کوششیں کی گئیں کہ عمران خان کو توڑا جائے، وہ بہادر آدمی نہیں ٹوٹا۔ ابھی اس کو یہاں تک نہ پہنچائیں کہ اس کے لیے اور مشکلات پیدا کر دیں۔ وہ اس ملک کا رہنے والا ہے۔ آپ، میں آپ سے کہتا ہوں، آپ اس پارلیمنٹ کے سارے لوگوں کے سامنے آپ علامہ ناصر ہم بھیجیں گے ڈیلیگیشن، ہم اس شریف آدمی سے ملیں گے جیل میں۔ جن باتوں پہ کوئی اور ان کو راضی نہ کر سکا ہمیں یقین ہے ہم ان کو راضی کر دیں گے ۔ اس کو ‘پرسونا نان گراٹا’ ڈیکلیئر کرنا اس ملک سے دشمنی ہے، ان کے عوام سے دشمنی ہے یہ میں ببانگ دہل کہہ رہا ہوں۔“
قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی کا علامہ ناصر عباس اور ان کی عمران خان سے ملاقات کا مطالبہ
میں محمود کی حیثیت سے، جو عہدہ میرے پاس ہے اس کی حیثیت سے انتہائی نرم الفاظ میں آپ سے کہتا ہوں کہ
نمبر 1:- حکومت واضح طور پر بتائے عمران خان کی ملاقات کب ہو گی ؟
نمبر 2:- عمران خان کی مرضی سے فیملی کی مرضی کے ہسپتال علاج کروانا ہے یا نہیں ؟
3 دن کا وقت ہمیں بتایا جائے ورنہ سوموار سے یہ اسمبلی اگر نہیں چلے گی تو ہم زمہ دار نہیں ہوں گے
قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی کی حکومت پاکستان کو تنبیہ
میں تحریکِ انصاف کے کارکنوں کو خبردار کرنا چاہتا ہوں۔ خبردار! بیدار رہو! آنکھیں چار کرو! عمران خان کو جیل میں رکھ کر مائنس عمران خان پالیسیاں بنائی جا رہی ہیں۔ میں تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کی طرف سے، خدا کو حاضر و ناظر جان کر یہ اعلان کرتا ہوں کہ یہ گناہ ہم کسی کو کرنے نہیں دیں گے۔ کسی کو! چاہے وہ عمران خان کے گھر سے ہو، چاہے عمران خان کی پارٹی سے ہو، چاہے کسی مارشل لاء ہیڈ کوارٹر سے ہو، چاہے فوجی ہیڈ کوارٹر سے ہو۔ عمران خان نے کوئی گناہ نہیں کیا۔ عمران خان سے کوئی اختلاف کر سکتا ہے، کوئی اس کے متعلق کچھ اور کہہ سکتا ہے، لیکن یہ حقیقت ہے کہ عمران خان اس وقت پاکستان کا سب سے مقبول ترین اور پاور فل لیڈر ہے۔ وہ مردِ حق ہے! اس کو کسی صورت بھی جیل میں نہیں ہونا چاہیے۔ یہ تماشے بند ہونے چاہئیں، میں پھر ریپیٹ کرتا ہوں۔ میں سیاسی کارکن ہوں اور میں سونگھ لیتا ہوں باتیں کہ کیا ہو رہا ہے۔ تماشہ ہو رہا ہے کہ اگر عمران خان باہر نہیں آتا تو فلاں کو نکال لو، فلاں کو نکال لو۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ کوئی انسان جیل میں نہ رہے، لیکن اگر سارے انسان رہا ہوتے ہیں اور عمران خان جیل میں رہتا ہے، تو ہم کہیں گے مردہ باد! ہم کہیں گے مردہ باد مائنس عمران فارمولا! عمران نے کیا گناہ کیا ہے؟
قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی
We have received reports that Imran Khan was again taken to PIMS in the early hours of 15 June. We found out through a tweet by Barrister Gohar on the morning of 15 June.
We reject any medical report generated by PIMS regarding Imran Khan’s condition. The same institution has previously made questionable claims, including the assertion that Imran Khan had recovered 90% of his eyesight. Imran Khan himself rejected these claims when his lawyer later met him at Adiala Jail.
