وفاقی بجٹ 2026 -27
⬅️اضافے
1. دفاع:
2550 ارب سے بڑھ کر 3000 ارب
2. بینظیر انکم سپورٹ
838 ارب سے بڑھ کر 850 ارب
⬅️کٹوتیاں
تعلیم
93 ارب سے کم ہو کر 74 ارب
��حت
80 ارب سے کم ہو کر 22 ارب
اس پر فٹے منہ روکنے کیلئے پیکا آرڈیننس ہے
آئندہ مالی سال میں سود قومی بجٹ کا 8 ہزار ارب کھا جائے گا جو کل بجٹ کا 43 فیصد ہے۔
سود پاکستان اور قوم کو کھائے جا رہا ہے لیکن اس لعنت سے جان چھڑوانے کا کسی کو خیال نہیں۔
جن کی تنخواہ پانچ لاکھ ان کو ٹیکس میں چھوٹ کا مطلب وہ ٹیکس اب بجلی پیٹرول سے نکلے گا
انٹرنیشنل بزنس کلاس ٹکٹ پر ٹیکس ختم کرنے کا مطلب غریب اکانومی والے کا ائرپورٹ ٹیکس بڑھے گا
یہ رلیف نہی الیٹ کو نوازنا ہے
نون لیگ کی حکومت الیٹ کے لئے رحمت ہے اب بجٹ میں ٹیکس چھوٹ دیکھ لیجئے
جن کی ماہانہ تنخواہ ڈھائی لاکھ ان کو ٹیکس پر 3 فیصد چھوٹ دی ہے مگر جن کی تنخواہ ساڑھے تین لاکھ ان کو 5 فیصد ٹیکس کی چھوٹ دی ہے
جن ساڑھے چار لاکھ تنخواہ ہے ں کس 6فیصد ٹیکس کی چھوٹ دی ہے
اگر تنخواہ چھ لاکھ سے اوپر ہے تو ان پر دس فیصد سرچارج ختم کر دیا ہے
وزیروں ججوں کے لئے یہ خصوصی پیکج ہے
موجودہ رجیم نے پاکستان کے کل قرضوں سے زیادہ قرضے بھی لیے اور عوام سے ریکارڈ ظالمانہ ٹیکس بھی وصول کیا۔
کیا کوئی بڑا منصوبہ بنا؟
کوئی ڈیم مکمل ہوا؟
عوام کو کوئی ریلیف ملا؟
کوئی لمبی جنگ یا کوئی علاقہ فتح ہوا؟
تو پھر یہ اربوں ڈالرز گئے کہاں؟
پاکستان کرکٹ بورڈ کے حکام سابق کپتانوں یونس خان اور محمد حفیظ کی خدمات سے استفادہ کرنا چاہتا ہے۔ دونوں کرکٹرز نے لاہور میں چئیرمین محسن نقوی سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔ذمے دار ذرائع تصدیق کرتے ہیں کہ @Real_PCB@MohsinnaqviC42 نے طے کرنا ہے کہ یونس خان اور محمد حفیظ کو کیا کیا ذمے داری دی جائیں، لیکن دونوں کا سسٹم میں آنا طے ہے
وزیرخزانہ صاحب آئندہ بجٹ میں اس پر نیا ٹیکس لگانا بہت ضروری ہے، ورنہ اسکی عیاشیاں اور بڑھ جائیگی۔
یہ بوڑھا مزدو�� ایک مرچ سے بھی کام چلا سکتا تھا۔ دوسری مرچ لگژری ھے۔
موجودہ حکومت عوام دشمنی کی انتہا پر پہنچی ہوئی اگر کہیں سے عوام کو تھوڑا سا رلیف مل جائے یہ اسے بند کرنے پہنچ جاتے ہیں سولر پلیٹ سے اگر لوگ لوڈ مینج کر لیتے تو وہ بھی ان سے برداشت نہی ہے مقصد صرف الیٹ نوازی ہے
شہباز شریف کی اپنی ڈکشنری میں بھی عوام سرے سے نہی اور وزیر بھی ایسے ہی رکھے ہیں ان کا سیدھا حساب ہے کہ جب تک اسٹیبلشمنٹ کی چھتری موجود ٹکے ٹکے کے ووٹر اور عوام کے نخرے کون اٹھائے بس الیٹ کو نوازو اور اقتدار کے نشے لو