فرح گوگی نے ملک ریاض سے
6 ارب کھائے
اسکے بیٹے سے500 سے زائد
آئی فون لئے
اسکی بیٹی اور بیوی سے ھیرے کی انگوٹھیاں لیں
جوان دکھنے کیلئے اپنی فل باڈی اپ لفٹ کروانے کیلئے دوبئ کے ایک ہسپتال میں 9 لاکھ درہم لئے
زمینیں لیں
ٹرانسفر پوسٹنگ پر رشوتیں لی
لیکن خان کرپٹ نہیں ہے
ارشاد بھٹی
راولپنڈی کے نونی سینیٹر ناصر بٹ نےتو برملا کہہ دیا کہ نونی حکومت کیخلاف پھر سے سازش شروع ہو چکی ہے، نونی بڑوں کے نہ صرف کان کھڑے ہوئے بلکہ سرخ ہوتے ہو��ے نظر آئے بس پھر کیا تھا پلان پر نظرثانی کر کے قافلے کا رخ الشفا کی بجائے پمز کی طرف کر دیا گیا۔
https://t.co/ufEv1YcETL
جو نفرت خان نے پیدا کر دی ہے وہ اس ملک کو شام اور لیبیا بنا کر چھوڑے گی
باقی اعزاز سید جیسے لوگ پی ٹی آئی کو پورا پاکستان کہتے پیں تو ڈالر بھی تو کمانے ہئں
پورے پاکستان میں اسٹیبلشمنٹ اور خفیہ اداروں کے خلاف غصہ اور نفرت بڑھ رہی ہے۔
بلوچستان جل رہا ہے، خیبر پختونخوا میں فوج کے خلاف شدید ردِعمل ہے، پنجاب میں کھل کر مخالفت ہو رہی ہے، اور اندرون سندھ بھی عوام بیزار ہو چکی ہےکچھ میڈیا میں فوج کے ماؤتھ پیس بنے ہوۓ ہیں۔
اور فخر سے بتاتی تھیں کہ ہمارا ان سے تعلق ہے، ان کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے ہیں، اور ان کے ایجنڈے کو لے کر آگے بڑھتی ہیں!اعزاز سیعد۔
تحریک انصاف آئندہ الیکشن مولانا فضل الرحمٰن سے مل کر کڑے گی۔ تحریری معاہدہ کیا جائے گا ۔ شفیع جان
کس سے پیمان وفا باندھ رہے بلبل
کل نہ پہچان سکے گی گل تر کی صورت
ایک لفنگا کرنل کے سر پر راڈ برسا رہا ہے۔ اصولا کرنل صاحب اس کے بھیجے میں بھی گولی اتار دیتے تو یہ جرم نہیں سیلف ڈیفنس تھا۔
سائیڈ ارم ہر آفیسر کو حفاظت کے لیے دیا جاتا ہے ڈیکوریشن کے لیے نہیں
محترمہ اتنا جھوٹ تو نہ بولیں جو آپکے لیڈر نے آپکو سکھایا ہے۔ ویڈیو دوبارہ دیکھیں یہ واقعہ فائرنگ سے پہلے کا ہے
چونکہ ان بدمعاش چھوکروں نے پہلے اسکی بیوی پر ہاتھ ڈالا اور پھر جو نفرت خان نے آپکے ذہنوں میں فوج کے خلاف بھر دی ہے اس کے نتیجے میں یہ بدمعاشں کرنل پر پل پڑے
بات تو صرف اتنی سی ہے کہ آپ نے ناحق گولی چلائی اور نوجوان نسل نے آپ کو گریبان سے پکڑ لیا اور بلکل ٹھیک کیا۔
جان بچانا تو اللّه کی امانت کی حفاظت کرنا ہے۔
اس افسر نے بغ��ر پولیس کو اطلاع دئیے بغیر نہیں جانا چاہئے تھا
لیکن جن لڑکوں نے اسکی بیوی کا گھیراو کیا ہوا تھا اور اسکے گریبان تک کو ہاتھ ڈال دیا تھا وہ جامی صاحب کے ہیرو ہیں
جیسا لیڈر ویسی نسل
@saadiali62 کوئی فوجی اہلکار باقاعدہ اجازت کے بغیر ایسا عمل کرے تو یہ بذات خود آرمی ایکٹ کی خلاف ورزی اور دیگر تمام سویلین قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ لہذا سخت تادیبی کاروائی اور حتی کہ کورٹ مارشل تک کا امکان ہے۔ اور کچھ؟
Rawalpindi Firing Incident: Pakistan Tehreek-e-Insaf Demands an Impartial Judicial Inquiry:
Pakistan Tehreek-e-Insaf is a political party firmly committed to the principles of peaceful, constitutional, and democratic struggle. Throughout its history, the party has consistently pursued lawful and non-violent means in the pursuit of its political and democratic objectives.