A fundamental question remains unanswered: Why does Imran Khan require a fifth injection?
We do not accept the government’s version of events. We demand that Imran Khan be examined and treated by independent, qualified specialists at Shifa International Hospital, Islamabad. This is an urgent and immediate priority.
A full bench court order permits six family members to meet Imran Khan every Tuesday. Yet over the past eight months, the authorities have largely violated this order. My sister, Dr. Uzma Khan, has only been allowed to meet him a few times, and her last meeting took place on 2 December, 2025.
We reject the government’s continued use of isolation and deprivation as tools of pressure against Imran Khan. Today, we expect all six family members to be allowed to meet him in accordance with the court’s order.
The denial of Imran Khan’s rights is not merely a political issue; it is a clear violation of both the jail manual and High Court orders.
According to the jail manual, Imran Khan is entitled to:
1. A weekly telephone call with his sons.
2. A weekly meeting with family members.
3. A weekly meeting with his legal counsel.
4. Access to books and reading material.
5. Access to television and newspapers.
6. Access to proper medical treatment and regular medical check-ups.
7. Notification to immediate family members before any medical procedure is carried out.
In addition, High Court full bench orders provide that:
1. Imran Khan must be allowed to speak with his sons by telephone.
2. Six family members and six lawyers may meet him every Tuesday.
3. Six friends, including party representatives, may meet him every Thursday.
We demand the immediate restoration of all of Imran Khan’s lawful rights as a prisoner, with access to independent and professional medical treatment in presence of family as the highest and most urgent priority.
Free Imran Khan! Imran Khan has been left to languish in a Pakistani prison cell for over three years. Today in the House of Commons I presented a petition calling for his release, as well as the release of all political prisoners in Pakistan.
السلام علیکم
سابق وزیراعظم عمران خان صاحب کی جانب سے ان کے قانونی و جیل امور کی ذمہ داری میرے سپرد ہے۔ یہ اعتماد اور ذمہ داری میرے لئے سب سے بڑا اعزاز ہے ۔
اسی فرض کی بجا آوری کے تحت میں نے فیصلہ کیا ہے کہ آزاد جموں و کشمیر کے عام انتخابات جولائی/اگست 2026 میں حصہ نہیں لوں گا، کیونکہ عمران خان کی عطا کردی ذمہ داری و اعتماد میرے لئے سب سے بڑھ کر ہے۔
میری سیاست، میرا مستقبل اور میری ترجیح صرف عمران خان صاحب کی قانونی جنگ اور ان کی رہائی ہے۔
میں اپنے لئے اسمبلی کی ایک سیٹ و ٹکٹ کے لئے عمران خان کی طرف سے تفویض کردہ ذمہ داریوں سے غفلت نہیں کر سکتا۔
خالد یوسف چوہدری
Her creativity is truly unmatched
The way she turned a simple idea into something so beautiful and inspiring is honestly amazing 😍👏
Talent like this deserves all the love and appreciation ❤️
