don't know who need this but Allah is going to heal your broken Heart. You're going to laugh again, you're going to trust again and you're going to love again. Allah is going to restore everything you have lost. 🌸
ہے کوئی ایسی مثال تو سامنے لائیں۔
یہ جماعت اسلامی ہے بھئی یہاں آپ کو دیانت کی عملی مثالیں دیکھنے کو ملیں گی۔
ہمیں بھیک نہیں چاہیے بلکہ ہمیں ہمارا حق دیا جائے۔
#Respect_HafizNaeem
طاقت کے زور پر جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ بنا کر پیش کرنا بہت آسان ہے لیکن قرآن مجید جھوٹ بولنے والوں پر لعنت بھیجتا ہے ہم میں سے کوئی بھی صادق اور امین نہیں لیکن کم از کم ہمیں جھوٹ کو تسلیم نہیں کرنا چاہئیے اور جھوٹوں کا سہولت کار نہیں بننا چاہئیے اللّٰہ ہم سب کو ہدائت دے آمین
الحمدللہ میں اپنی سیٹ تقریباً 53 ہزار ووٹوں کی لیڈ سے جیت چکا تھا مگر DRO اور انتظامیہ نے دھاندلی اور بدیانتی کر کے میرا رزلٹ میرے مخالف کو دیے دیا ۔جو فام 45 کے مطابق 53 ہزار ووٹوں کی لیڈ سے مجھ سے ہار رہا تھا ۔عوام الیکشن کمیشن ۔ DRO اور انتظامیہ اس شرمناک حرکت کو کبھی تسلم نہیں کرے گی ۔میں کل اس دھاندلی شدہ رزلٹ کو ہائی کورٹ میں چیلنج کرنے جا رہا ہو ۔اور الیکشن کمیشن ۔DRO کے اس شرمناک حرکت کے خلاف بہت جلد احتجاج کی کال دینے جارہا ہو. عوام کبھی بھی اس دھاندلی شدہ الیکشن کو تسلیم نہیں کرے گی
#PAKWatch🇵🇰: In Karachi, Pakistan, police are blocking the media from entering the location where the votes are tallied.
In Pakistan, the MILITARY RUNS THE SHOW & COUNTS THE VOTES.
Election Commsion has informed Lahore High Court that RO 128 (Salman Raja Constituency) who issued form 47 has disappeared. He cannot to be located. Offically a missing person.
Salman Akram Raja
Shoaib Shaheen
Rehana Dar
Mehar Qureshi
Aliya Hamza
Yasmin Rashid
Alamgir Khan
Ali Ijaz Bhuttar
Azra Masood
Sher Afzal
Sameeullah Chaudhary
Shoukat Basra
Sajid Nawaz
PTI Robbed off from all these Seats in front of whole Pakistan, Mind boggling !!
There are fears that the candidates who were winning by huge margins till last night, the results of all these seats were withheld and all the polling agents were forced out of the offices of ROs. Under a well-thought-out plan, the election results and Form 45 of the candidates have been changed at will. The candidates who were looking far behind suddenly started winning and the winning candidates started losing.This is the worst abuse of public mandate.This process will increase political instability in Pakistan. Such results will not be accepted at international and national level. International media is also covering the general elections of Pakistan. There are fears that the 2024 general elections will become controversial and lose their transparency.
@commonwealthsec@amnestysasia@HRF@hrw@OHCHRAsia@OHCHRAsia@AlJazeera@UNHumanRights@freedomhouse@ThinkDemocracy
@TiranaHassan @IMFNews@UN_HRC@SkyNews@BBCNews@CIJ_ICJ@amnestyusa@UNHumanRights@AmnestyUK@business@anticorruption
#Elections2024
#ElectionResults
مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ میں اپنی شکست کو کھلے دل سے تسلیم کرتا ہوں ۔ یہ دیکھ کر افسوس ہوا کہ پی ٹی آئی کے امیدوار علی بخاری کو حلقہ ۴۸ اسلام آباد کی سیٹ ہرا دی گئی ہے جبکہ وہ واضح جیتے ہوئے تھے۔ جن موصوف کو نتیجہ بدل کر جتایا گیا ہے وہ دوڑ میں کہیں بھی نہ تھے۔ اسی طرح شعیب شاہین بھی حلقہ ۴۷ سے واضح برتری کے ساتھ جیت چکے ہیں لیکن نتائج ان کے بھی حوالے نہیں کئیے جا رہے۔ یہ بدترین دھاندلی اور آگ سے کھیلنے کے مترادف ہے۔
Nawaz Sharif losing in Lahore to a 73 year old cancer survivor who has been behind bars for the past 8 months. Today is a day of many victories. But this is one of the most significant.
