب سے کم عائد کیا جاۓ تو اس کے بعد حرامی پن کا شدید مقابلہ پپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے درمیان رہ جاتا ہے جنہوں نے محض کاسمیٹک کام کرکے اپنا اپنا سیاسی چہرہ چمکانے کی کوشش کی ہے اور بنیادی مسائل کا الاؤ وہیں کا وہیں پڑا سلگتا رہا ہے ۔۔ آبادی کے بے لگام بڑھتے ہوئے تباہ کن عذاب کے ساتھ بارشوں میں کراچی کے ڈوب جانے کا سب سے بڑا سبب نہایت بے شرمی کے ساتھ پانی کی قدرتی گزرگاہوں پر قبضہ مافیا کے قبضے سے جڑا ہے یہ کام ایم کیو ایم نے اگر بدمعاشی اور غنڈہ گردی کے زور پر کیا تو پپلز پارٹی کے چیتوں نے اپنی ہوشیاری اور چالاکی کے بل بوتے پر اسے پروان چڑھایا ۔۔ایم کیو ایم نے دھونس اور بدچلنی کے ساتھ شہر کو یرغمال بنا کر رکھا اور اپنی اسی بدمعاشی کے ساتھ سمندر تک پانی لے جانے والے قدرتی ندی نالوں پر گھر، پلازے اور مارکیٹیں بنوائیں تو پیپلز پارٹی کے کرتا دھرتاؤں نے اپنے دور حکومت میں سرکاری سرپرستی کے ساتھ اسی کالے دھندھے کو پروان چڑھا کر اس پر مہر ثبت کی۔ پھر ان سب کے اوپر بیٹھے ان داتا ، اصلی مالکان ، اصلی آقا ۔۔۔سب کا حصہ ہے سب کا ... شہر کا پیسہ اور اسے اوپر سے کنٹرول کرنے کا گھناونا کھیل ۔۔ ہم عوام مافیاؤں میں گھرے ہیں اور جب کچھ سمجھ نہیں آتا تو ایک دورسرے کا منہ نوچنا شروع کردیتے ہیں ۔۔
پاکستان میں کسی سے خیر کی توقع عبث ہے کوئی امید کوئی توقع حماقت ہے ۔ چالاک ، سفاک ہوشیار لوگوں کی نسلوں کی نسلیں تیار ہو چکی ہیں جن کو لوٹنے نوچنے کھسوٹنے کے فن پر پورا عبور حاصل ہے ۔ بھاگ جاؤ جو بھاگ سکتا ہے یہاں سے ۔۔۔یا ڈوب مرنے کو تیار رہے ۔۔۔
رشید شورو یہ تحریر لکھ کے جرمنی جا کے بس گیا ۔۔لیکن لاکھوں کو اسی گٹر کے کنارے بسنے چھوڑ گیا
کلفٹن کے زیادہ تر چھوٹے کمیونٹی پارکوں کو پیڈل کورٹ میں تبدیل کر کے پارکوں کے باہر عام آدمی کو روکنے کیلئے گارڈز بٹھادیئے گئے ہیں،جسکی سب سے بڑی مثال عمر شریف پارک ہے، جسے علاقہ مکینوں کے احتجاج کے باوجود چار دیواری لگا کر “Padel X” کا نام دے دیا گیا ہے۔ سندھ ہائی کورٹ نے ان پیڈل کورٹ کو غیر قانونی کہہ گرانے کا حکم دیا تھا، جسے ہمارے مئر کراچی نے فیڈرل کورٹ میں چیلنج کردیا، اصولآ کورٹ کے فیصلے تک یہ padel court بھی بند ہوجانا چاہئے تھا، لیکن وہاں دن رات کروڑوں مل کر کمائے جا رہے ہیں۔ یہ پبلک پارک عوام کیلئے تھا، اور جہاں عام عوام کا ہی داخلہ تقریبا ممنوع ہے۔
ڈیفنس کی الیٹ بھی اس معاملے پر اسلئے خاموش ہے کہ انہیں کھیلنے کیلئے secured جگہ ملی ہوئی ہے۔ اور پیسوں کی کمی تو اس کلاس کو ویسے بھی نہیں ہے۔