قید تنہائی میں ڈالنے سے قبل وکلاء، اراکین اسمبلی اور پارٹی قیادت کے لیے احکامات تھے عدالتوں کے باہردھرنا دیں جب تک انصاف نہیں ملتا۔ ان سب کو جھنجھوڑ جھنجھوڑ کر یاد کراچکا ہوں۔ وکلاء کے نام بھی سخت پیغام تھا اور کیوں نہ ہوتا پارٹی عہدوں سے لیکر اسمبلی ٹکٹ اور بار الیکشن تک عمران خان کے نام پر لڑے جاتے ہیں لیکن خان صاحب کے احکامات کے باوجود عدالت کے باہر مستقل، بمع اراکین اسمبلی دھرنا نہیں دیا جا سکتا؟ پہلے بارش تھی، پھر رمضان تھا اب گرمی ہے۔۔
خان صاحب کی بیماری، ڈرون حملے،آپریشن، بدلتے ہوئی بین الاقوامی حالات،پیٹرول کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے،بے جا ٹیکسسسز، مہنگائی کے تناظر میں تحریک چلانے کی صلاح۔ صرف صوبہ نہیں ملک بند کرنے کا پلان،عمران خان کی صحت کے معاملے پر متحرک ہونے کی درخواست، ایوانوں سے استعفوں کے زریعے حکومت سے legitimacy واپس لینے کے لیے سب سے پہلے اپنے استعفیٰ کی پیشکش۔۔۔
میں یہ سمجھتا ہوں کہ عمران خان کی اسیری کا زمہ دار ان میں سے کوئی فرد نہیں بلکہ بین الاقوامی اسٹیبلیشمنٹ کی ایماء پر برسرپیکار عاصم منیر، قانونی و غیر قانونی طور پر اس کے ماتحت آنے والے ادارے اور اسکے اشاروں پر ناچنے والی سیاسی قوتیں ہیں۔ مگر کیا عمران خان اپنی ذات کے لیے مقید ہے کہ اس کی رہائی کے لیے اپنی پوری قوت سے کوشش کرنا بھی کسی کا فرض نہیں ہے؟ قیادت سے لیکر قوم تک کسی کا بھی نہیں؟
تحفظ آئین پاکستان مہینوں بعد ایک بیٹھک منعقد کرنے کا فیصلہ خود کر سکتی ہے،سی ایم جلسے کا اعلان اور پھر ملتوی خود کر سکتا ہے، اراکین اسمبلی شادیوں اور دعوتوں میں مخالفین کے ساتھ بیٹھنے کا فیصلہ خود کر سکتے ہیں، مارکوپولو بن کر دنیا کے چکر لگانے کا فیصلہ خود کر سکتے ہیں،سیاسی کمیٹی خود کو “محب وطن” ثابت کرنے کے لیے ایمرجنسی اجلاس بلا سکتی ہے،تنظیمیں عہدوں کے نئے نئے نوٹیفیکشن کرسکتی ہیں،صوبائی حکومت فارم ۴۷ وزیراعظم اور صدر کے ساتھ بیٹھ سکتی ہے، کور کمانڈر ہاؤس کا رخ کر سکتی ہے لیکن جب عمران خان کا سوال ہو تو سیاسی کمیٹی کا جواب ہوتا ہے تحفظ آئین پاکستان، ان کا جواب ہوتا ہے پی ٹی آئی قیادت، قیادت فیملی کا نام لیتی ہے اور پھر سی ایم پر بات آجاتی ہے اور یہی سلیم اللہ سے کلیم اللہ اور کلیم اللہ سے سلیم اللہ چلتا رہتا ہے۔تو جب سارے فیصلے اپنے طور پر کیے جا سکتے ہیں تو تحریک کا فیصلہ کیوں نہیں؟ محض اس کے لیے عمران خان کی ہدایت درکار ہے اور جہاں عمران خان کی ہدایات میسر ہیں وہاں حیلے بے شمار ہیں۔ مان لیتے ہیں کہ منزل ایک ہے لیکن طریقہ کار مختلف ہے تو ایک دن کے نوٹس پر آپ سب ایک چھت کے نیچے بیٹھ کر مشترکہ اجلاس بلا کر عملی جدوجہد کا فیصلہ کر سکتے ہیں اور ادھر ہی مشترکہ پریس کانفرنس کا انعقاد بھی ہوسکتا ہے۔ چلو یہ بھی مان لیتے ہیں کہ زیادہ تر تحریک کے حق میں ہیں تو کچے دھاگے توڑنے کے لیے اجلاس کو لائیو نشر کیجئے ویسے بھی کونسا ایٹم بم کا فارمولہ ڈسکس ہونا ہے تو جو بھی رکاوٹ ہوگی قوم خود اسٹیبلیشمنٹ کے ساتھ ان کا بھی احتساب کر لے گی۔
ہمیں تو گراونڈ ریلئٹی نہیں معلوم ناں تو بس پبلکی مشورہ دے دیا کیونکہ خان صاحب کی بیماری کے وقت میں نے ایک وائس نوٹ میں وہ تمام تجاویز دہرائے جو میں قیادت کو بارہا بھیج چکا تھا، نا ہی کوئی کال دی نا ہی کوئی فیصلہ کیا لیکن خان صاحب کے لیے کچھ کرنے کے بجائے مجھے قیادت و صوبائی حکومت نے پیغام بھجوایا کہ آپ کے ایک وائیس نوٹ سے تحریک کو Irreversible نقصان ہوا ہے۔ سیریسلی؟ اور یہ میرے ساتھ پہلی مرتبہ نہیں ہوا۔۔