قاضی کا دوسرا چہرہ
تحریر: مطیع اللہ جان
یہ چیف جسٹس کی کرسی میں ایسا کیا ہے کہ اس پر بیٹھا شخص ایک جرنیل کی سازش ناکام بناُکر دوسرے جرنیل کی گود میں بیٹھ کر کلکاریاں مار کر خوش ہوتا ہے۔ افتخار محمد چودھری نے جنرل مشرف کیطرف سے اپنی برطرفی کا بدلہ جنرل کیانی کی گود میں بیٹھ کر لیا، اور آئین اور سیاست کو رسوا کرنے والے ساتھی جج جسٹس عبدالحمید ڈوگر کو بجا طور پر ذلیل و رسوا کیا مگر ساتھ میں جنرل کیانی کو مضبوط بنانے کے لئیے آصف زرداری کی حکومت اور سیاست دانوں کو سو موٹو اختیارات ذلیل کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ آصف زرداری کا قصور افتخار چودھری کی فوری بحالی کی مخالفت تھی، جنرل کیانی اور بحال شدہ افتخار چودھری نے پھر مل کر سیاستدانوں اور سویلین حکومت کرپشن کے الزامات پر یرغمال بنا کر رکھا-
آج بھی وہی کچھ ہو رہا ہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ جنرل باجوہ، جنرل فیض اور عمران خان کی مخلوط حکومت نے جسٹس فائز عیسی کو ذاتی طور پراور اِس ملک کے سیاسی اور عدالتی نظام کو نا قابلِ تلافی نقصان پہنچایا جس میں ثاقب نثار، آصف سعید خان کھوسہ اور بندیال ٹائپ ججوں کا گھناؤنا کردار رہا ہے مگر اب چیف جسٹس فائز عیسی کیا کر رہے ہیں؟ افتخار چودھری کی طرح معجزاتی بحالی کے بعد چیف جسٹس فائز عیسی کو بھی جسٹس اعجاز الاحسن کا سر طشتری میں پیش کیا گیا ہے بلکل اُسی طرح جس طرح جسٹس عبدالحمید ڈوگر اور ساتھی پی سی او ججز کو افتخار چودھری کی رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا تھا۔ ویسے تو ایسے استعمال شدہ ججوں کیساتھ جتنا بھی ہوا وہ بہت کم تھا مگر پھر یہ ہر بحال شدہ چیف جسٹس ہر نئی اسٹیبلشمنٹ کی خوشنودی کے لئیے سیاستدانوں اور سیاسی جماعتوں کو کمزور کرنا اپنا مذھبی فریضہ کیوں سمجھتا ہے، بحال شدہ افتخار محمد چودھری نے ایک لومڑی کی مانند اسٹیبلشمنٹ کے بوڑھے شیر کے غار تک آصف زرداری اور سویلین حکومت کو گھیر کر لایا، بلکل اِسی طرح بحال شدہ قاضی فائز عیسی بھی جسٹس اعجاز الاحسن کے سر کو اسٹیبلشمنٹ کا تحفہ سمجھ کر اب عمران خان، اُسکی سیاسی جماعت اور ملک کی سیاسی جماعتوں کے اندر بھی انجینئیرنگ کی راہ ہموار کر رہے ہیں۔ افتخار چودھری کو بھی اپنی شھرت اور عوامی مقبولیت پر ضرورت سے زیادہ اعتماد تھا جسکا نتیجہ اسکے بیٹے ارسلان کے کارناموں کیصورت سامنے آیا اور قاضی فائز عیسی بھی اُسی راستے پر چل نکلے ہیں۔