The regrettable incident of firing that occurred in Rawalpindi is a matter of grave concern. Pakistan Tehreek-e-Insaf calls for a thorough, impartial, transparent, and judicial investigation into the incident so that the true facts may be placed before the nation, and so that no innocent individual or political party is held responsible on the basis of mere allegations or political expediency.
The party unequivocally rejects all forms of violence and does not regard such acts as part of its political struggle. Should any individual be found to have violated the law, appropriate legal action must be taken in accordance with due process. However, the premature attribution of responsibility to a political party or its workers prior to the conclusion of a proper investigation is wholly unacceptable.
It is a matter of particular concern that the Pakistan Muslim League (N), whose political history is marked by past episodes of violence and by the involvement of individuals such as “Gullu Butt,” proceeded, within minutes of the incident, to level political accusations and to establish a predetermined narrative through a hastily convened press conference. Such conduct inevitably raises serious questions.
The nation is fully entitled to ask why political conclusions were drawn with such haste, before a complete investigation had been conducted, evidence properly collected, and the facts established.
Pakistan Tehreek-e-Insaf makes it clear that no incident should be exploited for the purposes of allegation-mongering, character assassination, or political advantage against opponents. The determination of actual responsibility must rest exclusively upon a transparent and independent investigation, and not upon press conferences or political statements.
We therefore demand that the full details of the incident, including CCTV footage, all available evidence, and the findings of the investigation, be made public; that an impartial judicial inquiry be instituted without delay; and that, pending the completion of the investigation, no political party or its workers be unjustly held responsible.
Issued by: Central Media Department
مشرف دور میں نوازشریف پر بندوق تان کر استعفیٰ مانگا گیا تو اس نے کہا تھا گولی چلا دو استعفیٰ نہیں دوں گا
یہ بات میں نے 2014 کے دھرنے کے دوران خان کو بتائی کہ
نوازشریف استعفیٰ نہیں دے گا، عمران خان کہتا تھا نوازشریف کے پاس کچھ لوگ جائیں گے اور استعفیٰ لیکر آجائیں گے۔
جاوید ہاشمی
یہ عورت آج ریٹائر ہو رہی ہے۔ اس کو ساری عمر آپ نے یاد دلانا ہے کہ اس عورت نے کتنی ماؤں کے ساتھ ظلم کیا۔ اس عورت کو اللہ لمبی عم�� دے، اور اس زندگی کا ہر دن وہ درد ملے اس کو، جو اس نے مظلوم بچوں کو اور ان کی ماؤں کو دیا۔ اور ایک دن یہ رو رو کر ان ماؤں سے معافی مانگے۔ جس بے غیرتی سے اس نے انصاف کی دھجیاں اڑائیں، اس کا حساب تو قیامت کے دن بھی ایسا ہو گا کہ بس۔ ایسے جج جہنم میں سب سے نچلے درجے میں ہوں گے، ان شاء اللہ۔ مریم ریاض وٹو
#pakistan @soulful7867
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
جسٹس مسرت ہلالی بجائے آئینِ پاکستان کے م��ابق عدالتی فیصلے کرنے کے، قاضی فائز عیسیٰ والے آئین کے مطابق تمام فیصلے کرتی رہیں۔ تعصب و بغض میں وہ قاضی فائز عیسیٰ سے بھی آگے تھیں۔ آج ریٹائر ہو گئی ہیں، مگر سیاہ فیصلے قبر تک ان کا پیچھا کریں گے۔