پاکستان میں اکثریت بے ایمان ہے اور غلاظت کو غلط نہی سمجھتی ہے یہ مبینہ طور پر شان اچار بنایا جا رہا ہے شان مصالحے بھی ایسے ہی غلیظ ہوں گے میری والدہ کہتی تھیں کہ ڈبے والے مصالحے پھوہڑ عورتوں کا جگاڑ ہے ہمارے گھر پاکستان میں بھی اور یہاں ڈنمارک میں بھی ڈبے کا ہر مصالحہ مکمل بند ہے ہر مصالحہ ثابت آتا اور بوقت ضرورت گھر پر پیس لیتے ہیں چیک کریں آپ کیا کھا رہے ہیں بازار سے کھانے سے مکمل پرھیز کیجئے اپنی جان پر صحت پر رحم کیجیے
Citizens staged a protest in #Karachi over the kidnapping and murder of businessman Mir Raza. A female protester questioned why police have yet to find his killers, while they were able to quickly recover #WasimAkram’s dog and news outlets are now reporting on Shahid Afridi’s lost dog
سعید غنی وہ ہے جو پیپلز پارٹی کے اندر رہ کر میئر کراچی کے خلاف باقاعدہ مہم چلا رہا ہے
اس وقت سعید غنی کا بھائی فرحان غنی پورا مافیا نیٹورک چلا رہا ہے
سعید غنی قربانی کا بکرا بن گیا ساتھ شہلا رضا بھی
قوم پرست جماعتوں کے پیچھے چھپے کردار نمایاں ہو رہے ہیں
یاد رہے سندھی قوم پرست پاکستان کے خلاف نعرے لگاتے ہیں اور کھلے عام بدمعاشی کرتے ہیں ان کو سعید غنی اور شہلا رضا جیسے کردار سپورٹ کرتے ہیں
سعید غنی اور شہلا رضا اور قوم پرست لسانی زہریلے بھی کان کھول کر سن لیں
صوبہ بھی بنے گا اور تم جیسے کرپشن میں ملوث لوگ اب سیاست سے بھی نکلو گے 😎
یہ صاحب جو گاڑی سے اتر رہے ہیں انکا نام ہے فرحان غنی جو کہ سعید غنی عُرف بھائی جان کے چھوٹے بھائی ہیں
موصوف کی اس کوالیفیکیشن کے علاوہ ایک اور کوالیفیکیشن یہ ہے کہ 6 یونین کاؤنسلز میں پولنگ اسٹیشنز پر قبضے کرکے ٹاؤن چیئرمین بنے
ٹاؤن کی قسمت کو تو کچھ نا ہوا موصوف کی قسمت ایسی بدلی کہ تین سال میں کروڑوں کے اثاثے بنالئے
فرحان غنی پر چنیسر گوٹھ سے لیکر لیاری اور ملیر میں ڈرگ مافیا سے تعلقات اور انکی سہولت کاری کے الزامات کا ایک الگ چیپڑ ہے
موصوف آجکل جیل میں ہے اور انسداد دہشتگردی کے کیس بھگت رہا ہے
یہ ہے کراچی میں پیپلز پارٹی کے امیت شاہ سعید غنی عرف بھائی جان کی کُل سیاست اور پیدا گیری
یاد رہے سعید غنی عرف بھائی جان آجکل بلاول ہاؤس کراچی کے تمام مالی اخراجات بھی اٹھاتے ہیں 😎
بری امام کی درگاہ کے ساتھ راجہ سرفراز اکرم صاحب کا ڈیرہ بھی ہے کچھ لوگ ان کو پیر مانتے ہیں بڑے بڑے وزیر بھی ان کے پاس آتے ہیں ان کے ڈنر پر اسحاق ڈار کیپٹن صفدر حنیف عباسی سمیت سب موجود ہیں بہت سوں کی وزارتوں کے فیصلے بھی ان کے ڈیرے پر ہی ہوئے تھے