تین سال بہت لمبا عرصہ ہوتا ہے وہ بھی ناحق اسیری اور عمران خان جیسا لیڈر۔ چار سال مجھے ہوگئے پہلے دربدر اور پھر مستقل اور پھر روپوشی بھی ایسی کہ کوئی ایک ہفتہ بھی نہ گزار سکے۔ آج صرف مل بیٹھ کر ایک جہد مسلسل کی گزارش کر رہا ہوں اگر نہیں ہو رہا آپ سے تو جیسا آپ ہمارے بیانیہ کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے ہم آپ کی غفلت کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے۔ اور یہ جو کرنل سے مل کر ایک دوسرے کو مشورے دیتے ہو کہ خان تو جیل میں ہی رہے گا مراد سعید تو پاگل ہے نہ اپنی پرواہ نہ کسی اور کی وہ تو جب بھی نظر آیا مارا جائے گا اپنی زندگی کیوں خراب کرتے ہو تو اتنا کہوں گا اللہ آپ کو مزید آسانیاں دے لیکن ہمارے مقصد ہماری جدوجہد اور ہماری زندگیوں کی قیمت پر نہیں بالکل بھی نہیں۔ کوئی فیصلہ کیجیے-
Former Prime Minister of Pakistan, Imran Khan is in solitary confinement since October 16, 2025.
He has spoken to his sons only twice in 2025 and once in February 2026 after Supreme Court orders. He has been denied books to read. He has received only 3 of the dozen books that we managed to get to adiala through a judge.
Then, a perfectly health and fit Imran Khan suddenly develops a clot in his eye. He was not provided medical assistance. For two weeks, he repeatedly told the jail superintendent that he CANNOT SEE.
The Adiala Jail superintendent Ghafoor Anjum DELAYED calling in a specialist for three months.
By the time the eye doctor came, the delay caused permanent damage to Imran Khan’s eye. We are extremely worried that his other eye could also develop a clot.
Imran khan has repeatedly sent messages over past few months that he is not satisfied with the treatment and there is only marginal improvement after the first injection in the eye. No improvement since then.
Over the past month, Bushra Bibi, his wife has also developed an eye condition and was operated upon last week.
Imran khan and his wife are being tortured through solitary confinement. We have repeatedly protested, demanding Imran Khan to be examined and treated at Shifa International Islamabad. There is an urgent need to identify the cause of the blood clot. Our worry is that his other eye could also develop a clot unless proper diagnosis is done and it’s treated accordingly
This is inhumane and a violation of all fundemental and human rights of a prisoner under Pakistan and International laws.
19 اپریل مردان جلسے میں وزیر اعلٰی سہیل آفریدی کو قدم بڑھاتے ہوئے عمران خان کی رہائی کیلئے مزاحمت سے بھرپور لائحہ عمل دینا ہو گا
سہیل آفریدی اگر کچے دھاگے توڑ کر لائحہ عمل دینے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو پھر یہ ایک ایسا قدم ہوگا
کہ جو ، سوشل میڈیا، عوام، کارکنان، عہدیداروں اور قیادت کو عمران خان کی رہائی کے لائحہ عمل پر دوبارہ سے یکجا کردے گا
اے مڈل کلاس نوجوان سہیل آفریدی تاریخ رقم کرنے کیلئے بڑا فیصلہ لے اور عمران خان اور قوم کی امیدوں پر پورا اتر، ورنہ عوام یقین کریں صرف عمران خان کی سگی ہے
سہیل آفریدی اب قدم بڑھانے کا وقت آن پہنچا ہے @SohailAfridiISF
پریس بیان
از جانب: خالد یوسف چوہدری، ایڈووکیٹ ہائی کورٹ
سابق وزیراعظم عمران خان کے قانونی دستاویزات پر دستخط کا معاملہ اب سنگین صورت اختیار کر چکا ہے، جو نہ صرف تشویشناک ہے بلکہ انصاف کے عمل پر براہِ راست اثرانداز ہو رہا ہے۔