@SdqJaan الحمدللہ ۔۔۔۔۔
اچھا ہوا جان چھوڑ گئی
ویسے بھی یہ کون سا کوئی عدل و انصاف کر رہی تھی
اللہ پاک نے اتنا بڑا منصف دیا تھا
لیکن یہ عورت اپنے منصف کے ساتھ انصاف نہیں کر سکی
بلکہ چوروں اور چوکیداروں کی دلالی کرتی رہی
سپریم کورٹ جج مسرت ہلالی آج ریٹائرڈ ہو رہی ہیں۔ جسٹس ہلالی اس بینچ کا حصہ تھی جس نے انتخابات سے پہلے پی ٹی آئی کو بلے کے نشان سے محروم کیا ۔ اس کے علاوہ جسٹس ہلالی نے فوجی عدالتوں میں سویلینز ٹرائل کی توثیق کی اور پی ٹی آئی کو مخصوص نشستیں دینے کے متعلق فیصلہ کو کالعدم کیا۔
سلمان صفدر صاحب نے جج سے کہا کہ جیل سپر��ٹنڈنٹ سے پوچھیں کہ انہوں نے گزشتہ تین برس میں عمران خان کو عید کی نماز کیوں نہیں پڑھنے دی؟ لیکن جج صاحب نے سامنے کھڑے جیل ��کام سے یہ سوال نہ پوچھا
جسٹس مسرت ہلالی ریٹائر ہو چکی ہیں، مگر ان کی عدالتی مدت کے بارے میں ان کے ناقدین کے سوالات شاید اتنی آسانی سے ریٹائر نہیں ہوں گے۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو" (سورۃ النساء: 58)۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ "قیامت کے دن اللہ کے نزدیک سب سے محبوب عادل حکمران ہوگا۔" عدل صرف ایک قانونی تقاضا نہیں بلکہ ایک دینی امانت بھی ہے۔
ناقدین کے مطابق ان کے دور میں ایک بڑی سیاسی جماعت سے انتخابی نشان واپس لیا گیا، سیاسی کارکنوں کی گرفتاریاں ہوئیں، گھروں پر چھاپے مارے گئے، اور ایسے واقعات بھی سامنے آئے جن میں خواتین کے ساتھ مبینہ بدسلوکی، دوپٹے کھینچے جانے، لباس پھاڑے جانے اور تشدد کیا گیا ۔
تحریک انصاف سے بلے کا نشان لینے میں بھی محترمہ کا بڑا کردار ہے۔
ان کے نزدیک ان تمام معاملات میں عدلیہ سے یہ توقع تھی کہ وہ آئین اور قانون کے مطابق شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائے گی، مگر وہ سمجھتے ہیں کہ ایسا مؤثر انداز میں نہ ہو سکا۔
ریٹائرمنٹ کے بعد عبادت، عمرہ، میلاد یا دیگر نیک اعمال اپنی جگہ قابلِ احترام ہیں، مگر اگر عوام کے ایک طبقے کے دل میں یہ احساس باقی رہے کہ عدل کے تقاضے پورے نہیں ہوئے تو ان سوالات کا جواب صرف تاریخ اور اللہ تعالیٰ کی عدالت میں ہی دیا جا سکے گا۔ منصب، پروٹوکول، مراعات اور اختیارات ایک دن ختم ہو جاتے ہیں، مگر انصاف یا ناانصافی کے تاثر پر ہونے والی بحث باقی رہتی ہے۔ حضرت علیؓ سے منسوب مشہور قول ہے: "حکو��ت کفر کے ساتھ تو قائم رہ سکتی ہے، مگر ظلم کے ساتھ نہیں۔" قاضی کی اصل پہچان اس کے فیصلے ہوتے ہیں، نہ کہ اس کا عہدہ یا ریٹائرمنٹ۔
مسرت ہلالی اُس کٹھ پتلی ٹولے کا حصہ تھی جس نے بڑے اطمینان، بیشرمی اور بے حسی کے ساتھ جمہوریت، آئین اور قانون کی حکمرانی کی گردن کو آخری جھٹکا دیا، یہ ٹولہ آخری وقت تک سب کچھ کرتا رہا کہ کہیں کوئی کسر باقی نہ رہ جائے، انہوں نے پوری تسلی کی کہ کہیں عمران خان بچ نہ جائے، فائز عیسی کالی آندھی کی طرح آیا جو سب کچھ جڑ سے اکھاڑ گیا۔ یہ آسیب زدہ لوگ جن کی منحوس پرچھائی اس ملک کی ساری میراث کھا گئی، قاضی زندہ لاش کی طرح پھر رہا ہے اور یہ بھی عدالتی تاریخ کے شرمناک اور گھٹیا ترین کرداروں میں شامل ہو کر بطور ضرب المثل یاد رکھی جائے گی جس طرح جسٹس منیر اور مولوی مشتاق جیسے خبیث لوگ آئے
پنجاب میں اگر دو نئے صوبے بنیں تو ایک کی تو مریم نواز صاحبہ وزیر اعلی رہیں گی کیونکہ ان کے بغیر گڈ گورننس اور پاکستان کی اونچی اڑان ممکن نہیں البتہ سوچ رہا ہوں کہ باقی دو بننے والے نئے صوبوں کی وزارت اعلی جنید صفدر اور علی ڈار کے پاس ہوگی یا مریم اورن��زیب صاحبہ اور عظمی بخاری صاحبہ کو بھی موقع دیا جا سکتا ہے ؟ 🤔