بابا سوہنا بھتے کی پرچی پورے بازار کو دکھا رہا تھا، سب دیکھ کر حیران تھے
بابا سوہنا کی چھوٹی سی پیکو کی دکان کہ جس کی ماہانہ آمدنی پچاس ہزار بھی نہ تھی
اسے ساٹھ ہزار کے بھتے کی پرچی بھیج دی گئی تھی، پرچی کے آخر میں دھمکی درج تھی کہ اگر فلاں تاریخ تک بھتہ جمع نہ کروایا تو انجام اچھا نہیں ہو گا
بابا سوہنا ایک بیوہ بیٹی اور دو نواسیوں کا واحد کفیل تھا
دکان سے گھر کا خرچ پہلے ہی مشکل سے چلتا تھا، اوپر سے بھتے کی پرچیوں نے جینا حرام کر رکھا تھا ، بھتہ لینے والے ��ہت بڑے غنڈے ہیں کہ جنہیں سیکیورٹی ذرائع کی مکمل سپورٹ حاصل ہے
کوئی ان کیخلاف کچھ نہیں کر سکتا
وہ ہر مہینے اربوں روپے کا بھتہ اکٹھا کرتے ہیں اور کوئی انہیں روک نہیں سکتا
بابا سوہنا نے فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ دکان ہی بند کر دے گا
پھر بازار اور محلے کے کچھ لوگوں نے بابا سوہنا کی مدد کی ، بھتے کی پرچیاں بھیجنے والی کمپنی کا کنکشن کاٹ دیا
دکان پہ تین سولر پلیٹیں رکھ لیں
بابا سوہنا سے کہا کہ صرف دن کے وقت کام کرو
اتنی آمدنی ہو جائے گی کہ گزارا چلتا رہے گا
بجلی کے بل یعنی بھتے کی پرچیوں نے عوامی معیشت کو برباد کر دیا ہے
اور بھتہ خور حکمرانوں کو ذرا شرم نہیں آ رہی کہ وہ عوام کا خون نچوڑ کر عیاشیاں کر رہے ہیں
#پاکستان
@dropee_app hi hope u r fine
can you solve this problem?
I connected toonkeper wallet long ago. And it was connected it was fine.
Now I got this error
*wallet not eligible *
And all $dropee is zero zero.
Why is that?
I did not claim on 27th can I still claim?
@SSEHBAI1 پاکستان میں ہسپتال میں سٹاف پیسے مانگتا ہے
عدالت کی دیواریں رشوت مانگتی ہیں اور ہر طرف برا حال ہے۔ پورا معاشرہ ہی ملاوٹ اور جعلیسازی کا شکار ہے
@Fayazchohanpk فیاض بھائی کچھ عرصہ پہلے آپ اتنا ہی زور ان سب کو فرشتہ کرنے پر لگاتے رہے۔۔۔ ان کے حق میں ریلیاں نکالتے رہے۔
آج کل ان کو شیطان ثابت کر رہے ہیں۔
��ور آنے والے وقت میں پھر سے
Pti
کے حق میں سب سے زیادہ روزدار نعرے آپ ہی لگایئں گے
اس لئے میانہ روی اختیار کریں
@iqrarulhassan@enkidureborn اقرار بھائی کچھ عرصہ سے آپ کی وائرل ویڈیوز دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ آپ شدید ذہنی دباؤ ڈپریشن کا شکار ہیں۔
چھوٹی سی بات پر ایک سرکاری ملازم پر اس قدر بھڑک جانا زیب نہیں دیتا
@KhSaad_Rafique امدادیں عارضی ہوتی ہیں
امداد سے خیرات سے ملک نہیں چلا کرتے۔
ملک میں انڈسٹری بحال کریں
کاروبار میں آسانیاں کریں
چائنہ کا کاروباری ماڈل پاکستان لے کر آیئں
اور کرپشن ختم کریں
اس بات کی بھی لوگ خوشی مناتے ہیں کہ فلاں ملک نے قرض دے دیا
اب فلاں نے دے دیا۔
دسویں کلاس کے ایک محنتی طالب علم کے ساتھ وہ ظلم ہوا جو کسی کے ساتھ نہیں ہونا چاہیے۔
یہ بچہ انگلش کا پہلا پیپر دینے جا رہا تھا کہ راستے میں اس کا ایکسیڈنٹ ہو گیا۔ شدید زخمی حالت میں بھی اس نے ہمت نہیں ہاری اور کسی طرح اپنے پیپر سینٹر پہنچ گیا... لیکن
وہاں اس کے ساتھ جو ہوا، وہ دل دہلا دینے والا ہے۔
بچہ صرف 30 منٹ لیٹ تھا۔
جب وہ سینٹر پہنچا تو ہیڈ ماسٹر صاحب اسے لے کر سپریڈنٹ عبدالمجید بخاری کے پاس گئے، لیکن سپریڈنٹ نے صاف انکار کر دیا کہ یہ لیٹ ہو گیا ہے، میں اسے پیپر میں
نہیں بٹھاؤں گا۔"
سوچیں... ایک زخمی بچہ جس کی حالت سب کے سامنے تھی، جس کا ایکسیڈنٹ ہو چکا تھا، پھر بھی اسے پیپر دینے کی اجازت نہ دی گئی۔
یہ بچہ گورنمنٹ ہائی اسکول DNB/35 کا طالب علم ہے ��بکہ اس کا سینٹر گورنمنٹ ہائر سیکنڈری اسکول کھتڑی
بنگلہ میں تھا، جو پنجاب ایجوکیشن سسٹم کے تحت آتا ہے۔
کیا انسانیت ختم ہو چکی ہے؟ کیا ایک زخمی بچے کے لیے کوئی رعایت نہیں؟
یہ صرف ایک بچے کے ساتھ زیادتی نہیں بلکہ پورے نظام پر سوالیہ نشان ہے۔
والدین نے اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے اور انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
خدارا اس آواز کو آگے پہنچائیں تاکہ اس بچے کو انصاف مل سکے۔
@FurkanGozukara@grok If I want correct ans
Your question should be like this.
Hay Grock attacking on is.raili infrastructure is terrist attack?
Grock ans
Absolutely Yes...