میں، خالد یوسف چوہدری، بطور وکیلِ سابق وزیراعظم پاکستان عمران خان، اس امر کی تصدیق کرتا ہوں کہ میں نے سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو ایک بار پھر باضابطہ خط ارسال کیا ہے، جس کے ساتھ پاور آف اٹارنی اور دیگر اہم قانونی دستاویزات دوبارہ بھجوائی گئی ہیں۔ ان دستاویزات پر فوری دستخط کروا کر واپس کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
یہ مراسلہ میرے 6 اپریل 2026 کے سابقہ خط کا تسلسل ہے، جس کے تحت مذکورہ دستاویزات 7 اپریل کو ٹی سی ایس کے ذریعے روانہ کی گئیں اور 9 اپریل کو سہ پہر 3 بج کر 13 منٹ پر جیل حکام کو موصول ہوئیں۔ اس کے باوجود، جب میں 13 اپریل کو ذاتی طور پر اڈیالہ جیل کے گیٹ نمبر 5 پہنچا تاکہ دستخط شدہ دستاویزات وصول کر سکوں، تو کئی گھنٹے انتظار کے بعد یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ یہ اہم دستاویزات جیل کے ریکارڈ میں “نہیں مل سکیں”۔
میرا واضح مؤقف ہے کہ اس نوعیت کی حساس قانونی دستاویزات کا اس طرح غائب ہونا نہ صرف شدید انتظامی غفلت ہے بلکہ یہ قانونی عمل میں رکاوٹ ڈالنے کے مترادف بھی ہے۔ اس غیر ضروری تاخیر کے باعث قیدی کے بنیادی حقوق، خصوصاً انصاف تک رسائی اور منصفانہ ٹرائل کا حق بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔
یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنے کی قانونی مدت تیزی سے ختم ہو رہی ہے، اور ہر گزرتا دن سابق وزیر اعظم عمران خان کے مؤثر قانونی دفاع کے امکانات کو کم کر رہا ہے۔
میں جیل حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ:
•دوبارہ بھیجی گئی پاور آف اٹارنی اور دیگر قانونی دستاویزات فوری طور پر سابق وزیراعظم کے سامنے پیش کی جائیں
•ان سے بلا تاخیر دستخط کروائے جائیں
•اور 24 گھنٹوں کے اندر دستخط شدہ دستاویزات واپس کی جائیں
میں اس معاملے کو انتہائی ہنگامی قرار دیتا ہوں اور فوری کارروائی کی ضرورت پر زور دیتا ہوں۔
مزید برآں، اس خط کی نقول متعلقہ اعلیٰ حکام کو ارسال کر دی گئی ہیں، جن میں:
•رجسٹرار سپریم کورٹ
•سیکرٹری چیف جسٹس سپریم کورٹ
•رجسٹرار اسلام آباد ہائی کورٹ
•آئی جی خانہ جات پنجاب
•سپرنٹنڈنٹ پولیس صدر سرکل راولپنڈی
•اور وکیل سابق وزیر اعظم عمران خان جناب عزیر کرامت بھنڈاری (مزید قانونی کارروائی کے لیے)
Imran Khan has been kept in solitary confinement for six months under brutal conditions, while Bushra Bibi is being held the same way. Their freedom is being deliberately blocked by the Chief Justice of the Islamabad High Court, who refuses to fix their bail hearings.
Imran Khan has made it clear that the judiciary is no longer independent, it is acting like a tool of the government. Judges assigned to his cases are not delivering justice; they are ensuring hearings never happen. The reality is simple: the moment this case is heard, its weak and baseless nature will be exposed, and bail will become unavoidable. That is exactly why it is being stalled. Imran Khan and Bushra Bibi continued imprisonment is due to Judge Dogar, who is openly facilitating a government that came to power by stealing Imran Khan’s mandate.
Through Salman Safdar, Imran Khan has sent a message, his wife is being pushed to the edge by prolonged isolation. He has said he can endure this ظلم himself, but she is being broken to force him into submission. The pressure is deliberate, calculated, and inhumane. He said clearly “no deal, no surrender! It is liberty or death.”