بلے کے نشان متعلق چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کا فیصلہ ایک طرف عمران خان اور پی ٹی آئی کے اُس گھناؤنے پراپیگنڈا کا براہ راست جواب ہے جو انکی حکومت میں صدارتی ریفرنس کے دوران کیا گیا۔ تو دوسری طرف ایک بڑی سیاسی جماعت کو انتخابی عمل سے باہر رکھنے کی سازش کا حصہ بھی ہے۔ ایک تیر سے دو شکار ہو گئے ہیں، عمران خان اور اُسکی پارٹی کے ساتھ جو ہوا وہ انکا اپنا کیا دھرا ضرور تھا مگر بطور سپریم کورٹ اور بطورچیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے جس طریقے سے بلے کے نشان متعلق کیس کی سماعت کی اور دنیا نے براہ راست دیکھا وہ کسی طور بھی ذاتی رنجش اور انتقامی جذبے سے مبرا نہیں تھا۔ آج کا جنرل کیانی اور افتخار چودھری ایک بار پھر آج کے زرداری کے در پر ہیں۔
بلے کے نشان متعلق سماعت میں قاضی فائز عیسی نے ایک جج کی بجائے الیکشن کمیشن کے وکیل کا کردار ادا کیا، آئینِ پاکستان کے دفاع کا حلف اُٹھانے والے سپریم کورٹ کے تین ججوں نے ایک سیاسی جماعت (پی ٹی آئی) کے آئین پر عملدرآمد میں جتنی دلچسپی دکھائی اُس سے واضح طور پر انتقام اور ذاتی رنجش کی بو آ رہی تھی، یہ وہی چیف جسٹس تھے جو ایف بی آر اور دیگر قوانین کی خلاف ورزی کے دفاع میں بجا طور پر آئینِ پاکستان کی شق ۲۰۹ اور عدلیہ کی آزادی کی قوالی کرتے نہیں تھکتے تھے، اور اب جب مخالفین کا کیس سامنے آیا تو الیکشن ایکٹ عیسی کی بائیبل بن گیا۔
آئین کی تشریح پر انا کی تسکین حاوی ہو گئی، اعجاز الحسن کا استعفی، چند لاپتہ افراد کا واپس آ جانا، سیکرٹری دفاع کا افواج پاکستان کا افواج پاکستان کو خ، اس سب سے انا کی تسکین تو ہو جائیگی آئین کی تشریح نہیں۔
آئین کی شق ۱۷ میں تنظیم سازی کا بنیادی حق عام شھری کا ہے مگر جج صاحب کے لئیے اکبر ایس بابر کا پی ٹی آئی کا بانی رکن ہونا قاضی صاحب کے لئیے مقدس واقعہ ٹھرا۔ سیاسی جماعت کے آئین اور الیکشن ایکٹ کی خلاف ورزی تو شاید پی ٹی آئی نے ہی کر رکھی تھی کیونکہ کسی اور پارٹی کے کارکن نے شکایت ہی نہیں کی تھی ، واہ قاضی تیرا انصاف، آئین کے آرٹیکل ۲۰۱۸ (صاف شفاف انتخابات)پر الیکشن ایکٹ حاوی ہو گی۔ یہ سب عدالتی انجینئیرنگ نہیں تو کیا ہے۔ قاضی فائز عیسی کا یہ نیا رخ (شاید پرانا) کیا گل کھلائے گا؟ یہ چیف جسٹس کی کرسی میں ایسا کیا چُبھتا ہے جو اُسے اسٹیبلشمنٹ کے بوٹ میں اپنی شکل تلاش کرتے رہنے پر مجبور کرتا رہتا ہے، ظالمو قاضی ہمارے ہاتھ سے جا رہا ہے۔ہ
If stability is one of the keys to success, Pakistan have been set up for failure by the various administrations that have run the Pakistan Cricket Board over the past 12 months.
https://t.co/K0xg785LX3